<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:40:25 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:40:25 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان اور فرانس کے درمیان معدنیات اور کان کنی کے شعبوں میں تعاون کے امکانات پر غور</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279251/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اور فرانس نے بدھ کے روز ایک اعلیٰ سطح کے ویبینار کے دوران معدنیات اور کان کنی کے شعبوں میں سرمایہ کاری اور شراکت داری کے امکانات پر تبادلۂ خیال کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت پاکستان نے اسلام آباد میں آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ ( او جی ڈی سی ایل ) کے ہیڈکوارٹرز میں فرانس کے سفارتخانے کے تعاون سے “پاکستان کی معدنی معیشت: ترقی کا دروازہ” کے عنوان سے ویبینار کا انعقاد کیا، جس کا مقصد ملک کے وسیع معدنی وسائل کو اجاگر کرنا اور فرانسیسی کمپنیوں و سرمایہ کاروں کے لیے مواقع پیش کرنا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں پاکستانی اور فرانسیسی کمپنیوں کے درمیان تلاش، پراسیسنگ اور ویلیو ایڈیشن کے لیے تعاون کے ڈھانچوں پر بات چیت ہوئی۔ شرکاء کو بتایا گیا کہ حکومتِ پاکستان سرمایہ کاروں کی سہولت اور منصوبوں کے تحفظ کو یقینی بنانے پر توجہ دے رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک نے تانبے، سونے اور نایاب ارضی عناصر کے شعبوں میں وسیع امکانات کی نشاندہی کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ حکومت پائیدار اور شفاف معدنیات کے شعبے کی ترقی کے لیے پرعزم ہے، جو نہ صرف ملکی ترقی بلکہ عالمی توانائی کی ضروریات کو بھی سہارا دے سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علی پرویز ملک کے مطابق “دنیا میں سبز توانائی کی طرف رجحان نے تانبے، لیتھیم اور نایاب عناصر کو مستقبل کی ٹیکنالوجیز کے لیے انتہائی اہم بنا دیا ہے۔ پاکستان کے معدنی وسائل سے مالا مال علاقے، خصوصاً بلوچستان کی چاغی بیلٹ، سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتے ہیں۔”&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل ( ایس آئی ایف سی) کے ذریعے حکومت بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے سہولت فراہم کرنے اور شفاف ضابطہ جاتی فریم ورک متعارف کرانے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علی پرویز ملک نے بتایا کہ حکومت نے معدنیات کے شعبے میں کاروباری آسانی بڑھانے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں، جن میں نیشنل منرلز ہارمونی زیشن فریم ورک کی تیاری، ارضیاتی ڈیٹا کی ڈیجیٹلائزیشن اور جیولوجیکل سروے آف پاکستان کی بحالی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ “ان اقدامات کا مقصد شفافیت میں اضافہ اور سرمایہ کاروں کے لیے ڈیٹا تک بہتر رسائی کو یقینی بنانا ہے۔”&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر نے پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم 2025 ( پی ایم آئی ایف 25) کا بھی حوالہ دیا، جس میں “50 سے زائد ممالک کے 5,000 سے زیادہ مندوبین شریک ہوئے اور 16 مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر دستخط ہوئے۔” فورم کا اگلا ایڈیشن پی ایم آئی ایف 26 اپریل 2026 میں منعقد کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پی ایم آئی ایف ایک عالمی پلیٹ فارم کے طور پر کام کرتا ہے جو سرمایہ کاروں، ماہرین اور کمپنیوں کو ایک ساتھ لاتا ہے اور پاکستان کے معدنیات کے شعبے میں بین الاقوامی تعاون کا دروازہ کھولتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب فرانسیسی سفیر نکولا گالے نے پاکستان کی معدنیات اور سرمایہ کاری کے ماحول کو مضبوط بنانے کی کوششوں کو سراہا اور اس شعبے میں تعاون بڑھانے میں فرانس کی دلچسپی کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ فرانسیسی کمپنیاں پاکستان کے وسائل کی صلاحیت کو تسلیم کرتی ہیں اور پائیدار کان کنی کے منصوبوں میں شمولیت کی خواہاں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ فرانس کو پاکستان کے معدنی شعبے میں زبردست امکانات نظر آتے ہیں۔ ہم تعاون کو مزید گہرا کرنے اور معلومات و مہارت کے تبادلے کو فروغ دینے کے منتظر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرانسیسی صدر کے مشیر برائے معدنیات بینجامن گالیزو نے کہا کہ یہ فورم فرانسیسی کمپنیوں کے لیے پاکستان کے معدنی شعبے میں سرمایہ کاری کے مواقع اجاگر کرنے میں مددگار ثابت ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;او جی ڈی سی کے منیجنگ ڈائریکٹر و چیف ایگزیکٹو آفیسر احمد حیات لکی نے کہا کہ پاکستانی کمپنیاں جاری اور آئندہ منصوبوں میں فرانسیسی اداروں کے ساتھ شراکت داری کے لیے تیار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق “پاکستان کی معدنی صنعت سرمایہ کاری کے بھرپور امکانات رکھتی ہے، اور ہم فرانسیسی کمپنیوں کو تلاش اور ترقیاتی منصوبوں میں تعاون کی دعوت دیتے ہیں۔ ہم ایسے ممکنہ اشتراکات پر بات چیت کے لیے تیار ہیں جو باہمی ترقی کا باعث بن سکیں۔”&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویبینار کا اختتام اس اتفاقِ رائے پر ہوا کہ پاکستانی اور فرانسیسی فریقین مستقبل میں تلاش، ٹیکنالوجی کے تبادلے اور پائیدار کان کنی کے طریقوں میں تعاون کے مواقع کی نشاندہی کے لیے رابطہ برقرار رکھیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا کہ ریکو ڈک منصوبے میں بیرک گولڈ کا کردار پاکستان میں ترقی کی نوید اور پاکستان،کینیڈا اقتصادی تعاون کی ایک کامیاب مثال بنے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریکو ڈک بلوچستان میں واقع تانبے اور سونے کا ایک وسیع ذخیرہ ہے، جسے دنیا کے بڑے معدنی منصوبوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ منصوبہ بیرک گولڈ اور پاکستانی شراکت داروں کے درمیان ایک مشترکہ منصوبہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں سال ستمبر میں پاکستان اور امریکا نے 500 ملین ڈالر مالیت کا مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے، جس کا مقصد اہم معدنیات ( کریٹیکل منرلز) کے شعبے میں تعاون کو مضبوط بنانا تھا ، یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور تزویراتی روابط کو مزید گہرا کرنے کی ایک اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں اکتوبر میں، پاکستان نے ریئر ارتھ عناصر ( آر ای ای) اور اہم معدنیات کی پہلی کھیپ امریکی کمپنی یو ایس اسٹریٹجک میٹلز ( یو ایس ایس ایم) کو بھیجی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی آر نیوز وائر کے مطابق اس پہلی ترسیل میں پاکستان نے مقامی طور پر تیار کردہ اینٹمونی، کاپر کنسنٹریٹ اور ریئر ارتھ عناصر جن میں نیوڈیمیم اور پریسیوڈیمیم شامل ہیں، فراہم کیے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اور فرانس نے بدھ کے روز ایک اعلیٰ سطح کے ویبینار کے دوران معدنیات اور کان کنی کے شعبوں میں سرمایہ کاری اور شراکت داری کے امکانات پر تبادلۂ خیال کیا ہے۔</strong></p>
<p>حکومت پاکستان نے اسلام آباد میں آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ ( او جی ڈی سی ایل ) کے ہیڈکوارٹرز میں فرانس کے سفارتخانے کے تعاون سے “پاکستان کی معدنی معیشت: ترقی کا دروازہ” کے عنوان سے ویبینار کا انعقاد کیا، جس کا مقصد ملک کے وسیع معدنی وسائل کو اجاگر کرنا اور فرانسیسی کمپنیوں و سرمایہ کاروں کے لیے مواقع پیش کرنا تھا۔</p>
<p>اجلاس میں پاکستانی اور فرانسیسی کمپنیوں کے درمیان تلاش، پراسیسنگ اور ویلیو ایڈیشن کے لیے تعاون کے ڈھانچوں پر بات چیت ہوئی۔ شرکاء کو بتایا گیا کہ حکومتِ پاکستان سرمایہ کاروں کی سہولت اور منصوبوں کے تحفظ کو یقینی بنانے پر توجہ دے رہی ہے۔</p>
<p>وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک نے تانبے، سونے اور نایاب ارضی عناصر کے شعبوں میں وسیع امکانات کی نشاندہی کی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ حکومت پائیدار اور شفاف معدنیات کے شعبے کی ترقی کے لیے پرعزم ہے، جو نہ صرف ملکی ترقی بلکہ عالمی توانائی کی ضروریات کو بھی سہارا دے سکتا ہے۔</p>
<p>علی پرویز ملک کے مطابق “دنیا میں سبز توانائی کی طرف رجحان نے تانبے، لیتھیم اور نایاب عناصر کو مستقبل کی ٹیکنالوجیز کے لیے انتہائی اہم بنا دیا ہے۔ پاکستان کے معدنی وسائل سے مالا مال علاقے، خصوصاً بلوچستان کی چاغی بیلٹ، سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتے ہیں۔”</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل ( ایس آئی ایف سی) کے ذریعے حکومت بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے سہولت فراہم کرنے اور شفاف ضابطہ جاتی فریم ورک متعارف کرانے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔</p>
