<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 07:39:28 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 07:39:28 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اپٹما نے حکومتی بجلی پیکیج کو ناقابلِ قبول قرار دیدیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279257/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) نے حکومت کے تین سالہ بجلی انکریمنٹل پیکیج، جس کی قیمت صنعتی اور زرعی شعبے کے لیے 22.98 روپے فی یونٹ مقرر کی گئی ہے، کو ناقابلِ قبول قرار دے دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپٹما کے سیکریٹری جنرل شاہد ستار نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کے رجسٹرار کو ارسال کردہ خط میں کہا کہ 11 نومبر 2025 کی سماعت کے دوران ہونے والی بحث کے بعد ہم یہ موقف دہراتے ہیں کہ وفاقی حکومت کی جانب سے پیش کردہ انکریمنٹل کنزمپشن اسکیم اپنی موجودہ شکل میں صنعتی شعبے کے لیے کسی طور قابلِ قبول نہیں۔ یہ مؤقف ملک کے تمام بڑے صنعتی نمائندہ اداروں کی متفقہ اور دوٹوک مخالفت سے واضح ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپٹما کے مطابق مجوزہ پیکیج کا ڈھانچہ نہایت پیچیدہ اور تفریق پر مبنی ہے جو بڑی تعداد میں صنعتی صارفین کو اہلیت سے خارج کر دیتا ہے۔ خاص طور پر ٹیکسٹائل شعبے کے کیپٹو پاور صارفین کے لیے 60 فیصد سینکشنڈ لوڈ یا ایم ڈی آئی کی حد کو غیر حقیقت پسندانہ قرار دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسوسی ایشن نے اپنی 25 ستمبر 2025 کی تحریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس نے وزارتِ توانائی کو تجویز دی تھی کہ قومی گرڈ سے منسلک تمام صنعتی صارفین، بشمول سولر نیٹ میٹرنگ، کیپٹو اور وہیلنگ بنیادوں پر چلنے والے ہائبرڈ صارفین، اس پیکیج کے اہل قرار دیے جائیں تاکہ پالیسی کے بنیادی مقاصد یعنی صنعتی سرگرمی میں اضافہ، برآمدات میں فروغ اور گرڈ کے بہتر استعمال کو یقینی بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپٹما نے مؤقف اختیار کیا کہ موجودہ ڈھانچے کے تحت برآمدات پر مبنی بڑی ٹیکسٹائل صنعت، جو پاکستان کی مجموعی برآمدات کا تقریباً 60 فیصد حصہ رکھتی ہے، اس پیکیج سے محروم ہو جائے گی۔ ادارے نے تجویز دی کہ اہلیت کی حد 60 فیصد سے کم کرکے 40 فیصد رکھی جائے تاکہ زیادہ کارخانے دوسری شفٹ میں بھی پیداوار شروع کریں اور صنعتی سرگرمی میں حقیقی اضافہ ممکن ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید کہا گیا کہ اگر حکومت کیپٹو صارفین کے لیے اہلیتی معیار کو 40 فیصد تک کم نہیں کرتی، لوڈ میں اضافے یا کیٹیگری تبدیلی والے صارفین کے ساتھ یکساں سلوک نہیں کرتی اور وہیلنگ صارفین کو دوبارہ گرڈ سے بجلی لینے کی اجازت نہیں دیتی تو یہ پیکیج ناقابلِ قبول رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپٹما نے یہ بھی تجویز دی کہ دن کے اوقات میں کم نرخوں والا انکریمنٹل ٹیرف متعارف کرایا جائے تاکہ صنعتیں دن کے وقت زیادہ بجلی استعمال کریں، گرڈ پر بوجھ میں توازن پیدا ہو اور نظام کی کارکردگی بہتر بنے۔ ادارے نے واضح کیا کہ مجوزہ پیکیج خطے کے ممالک کے مقابلے میں اب بھی مہنگا ہے، جہاں صنعتی ٹیرف 5 سے 9 امریکی سینٹ فی یونٹ کے درمیان ہے، جبکہ پاکستان میں شرح 10 سے 11 سینٹ رہنے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) نے حکومت کے تین سالہ بجلی انکریمنٹل پیکیج، جس کی قیمت صنعتی اور زرعی شعبے کے لیے 22.98 روپے فی یونٹ مقرر کی گئی ہے، کو ناقابلِ قبول قرار دے دیا ہے۔</strong></p>
