<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 16:19:15 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 16:19:15 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>افغانستان میں معاشی بحران برقرار، ہر 10 میں سے 9 خاندان بھوک یا قرض میں مبتلا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279226/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان کی معاشی بحالی خطرے میں ہے کیونکہ ہر دس میں سے نو خاندان بھوک، قرض یا اپنی اشیاء فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یو این ڈی پی کی رپورٹ کے مطابق 2023 سے اب تک 45 لاکھ سے زائد افغان خصوصاً ایران اور پاکستان سے جبری طور پر وطن واپس آئے ہیں جس سے آبادی میں 10 فیصد اضافہ ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ زلزلے ، سیلاب اور خشک سالی نے ہزاروں گھر تباہ کر دیے ہیں، جبکہ صحت، تعلیم اور روزگار کے مواقع شدید دباؤ کا شکار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تقریباً 90 فیصد واپس آنے والے خاندان قرض میں ڈوبے ہوئے ہیں، جب کہ بیروزگاری کی شرح 95 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یو این ڈی پی کے مطابق خواتین کی افرادی قوت میں شمولیت صرف 6 فیصد رہ گئی ہے اور پابندیوں کے باعث خواتین سربراہ خاندانوں کے لیے روزگار، تعلیم اور علاج تک رسائی تقریباً ناممکن ہوگئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ نے عالمی برادری سے امداد میں تسلسل اور طالبان حکومت سے خواتین امدادی عملے پر عائد پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے، تاکہ سب سے زیادہ متاثرہ خاندانوں تک مدد پہنچ سکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان کی معاشی بحالی خطرے میں ہے کیونکہ ہر دس میں سے نو خاندان بھوک، قرض یا اپنی اشیاء فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔</strong></p>
<p>یو این ڈی پی کی رپورٹ کے مطابق 2023 سے اب تک 45 لاکھ سے زائد افغان خصوصاً ایران اور پاکستان سے جبری طور پر وطن واپس آئے ہیں جس سے آبادی میں 10 فیصد اضافہ ہوا ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ زلزلے ، سیلاب اور خشک سالی نے ہزاروں گھر تباہ کر دیے ہیں، جبکہ صحت، تعلیم اور روزگار کے مواقع شدید دباؤ کا شکار ہیں۔</p>
<p>تقریباً 90 فیصد واپس آنے والے خاندان قرض میں ڈوبے ہوئے ہیں، جب کہ بیروزگاری کی شرح 95 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔</p>
<p>یو این ڈی پی کے مطابق خواتین کی افرادی قوت میں شمولیت صرف 6 فیصد رہ گئی ہے اور پابندیوں کے باعث خواتین سربراہ خاندانوں کے لیے روزگار، تعلیم اور علاج تک رسائی تقریباً ناممکن ہوگئی ہے۔</p>
<p>رپورٹ نے عالمی برادری سے امداد میں تسلسل اور طالبان حکومت سے خواتین امدادی عملے پر عائد پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے، تاکہ سب سے زیادہ متاثرہ خاندانوں تک مدد پہنچ سکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279226</guid>
      <pubDate>Wed, 12 Nov 2025 12:20:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/121213191c0b611.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/121213191c0b611.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
