<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 22:58:59 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Jul 2026 22:58:59 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹریٹ کارپوریشن کا ہائیجین ریزر سیکشن کو وسعت دینےکیلئے 43 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کا اعلان</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279224/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ٹریٹ کارپوریشن لمیٹڈ نے اپنے ہائیجین ریزر سیکشن کو وسعت دینے کا اعلان کیا ہے اور بڑھتی ہوئی مقامی و برآمدی طلب کو پورا کرنے کے لیے 43 کروڑ روپے (تقریباً 1.5 ملین امریکی ڈالر) کی سرمایہ کاری کی منظوری دی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے یہ معلومات بدھ کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو بھیجے گئے نوٹس میں ظاہر کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوٹس میں کہا گیا کہ ہائیجین ریزرز کی غیر معمولی فروخت اور مضبوط طلب موجودہ پیداوار کی گنجائش سے تجاوز کر گئی ہے، جس کے باعث بورڈ آف ڈائریکٹرز نے اس سیکشن کو وسعت دینے کے لیے سرمایہ کاری کی منظوری دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کے مطابق یہ سرمایہ کاری بڑھتی ہوئی طلب، بشمول مقامی اور برآمدی، کو پورا کرنے کے ساتھ پیداوار کی کارکردگی بہتر بنانے اور شیئر ہولڈرز کی قدر میں اضافہ کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ماہ ٹریٹ نے تیزی سے ترقی کرنے والے پرسنل کیئر سیکشن میں اسٹریٹجک توسیع کا اعلان کرتے ہوئے دو نئے ملکیتی برانڈز متعارف کرائے، مردوں کے لیے جینیسیس اور خواتین کے لیے ایسٹیلہ۔ کمپنی نے بتایا کہ مکمل پروڈکٹ رینج کی گرینڈ لانچ تقریب یکم جنوری 2026 کو منعقد کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹریٹ کارپوریشن لمیٹڈ 1977 میں پاکستان میں ایک پبلکلی لسٹڈ کمپنی کے طور پر قائم کی گئی تھی۔ کمپنی ریزرز اور ریزر بلیڈز کی تیاری اور فروخت کے ساتھ دیگر تجارتی سرگرمیوں میں بھی سرگرم ہے۔ اس کے پاس 75 سے زائد ایس کےک یوز کی پروڈکٹ رینج موجود ہے، جس میں شیونگ ریزرز، باڈی ریزرز اور فیمنین ریزرز شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ٹریٹ کارپوریشن لمیٹڈ نے اپنے ہائیجین ریزر سیکشن کو وسعت دینے کا اعلان کیا ہے اور بڑھتی ہوئی مقامی و برآمدی طلب کو پورا کرنے کے لیے 43 کروڑ روپے (تقریباً 1.5 ملین امریکی ڈالر) کی سرمایہ کاری کی منظوری دی ہے۔</strong></p>
<p>کمپنی نے یہ معلومات بدھ کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو بھیجے گئے نوٹس میں ظاہر کی۔</p>
<p>نوٹس میں کہا گیا کہ ہائیجین ریزرز کی غیر معمولی فروخت اور مضبوط طلب موجودہ پیداوار کی گنجائش سے تجاوز کر گئی ہے، جس کے باعث بورڈ آف ڈائریکٹرز نے اس سیکشن کو وسعت دینے کے لیے سرمایہ کاری کی منظوری دی۔</p>
<p>کمپنی کے مطابق یہ سرمایہ کاری بڑھتی ہوئی طلب، بشمول مقامی اور برآمدی، کو پورا کرنے کے ساتھ پیداوار کی کارکردگی بہتر بنانے اور شیئر ہولڈرز کی قدر میں اضافہ کرے گی۔</p>
<p>گزشتہ ماہ ٹریٹ نے تیزی سے ترقی کرنے والے پرسنل کیئر سیکشن میں اسٹریٹجک توسیع کا اعلان کرتے ہوئے دو نئے ملکیتی برانڈز متعارف کرائے، مردوں کے لیے جینیسیس اور خواتین کے لیے ایسٹیلہ۔ کمپنی نے بتایا کہ مکمل پروڈکٹ رینج کی گرینڈ لانچ تقریب یکم جنوری 2026 کو منعقد کی جائے گی۔</p>
<p>ٹریٹ کارپوریشن لمیٹڈ 1977 میں پاکستان میں ایک پبلکلی لسٹڈ کمپنی کے طور پر قائم کی گئی تھی۔ کمپنی ریزرز اور ریزر بلیڈز کی تیاری اور فروخت کے ساتھ دیگر تجارتی سرگرمیوں میں بھی سرگرم ہے۔ اس کے پاس 75 سے زائد ایس کےک یوز کی پروڈکٹ رینج موجود ہے، جس میں شیونگ ریزرز، باڈی ریزرز اور فیمنین ریزرز شامل ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279224</guid>
      <pubDate>Wed, 12 Nov 2025 11:43:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/12113521e0cf7f8.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/12113521e0cf7f8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