<p>اپٹما کے سیکریٹری جنرل شاہد ستار نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کے رجسٹرار کو ارسال کردہ خط میں کہا کہ 11 نومبر 2025 کی سماعت کے دوران ہونے والی بحث کے بعد ہم یہ موقف دہراتے ہیں کہ وفاقی حکومت کی جانب سے پیش کردہ انکریمنٹل کنزمپشن اسکیم اپنی موجودہ شکل میں صنعتی شعبے کے لیے کسی طور قابلِ قبول نہیں۔ یہ مؤقف ملک کے تمام بڑے صنعتی نمائندہ اداروں کی متفقہ اور دوٹوک مخالفت سے واضح ہے۔</p>
<p>اپٹما کے مطابق مجوزہ پیکیج کا ڈھانچہ نہایت پیچیدہ اور تفریق پر مبنی ہے جو بڑی تعداد میں صنعتی صارفین کو اہلیت سے خارج کر دیتا ہے۔ خاص طور پر ٹیکسٹائل شعبے کے کیپٹو پاور صارفین کے لیے 60 فیصد سینکشنڈ لوڈ یا ایم ڈی آئی کی حد کو غیر حقیقت پسندانہ قرار دیا گیا ہے۔</p>
<p>ایسوسی ایشن نے اپنی 25 ستمبر 2025 کی تحریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس نے وزارتِ توانائی کو تجویز دی تھی کہ قومی گرڈ سے منسلک تمام صنعتی صارفین، بشمول سولر نیٹ میٹرنگ، کیپٹو اور وہیلنگ بنیادوں پر چلنے والے ہائبرڈ صارفین، اس پیکیج کے اہل قرار دیے جائیں تاکہ پالیسی کے بنیادی مقاصد یعنی صنعتی سرگرمی میں اضافہ، برآمدات میں فروغ اور گرڈ کے بہتر استعمال کو یقینی بنایا جا سکے۔</p>
<p>اپٹما نے مؤقف اختیار کیا کہ موجودہ ڈھانچے کے تحت برآمدات پر مبنی بڑی ٹیکسٹائل صنعت، جو پاکستان کی مجموعی برآمدات کا تقریباً 60 فیصد حصہ رکھتی ہے، اس پیکیج سے محروم ہو جائے گی۔ ادارے نے تجویز دی کہ اہلیت کی حد 60 فیصد سے کم کرکے 40 فیصد رکھی جائے تاکہ زیادہ کارخانے دوسری شفٹ میں بھی پیداوار شروع کریں اور صنعتی سرگرمی میں حقیقی اضافہ ممکن ہو۔</p>
<p>مزید کہا گیا کہ اگر حکومت کیپٹو صارفین کے لیے اہلیتی معیار کو 40 فیصد تک کم نہیں کرتی، لوڈ میں اضافے یا کیٹیگری تبدیلی والے صارفین کے ساتھ یکساں سلوک نہیں کرتی اور وہیلنگ صارفین کو دوبارہ گرڈ سے بجلی لینے کی اجازت نہیں دیتی تو یہ پیکیج ناقابلِ قبول رہے گا۔</p>
<p>اپٹما نے یہ بھی تجویز دی کہ دن کے اوقات میں کم نرخوں والا انکریمنٹل ٹیرف متعارف کرایا جائے تاکہ صنعتیں دن کے وقت زیادہ بجلی استعمال کریں، گرڈ پر بوجھ میں توازن پیدا ہو اور نظام کی کارکردگی بہتر بنے۔ ادارے نے واضح کیا کہ مجوزہ پیکیج خطے کے ممالک کے مقابلے میں اب بھی مہنگا ہے، جہاں صنعتی ٹیرف 5 سے 9 امریکی سینٹ فی یونٹ کے درمیان ہے، جبکہ پاکستان میں شرح 10 سے 11 سینٹ رہنے کا امکان ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279257</guid>
      <pubDate>Thu, 13 Nov 2025 09:11:52 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/13090942e0f23e2.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/13090942e0f23e2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
