<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 20:36:48 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 20:36:48 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>رائے: قومی تعمیر و ترقی میں ہنرمند نوجوانوں کی شمولیت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279208/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیرِاعظم نے حال ہی میں یوتھ لیپ ٹاپ اسکیم 2025 کا آغاز کیا ہے۔ افتتاحی تقریب میں اعلیٰ کارکردگی دکھانے والے طلبہ کو لیپ ٹاپ دیے گئے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِاعظم نے کہا کہ ان کی حکومت نوجوانوں کو جدید آلات اور مہارتوں سے لیس کرنے کے لیے پانچ سو ارب روپے تک خرچ کرنے سے بھی گریز نہیں کرے گی۔ ان کے بقول 2011 سے اب تک نوجوان پاکستانیوں کو جدید آلات فراہم کرنے پر پچاس ارب روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم نوجوانوں کے انضمام کا مسئلہ محض ایک لاکھ کمپیوٹرز کی تقسیم سے کہیں زیادہ بڑا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان طویل عرصے سے نوجوان آبادی کے دباؤ کا سامنا کر رہا ہے، جو ماضی میں بلند شرحِ پیدائش کا نتیجہ ہے۔ خوش آئند طور پر، مردم شماری 2023 کے مطابق یہ دباؤ اب اپنی بلندی پر پہنچ چکا ہے۔ مجموعی آبادی میں نوجوانوں کا تناسب 18.5 فیصد ریکارڈ کیا گیا، جو اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ 15 سے 24 سال کی عمر کے نوجوانوں کی تعداد 2023 میں 4 کروڑ 45 لاکھ تھی، اور یہ تعداد ہر سال تقریباً 10 لاکھ کے اضافے سے بڑھ رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنیادی سوال یہ ہے کہ ملک میں کتنے نوجوان بیکار یا غیر فعال ہیں، یعنی وہ نہ تو روزگار کی تلاش میں ہیں اور نہ ہی اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں، اور ان کے علاوہ وہ نوجوان کتنے ہیں جو مزدور طبقے میں شامل تو ہیں مگر فی الحال بے روزگار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آبادی و رہائش مردم شماری کے مطابق ایسے نوجوانوں کی تعداد جو نہ محنت کش طبقے میں شامل ہیں اور نہ ہی تعلیم حاصل کر رہے ہیں، 1 کروڑ 82 لاکھ ہے۔ ان میں سے 55 لاکھ مرد اور 1 کروڑ 27 لاکھ خواتین شامل ہیں۔ اس طرح مرد نوجوانوں میں بیکار یا غیر فعال افراد کا تناسب 23.9 فیصد جبکہ خواتین میں یہ شرح 58.4 فیصد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ  ان نوجوانوں پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے جو بظاہر فعال افرادی قوت میں شامل ہیں مگر بے روزگاری کے باعث فی الحال غیر فعال ہو چکے ہیں۔ لیبر فورس سروے 2020-21 کے مطابق مرد نوجوانوں کی مزدور قوت میں شمولیت کی شرح 70.2 فیصد جبکہ خواتین کی 23.3 فیصد تھی۔ ان ہی اعداد و شمار کے مطابق بیروزگاری کی شرح مردوں میں 10.1 فیصد اور خواتین میں 14.4 فیصد تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ چار برسوں میں معیشت کی نمایاں سست روی کے پیش نظر نوجوانوں میں بیروزگاری کی شرح اب کہیں زیادہ ہونے کا خدشہ ہے۔ تخمینوں کے مطابق، فی الوقت بیروزگار نوجوانوں کی تعداد تقریباً 27 لاکھ ہے۔ اس طرح پاکستان میں مجموعی طور پر غیر فعال یا بیکار نوجوانوں کی تعداد تقریباً 2 کروڑ 10 لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ نہ صرف ایک انتہائی تشویشناک اعداد و شمار ہیں بلکہ یہ ملک میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کی محدود استعداد کو بھی نمایاں کرتے ہیں۔ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اندراج کی شرح بہت کم ہے، جو واضح طور پر بتاتی ہے کہ پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے مواقع ملکی نوجوان آبادی کے حجم کے مطابق نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تعلیمی ادارے، جو مکمل طور پر حکومتی ملکیت اور انتظام میں ہیں، اس وقت شدید مالی مشکلات کا شکار ہیں۔ فیسوں میں اضافہ کم اور متوسط آمدنی والے خاندانوں کے نوجوانوں کے لیے اعلیٰ تعلیم کے حصول میں بڑی رکاوٹ بن چکا ہے۔ صوبائی حکومتوں کے تعلیمی بجٹ کا 25 فیصد سے بھی کم حصہ اعلیٰ تعلیم پر خرچ ہوتا ہے، حالانکہ ملک میں ابتدائی اور ثانوی سطح پر داخلے کی شرح پہلے ہی بہت کم ہے۔ اس تناظر میں، بجٹ کی یہ ترجیح بظاہر درست معلوم ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں، ملک میں مایوس افرادی قوت ( ڈسکاریج ورکر ایفکیٹ) کا رجحان بڑھا ہے۔ چونکہ مجموعی قومی پیداوار ( جی ڈئ) کی شرح نمو 2018-19 سے اوسطاً صرف 3 فیصد رہی ہے، اس لیے بیروزگاری تیزی سے بڑھی ہے۔ نتیجتاً، نئے ممکنہ کارکنان نے روزگار کی تلاش ترک کر دی ہے کیونکہ مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک میں 2 کروڑ 10 لاکھ غیر فعال نوجوانوں کی موجودگی کئی سنگین سماجی و معاشی خطرات کی علامت ہے۔ دنیا کے متعدد ممالک میں دیکھا گیا ہے کہ نوجوانوں کے احتجاج سیاسی نظام کو عدم استحکام کا شکار کر دیتے ہیں۔ دیگر مسائل میں جرائم میں اضافہ، دہشت گردی میں شمولیت، اور غیر قانونی ہجرت جیسے رجحانات شامل ہیں۔ اس لیے نوجوانوں کو پیداواری اور منافع بخش سرگرمیوں میں شامل کرنا قومی مفاد میں ہے اور اگر نظامی بگاڑ سے بچنا ہے تو اسے انتہائی ترجیح دی جانی چاہیے۔ اسی پس منظر میں، وزیرِاعظم کی جانب سے نوجوانوں کی تعلیم اور روزگار کے لیے بڑی سرمایہ کاری پر زور دینا قابلِ تحسین اقدام ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا کے مختلف ممالک میں نوجوانوں کے پیداواری انضمام (پروڈکٹیو ایبزورپشن) کے لیے متعدد پروگرام شروع کیے گئے ہیں۔ پاکستان میں 63 فیصد سے زائد غیر فعال نوجوان دیہی علاقوں میں رہتے ہیں۔ اگر ان کی جبری نقل مکانی شہروں کی طرف ہوئی تو اس سے معاشی دباؤ، جرائم اور سماجی بے ترتیبی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چند ممالک نے اس مسئلے کا حل دیہی روزگار اسکیم کے ذریعے تلاش کیا ہے، جس کے تحت کم از کم اجرتی روزگار کے دنوں کی ضمانت دی جاتی ہے، اور عام طور پر ایک تہائی مستفید خواتین ہوتی ہیں۔ اس اسکیم کا مقصد پائیدار سماجی اثاثوں کی تخلیق میں مزدور قوت کو شامل کرنا ہے، جیسے پانی کے تحفظ کے ڈھانچے، شجرکاری، زمین کی بہتری، اور دیہی رابطہ سڑکیں۔ پاکستان میں اس مقصد کے لیے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے موجودہ مالیاتی نظام سے استفادہ کیا جا سکتا ہے، تاہم اس پروگرام کو ضلعی اور یونین کونسلوں کے ذریعے چلایا جانا زیادہ موثر ثابت ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری سمت میں کمرشل بینکوں اور مائیکرو فنانس اداروں کے ذریعے چھوٹے قرضوں کی فراہمی میں توسیع اور کامیاب جوان انٹرپرینیورشپ اسکیم کی بحالی ایک اہم قدم ہو سکتا ہے۔ یہ اسکیم 2019 میں اُس وقت کے وزیرِاعظم نے شروع کی تھی، اور دسمبر 2022 تک صرف 29,990 قرضے جاری کیے جا سکے تھے۔ اس پروگرام کا محور بنیادی طور پر شہری نوجوان ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فی الحال کمرشل بینکوں کے مجموعی قرضوں میں دو لاکھ روپے تک کے چھوٹے قرضوں کا تناسب محض 0.6 فیصد ہے۔ تاہم مائیکرو فنانس اداروں نے حالیہ برسوں میں پیش رفت کی ہے اور اس وقت وہ تقریباً 360 ارب روپے کے چھوٹے قرضے فراہم کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت اگر چھوٹے قرضوں کے اجرا پر مالی مراعات دے ، مثلاً کسی مالی سال میں تقسیم کیے گئے قرضوں کی رقم پر 15 فیصد تک ٹیکس کریڈٹ، تو اس اقدام سے بینکوں اور مالیاتی اداروں کی دلچسپی بڑھے گی۔ مزید یہ کہ موجودہ ٹیکس قوانین میں قرضوں کے نقصان کے ازالے کی گنجائش پہلے سے موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر، وزیرِاعظم نے نوجوانوں کو مہارتوں، جدید ٹیکنالوجی اور روزگار کے مواقع سے لیس کرنے کے چیلنج کو درست طور پر شناخت کیا ہے۔ آج پاکستان میں موجود 2 کروڑ 10 لاکھ غیر فعال نوجوانوں کی پیداواری طور پر متناسب شمولیت کو سب سے زیادہ ترجیح دی جانی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیرِاعظم نے حال ہی میں یوتھ لیپ ٹاپ اسکیم 2025 کا آغاز کیا ہے۔ افتتاحی تقریب میں اعلیٰ کارکردگی دکھانے والے طلبہ کو لیپ ٹاپ دیے گئے ہیں۔</strong></p>
<p>تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِاعظم نے کہا کہ ان کی حکومت نوجوانوں کو جدید آلات اور مہارتوں سے لیس کرنے کے لیے پانچ سو ارب روپے تک خرچ کرنے سے بھی گریز نہیں کرے گی۔ ان کے بقول 2011 سے اب تک نوجوان پاکستانیوں کو جدید آلات فراہم کرنے پر پچاس ارب روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔</p>
<p>تاہم نوجوانوں کے انضمام کا مسئلہ محض ایک لاکھ کمپیوٹرز کی تقسیم سے کہیں زیادہ بڑا ہے۔</p>
<p>پاکستان طویل عرصے سے نوجوان آبادی کے دباؤ کا سامنا کر رہا ہے، جو ماضی میں بلند شرحِ پیدائش کا نتیجہ ہے۔ خوش آئند طور پر، مردم شماری 2023 کے مطابق یہ دباؤ اب اپنی بلندی پر پہنچ چکا ہے۔ مجموعی آبادی میں نوجوانوں کا تناسب 18.5 فیصد ریکارڈ کیا گیا، جو اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ 15 سے 24 سال کی عمر کے نوجوانوں کی تعداد 2023 میں 4 کروڑ 45 لاکھ تھی، اور یہ تعداد ہر سال تقریباً 10 لاکھ کے اضافے سے بڑھ رہی ہے۔</p>
<p>بنیادی سوال یہ ہے کہ ملک میں کتنے نوجوان بیکار یا غیر فعال ہیں، یعنی وہ نہ تو روزگار کی تلاش میں ہیں اور نہ ہی اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں، اور ان کے علاوہ وہ نوجوان کتنے ہیں جو مزدور طبقے میں شامل تو ہیں مگر فی الحال بے روزگار ہیں۔</p>
