<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:53:31 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:53:31 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تنخواہ دار طبقہ: جابرانہ ٹیکسوں کا خاتمہ کیا جائے (آخری حصہ)</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279169/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;غیر ٹیکس شدہ شعبوں سے موازنہ کرنے پر یہ ناانصافی اور بھی نمایاں ہو جاتی ہے، کیونکہ زرعی شعبہ، جو مجموعی طور پر معیشت میں تقریباً 25 فیصد حصہ ڈالتا ہے، وفاقی انکم ٹیکس نظام سے مکمل طور پر باہر ہے، حالانکہ صوبوں کے دائرۂ کار میں آنے والا زرعی آمدن پر ٹیکس صرف فصلوں تک محدود ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح جائیداد کا شعبہ، جہاں قیاسی منافع اکثر باضابطہ کاروباری منافع سے زیادہ ہوتا ہے، جائیداد کی کم قیمت ظاہر کرنے اور کیپیٹل ویلیو ٹیکس کے نظام میں موجود سقم کی وجہ سے نہ ہونے کے برابر ٹیکس ادا کرتا ہے۔ تاجر، ہول سیلرز اور ریٹیلرز، جو معیشت کا ایک بڑا حصہ ہیں، اس کے مقابلے میں انتہائی قلیل ٹیکس دیتے ہیں جتنا تنخواہ دار طبقہ ادا کرتا ہے۔ ٹیکس کی اس کھوکھلی تقسیم نے نہ صرف مسابقت کو بگاڑ دیا ہے بلکہ ایماندار شہریوں میں اجنبیت اور محرومی کے احساس کو بھی گہرا کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسے نظام کے سماجی اثرات نہایت سنگین ہیں، کیونکہ جب ریاستی مالیات کا بوجھ معاشرے کے محدود طبقے پر ڈال دیا جائے تو باہمی ذمہ داری کے اصول کمزور پڑ جاتے ہیں۔ یہ واضح ہو جاتا ہے کہ اقتصادی انصاف تب ہی ممکن ہے جب ٹیکس کا نظام منصفانہ اور مساوی ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوں، روایتی طور پر سب سے زیادہ دیانت دار اور پیداواری طبقہ یعنی تنخواہ دار طبقہ کو بتدریج ایسے حالات کی طرف دھکیلا جا رہا ہے جہاں وہ یا تو ملک چھوڑنے پر مجبور ہو رہا ہے یا غیر رسمی روزگار کے ایسے ذرائع اختیار کر رہا ہے جن کے ذریعے وہ حد سے زیادہ ٹیکس کے بوجھ سے بچ سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آگے بڑھنے کا راستہ شفاف مالی نظم و نسق اور سیاسی جرات کا متقاضی ہے، ایک ضرورت جسے ایف بی آر کی اپنی رپورٹ نے نمایاں کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2024-25 میں مجموعی ٹیکس وصولی 11.74 ٹریلین روپے رہی، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 26.3 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔ اس میں انکم ٹیکس کا حصہ صرف 5.76 ٹریلین روپے (یعنی کل آمدنی کا تقریباً 49 فیصد) تھا، اور اگر بالواسطہ نوعیت کے ودہولڈنگ ٹیکس منہا کر دیے جائیں تو یہ تناسب تقریباً 25 فیصد رہ جاتا ہے۔ سیلز ٹیکس سے 3.90 ٹریلین، کسٹم ڈیوٹی سے 1.28 ٹریلین، اور فیڈرل ایکسائز سے 766.6 ارب روپے وصول کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ریکارڈ وصولی کے باوجود، ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح صرف 10.3 فیصد کے قریب ہے، جو جنوبی ایشیا میں سب سے کم شرحوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ فرق ٹیکس وصولی کی صلاحیت کی کمی نہیں بلکہ ادائیگی کی استطاعت کی بنیاد پر ٹیکس عائد نہ کرنے کی ناکامی ظاہر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریونیو کے ڈھانچے کا قریب سے جائزہ لینے پر بنیادی عدم توازن نمایاں ہوتا ہے، کل انکم ٹیکس کا تقریباً 60 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس کی صورت میں پیشگی طور پر جمع کیا جاتا ہے، بجائے اس کے کہ مفصل جائزے کے بعد ادا کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صرف تنخواہ دار طبقہ ہی 606 ارب روپے سے زائد ادا کرتا ہے، جو مجموعی انکم ٹیکس آمدنی کا تقریباً 11 فیصد بنتا ہے، حالانکہ یہ محنت کش طبقے کا صرف 8 فیصد حصہ ہے۔ اس کے برعکس ریٹیل اور ہول سیل کے شعبے، جو معیشت کا تقریباً 18 فیصد ہیں، مجموعی براہِ راست ٹیکسوں میں 2 فیصد سے بھی کم حصہ دیتے ہیں، جو نہ صرف غیر مؤثر بلکہ صریحاً غیر منصفانہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس عدم مساوات کے معاشی اثرات بھی واضح ہیں: تنخواہ دار طبقے سے حاصل ہونے والے ذاتی انکم ٹیکس میں سالانہ تقریباً 22 فیصد اضافہ ہو رہا ہے، جو دیگر تمام براہِ راست ٹیکسوں کی شرحِ نمو سے زیادہ ہے، حالانکہ حقیقی اجرتیں جمود کا شکار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، کارپوریٹ اور کاروباری شعبوں سے ٹیکس وصولی میں صرف 8 فیصد اضافہ ہوا۔ نتیجتاً، پورا نظام ایک چھوٹے مگر زیادہ ٹیکس دینے والے طبقے پر انحصار کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ عدم مساوات اخراجات تک بھی پھیلی ہوئی ہے۔ وفاقی حکومت نے ریکارڈ ریونیو جمع کرنے کے باوجود اس کا 52 فیصد یعنی تقریباً 8.8 ٹریلین روپے قرضوں کے سود کی ادائیگی پر صرف کیا، جس کے بعد عوامی سرمایہ کاری یا فلاحی منصوبوں کے لیے وسائل نہ ہونے کے برابر رہ گئے۔ اسی طرح صحت اور تعلیم پر مجموعی طور پر جی ڈی پی کا صرف 1.8 فیصد خرچ کیا گیا، جو علاقائی اوسط سے کہیں کم ہے۔ یہ اعداد و شمار مزید واضح کرتے ہیں کہ ایماندار ٹیکس دہندگان سے بھاری رقوم وصول کر کے بدلے میں کچھ نہ دینا کس قدر بے سود اور غیر منصفانہ ہے۔ ایسا نظام جو صرف وصولی کرے لیکن خدمات فراہم نہ کرے، اپنی اخلاقی حیثیت کھو دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک معتدل اور مؤثر ٹیکس نظام کا مقصد شرحیں بڑھانے کے بجائے ٹیکس کے دائرے کو وسیع کرنا ہونا چاہیے۔ ایف بی آر کے اپنے تخمینے کے مطابق، غیر دستاویزی معیشت، جس کی سالانہ مالیت 7 ٹریلین روپے سے زائد ہے، کے صرف 20 فیصد حصے کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے سے کم از کم 1.2 ٹریلین روپے اضافی حاصل کیے جا سکتے ہیں، بغیر کسی شرح میں اضافہ کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح جائیداد اور تجارتی شعبوں میں کم ظاہر کردہ آمدنی کو درست طور پر رپورٹ کرنے سے مزید 400 سے 500 ارب روپے حاصل ہو سکتے ہیں۔ ان اقدامات کے ساتھ بہتر نفاذ اور ڈیجیٹل انضمام سے تین سال کے اندر ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح 15 فیصد تک پہنچائی جا سکتی ہے، بشرطیکہ پالیسی ترجیحات درست سمت اختیار کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;وقت آ گیا ہے کہ ٹیکس کے نظام کو منصفانہ بنایا جائے، کیونکہ تنخواہ دار طبقہ طویل عرصے سے قومی بوجھ کا غیر متناسب حصہ اٹھا رہا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ ریاست کتنا ریونیو جمع کر سکتی ہے، بلکہ یہ ہے کہ کون ادا کر رہا ہے اور وہ کہاں خرچ ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;معاشی بحالی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک نظام انصاف پر مبنی نہ ہو، ایسا نظام جو شہریوں کو رضاکارانہ طور پر حصہ لینے کی ترغیب دے، نہ کہ جبر سے۔ ایف بی آر کے تازہ ترین اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ پاکستان کے پاس ریونیو کی بے پناہ صلاحیت ہے، لیکن جب تک نظام ایمانداری، انصاف اور بوجھ کی منصفانہ تقسیم کو تسلیم نہیں کرتا، تب تک چند مظلوم شہری ہی قربان ہوتے رہیں گے، جبکہ غیر مطیع طبقہ ریونیو حکام کی مجرمانہ ملی بھگت سے پھلتا پھولتا رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>غیر ٹیکس شدہ شعبوں سے موازنہ کرنے پر یہ ناانصافی اور بھی نمایاں ہو جاتی ہے، کیونکہ زرعی شعبہ، جو مجموعی طور پر معیشت میں تقریباً 25 فیصد حصہ ڈالتا ہے، وفاقی انکم ٹیکس نظام سے مکمل طور پر باہر ہے، حالانکہ صوبوں کے دائرۂ کار میں آنے والا زرعی آمدن پر ٹیکس صرف فصلوں تک محدود ہے۔</strong></p>
<p>اسی طرح جائیداد کا شعبہ، جہاں قیاسی منافع اکثر باضابطہ کاروباری منافع سے زیادہ ہوتا ہے، جائیداد کی کم قیمت ظاہر کرنے اور کیپیٹل ویلیو ٹیکس کے نظام میں موجود سقم کی وجہ سے نہ ہونے کے برابر ٹیکس ادا کرتا ہے۔ تاجر، ہول سیلرز اور ریٹیلرز، جو معیشت کا ایک بڑا حصہ ہیں، اس کے مقابلے میں انتہائی قلیل ٹیکس دیتے ہیں جتنا تنخواہ دار طبقہ ادا کرتا ہے۔ ٹیکس کی اس کھوکھلی تقسیم نے نہ صرف مسابقت کو بگاڑ دیا ہے بلکہ ایماندار شہریوں میں اجنبیت اور محرومی کے احساس کو بھی گہرا کیا ہے۔</p>
<p>ایسے نظام کے سماجی اثرات نہایت سنگین ہیں، کیونکہ جب ریاستی مالیات کا بوجھ معاشرے کے محدود طبقے پر ڈال دیا جائے تو باہمی ذمہ داری کے اصول کمزور پڑ جاتے ہیں۔ یہ واضح ہو جاتا ہے کہ اقتصادی انصاف تب ہی ممکن ہے جب ٹیکس کا نظام منصفانہ اور مساوی ہو۔</p>
<p>یوں، روایتی طور پر سب سے زیادہ دیانت دار اور پیداواری طبقہ یعنی تنخواہ دار طبقہ کو بتدریج ایسے حالات کی طرف دھکیلا جا رہا ہے جہاں وہ یا تو ملک چھوڑنے پر مجبور ہو رہا ہے یا غیر رسمی روزگار کے ایسے ذرائع اختیار کر رہا ہے جن کے ذریعے وہ حد سے زیادہ ٹیکس کے بوجھ سے بچ سکے۔</p>
<p>آگے بڑھنے کا راستہ شفاف مالی نظم و نسق اور سیاسی جرات کا متقاضی ہے، ایک ضرورت جسے ایف بی آر کی اپنی رپورٹ نے نمایاں کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2024-25 میں مجموعی ٹیکس وصولی 11.74 ٹریلین روپے رہی، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 26.3 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔ اس میں انکم ٹیکس کا حصہ صرف 5.76 ٹریلین روپے (یعنی کل آمدنی کا تقریباً 49 فیصد) تھا، اور اگر بالواسطہ نوعیت کے ودہولڈنگ ٹیکس منہا کر دیے جائیں تو یہ تناسب تقریباً 25 فیصد رہ جاتا ہے۔ سیلز ٹیکس سے 3.90 ٹریلین، کسٹم ڈیوٹی سے 1.28 ٹریلین، اور فیڈرل ایکسائز سے 766.6 ارب روپے وصول کیے گئے۔</p>
<p>اس ریکارڈ وصولی کے باوجود، ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح صرف 10.3 فیصد کے قریب ہے، جو جنوبی ایشیا میں سب سے کم شرحوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ فرق ٹیکس وصولی کی صلاحیت کی کمی نہیں بلکہ ادائیگی کی استطاعت کی بنیاد پر ٹیکس عائد نہ کرنے کی ناکامی ظاہر کرتا ہے۔</p>
<p>ریونیو کے ڈھانچے کا قریب سے جائزہ لینے پر بنیادی عدم توازن نمایاں ہوتا ہے، کل انکم ٹیکس کا تقریباً 60 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس کی صورت میں پیشگی طور پر جمع کیا جاتا ہے، بجائے اس کے کہ مفصل جائزے کے بعد ادا کیا جائے۔</p>
<p>صرف تنخواہ دار طبقہ ہی 606 ارب روپے سے زائد ادا کرتا ہے، جو مجموعی انکم ٹیکس آمدنی کا تقریباً 11 فیصد بنتا ہے، حالانکہ یہ محنت کش طبقے کا صرف 8 فیصد حصہ ہے۔ اس کے برعکس ریٹیل اور ہول سیل کے شعبے، جو معیشت کا تقریباً 18 فیصد ہیں، مجموعی براہِ راست ٹیکسوں میں 2 فیصد سے بھی کم حصہ دیتے ہیں، جو نہ صرف غیر مؤثر بلکہ صریحاً غیر منصفانہ ہے۔</p>
