<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 10:39:28 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 10:39:28 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>موجودہ اقتصادی ماڈل اب نتائج دینے کے قابل نہیں رہا، پاکستان بزنس فورم</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279282/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان بزنس فورم کے چیف آرگنائزر احمد جواد نے کہا ہے کہ پاکستان کا موجودہ معاشی ڈھانچہ پائیدار ترقی دینے کی صلاحیت کھو چکا ہے۔ انہوں نے اسے ٹوٹا ہوا اور غیر مستحکم نظام قرار دیتے ہوئے حکومت پر زور دیا کہ وہ وقتی استحکام کے بجائے طویل المدتی پیداواری اور مسابقتی اصلاحات پر توجہ دے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر فیڈریشن چیمبرز عاطف اکرام شیخ سے ملاقات کے دوران انہوں نے عالمی بینک کی حالیہ رپورٹ پاکستان ڈویلپمنٹ اپ ڈیٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملک کی معیشت ساختی طور پر غیر مسابقتی ہو چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق پاکستان کی برآمدات جو 1990 کی دہائی میں جی ڈی پی کا تقریباً 16 فیصد تھیں، اب گھٹ کر 10 فیصد تک رہ گئی ہیں۔ یہ کمی سالانہ 60 ارب ڈالر کے برآمدی خسارے کی علامت ہے، جو معیشت کی ناکارکردگی کو ظاہر کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ کئی دہائیوں سے پاکستان کا ترقیاتی ماڈل بقا کی بنیاد پر استوار کیا گیا ہے، نہ کہ ترقی پر، ہم نے پیداوار، ویلیو ایڈیشن اور ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کے بجائے کھپت، درآمدات اور غیر رسمی معیشت پر انحصار کیا ہے، یہ ایک ایسی حکمتِ عملی ہے جو ملک کو بار بار بحران میں دھکیل رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;احمد جواد کے مطابق حالیہ بجٹ اقدامات نے برآمدی شعبے پر مزید دباؤ ڈال دیا ہے، ایک فیصد ٹرن اوور فائنل ٹیکس ریجیم کے خاتمے اور اس کی جگہ تقریباً 40 فیصد مؤثر ٹیکس بوجھ عائد کرنے سے برآمدی صنعتوں کی مسابقت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ حکومت نے برآمدات کو سہولت دینے کے بجائے سزا دینے کا راستہ اختیار کر لیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے عالمی بینک کی نشاندہی کردہ چار بڑی رکاوٹوں کا حوالہ دیا جنہوں نے پاکستان کو عالمی منڈی میں غیر مسابقتی بنا دیا ہے، ان میں غیر مسابقتی توانائی لاگت، پیچیدہ ریگولیٹری نظام، پالیسیوں میں غیر یقینی صورتحال، اور ایسا ٹیکس ڈھانچہ شامل ہے جو غیر رسمی کاروبار کو فائدہ دیتا ہے جبکہ باقاعدہ صنعتوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;احمد جواد نے کہا کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے استحکامی اقدامات قلیل مدتی مالی توازن تو قائم کر سکتے ہیں مگر یہ پیداواری شعبے کا گلا گھونٹ دیتے ہیں۔انہوں نے کہا،ایک طرف عالمی بینک ہمیں مسابقت بڑھانے کا کہتا ہے، دوسری طرف آئی ایم ایف کفایت شعاری پر زور دیتا ہے۔ دونوں سمتوں میں بیک وقت چلنا ممکن نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ویتنام، بنگلہ دیش اور ملائشیا کی مثال دیتے ہوئےکہا کہ ان ممالک نےبرآمدات، صنعتی توسیع اور ٹیکنالوجی اپنانے کے ذریعے ترقی حاصل کی پاکستان کو بھی فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ سکڑتی ہوئی معیشت بننا چاہتا ہے یااصلاحات کے ذریعے ترقی یافتہ قوم بننے کا راستہ اختیار کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان بزنس فورم نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ معیشت کو ترقی پہلے، استحکام بعد میں کے اصول پر استوار کرے۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری لاگت میں کمی، توانائی نرخوں میں استحکام، پالیسیوں میں تسلسل اور سرمایہ کاری کے لیے قابلِ بھروسہ ماحول ناگزیر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان بزنس فورم کے چیف آرگنائزر احمد جواد نے کہا ہے کہ پاکستان کا موجودہ معاشی ڈھانچہ پائیدار ترقی دینے کی صلاحیت کھو چکا ہے۔ انہوں نے اسے ٹوٹا ہوا اور غیر مستحکم نظام قرار دیتے ہوئے حکومت پر زور دیا کہ وہ وقتی استحکام کے بجائے طویل المدتی پیداواری اور مسابقتی اصلاحات پر توجہ دے۔</strong></p>
