<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 22:10:01 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 22:10:01 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>شوگر ملز ایسوسی ایشن کا ڈی ریگولیشن پالیسی کی جلد منظوری کا مطالبہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279218/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن (پی ایس ایم اے) نے کہا ہے کہ شوگر سیکٹر کی ڈی ریگولیشن سے متعلق پالیسی جلد از جلد منظور کی جانی چاہیے تاکہ گنے کے کاشتکاروں کو ان کی فصل کیلئے بہترین قیمتیں مل سکیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ایس ایم اے کے ایک ترجمان نے کہا کہ گزشتہ سال گنے کے کاشتکاروں کو بہتر ریٹس ملے کیونکہ حکومت نے مداخلت نہیں کی۔ پنجاب اور سندھ کی حکومتوں کے ساتھ شوگر انڈسٹری کے تعاون نے بھی اس سلسلے کو مزید آسان بنایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہاں یہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ چینی کی ملیں ہمیشہ اپنی کرشنگ کیپیسٹی سے کم کام کرتی رہی ہیں۔ جب تک چینی کے شعبے کو مکمل طور پر ڈی ریگولیٹ نہیں کیا جاتا، پاکستان کا شوگر سیکٹر نہ تو بین الاقوامی مارکیٹ میں مقابلہ کر سکے گا اور نہ ہی کاشتکار بین الاقوامی ریٹس حاصل کر سکیں گے۔ اس کے نتیجے میں وہ زیادہ گنا کاشت نہیں کریں گے، جس سے چینی کی پیداوار کم ہوگی اور حکومت کو اسے درآمد کرنا پڑ سکتا ہے جس سے قومی خزانے پر بوجھ پڑے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان نے کہا کہ جب سے حکومت نے شوگر ملز کے مخصوص زونز کو ختم کیا ہے، گنے کی فصل کی ترقی اور فروغ میں کمی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چاول اور مکئی کی فصلیں پہلے ہی ڈی ریگولیٹ ہو چکی ہیں اور وہ اوپن  مارکیٹ کے اصولوں پر کام کر رہے ہیں۔ ان فصلوں کے کسان بین الاقوامی نرخ حاصل کر رہے ہیں، اور چاول کی فصل کو ڈی ریگولیٹ کرنے کے بعد، یہ سالانہ برآمدات کے ذریعے قومی خزانے میں تقریباً 4 ارب امریکی ڈالر کا اضافہ کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شوگر سیکٹر کو جلد ڈی ریگولیٹ کرنا قومی مفاد میں ہے۔ گنے کے کاشتکار اور صنعت ایک بہتر طریقے سے مل کر کام کریں گے، جو بالآخر پاکستان کی اقتصادی ترقی کو بڑھا دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن (پی ایس ایم اے) نے کہا ہے کہ شوگر سیکٹر کی ڈی ریگولیشن سے متعلق پالیسی جلد از جلد منظور کی جانی چاہیے تاکہ گنے کے کاشتکاروں کو ان کی فصل کیلئے بہترین قیمتیں مل سکیں۔</strong></p>
<p>پی ایس ایم اے کے ایک ترجمان نے کہا کہ گزشتہ سال گنے کے کاشتکاروں کو بہتر ریٹس ملے کیونکہ حکومت نے مداخلت نہیں کی۔ پنجاب اور سندھ کی حکومتوں کے ساتھ شوگر انڈسٹری کے تعاون نے بھی اس سلسلے کو مزید آسان بنایا۔</p>
<p>یہاں یہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ چینی کی ملیں ہمیشہ اپنی کرشنگ کیپیسٹی سے کم کام کرتی رہی ہیں۔ جب تک چینی کے شعبے کو مکمل طور پر ڈی ریگولیٹ نہیں کیا جاتا، پاکستان کا شوگر سیکٹر نہ تو بین الاقوامی مارکیٹ میں مقابلہ کر سکے گا اور نہ ہی کاشتکار بین الاقوامی ریٹس حاصل کر سکیں گے۔ اس کے نتیجے میں وہ زیادہ گنا کاشت نہیں کریں گے، جس سے چینی کی پیداوار کم ہوگی اور حکومت کو اسے درآمد کرنا پڑ سکتا ہے جس سے قومی خزانے پر بوجھ پڑے گا۔</p>
<p>ترجمان نے کہا کہ جب سے حکومت نے شوگر ملز کے مخصوص زونز کو ختم کیا ہے، گنے کی فصل کی ترقی اور فروغ میں کمی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چاول اور مکئی کی فصلیں پہلے ہی ڈی ریگولیٹ ہو چکی ہیں اور وہ اوپن  مارکیٹ کے اصولوں پر کام کر رہے ہیں۔ ان فصلوں کے کسان بین الاقوامی نرخ حاصل کر رہے ہیں، اور چاول کی فصل کو ڈی ریگولیٹ کرنے کے بعد، یہ سالانہ برآمدات کے ذریعے قومی خزانے میں تقریباً 4 ارب امریکی ڈالر کا اضافہ کر رہی ہے۔</p>
<p>شوگر سیکٹر کو جلد ڈی ریگولیٹ کرنا قومی مفاد میں ہے۔ گنے کے کاشتکار اور صنعت ایک بہتر طریقے سے مل کر کام کریں گے، جو بالآخر پاکستان کی اقتصادی ترقی کو بڑھا دے گا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279218</guid>
      <pubDate>Wed, 12 Nov 2025 10:02:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (زاہد بیگ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/12095610c6dc651.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/12095610c6dc651.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