<p>اس عدم مساوات کے معاشی اثرات بھی واضح ہیں: تنخواہ دار طبقے سے حاصل ہونے والے ذاتی انکم ٹیکس میں سالانہ تقریباً 22 فیصد اضافہ ہو رہا ہے، جو دیگر تمام براہِ راست ٹیکسوں کی شرحِ نمو سے زیادہ ہے، حالانکہ حقیقی اجرتیں جمود کا شکار ہیں۔</p>
<p>دوسری جانب، کارپوریٹ اور کاروباری شعبوں سے ٹیکس وصولی میں صرف 8 فیصد اضافہ ہوا۔ نتیجتاً، پورا نظام ایک چھوٹے مگر زیادہ ٹیکس دینے والے طبقے پر انحصار کر رہا ہے۔</p>
<p>یہ عدم مساوات اخراجات تک بھی پھیلی ہوئی ہے۔ وفاقی حکومت نے ریکارڈ ریونیو جمع کرنے کے باوجود اس کا 52 فیصد یعنی تقریباً 8.8 ٹریلین روپے قرضوں کے سود کی ادائیگی پر صرف کیا، جس کے بعد عوامی سرمایہ کاری یا فلاحی منصوبوں کے لیے وسائل نہ ہونے کے برابر رہ گئے۔ اسی طرح صحت اور تعلیم پر مجموعی طور پر جی ڈی پی کا صرف 1.8 فیصد خرچ کیا گیا، جو علاقائی اوسط سے کہیں کم ہے۔ یہ اعداد و شمار مزید واضح کرتے ہیں کہ ایماندار ٹیکس دہندگان سے بھاری رقوم وصول کر کے بدلے میں کچھ نہ دینا کس قدر بے سود اور غیر منصفانہ ہے۔ ایسا نظام جو صرف وصولی کرے لیکن خدمات فراہم نہ کرے، اپنی اخلاقی حیثیت کھو دیتا ہے۔</p>
<p>ایک معتدل اور مؤثر ٹیکس نظام کا مقصد شرحیں بڑھانے کے بجائے ٹیکس کے دائرے کو وسیع کرنا ہونا چاہیے۔ ایف بی آر کے اپنے تخمینے کے مطابق، غیر دستاویزی معیشت، جس کی سالانہ مالیت 7 ٹریلین روپے سے زائد ہے، کے صرف 20 فیصد حصے کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے سے کم از کم 1.2 ٹریلین روپے اضافی حاصل کیے جا سکتے ہیں، بغیر کسی شرح میں اضافہ کیے۔</p>
<p>اسی طرح جائیداد اور تجارتی شعبوں میں کم ظاہر کردہ آمدنی کو درست طور پر رپورٹ کرنے سے مزید 400 سے 500 ارب روپے حاصل ہو سکتے ہیں۔ ان اقدامات کے ساتھ بہتر نفاذ اور ڈیجیٹل انضمام سے تین سال کے اندر ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح 15 فیصد تک پہنچائی جا سکتی ہے، بشرطیکہ پالیسی ترجیحات درست سمت اختیار کریں۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>وقت آ گیا ہے کہ ٹیکس کے نظام کو منصفانہ بنایا جائے، کیونکہ تنخواہ دار طبقہ طویل عرصے سے قومی بوجھ کا غیر متناسب حصہ اٹھا رہا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ ریاست کتنا ریونیو جمع کر سکتی ہے، بلکہ یہ ہے کہ کون ادا کر رہا ہے اور وہ کہاں خرچ ہو رہا ہے۔</p>
</blockquote>
<p>معاشی بحالی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک نظام انصاف پر مبنی نہ ہو، ایسا نظام جو شہریوں کو رضاکارانہ طور پر حصہ لینے کی ترغیب دے، نہ کہ جبر سے۔ ایف بی آر کے تازہ ترین اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ پاکستان کے پاس ریونیو کی بے پناہ صلاحیت ہے، لیکن جب تک نظام ایمانداری، انصاف اور بوجھ کی منصفانہ تقسیم کو تسلیم نہیں کرتا، تب تک چند مظلوم شہری ہی قربان ہوتے رہیں گے، جبکہ غیر مطیع طبقہ ریونیو حکام کی مجرمانہ ملی بھگت سے پھلتا پھولتا رہے گا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279169</guid>
      <pubDate>Mon, 10 Nov 2025 16:00:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (حزیمہ بخاریڈاکٹراکرام الحقعبدالرؤف شکوری)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/1015590564207bd.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/1015590564207bd.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
