<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 03:48:05 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 03:48:05 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>قومی اسمبلی میں ہنگامہ، اپوزیشن کی 27ویں آئینی ترمیمی بل کی شدید مخالفت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279183/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;قومی اسمبلی میں پیر کے روز شدید ہنگامہ برپا ہوگیا جب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اپوزیشن اراکین نے حکومتی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی پر 27ویں آئینی ترمیمی بل کی حمایت کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے سخت احتجاج کیا۔ پی ٹی آئی اراکین نے ایوان کی کارروائی کئی گھنٹوں تک معطل رکھی اور مجوزہ ترمیم کو آئینی سالمیت کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بل حکومتی اشرافیہ کو طاقت میں اضافے کا موقع دے گا، جمہوری اداروں کو کمزور کرے گا اور عدلیہ کی حیثیت کو غیر مؤثر بنائے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی آئی کے سینئر رہنما اسد قیصر نے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری پر 1973 کے آئین سے غداری اور اپنے نانا ذوالفقار علی بھٹو کی میراث کو نقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ بلاول اور پی پی پی آئین کی کھلی توہین کے بعد عوام کے سامنے کیسے کھڑے ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے عوامی نیشنل پارٹی اور اس کے رہنما ایمل ولی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا، ان پر خاندان کی فوجی آمریت کے خلاف تاریخی مخالفت کو ترک کرنے کا الزام لگایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسد قیصر نے سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کی جماعت مسلم لیگ ن پر بھی شدید تنقید کی، بل کی حمایت کو غیر جمہوری قوتوں کے سامنے ذلت آمیز سرنڈر قرار دیا اور کہا کہ اس سے عدالتیں غیر مؤثر ہوسکتی ہیں اور عام آدمی کو انصاف تک رسائی سے محروم کیا جائے گا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پی ٹی آئی اس بل کے خلاف عوامی احتجاج بھی کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس دوران پیپلز پارٹی کے راجہ پرویز اشرف نے پی ٹی آئی اراکین پر تنقیدی حملے کیے، انہیں قومی مفاد سے زیادہ عمران خان کی رہائی کی فکر رکھنے والا قرار دیا اور احتجاج کو محض توجہ ہٹانے کی کارروائی کہا۔ انہوں نے کہا کہ پی پی پی فوج کے ساتھ کھڑی رہے گی اور بل کی حمایت جاری رکھے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمیعت علمائے اسلام ف کی عالیہ کامران نے بل کی تیز رفتار منظوری پر اعتراض کیا اور کہا کہ عوامی مشاورت کے بغیر اس بل کے اثرات ملک کی جمہوریت کے لیے خطرناک ہوسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے بل کے حق میں موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فوج کی قیادت کی وجہ سے پاکستان کی بین الاقوامی حیثیت بلند ہوئی ہے اور ملکی ترقی کے مخالفین کے ساتھ سخت رویہ اپنایا جائے گا۔ انہوں نے پی ٹی آئی پر خیبر پختونخوا میں دہشت گردوں کی مدد اور 40 ہزار افراد کی آبادکاری کا الزام بھی عائد کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس دوران حنیف عباسی کے عمران خان سے متعلق بیان پر پی ٹی آئی اراکین نے شدید اعتراض کیا اور ڈپٹی اسپیکر غلام مصطفیٰ شاہ نے ان کے بیان کو ریکارڈ سے حذف کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>قومی اسمبلی میں پیر کے روز شدید ہنگامہ برپا ہوگیا جب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اپوزیشن اراکین نے حکومتی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی پر 27ویں آئینی ترمیمی بل کی حمایت کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے سخت احتجاج کیا۔ پی ٹی آئی اراکین نے ایوان کی کارروائی کئی گھنٹوں تک معطل رکھی اور مجوزہ ترمیم کو آئینی سالمیت کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بل حکومتی اشرافیہ کو طاقت میں اضافے کا موقع دے گا، جمہوری اداروں کو کمزور کرے گا اور عدلیہ کی حیثیت کو غیر مؤثر بنائے گا۔</strong></p>
<p>پی ٹی آئی کے سینئر رہنما اسد قیصر نے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری پر 1973 کے آئین سے غداری اور اپنے نانا ذوالفقار علی بھٹو کی میراث کو نقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ بلاول اور پی پی پی آئین کی کھلی توہین کے بعد عوام کے سامنے کیسے کھڑے ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے عوامی نیشنل پارٹی اور اس کے رہنما ایمل ولی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا، ان پر خاندان کی فوجی آمریت کے خلاف تاریخی مخالفت کو ترک کرنے کا الزام لگایا۔</p>
<p>اسد قیصر نے سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کی جماعت مسلم لیگ ن پر بھی شدید تنقید کی، بل کی حمایت کو غیر جمہوری قوتوں کے سامنے ذلت آمیز سرنڈر قرار دیا اور کہا کہ اس سے عدالتیں غیر مؤثر ہوسکتی ہیں اور عام آدمی کو انصاف تک رسائی سے محروم کیا جائے گا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پی ٹی آئی اس بل کے خلاف عوامی احتجاج بھی کرے گی۔</p>
<p>اس دوران پیپلز پارٹی کے راجہ پرویز اشرف نے پی ٹی آئی اراکین پر تنقیدی حملے کیے، انہیں قومی مفاد سے زیادہ عمران خان کی رہائی کی فکر رکھنے والا قرار دیا اور احتجاج کو محض توجہ ہٹانے کی کارروائی کہا۔ انہوں نے کہا کہ پی پی پی فوج کے ساتھ کھڑی رہے گی اور بل کی حمایت جاری رکھے گی۔</p>
<p>جمیعت علمائے اسلام ف کی عالیہ کامران نے بل کی تیز رفتار منظوری پر اعتراض کیا اور کہا کہ عوامی مشاورت کے بغیر اس بل کے اثرات ملک کی جمہوریت کے لیے خطرناک ہوسکتے ہیں۔</p>
<p>وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے بل کے حق میں موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فوج کی قیادت کی وجہ سے پاکستان کی بین الاقوامی حیثیت بلند ہوئی ہے اور ملکی ترقی کے مخالفین کے ساتھ سخت رویہ اپنایا جائے گا۔ انہوں نے پی ٹی آئی پر خیبر پختونخوا میں دہشت گردوں کی مدد اور 40 ہزار افراد کی آبادکاری کا الزام بھی عائد کیا۔</p>
<p>اس دوران حنیف عباسی کے عمران خان سے متعلق بیان پر پی ٹی آئی اراکین نے شدید اعتراض کیا اور ڈپٹی اسپیکر غلام مصطفیٰ شاہ نے ان کے بیان کو ریکارڈ سے حذف کر دیا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279183</guid>
      <pubDate>Tue, 11 Nov 2025 09:44:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (نوید بٹذوالفقار احمد)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/11094222f5dfe8e.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/11094222f5dfe8e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