<p>آبادی و رہائش مردم شماری کے مطابق ایسے نوجوانوں کی تعداد جو نہ محنت کش طبقے میں شامل ہیں اور نہ ہی تعلیم حاصل کر رہے ہیں، 1 کروڑ 82 لاکھ ہے۔ ان میں سے 55 لاکھ مرد اور 1 کروڑ 27 لاکھ خواتین شامل ہیں۔ اس طرح مرد نوجوانوں میں بیکار یا غیر فعال افراد کا تناسب 23.9 فیصد جبکہ خواتین میں یہ شرح 58.4 فیصد ہے۔</p>
<p>اس کے علاوہ  ان نوجوانوں پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے جو بظاہر فعال افرادی قوت میں شامل ہیں مگر بے روزگاری کے باعث فی الحال غیر فعال ہو چکے ہیں۔ لیبر فورس سروے 2020-21 کے مطابق مرد نوجوانوں کی مزدور قوت میں شمولیت کی شرح 70.2 فیصد جبکہ خواتین کی 23.3 فیصد تھی۔ ان ہی اعداد و شمار کے مطابق بیروزگاری کی شرح مردوں میں 10.1 فیصد اور خواتین میں 14.4 فیصد تھی۔</p>
<p>گزشتہ چار برسوں میں معیشت کی نمایاں سست روی کے پیش نظر نوجوانوں میں بیروزگاری کی شرح اب کہیں زیادہ ہونے کا خدشہ ہے۔ تخمینوں کے مطابق، فی الوقت بیروزگار نوجوانوں کی تعداد تقریباً 27 لاکھ ہے۔ اس طرح پاکستان میں مجموعی طور پر غیر فعال یا بیکار نوجوانوں کی تعداد تقریباً 2 کروڑ 10 لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔</p>
<p>یہ نہ صرف ایک انتہائی تشویشناک اعداد و شمار ہیں بلکہ یہ ملک میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کی محدود استعداد کو بھی نمایاں کرتے ہیں۔ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اندراج کی شرح بہت کم ہے، جو واضح طور پر بتاتی ہے کہ پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے مواقع ملکی نوجوان آبادی کے حجم کے مطابق نہیں ہیں۔</p>
<p>یہ تعلیمی ادارے، جو مکمل طور پر حکومتی ملکیت اور انتظام میں ہیں، اس وقت شدید مالی مشکلات کا شکار ہیں۔ فیسوں میں اضافہ کم اور متوسط آمدنی والے خاندانوں کے نوجوانوں کے لیے اعلیٰ تعلیم کے حصول میں بڑی رکاوٹ بن چکا ہے۔ صوبائی حکومتوں کے تعلیمی بجٹ کا 25 فیصد سے بھی کم حصہ اعلیٰ تعلیم پر خرچ ہوتا ہے، حالانکہ ملک میں ابتدائی اور ثانوی سطح پر داخلے کی شرح پہلے ہی بہت کم ہے۔ اس تناظر میں، بجٹ کی یہ ترجیح بظاہر درست معلوم ہوتی ہے۔</p>
<p>مزید برآں، ملک میں مایوس افرادی قوت ( ڈسکاریج ورکر ایفکیٹ) کا رجحان بڑھا ہے۔ چونکہ مجموعی قومی پیداوار ( جی ڈئ) کی شرح نمو 2018-19 سے اوسطاً صرف 3 فیصد رہی ہے، اس لیے بیروزگاری تیزی سے بڑھی ہے۔ نتیجتاً، نئے ممکنہ کارکنان نے روزگار کی تلاش ترک کر دی ہے کیونکہ مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں۔</p>
<p>ملک میں 2 کروڑ 10 لاکھ غیر فعال نوجوانوں کی موجودگی کئی سنگین سماجی و معاشی خطرات کی علامت ہے۔ دنیا کے متعدد ممالک میں دیکھا گیا ہے کہ نوجوانوں کے احتجاج سیاسی نظام کو عدم استحکام کا شکار کر دیتے ہیں۔ دیگر مسائل میں جرائم میں اضافہ، دہشت گردی میں شمولیت، اور غیر قانونی ہجرت جیسے رجحانات شامل ہیں۔ اس لیے نوجوانوں کو پیداواری اور منافع بخش سرگرمیوں میں شامل کرنا قومی مفاد میں ہے اور اگر نظامی بگاڑ سے بچنا ہے تو اسے انتہائی ترجیح دی جانی چاہیے۔ اسی پس منظر میں، وزیرِاعظم کی جانب سے نوجوانوں کی تعلیم اور روزگار کے لیے بڑی سرمایہ کاری پر زور دینا قابلِ تحسین اقدام ہے۔</p>
