<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:07:37 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:07:37 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان نے آئی ایم ایف کو 2 ارب 69 کروڑ ڈالر کا سُود ادا کردیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279216/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان نے مختلف آئی ایم ایف پروگرامز کے تحت کل 1.90 ارب ایس ڈی آر (جو کہ 2.69 ارب امریکی ڈالر کے مساوی ہے) سود کی مد میں ادا کیے جس میں 2008 سے جون 2025 تک 401.24 ملین ایس ڈی آر کے اضافی چارجز بھی شامل ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقتصادی امور ڈویژن کے دستاویز کے مطابق، گزشتہ 17 سال میں پاکستان کے لیے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت سالانہ تقسیم شدہ رقم کل 17.45 ارب ایس ڈی آر رہی۔ اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ 2008-2010 کے تحت حکومت کو 4.94 ارب ایس ڈی آر موصول ہوئے جبکہ ایمرجنسی نیچرل ڈیزاسٹر اسسٹنس 2010“ کے تحت 297 ملین ایس ڈی آر دیے گئے۔ ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی (ای ایف ایف) 2013 کے تحت 4.39 ارب ایس ڈی آر ملے اور اسی پروگرام کے تحت بعد میں 3.04 ارب ایس ڈی آر بھی فراہم کیے گئے۔ ریپڈ فنانسنگ انسٹرومنٹ لون 2020 کے تحت 1.02 ارب ایس ڈی آر فراہم کیے گئے، اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ 2023 کے تحت 2.25 ارب ایس ڈی آر موصول ہوئے جب کہ ای ایف ایف 2024“ کے تحت 1.52 ارب ایس ڈی آر دیے گئے۔ علاوہ ازیں اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ پروگرام 2008 کے تحت بھی 1.52 ارب ایس ڈی آر فراہم کیے گئے۔ یہ اعداد و شمار مختلف آئی ایم ایف سہولیات اور پروگراموں کے تحت پاکستان کو حاصل ہونے والی مالی معاونت کی تفصیل پیش کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت نے 2009 تا 2015 کے دوران 257.5 ملین ایس ڈی آر سود کی مد میں ادا کیے۔ ”ایمرجنسی نیچرل ڈیزاسٹر اسسٹنس 2010“ کے تحت 2010 تا 2015 کے دوران 14.5 ملین ایس ڈی آر مارک اپ ادا کیے گئے جبکہ ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی (ای ایف ایف) کے تحت 2013 تا 2025 کے دوران حکومت نے 543.6 ملین ایس ڈی آر ادا کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ حکومت نے 2019 تا 2025 کے دوران ایکسٹینڈڈ فیسیلٹی 2019 پر 411.4 ملین ایس ڈی آر سود ادا کیے۔ ریپڈ فنانسنگ انسٹرومنٹ لون 2020 کے تحت 2020 تا 2025 کے دوران حکومت نے 110.1 ملین ایس ڈی آر سود برداشت کیا جبکہ اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ 2023 کے تحت 2023 تا 2025 کے دوران 142.23 ملین ایس ڈی آر سود ادا کیے گئے۔ ای ایف ایف 2024 کے تحت حکومت نے 2024 تا 2025 کے دوران 17.6 ملین ایس ڈی آر سود ادا کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت نے سب سے زیادہ سود کی رقم 2025 کے کیلنڈر سال میں 376 ملین ایس ڈی آر ادا کی۔ 2023 میں یہ رقم 325.79 ملین ایس ڈی آر اور 2022 میں 142.6 ملین ایس ڈی آر رہی۔ گزشتہ 17 سال میں سب سے کم سود 2014 میں ادا کیا گیا جو 24 ملین ایس ڈی آر تھا اور یہ واحد سال تھا جس میں حکومت نے کوئی اضافی چارج ادا نہیں کیا۔ 2015 میں بھی حکومت نے کم سود کی مد میں 27.6 ملین ایس ڈی آر ادا کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ قابل ذکر ہے کہ آئی ایم ایف کی ٹیم نے 15 اکتوبر کو پاکستان کے ساتھ اسٹاف سطح کا معاہدہ طے کیا جو 37 ماہ کے ایکسٹینڈڈ ارینجمنٹ کے تحت دوسرا جائزہ اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی (آر ایس ایف) کے تحت 28 ماہ کے ارینجمنٹ کا پہلا جائزہ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹاف سطح کے معاہدے کی منظوری آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ سے مشروط ہے۔ منظوری کے بعد پاکستان کو ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی (ای ایف ایف) کے تحت تقریباً 1.0 ارب امریکی ڈالر (760 ملین ایس ڈی آر) اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی (آر ایس ایف) کے تحت تقریباً 200 ملین امریکی ڈالر (154 ملین ایس ڈی آر) تک رسائی حاصل ہوگی جس سے دونوں ارینجمنٹس کے تحت کل تقسیم شدہ رقم تقریباً 3.3 ارب امریکی ڈالر ہو جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان نے مختلف آئی ایم ایف پروگرامز کے تحت کل 1.90 ارب ایس ڈی آر (جو کہ 2.69 ارب امریکی ڈالر کے مساوی ہے) سود کی مد میں ادا کیے جس میں 2008 سے جون 2025 تک 401.24 ملین ایس ڈی آر کے اضافی چارجز بھی شامل ہیں۔</strong></p>
