<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 02:48:22 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 02:48:22 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کشتی حادثہ، ملائیشیا اور تھائی لینڈ نے لاپتہ افراد کی تلاش دوبارہ شروع کر دی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279200/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ملائیشیا اور تھائی لینڈ کی حکام نے سمندر میں ڈوب گئے درجنوں افراد کی تلاش دوبارہ شروع کر دی، چند دن بعد ایک کشتی جو میانمار کے روہنگیا مسلم اقلیت کے افراد لے کر جا رہی تھی، دونوں ممالک کی سرحد کے قریب ڈوب گئی، جس کے نتیجے میں کم از کم 21 افراد ہلاک ہو گئے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملائیشیا کے سمندری ادارے کے مطابق ہفتے سے اب تک 13 افراد کو بچا لیا گیا جبکہ 12 افراد، جن میں دو بچے بھی شامل ہیں، ہلاک ہو گئے۔ ادارے کے علاقائی ڈائریکٹر روملی مصطفی نے بتایا کہ تھائی لینڈ کے حکام نے نو لاشیں دریافت کیں، تاہم تھائی صوبہ ساتون کے ایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ صرف چھ لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روملی مصطفیٰ نے کہا کہ ملائیشیا کے حکام تلاش جاری رکھیں گے، جبکہ تھائی ریسکیو ٹیمیں کوہ تاروتاؤ کے اطراف میں کارروائی کا دائرہ بڑھائیں گی، جہاں زیادہ تر لاشیں ملی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سالوں سے کئی روہنگیا افراد کشتیوں پر سوار ہو کر پڑوسی ممالک بشمول مسلمان اکثریتی ملائیشیا اور انڈونیشیا اور تھائی لینڈ، جانے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ میانمار میں ظلم یا بنگلہ دیش کے پناہ گزین کیمپوں سے فرار حاصل کر سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میانمار، جہاں بودھ اکثریت ہے، روہنگیا کے خلاف زیادتیوں سے انکار کرتا ہے اور دعویٰ کرتا ہے کہ یہ اقلیت ملک کی شہری نہیں بلکہ جنوبی ایشیا سے غیر قانونی تارکین وطن ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوام متحدہ کے پناہ گزین ادارے کے مطابق حالیہ ہفتوں میں 5,100 سے زائد روہنگیا میانمار اور بنگلہ دیش سے کشتیوں پر روانہ ہوئے، جن میں سے تقریباً 600 افراد ہلاک یا لاپتہ ہو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایسین بلاک پر زور دیا کہ روہنگیا کشتیوں کے مسئلے کو حل کرے اور تمام کشتیوں کو قریبی ملک میں محفوظ طور پر اتارنے کی اجازت دی جائے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ملائیشیا اور تھائی لینڈ کی حکام نے سمندر میں ڈوب گئے درجنوں افراد کی تلاش دوبارہ شروع کر دی، چند دن بعد ایک کشتی جو میانمار کے روہنگیا مسلم اقلیت کے افراد لے کر جا رہی تھی، دونوں ممالک کی سرحد کے قریب ڈوب گئی، جس کے نتیجے میں کم از کم 21 افراد ہلاک ہو گئے۔</strong></p>
<p>ملائیشیا کے سمندری ادارے کے مطابق ہفتے سے اب تک 13 افراد کو بچا لیا گیا جبکہ 12 افراد، جن میں دو بچے بھی شامل ہیں، ہلاک ہو گئے۔ ادارے کے علاقائی ڈائریکٹر روملی مصطفی نے بتایا کہ تھائی لینڈ کے حکام نے نو لاشیں دریافت کیں، تاہم تھائی صوبہ ساتون کے ایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ صرف چھ لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔</p>
<p>روملی مصطفیٰ نے کہا کہ ملائیشیا کے حکام تلاش جاری رکھیں گے، جبکہ تھائی ریسکیو ٹیمیں کوہ تاروتاؤ کے اطراف میں کارروائی کا دائرہ بڑھائیں گی، جہاں زیادہ تر لاشیں ملی ہیں۔</p>
<p>سالوں سے کئی روہنگیا افراد کشتیوں پر سوار ہو کر پڑوسی ممالک بشمول مسلمان اکثریتی ملائیشیا اور انڈونیشیا اور تھائی لینڈ، جانے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ میانمار میں ظلم یا بنگلہ دیش کے پناہ گزین کیمپوں سے فرار حاصل کر سکیں۔</p>
<p>میانمار، جہاں بودھ اکثریت ہے، روہنگیا کے خلاف زیادتیوں سے انکار کرتا ہے اور دعویٰ کرتا ہے کہ یہ اقلیت ملک کی شہری نہیں بلکہ جنوبی ایشیا سے غیر قانونی تارکین وطن ہیں۔</p>
<p>اقوام متحدہ کے پناہ گزین ادارے کے مطابق حالیہ ہفتوں میں 5,100 سے زائد روہنگیا میانمار اور بنگلہ دیش سے کشتیوں پر روانہ ہوئے، جن میں سے تقریباً 600 افراد ہلاک یا لاپتہ ہو چکے ہیں۔</p>
<p>ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایسین بلاک پر زور دیا کہ روہنگیا کشتیوں کے مسئلے کو حل کرے اور تمام کشتیوں کو قریبی ملک میں محفوظ طور پر اتارنے کی اجازت دی جائے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279200</guid>
      <pubDate>Tue, 11 Nov 2025 12:36:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/11123503ce709dd.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/11123503ce709dd.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
