<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:18:46 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:18:46 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>قومی اسمبلی نے 27 ویں آئینی ترمیم کا بل منظور کرلیا ، اپوزیشن کا واک آؤٹ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279233/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;قومی اسمبلی نے 27ویں آئینی ترمیمی بل منظور کر لیا، جب کہ اجلاس میں شور شرابے کے باوجود وزیراعظم شہباز شریف، نواز شریف اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سمیت اہم سیاسی شخصیات موجود تھیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسپیکر ایاز صادق کے مطابق بل کی حمایت میں 234 ووٹ ملے جبکہ چار ارکان نے مخالفت کی۔ اپوزیشن نے احتجاجاً واک آؤٹ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بل دو مرحلوں میں منظور ہوا، جس میں پہلے ڈویژن ووٹنگ اور پھر شق  وار منظوری شامل تھی۔ وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے بل ایوان میں پیش کیا، دو دن بعد جب سینٹ نے اس اہم قانون سازی کی منظوری دی تھی، جس کا مقصد عدالتی اور فوجی اصلاحات شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم شہباز شریف نے ایوان میں خطاب کرتے ہوئے ارکان اسمبلی کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ایوان نے قومی یکجہتی اور  اتحاد کا مظاہرہ کیا ہے ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مرحوم سینیٹر عرفان صدیقی کو خراج عقیدت پیش کیا اور ان کے لیے دعا مغفرت کی،وزیر اعظم نے  مرحوم کو  اساتذہ کے استاد قرار دیا اور نواز شریف کے لیے ان کی وفاداری کو سراہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے اسلام آباد اور ساؤتھ وزیرستان میں دہشتگرد حملوں کی بھی مذمت کی اور کہا کہ ملوث دہشتگرد عناصر ختم کر دیے گئے ہیں ، جبکہ تمام کیڈٹس، طلبہ اور اساتذہ محفوظ رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان نے عالمی برادری کے سامنے واضح ثبوت پیش کیے ہیں کہ دہشتگرد گروہ افغان سرزمین سے کام کر رہے تھے اور ان کے سہولت کار بھارت میں موجود تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قبل ازیں پارلیمنٹ میں اظہار خیال کے دوران پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی نفیسہ شاہ نے کہا کہ 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم میں پی پی پی کے کردار کو اس بات کے تناظر میں دیکھنا ہوگا کہ کن شقوں کو ان بلز میں شامل نہیں کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ان ترامیم میں شامل نہ کی گئی بعض شقیں وفاقی ڈھانچے اور وسائل سے متعلق تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا قومی اسمبلی کے اسپیکر نے ایک بار پھر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کی  پیشکش کی ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  ' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2025/11/121841422513d18.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2025/11/121841422513d18.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسپیکر نے زور دیا کہ ان کی پیشکش قبول کی جانی چاہیے اور واحد راستہ یہ ہے کہ سب ایک ساتھ بیٹھیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے بار بار اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اطلاعات و نشریات کے وزیر عطااللہ تارڑ نے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم کا مقصد حکمرانی اور دفاع کو مزید مضبوط کرنا اور انصاف کی مؤثر فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سیاسی عمل کا حصہ نہیں بنتی بلکہ سیاسی پوائنٹ اسکورنگ میں مصروف رہتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ بل کو 336 رکنی ایوان میں دو تہائی اکثریت کی حمایت درکار ہوگی جس کے بعد صدر کی منظوری ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایوان میں حکمران اتحاد جس میں مسلم لیگ ن شامل ہے 125 نشستوں کے ساتھ موجود ہے ، پیپلز پارٹی کے پاس 74، متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے 22، مسلم لیگ قائد کے 5، استحکامِ پاکستان پارٹی کے 4 اور پاکستان مسلم لیگ ضیا، بلوچستان عوامی پارٹی اور نیشنل پیپلز پارٹی کو ایک ایک نشست حاصل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، اپوزیشن کے پاس 103 نشستیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قبل ازیں  پیر کو یہ بل سینیٹ میں دو تہائی اکثریت سے منظور کیا گیا جس میں 64 سینیٹرز نے حمایت میں ووٹ دیا جب کہ اپوزیشن نے واک آؤٹ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بل منگل کو قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا جس پر اپوزیشن نے سخت تنقید کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپوزیشن نے الزام عائد کیا کہ حکومت اشرافیہ کو مزید طاقتور بنانے اور کرپٹ عناصر کو تحفظ دینے کے لیے ترمیم لا رہی ہے۔ تحریک انصاف نے بل کی شقوں کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے ہر فورم پر احتجاج کا اعلان کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بل میں اہم آئینی ترامیم شامل ہیں، جن میں وفاقی آئینی عدالت  کا قیام، عدالتی اصلاحات اور صدر و فیلڈ مارشل کے لیے تاحیات استثنیٰ شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحریکِ انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے اس ترمیم کی شدید مذمت کی اور اسے غیر جمہوری اقدام قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گوہر علی خان نے خبردار کیا کہ اگر یہ ترمیم منظور ہو گئی تو آئین بے معنی ہو جائے گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ  یہ عوامی اعتماد سے غداری کے مترادف ہے، جسے  تحریکِ انصاف کسی صورت قبول نہیں کرے گی ۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>قومی اسمبلی نے 27ویں آئینی ترمیمی بل منظور کر لیا، جب کہ اجلاس میں شور شرابے کے باوجود وزیراعظم شہباز شریف، نواز شریف اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سمیت اہم سیاسی شخصیات موجود تھیں۔</strong></p>