<p>اقتصادی امور ڈویژن کے دستاویز کے مطابق، گزشتہ 17 سال میں پاکستان کے لیے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت سالانہ تقسیم شدہ رقم کل 17.45 ارب ایس ڈی آر رہی۔ اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ 2008-2010 کے تحت حکومت کو 4.94 ارب ایس ڈی آر موصول ہوئے جبکہ ایمرجنسی نیچرل ڈیزاسٹر اسسٹنس 2010“ کے تحت 297 ملین ایس ڈی آر دیے گئے۔ ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی (ای ایف ایف) 2013 کے تحت 4.39 ارب ایس ڈی آر ملے اور اسی پروگرام کے تحت بعد میں 3.04 ارب ایس ڈی آر بھی فراہم کیے گئے۔ ریپڈ فنانسنگ انسٹرومنٹ لون 2020 کے تحت 1.02 ارب ایس ڈی آر فراہم کیے گئے، اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ 2023 کے تحت 2.25 ارب ایس ڈی آر موصول ہوئے جب کہ ای ایف ایف 2024“ کے تحت 1.52 ارب ایس ڈی آر دیے گئے۔ علاوہ ازیں اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ پروگرام 2008 کے تحت بھی 1.52 ارب ایس ڈی آر فراہم کیے گئے۔ یہ اعداد و شمار مختلف آئی ایم ایف سہولیات اور پروگراموں کے تحت پاکستان کو حاصل ہونے والی مالی معاونت کی تفصیل پیش کرتے ہیں۔</p>
<p>حکومت نے 2009 تا 2015 کے دوران 257.5 ملین ایس ڈی آر سود کی مد میں ادا کیے۔ ”ایمرجنسی نیچرل ڈیزاسٹر اسسٹنس 2010“ کے تحت 2010 تا 2015 کے دوران 14.5 ملین ایس ڈی آر مارک اپ ادا کیے گئے جبکہ ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی (ای ایف ایف) کے تحت 2013 تا 2025 کے دوران حکومت نے 543.6 ملین ایس ڈی آر ادا کیے۔</p>
<p>اس کے علاوہ حکومت نے 2019 تا 2025 کے دوران ایکسٹینڈڈ فیسیلٹی 2019 پر 411.4 ملین ایس ڈی آر سود ادا کیے۔ ریپڈ فنانسنگ انسٹرومنٹ لون 2020 کے تحت 2020 تا 2025 کے دوران حکومت نے 110.1 ملین ایس ڈی آر سود برداشت کیا جبکہ اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ 2023 کے تحت 2023 تا 2025 کے دوران 142.23 ملین ایس ڈی آر سود ادا کیے گئے۔ ای ایف ایف 2024 کے تحت حکومت نے 2024 تا 2025 کے دوران 17.6 ملین ایس ڈی آر سود ادا کیے۔</p>
<p>حکومت نے سب سے زیادہ سود کی رقم 2025 کے کیلنڈر سال میں 376 ملین ایس ڈی آر ادا کی۔ 2023 میں یہ رقم 325.79 ملین ایس ڈی آر اور 2022 میں 142.6 ملین ایس ڈی آر رہی۔ گزشتہ 17 سال میں سب سے کم سود 2014 میں ادا کیا گیا جو 24 ملین ایس ڈی آر تھا اور یہ واحد سال تھا جس میں حکومت نے کوئی اضافی چارج ادا نہیں کیا۔ 2015 میں بھی حکومت نے کم سود کی مد میں 27.6 ملین ایس ڈی آر ادا کیے۔</p>
<p>یہ قابل ذکر ہے کہ آئی ایم ایف کی ٹیم نے 15 اکتوبر کو پاکستان کے ساتھ اسٹاف سطح کا معاہدہ طے کیا جو 37 ماہ کے ایکسٹینڈڈ ارینجمنٹ کے تحت دوسرا جائزہ اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی (آر ایس ایف) کے تحت 28 ماہ کے ارینجمنٹ کا پہلا جائزہ تھا۔</p>
<p>اسٹاف سطح کے معاہدے کی منظوری آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ سے مشروط ہے۔ منظوری کے بعد پاکستان کو ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی (ای ایف ایف) کے تحت تقریباً 1.0 ارب امریکی ڈالر (760 ملین ایس ڈی آر) اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی (آر ایس ایف) کے تحت تقریباً 200 ملین امریکی ڈالر (154 ملین ایس ڈی آر) تک رسائی حاصل ہوگی جس سے دونوں ارینجمنٹس کے تحت کل تقسیم شدہ رقم تقریباً 3.3 ارب امریکی ڈالر ہو جائے گی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279216</guid>
      <pubDate>Wed, 12 Nov 2025 09:26:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (حمزہ حبیب)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/1209171431cee69.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/1209171431cee69.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