<p>علی پرویز ملک نے بتایا کہ حکومت نے معدنیات کے شعبے میں کاروباری آسانی بڑھانے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں، جن میں نیشنل منرلز ہارمونی زیشن فریم ورک کی تیاری، ارضیاتی ڈیٹا کی ڈیجیٹلائزیشن اور جیولوجیکل سروے آف پاکستان کی بحالی شامل ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ “ان اقدامات کا مقصد شفافیت میں اضافہ اور سرمایہ کاروں کے لیے ڈیٹا تک بہتر رسائی کو یقینی بنانا ہے۔”</p>
<p>وزیر نے پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم 2025 ( پی ایم آئی ایف 25) کا بھی حوالہ دیا، جس میں “50 سے زائد ممالک کے 5,000 سے زیادہ مندوبین شریک ہوئے اور 16 مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر دستخط ہوئے۔” فورم کا اگلا ایڈیشن پی ایم آئی ایف 26 اپریل 2026 میں منعقد کیا جائے گا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پی ایم آئی ایف ایک عالمی پلیٹ فارم کے طور پر کام کرتا ہے جو سرمایہ کاروں، ماہرین اور کمپنیوں کو ایک ساتھ لاتا ہے اور پاکستان کے معدنیات کے شعبے میں بین الاقوامی تعاون کا دروازہ کھولتا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب فرانسیسی سفیر نکولا گالے نے پاکستان کی معدنیات اور سرمایہ کاری کے ماحول کو مضبوط بنانے کی کوششوں کو سراہا اور اس شعبے میں تعاون بڑھانے میں فرانس کی دلچسپی کا اظہار کیا۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ فرانسیسی کمپنیاں پاکستان کے وسائل کی صلاحیت کو تسلیم کرتی ہیں اور پائیدار کان کنی کے منصوبوں میں شمولیت کی خواہاں ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ فرانس کو پاکستان کے معدنی شعبے میں زبردست امکانات نظر آتے ہیں۔ ہم تعاون کو مزید گہرا کرنے اور معلومات و مہارت کے تبادلے کو فروغ دینے کے منتظر ہیں۔</p>
<p>فرانسیسی صدر کے مشیر برائے معدنیات بینجامن گالیزو نے کہا کہ یہ فورم فرانسیسی کمپنیوں کے لیے پاکستان کے معدنی شعبے میں سرمایہ کاری کے مواقع اجاگر کرنے میں مددگار ثابت ہوا۔</p>
<p>او جی ڈی سی کے منیجنگ ڈائریکٹر و چیف ایگزیکٹو آفیسر احمد حیات لکی نے کہا کہ پاکستانی کمپنیاں جاری اور آئندہ منصوبوں میں فرانسیسی اداروں کے ساتھ شراکت داری کے لیے تیار ہیں۔</p>
<p>ان کے مطابق “پاکستان کی معدنی صنعت سرمایہ کاری کے بھرپور امکانات رکھتی ہے، اور ہم فرانسیسی کمپنیوں کو تلاش اور ترقیاتی منصوبوں میں تعاون کی دعوت دیتے ہیں۔ ہم ایسے ممکنہ اشتراکات پر بات چیت کے لیے تیار ہیں جو باہمی ترقی کا باعث بن سکیں۔”</p>
<p>ویبینار کا اختتام اس اتفاقِ رائے پر ہوا کہ پاکستانی اور فرانسیسی فریقین مستقبل میں تلاش، ٹیکنالوجی کے تبادلے اور پائیدار کان کنی کے طریقوں میں تعاون کے مواقع کی نشاندہی کے لیے رابطہ برقرار رکھیں گے۔</p>
<p>اس سے قبل وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا کہ ریکو ڈک منصوبے میں بیرک گولڈ کا کردار پاکستان میں ترقی کی نوید اور پاکستان،کینیڈا اقتصادی تعاون کی ایک کامیاب مثال بنے گا۔</p>
<p>ریکو ڈک بلوچستان میں واقع تانبے اور سونے کا ایک وسیع ذخیرہ ہے، جسے دنیا کے بڑے معدنی منصوبوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ منصوبہ بیرک گولڈ اور پاکستانی شراکت داروں کے درمیان ایک مشترکہ منصوبہ ہے۔</p>
<p>رواں سال ستمبر میں پاکستان اور امریکا نے 500 ملین ڈالر مالیت کا مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے، جس کا مقصد اہم معدنیات ( کریٹیکل منرلز) کے شعبے میں تعاون کو مضبوط بنانا تھا ، یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور تزویراتی روابط کو مزید گہرا کرنے کی ایک اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔</p>
<p>بعد ازاں اکتوبر میں، پاکستان نے ریئر ارتھ عناصر ( آر ای ای) اور اہم معدنیات کی پہلی کھیپ امریکی کمپنی یو ایس اسٹریٹجک میٹلز ( یو ایس ایس ایم) کو بھیجی۔</p>
<p>پی آر نیوز وائر کے مطابق اس پہلی ترسیل میں پاکستان نے مقامی طور پر تیار کردہ اینٹمونی، کاپر کنسنٹریٹ اور ریئر ارتھ عناصر جن میں نیوڈیمیم اور پریسیوڈیمیم شامل ہیں، فراہم کیے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279251</guid>
      <pubDate>Wed, 12 Nov 2025 22:57:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریحان ایوب)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/1222390245e535a.webp" type="image/webp" medium="image" height="1351" width="2000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/1222390245e535a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
