<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:52:56 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:52:56 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ابتدائی مالیاتی توازن</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279173/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;2019 سے اب تک پاکستان کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے تینوں پروگرامز میں توجہ مالیاتی توازن کے بجائے ابتدائی مالیاتی توازن پر مرکوز رہی ہے، جسے مجموعی آمدنی کے تناسب سے ناپا جاتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حکمتِ عملی کا منطق یہ تھا کہ اگر ماضی کے قرضوں پر سود کی ادائیگیوں کے بوجھ سے آزاد ہو کر بجٹ تیار کیا جائے تو پاکستان سیکھ سکے گا کہ طویل المدتی قرضوں کی پائیداری، معاشی استحکام اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی کے لیے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کو کیسے قابو میں رکھا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اس ہدف کا یہ مطلب نہیں کہ ماضی کے قرضوں پر سود کی ادائیگیاں بجٹ سے خارج ہو جاتی ہیں، یہ صرف ایک محسابی یا اکاؤنٹنگ مشق ہے۔ ساتھ ہی، پرانے قرضوں کی ادائیگی اور بجٹ میں شامل ترجیحات (جو بجٹ کے اعلان کے وقت 92 فیصد سے زائد اور مالی سال کے اختتام پر 95 فیصد سے زیادہ ہو جاتی ہیں، کیونکہ ترقیاتی پروگرام کو خسارہ کم کرنے کے لیے سختی سے کاٹ دیا جاتا ہے) پوری کرنے کے لیے اندرونی و بیرونی قرضہ لینے کی ضرورت برقرار رہتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2022-23 میں پاکستان کو مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے لحاظ سے منفی 0.9 فیصد ابتدائی مالیاتی توازن کا سامنا کرنا پڑا، چاہے امداد کو شامل کیا جائے یا نہ کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیلجیم نے اس اقدام کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ حتیٰ کہ دوسری عالمی جنگ کے دوران بھی خودمختار فنڈز کو منجمد نہیں بلکہ غیر متحرک کیا گیا تھا، اس لیے خطرے کی تقسیم ضروری ہے، یعنی اتنی ہی مالیت کا ایک متوازی فنڈ قائم کیا جائے تاکہ روس کو ادائیگی ممکن ہو سکے۔ تاہم یہ طریقہ کار دراصل انہی فنڈز کے استعمال کے مقصد کو ہی ناکام بنا دیتا ہے۔ اس کے باوجود بیلجیم اس امر میں شریک رہا کہ روسی فنڈز پر حاصل ہونے والے سود کو یوکرین کے لیے قرضوں کے ضمانتی اثاثے کے طور پر استعمال کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں اس اقدام کے نتیجے میں دنیا کے دیگر ممالک آئندہ اپنے خودمختار فنڈز یورپ میں رکھنے سے گریز کریں گے — ایک ایسا رجحان جو عالمی معیشت میں ڈی-ڈالرائزیشن اور ساتھ ہی یورو کی تنزلی کو بھی تیز کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بہت سے مبصرین یہ سوال اٹھا سکتے ہیں کہ جب پاکستان کے معاشی اشاریے او ای سی ڈی ممالک کے مقابلے میں نسبتاً بہتر ہیں، تو پھر اسے ابتدائی مالیاتی توازن برقرار رکھنے کی سخت شرط کا سامنا کیوں ہے؟ پاکستان کا قرض برائے جی ڈی پی تناسب 71 فیصد ہے (اگرچہ یہ 2005 کے فِسکل ریسپانسبلٹی اینڈ ڈیٹ لِمِٹیشن ایکٹ کے تحت مقرر کردہ 60 فیصد حد سے زیادہ ہے) اور ملک نے ابتدائی سرپلس بھی ظاہر کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کا جواب یہ ہے کہ یورپی یونین اور  او ای سی ڈی کے ممالک کو قرض تک کہیں زیادہ آسان رسائی حاصل ہے، چاہے وہ یورپی مالیاتی اداروں کے اندر سے ہو یا کثیرالجہتی مالیاتی اداروں کے ذریعے۔ مزید یہ کہ تینوں بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیاں ان ممالک کو انوَیسٹمنٹ گریڈ میں رکھتی ہیں، جب کہ پاکستان کو نہ تو آسان قرض دستیاب ہے (دوستانہ ممالک نے سالانہ قرضوں کی تجدید کو آئی ایم ایف پروگرام میں شمولیت سے مشروط کر رکھا ہے) اور نہ ہی پاکستان کبھی انویسٹمنٹ گریڈ میں شامل رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ مالی سال کے بجٹ میں شرحِ سود کی ادائیگیوں کے لیے مختص رقم کل جاری اخراجات کا 53 فیصد ہے، جب کہ جاری اخراجات بجٹ کے 93 فیصد پر محیط ہیں۔ دوسری جانب پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے لیے مختص رقم کو ہر مالی سال کے آخر میں آئی ایم ایف کے مقرر کردہ مالیاتی توازن کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے بڑی حد تک کم کر دیا جاتا ہے۔ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں اصل ادائیگی محض 40.44 ملین روپے رہی، جب کہ اس کے لیے مجاز رقم 156,064 ملین روپے تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ سال کے دوران مجوزہ نیا قرضہ اندرونِ ملک 6,309 ارب روپے اور بیرونِ ملک تقریباً 20 ارب ڈالر ہے۔ چونکہ اخراجات میں پچھلے سال کے مقابلے میں کوئی کمی نہیں کی گئی، اس لیے بجٹ خسارے میں کمی کی ذمہ داری صرف شرحِ رعایت کو 11 فیصد سے کم کرنے پر آنی چاہیے، لیکن یہ کمی ممکن نہیں لگتی کیونکہ سیلابوں کے بعد افراطِ زر میں دوبارہ اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صورتحال کو مزید پیچیدہ بنانے والا عنصر یہ ہے کہ سرکاری اداروں کے جمع کردہ اعدادوشمار طویل عرصے سے ملکی ماہرینِ معیشت کی تنقید کی زد میں ہیں۔ یہی مؤقف آئی ایم ایف نے بھی 10 اکتوبر 2024 کو جاری کردہ اپنی دستاویز “Pakistan: 2024 Article IV Consultation and Request for an Extended Arrangement under the EFF” میں اختیار کیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے تقریباً ایک تہائی حصے سے متعلق اعداد و شمار کے ماخذ میں نمایاں خامیاں موجود ہیں، خصوصاً حکومتی مالیاتی اعداد و شمار کی تفصیل اور درستگی سے متعلق مسائل، جو ممکنہ طور پر اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ فنڈ نے اپنی توجہ ابتدائی خسارے پر کیوں مرکوز کر رکھی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;بالآخر یہ کہا جا سکتا ہے کہ ابتدائی مالیاتی سرپلس پر غیر ضروری زور دینے کے بجائے پالیسی کی توجہ بجٹ خسارے میں کمی پر مرکوز ہونی چاہیے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ حکومت غیر ترقیاتی اور موجودہ اخراجات میں مؤثر کٹوتی کرے، بجائے اس کے کہ کمزور معیشت پر مزید بوجھ ڈال کر محصولات میں اضافہ کرنے کی کوشش کرے۔ صرف اسی صورت میں پاکستان پائیدار مالیاتی نظم، اقتصادی استحکام اور جامع ترقی کی سمت آگے بڑھ سکے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>2019 سے اب تک پاکستان کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے تینوں پروگرامز میں توجہ مالیاتی توازن کے بجائے ابتدائی مالیاتی توازن پر مرکوز رہی ہے، جسے مجموعی آمدنی کے تناسب سے ناپا جاتا ہے۔</strong></p>
<p>اس حکمتِ عملی کا منطق یہ تھا کہ اگر ماضی کے قرضوں پر سود کی ادائیگیوں کے بوجھ سے آزاد ہو کر بجٹ تیار کیا جائے تو پاکستان سیکھ سکے گا کہ طویل المدتی قرضوں کی پائیداری، معاشی استحکام اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی کے لیے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کو کیسے قابو میں رکھا جائے۔</p>
<p>تاہم اس ہدف کا یہ مطلب نہیں کہ ماضی کے قرضوں پر سود کی ادائیگیاں بجٹ سے خارج ہو جاتی ہیں، یہ صرف ایک محسابی یا اکاؤنٹنگ مشق ہے۔ ساتھ ہی، پرانے قرضوں کی ادائیگی اور بجٹ میں شامل ترجیحات (جو بجٹ کے اعلان کے وقت 92 فیصد سے زائد اور مالی سال کے اختتام پر 95 فیصد سے زیادہ ہو جاتی ہیں، کیونکہ ترقیاتی پروگرام کو خسارہ کم کرنے کے لیے سختی سے کاٹ دیا جاتا ہے) پوری کرنے کے لیے اندرونی و بیرونی قرضہ لینے کی ضرورت برقرار رہتی ہے۔</p>
<p>مالی سال 2022-23 میں پاکستان کو مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے لحاظ سے منفی 0.9 فیصد ابتدائی مالیاتی توازن کا سامنا کرنا پڑا، چاہے امداد کو شامل کیا جائے یا نہ کیا جائے۔</p>
<p>بیلجیم نے اس اقدام کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ حتیٰ کہ دوسری عالمی جنگ کے دوران بھی خودمختار فنڈز کو منجمد نہیں بلکہ غیر متحرک کیا گیا تھا، اس لیے خطرے کی تقسیم ضروری ہے، یعنی اتنی ہی مالیت کا ایک متوازی فنڈ قائم کیا جائے تاکہ روس کو ادائیگی ممکن ہو سکے۔ تاہم یہ طریقہ کار دراصل انہی فنڈز کے استعمال کے مقصد کو ہی ناکام بنا دیتا ہے۔ اس کے باوجود بیلجیم اس امر میں شریک رہا کہ روسی فنڈز پر حاصل ہونے والے سود کو یوکرین کے لیے قرضوں کے ضمانتی اثاثے کے طور پر استعمال کیا جائے۔</p>
