<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:07:37 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:07:37 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بینامی ایکٹ 2017 کا ماضی کے سودوں اور ایمنسٹی اسکیم پر اطلاق نہیں ہوتا ، فیڈرل اپیلیٹ ٹربیونل کا فیصلہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279228/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فیڈرل اپیلیٹ ٹربیونل اسپیشل بینچ کراچی نے قرار دیا ہے کہ بینامی ٹرانزیکشنز (ممانعت) ایکٹ 2017 ماضی کے سودوں سے بننے والی جائیدادوں یا ایمنسٹی اسکیم کے تحت ظاہر کی گئی جائیدادوں پر لاگو نہیں ہوگا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حوالے سے دو رکنی بینچ نے بینامی ایڈجیوڈیکیشن اتھارٹی کراچی کے فیصلے کے خلاف تفصیلی حکم جاری کیا ہے۔ یہ مقدمہ کراچی کے ایک بلڈر اور ڈیولپر کی مبینہ بینامی جائیداد سے متعلق تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹربیونل نے اپنے فیصلے میں کہا کہ بینامی جائیداد صرف اسی صورت ضبط کی جا سکتی ہے جب وہ 2017 کے ایکٹ کے نفاذ کے بعد بینامی لین دین کا نتیجہ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس قانون کا اطلاق ان لین دین پر نہیں ہوتا جو ایکٹ کے نفاذ سے پہلے کیے گئے ہوں، کیونکہ اس وقت ایسے سودے ممنوع نہیں تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیصلے میں مزید کہا گیا کہ ماضی کے لین دین سے وجود میں آنے والی بینامی جائیدادوں کی ضبطگی کے لیے کوئی قانونی طریقہ کار موجود نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹربیونل نے یہ بھی واضح کیا کہ بینامی ایکٹ 2017 کا اطلاق ان جائیدادوں پر بھی نہیں ہوتا جو ایسٹ ڈیکلریشن آرڈیننس 2019 (ایمنسٹی اسکیم) کے تحت ظاہر کی گئی ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹربیونل کے مطابق بینامی ایڈجیوڈیکیشن اتھارٹی اور انیشی ایٹنگ افسر نے قانون کو ماضی پر لاگو کرکے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسے سودے جو ایکٹ سے پہلے ہوچکے تھے، اب  مکمل شدہ لین دین کے زمرے میں آتے ہیں اور ان کے مالکوں کے حقوق قانونی طور پر محفوظ ہوچکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیصلے میں کہا گیا کہ بینامی جائیداد کی ضبطگی سے متعلق جاری کردہ حوالہ جات اور کارروائیاں بنیادی قانونی خامیوں کا شکار تھیں، اس لیے وہ قانون کے مطابق برقرار نہیں رہ سکتیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسپیشل بینچ کراچی نے آخر میں ایڈجیوڈیکیشن اتھارٹی اور متعلقہ اداروں کے اٹیچمنٹ آرڈرز کو کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں غیر مؤثر قرار دے دیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فیڈرل اپیلیٹ ٹربیونل اسپیشل بینچ کراچی نے قرار دیا ہے کہ بینامی ٹرانزیکشنز (ممانعت) ایکٹ 2017 ماضی کے سودوں سے بننے والی جائیدادوں یا ایمنسٹی اسکیم کے تحت ظاہر کی گئی جائیدادوں پر لاگو نہیں ہوگا۔</strong></p>
<p>اس حوالے سے دو رکنی بینچ نے بینامی ایڈجیوڈیکیشن اتھارٹی کراچی کے فیصلے کے خلاف تفصیلی حکم جاری کیا ہے۔ یہ مقدمہ کراچی کے ایک بلڈر اور ڈیولپر کی مبینہ بینامی جائیداد سے متعلق تھا۔</p>
<p>ٹربیونل نے اپنے فیصلے میں کہا کہ بینامی جائیداد صرف اسی صورت ضبط کی جا سکتی ہے جب وہ 2017 کے ایکٹ کے نفاذ کے بعد بینامی لین دین کا نتیجہ ہو۔</p>
<p>اس قانون کا اطلاق ان لین دین پر نہیں ہوتا جو ایکٹ کے نفاذ سے پہلے کیے گئے ہوں، کیونکہ اس وقت ایسے سودے ممنوع نہیں تھے۔</p>
<p>فیصلے میں مزید کہا گیا کہ ماضی کے لین دین سے وجود میں آنے والی بینامی جائیدادوں کی ضبطگی کے لیے کوئی قانونی طریقہ کار موجود نہیں۔</p>
<p>ٹربیونل نے یہ بھی واضح کیا کہ بینامی ایکٹ 2017 کا اطلاق ان جائیدادوں پر بھی نہیں ہوتا جو ایسٹ ڈیکلریشن آرڈیننس 2019 (ایمنسٹی اسکیم) کے تحت ظاہر کی گئی ہوں۔</p>
<p>ٹربیونل کے مطابق بینامی ایڈجیوڈیکیشن اتھارٹی اور انیشی ایٹنگ افسر نے قانون کو ماضی پر لاگو کرکے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا۔</p>
<p>ایسے سودے جو ایکٹ سے پہلے ہوچکے تھے، اب  مکمل شدہ لین دین کے زمرے میں آتے ہیں اور ان کے مالکوں کے حقوق قانونی طور پر محفوظ ہوچکے ہیں۔</p>
<p>فیصلے میں کہا گیا کہ بینامی جائیداد کی ضبطگی سے متعلق جاری کردہ حوالہ جات اور کارروائیاں بنیادی قانونی خامیوں کا شکار تھیں، اس لیے وہ قانون کے مطابق برقرار نہیں رہ سکتیں۔</p>
<p>اسپیشل بینچ کراچی نے آخر میں ایڈجیوڈیکیشن اتھارٹی اور متعلقہ اداروں کے اٹیچمنٹ آرڈرز کو کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں غیر مؤثر قرار دے دیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279228</guid>
      <pubDate>Wed, 12 Nov 2025 12:33:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سہیل سرفراز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/121232335ff221f.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/121232335ff221f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