<p>دنیا کے مختلف ممالک میں نوجوانوں کے پیداواری انضمام (پروڈکٹیو ایبزورپشن) کے لیے متعدد پروگرام شروع کیے گئے ہیں۔ پاکستان میں 63 فیصد سے زائد غیر فعال نوجوان دیہی علاقوں میں رہتے ہیں۔ اگر ان کی جبری نقل مکانی شہروں کی طرف ہوئی تو اس سے معاشی دباؤ، جرائم اور سماجی بے ترتیبی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔</p>
<p>چند ممالک نے اس مسئلے کا حل دیہی روزگار اسکیم کے ذریعے تلاش کیا ہے، جس کے تحت کم از کم اجرتی روزگار کے دنوں کی ضمانت دی جاتی ہے، اور عام طور پر ایک تہائی مستفید خواتین ہوتی ہیں۔ اس اسکیم کا مقصد پائیدار سماجی اثاثوں کی تخلیق میں مزدور قوت کو شامل کرنا ہے، جیسے پانی کے تحفظ کے ڈھانچے، شجرکاری، زمین کی بہتری، اور دیہی رابطہ سڑکیں۔ پاکستان میں اس مقصد کے لیے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے موجودہ مالیاتی نظام سے استفادہ کیا جا سکتا ہے، تاہم اس پروگرام کو ضلعی اور یونین کونسلوں کے ذریعے چلایا جانا زیادہ موثر ثابت ہوگا۔</p>
<p>دوسری سمت میں کمرشل بینکوں اور مائیکرو فنانس اداروں کے ذریعے چھوٹے قرضوں کی فراہمی میں توسیع اور کامیاب جوان انٹرپرینیورشپ اسکیم کی بحالی ایک اہم قدم ہو سکتا ہے۔ یہ اسکیم 2019 میں اُس وقت کے وزیرِاعظم نے شروع کی تھی، اور دسمبر 2022 تک صرف 29,990 قرضے جاری کیے جا سکے تھے۔ اس پروگرام کا محور بنیادی طور پر شہری نوجوان ہوں گے۔</p>
<p>فی الحال کمرشل بینکوں کے مجموعی قرضوں میں دو لاکھ روپے تک کے چھوٹے قرضوں کا تناسب محض 0.6 فیصد ہے۔ تاہم مائیکرو فنانس اداروں نے حالیہ برسوں میں پیش رفت کی ہے اور اس وقت وہ تقریباً 360 ارب روپے کے چھوٹے قرضے فراہم کر رہے ہیں۔</p>
<p>حکومت اگر چھوٹے قرضوں کے اجرا پر مالی مراعات دے ، مثلاً کسی مالی سال میں تقسیم کیے گئے قرضوں کی رقم پر 15 فیصد تک ٹیکس کریڈٹ، تو اس اقدام سے بینکوں اور مالیاتی اداروں کی دلچسپی بڑھے گی۔ مزید یہ کہ موجودہ ٹیکس قوانین میں قرضوں کے نقصان کے ازالے کی گنجائش پہلے سے موجود ہے۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>مجموعی طور پر، وزیرِاعظم نے نوجوانوں کو مہارتوں، جدید ٹیکنالوجی اور روزگار کے مواقع سے لیس کرنے کے چیلنج کو درست طور پر شناخت کیا ہے۔ آج پاکستان میں موجود 2 کروڑ 10 لاکھ غیر فعال نوجوانوں کی پیداواری طور پر متناسب شمولیت کو سب سے زیادہ ترجیح دی جانی چاہیے۔</p>
</blockquote>
<p>کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279208</guid>
      <pubDate>Tue, 11 Nov 2025 17:03:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈاکٹر حفیظ اے پاشا)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/111640006971091.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/111640006971091.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