<p>مزید برآں اس اقدام کے نتیجے میں دنیا کے دیگر ممالک آئندہ اپنے خودمختار فنڈز یورپ میں رکھنے سے گریز کریں گے — ایک ایسا رجحان جو عالمی معیشت میں ڈی-ڈالرائزیشن اور ساتھ ہی یورو کی تنزلی کو بھی تیز کر سکتا ہے۔</p>
<p>بہت سے مبصرین یہ سوال اٹھا سکتے ہیں کہ جب پاکستان کے معاشی اشاریے او ای سی ڈی ممالک کے مقابلے میں نسبتاً بہتر ہیں، تو پھر اسے ابتدائی مالیاتی توازن برقرار رکھنے کی سخت شرط کا سامنا کیوں ہے؟ پاکستان کا قرض برائے جی ڈی پی تناسب 71 فیصد ہے (اگرچہ یہ 2005 کے فِسکل ریسپانسبلٹی اینڈ ڈیٹ لِمِٹیشن ایکٹ کے تحت مقرر کردہ 60 فیصد حد سے زیادہ ہے) اور ملک نے ابتدائی سرپلس بھی ظاہر کیا ہے۔</p>
<p>اس کا جواب یہ ہے کہ یورپی یونین اور  او ای سی ڈی کے ممالک کو قرض تک کہیں زیادہ آسان رسائی حاصل ہے، چاہے وہ یورپی مالیاتی اداروں کے اندر سے ہو یا کثیرالجہتی مالیاتی اداروں کے ذریعے۔ مزید یہ کہ تینوں بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیاں ان ممالک کو انوَیسٹمنٹ گریڈ میں رکھتی ہیں، جب کہ پاکستان کو نہ تو آسان قرض دستیاب ہے (دوستانہ ممالک نے سالانہ قرضوں کی تجدید کو آئی ایم ایف پروگرام میں شمولیت سے مشروط کر رکھا ہے) اور نہ ہی پاکستان کبھی انویسٹمنٹ گریڈ میں شامل رہا ہے۔</p>
<p>موجودہ مالی سال کے بجٹ میں شرحِ سود کی ادائیگیوں کے لیے مختص رقم کل جاری اخراجات کا 53 فیصد ہے، جب کہ جاری اخراجات بجٹ کے 93 فیصد پر محیط ہیں۔ دوسری جانب پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے لیے مختص رقم کو ہر مالی سال کے آخر میں آئی ایم ایف کے مقرر کردہ مالیاتی توازن کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے بڑی حد تک کم کر دیا جاتا ہے۔ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں اصل ادائیگی محض 40.44 ملین روپے رہی، جب کہ اس کے لیے مجاز رقم 156,064 ملین روپے تھی۔</p>
<p>موجودہ سال کے دوران مجوزہ نیا قرضہ اندرونِ ملک 6,309 ارب روپے اور بیرونِ ملک تقریباً 20 ارب ڈالر ہے۔ چونکہ اخراجات میں پچھلے سال کے مقابلے میں کوئی کمی نہیں کی گئی، اس لیے بجٹ خسارے میں کمی کی ذمہ داری صرف شرحِ رعایت کو 11 فیصد سے کم کرنے پر آنی چاہیے، لیکن یہ کمی ممکن نہیں لگتی کیونکہ سیلابوں کے بعد افراطِ زر میں دوبارہ اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔</p>
<p>صورتحال کو مزید پیچیدہ بنانے والا عنصر یہ ہے کہ سرکاری اداروں کے جمع کردہ اعدادوشمار طویل عرصے سے ملکی ماہرینِ معیشت کی تنقید کی زد میں ہیں۔ یہی مؤقف آئی ایم ایف نے بھی 10 اکتوبر 2024 کو جاری کردہ اپنی دستاویز “Pakistan: 2024 Article IV Consultation and Request for an Extended Arrangement under the EFF” میں اختیار کیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے تقریباً ایک تہائی حصے سے متعلق اعداد و شمار کے ماخذ میں نمایاں خامیاں موجود ہیں، خصوصاً حکومتی مالیاتی اعداد و شمار کی تفصیل اور درستگی سے متعلق مسائل، جو ممکنہ طور پر اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ فنڈ نے اپنی توجہ ابتدائی خسارے پر کیوں مرکوز کر رکھی ہے۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>بالآخر یہ کہا جا سکتا ہے کہ ابتدائی مالیاتی سرپلس پر غیر ضروری زور دینے کے بجائے پالیسی کی توجہ بجٹ خسارے میں کمی پر مرکوز ہونی چاہیے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ حکومت غیر ترقیاتی اور موجودہ اخراجات میں مؤثر کٹوتی کرے، بجائے اس کے کہ کمزور معیشت پر مزید بوجھ ڈال کر محصولات میں اضافہ کرنے کی کوشش کرے۔ صرف اسی صورت میں پاکستان پائیدار مالیاتی نظم، اقتصادی استحکام اور جامع ترقی کی سمت آگے بڑھ سکے گا۔</p>
</blockquote>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279173</guid>
      <pubDate>Mon, 10 Nov 2025 17:12:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انجم ابراہیم)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/10163919b851bca.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/10163919b851bca.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