<p>صدر فیڈریشن چیمبرز عاطف اکرام شیخ سے ملاقات کے دوران انہوں نے عالمی بینک کی حالیہ رپورٹ پاکستان ڈویلپمنٹ اپ ڈیٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملک کی معیشت ساختی طور پر غیر مسابقتی ہو چکی ہے۔</p>
<p>ان کے مطابق پاکستان کی برآمدات جو 1990 کی دہائی میں جی ڈی پی کا تقریباً 16 فیصد تھیں، اب گھٹ کر 10 فیصد تک رہ گئی ہیں۔ یہ کمی سالانہ 60 ارب ڈالر کے برآمدی خسارے کی علامت ہے، جو معیشت کی ناکارکردگی کو ظاہر کرتی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ کئی دہائیوں سے پاکستان کا ترقیاتی ماڈل بقا کی بنیاد پر استوار کیا گیا ہے، نہ کہ ترقی پر، ہم نے پیداوار، ویلیو ایڈیشن اور ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کے بجائے کھپت، درآمدات اور غیر رسمی معیشت پر انحصار کیا ہے، یہ ایک ایسی حکمتِ عملی ہے جو ملک کو بار بار بحران میں دھکیل رہی ہے۔</p>
<p>احمد جواد کے مطابق حالیہ بجٹ اقدامات نے برآمدی شعبے پر مزید دباؤ ڈال دیا ہے، ایک فیصد ٹرن اوور فائنل ٹیکس ریجیم کے خاتمے اور اس کی جگہ تقریباً 40 فیصد مؤثر ٹیکس بوجھ عائد کرنے سے برآمدی صنعتوں کی مسابقت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ حکومت نے برآمدات کو سہولت دینے کے بجائے سزا دینے کا راستہ اختیار کر لیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے عالمی بینک کی نشاندہی کردہ چار بڑی رکاوٹوں کا حوالہ دیا جنہوں نے پاکستان کو عالمی منڈی میں غیر مسابقتی بنا دیا ہے، ان میں غیر مسابقتی توانائی لاگت، پیچیدہ ریگولیٹری نظام، پالیسیوں میں غیر یقینی صورتحال، اور ایسا ٹیکس ڈھانچہ شامل ہے جو غیر رسمی کاروبار کو فائدہ دیتا ہے جبکہ باقاعدہ صنعتوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔</p>
<p>احمد جواد نے کہا کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے استحکامی اقدامات قلیل مدتی مالی توازن تو قائم کر سکتے ہیں مگر یہ پیداواری شعبے کا گلا گھونٹ دیتے ہیں۔انہوں نے کہا،ایک طرف عالمی بینک ہمیں مسابقت بڑھانے کا کہتا ہے، دوسری طرف آئی ایم ایف کفایت شعاری پر زور دیتا ہے۔ دونوں سمتوں میں بیک وقت چلنا ممکن نہیں۔</p>
<p>انہوں نے ویتنام، بنگلہ دیش اور ملائشیا کی مثال دیتے ہوئےکہا کہ ان ممالک نےبرآمدات، صنعتی توسیع اور ٹیکنالوجی اپنانے کے ذریعے ترقی حاصل کی پاکستان کو بھی فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ سکڑتی ہوئی معیشت بننا چاہتا ہے یااصلاحات کے ذریعے ترقی یافتہ قوم بننے کا راستہ اختیار کرے گا۔</p>
<p>پاکستان بزنس فورم نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ معیشت کو ترقی پہلے، استحکام بعد میں کے اصول پر استوار کرے۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری لاگت میں کمی، توانائی نرخوں میں استحکام، پالیسیوں میں تسلسل اور سرمایہ کاری کے لیے قابلِ بھروسہ ماحول ناگزیر ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279282</guid>
      <pubDate>Thu, 13 Nov 2025 12:57:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/13125519b70e5bb.gif" type="image/gif" medium="image">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/13125519b70e5bb.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