<p>اسپیکر ایاز صادق کے مطابق بل کی حمایت میں 234 ووٹ ملے جبکہ چار ارکان نے مخالفت کی۔ اپوزیشن نے احتجاجاً واک آؤٹ کیا۔</p>
<p>بل دو مرحلوں میں منظور ہوا، جس میں پہلے ڈویژن ووٹنگ اور پھر شق  وار منظوری شامل تھی۔ وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے بل ایوان میں پیش کیا، دو دن بعد جب سینٹ نے اس اہم قانون سازی کی منظوری دی تھی، جس کا مقصد عدالتی اور فوجی اصلاحات شامل ہیں۔</p>
<p>وزیراعظم شہباز شریف نے ایوان میں خطاب کرتے ہوئے ارکان اسمبلی کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ایوان نے قومی یکجہتی اور  اتحاد کا مظاہرہ کیا ہے ۔</p>
<p>انہوں نے مرحوم سینیٹر عرفان صدیقی کو خراج عقیدت پیش کیا اور ان کے لیے دعا مغفرت کی،وزیر اعظم نے  مرحوم کو  اساتذہ کے استاد قرار دیا اور نواز شریف کے لیے ان کی وفاداری کو سراہا۔</p>
<p>وزیراعظم نے اسلام آباد اور ساؤتھ وزیرستان میں دہشتگرد حملوں کی بھی مذمت کی اور کہا کہ ملوث دہشتگرد عناصر ختم کر دیے گئے ہیں ، جبکہ تمام کیڈٹس، طلبہ اور اساتذہ محفوظ رہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان نے عالمی برادری کے سامنے واضح ثبوت پیش کیے ہیں کہ دہشتگرد گروہ افغان سرزمین سے کام کر رہے تھے اور ان کے سہولت کار بھارت میں موجود تھے۔</p>
<p>قبل ازیں پارلیمنٹ میں اظہار خیال کے دوران پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی نفیسہ شاہ نے کہا کہ 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم میں پی پی پی کے کردار کو اس بات کے تناظر میں دیکھنا ہوگا کہ کن شقوں کو ان بلز میں شامل نہیں کیا گیا تھا۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ ان ترامیم میں شامل نہ کی گئی بعض شقیں وفاقی ڈھانچے اور وسائل سے متعلق تھیں۔</p>
<p>دریں اثنا قومی اسمبلی کے اسپیکر نے ایک بار پھر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کی  پیشکش کی ۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  ' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2025/11/121841422513d18.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2025/11/121841422513d18.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>اسپیکر نے زور دیا کہ ان کی پیشکش قبول کی جانی چاہیے اور واحد راستہ یہ ہے کہ سب ایک ساتھ بیٹھیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے بار بار اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دی ہے۔</p>
<p>اطلاعات و نشریات کے وزیر عطااللہ تارڑ نے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم کا مقصد حکمرانی اور دفاع کو مزید مضبوط کرنا اور انصاف کی مؤثر فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سیاسی عمل کا حصہ نہیں بنتی بلکہ سیاسی پوائنٹ اسکورنگ میں مصروف رہتی ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ بل کو 336 رکنی ایوان میں دو تہائی اکثریت کی حمایت درکار ہوگی جس کے بعد صدر کی منظوری ضروری ہے۔</p>
<p>ایوان میں حکمران اتحاد جس میں مسلم لیگ ن شامل ہے 125 نشستوں کے ساتھ موجود ہے ، پیپلز پارٹی کے پاس 74، متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے 22، مسلم لیگ قائد کے 5، استحکامِ پاکستان پارٹی کے 4 اور پاکستان مسلم لیگ ضیا، بلوچستان عوامی پارٹی اور نیشنل پیپلز پارٹی کو ایک ایک نشست حاصل ہے۔</p>
<p>دوسری جانب، اپوزیشن کے پاس 103 نشستیں ہیں۔</p>
<p>قبل ازیں  پیر کو یہ بل سینیٹ میں دو تہائی اکثریت سے منظور کیا گیا جس میں 64 سینیٹرز نے حمایت میں ووٹ دیا جب کہ اپوزیشن نے واک آؤٹ کیا۔</p>
<p>یہ بل منگل کو قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا جس پر اپوزیشن نے سخت تنقید کی۔</p>
<p>اپوزیشن نے الزام عائد کیا کہ حکومت اشرافیہ کو مزید طاقتور بنانے اور کرپٹ عناصر کو تحفظ دینے کے لیے ترمیم لا رہی ہے۔ تحریک انصاف نے بل کی شقوں کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے ہر فورم پر احتجاج کا اعلان کیا۔</p>
<p>بل میں اہم آئینی ترامیم شامل ہیں، جن میں وفاقی آئینی عدالت  کا قیام، عدالتی اصلاحات اور صدر و فیلڈ مارشل کے لیے تاحیات استثنیٰ شامل ہے۔</p>
<p>تحریکِ انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے اس ترمیم کی شدید مذمت کی اور اسے غیر جمہوری اقدام قرار دیا۔</p>
<p>گوہر علی خان نے خبردار کیا کہ اگر یہ ترمیم منظور ہو گئی تو آئین بے معنی ہو جائے گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ  یہ عوامی اعتماد سے غداری کے مترادف ہے، جسے  تحریکِ انصاف کسی صورت قبول نہیں کرے گی ۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279233</guid>
      <pubDate>Wed, 12 Nov 2025 19:35:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/12172611f88414f.webp" type="image/webp" medium="image" height="400" width="700">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/12172611f88414f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.ytimg.com/vi/dygvY_DjEE4/maxresdefault_live.jpg" type="image/jpeg" medium="video" height="480" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.ytimg.com/vi/dygvY_DjEE4/mqdefault_live.jpg"/>
        <media:player url="https://www.youtube.com/watch?v=dygvY_DjEE4"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
