<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:42:33 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:42:33 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سمت کی درستگی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279162/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے مطابق ملک نے رد عمل پر مبنی پالیسی سازی  سے ہٹ کر مستقبل پر نظر رکھنے والے نقطہ نظر کی طرف ایک بنیادی تبدیلی کا آغاز کیا ہے : یہ ایک اصلاحات پر مبنی حکمت عملی ہے جس کا مقصد معیشت کو مضبوط کرنا، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنا اور پائیدار نمو  کے لیے طریق کار وضع کرنا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاریخی شواہد واضح کرتے ہیں کہ ملک کے تقریباً تمام اقتصادی منتظمین چاہے وہ ماہرین اقتصادیات ہوں، بینکرز ہوں یا اکاؤنٹنٹس  وقتاً فوقتاً آنے والے معاشی اونچ نیچ کے دوران بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے پروگرامز کے تحت قرض لینے کی طرف رجوع کرتے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اس وقت اپنے چوبیسویں پروگرام پر عمل کر رہا ہے جس کے دوران عموماً متفقہ سیاسی طور پر مشکل اصلاحات پر عمل کیا جاتا رہا (جب تک کہ فنڈ نے پروگرام معطل کرنے کی دھمکی نہ دی) تاکہ توازن ادائیگی کی صورتحال بہتر ہوسکے اور پھر پروگرام چھوڑ دیا جاتا ہے جس کے بعد تمام اصلاحات کو واپس لیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماضی کے آئی ایم ایف پروگرام قرضوں کے ڈیزائن میں زیادہ تبدیلی نہیں آئی (حالانکہ دنیا یک قطبی سے کثیر قطبی نظام کی طرف منتقل ہوئی) البتہ جیسے جیسے پاکستان کی معیشت زیادہ نازک ہوئی، ان شرائط کو پچھلے پروگراموں کے مقابلے میں سخت اور براہ راست بنایا گیا اور موجودہ وزیر خزانہ نے جاری پروگرام قرض کی شرائط سے اتفاق کیا ہے اور ان پر عملدرآمد کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ توقع کی جاسکتی تھی کہ وزیر خزانہ نے اندرونِ خانہ نئے اور غیر روایتی منصوبہ جاتی تبدیلیاں تجویز کی ہوتیں جن میں شامل ہو سکتے تھے: (i) ڈسکاؤنٹ ریٹ کو مہنگائی کنٹرول کرنے کے مقصد سے علیحدہ کرنا، کیونکہ کمرشل بینکوں کا سب سے بڑا قرض لینے والا حکومت ہے (نجی شعبہ نہیں) اور یہ قرضہ جات موجودہ اخراجات کی مالی اعانت کے لیے استعمال ہوتے ہیں جو سالانہ بجٹ کے 93 سے 95 فیصد سے زائد پر مشتمل ہیں، یہ ایک انتہائی مہنگائی پیدا کرنے والی پالیسی ہے۔ اس ضمن میں وزیر خزانہ سے یہ گزارش کی جائے گی کہ وہ دو سال کے لیے موجودہ اخراجات میں کم از کم دو کھرب روپے کی کٹوتی کریں، جس کے لیے اشرافیہ کی قربانی درکار ہوگی۔(ii) اس سال موجودہ اخراجات کی حد بندی اس توقع پر مبنی ہے کہ ڈسکاؤنٹ ریٹ موجودہ 11 فیصد سے کم ہوگا، حالانکہ تمام فنڈ کے پریس ریلیزز میں مناسب سخت اور ڈیٹا پر مبنی مالیاتی پالیسی برقرار رکھنےکی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تناظر میں یہ بات قابل ذکر ہے کہ وزیر خزانہ نے حالیہ پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس کے دوران اس بات کا امکان ظاہر کیا کہ سال کے اختتام تک ڈسکاؤنٹ ریٹ میں کمی ہو سکتی ہے، (iii) اس کے علاوہ ٹیکس نظام میں ساختی اصلاحات کے بجائے کل محصول بڑھانے پر توجہ مرکوز کی گئی ہے جبکہ اس ملک میں 75 سے 80 فیصد تمام ٹیکس بالواسطہ ہیں اور ان کا اثر غریب پر امیر کے مقابلے میں زیادہ ہے جو مہنگائی میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹاک مارکیٹ میں حاصل شدہ منافع کو سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی کی علامت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے؛ تاہم، فنانس ڈویژن کی جاری کردہ اکتوبر کی ماہانہ اپڈیٹ اور آؤٹ لک میں کل غیر ملکی سرمایہ کاری میں 64.5 فیصد کمی نوٹ کی گئی ہےجس میں 55.5 فیصد کمی براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی وجہ سے ہے اور باقی حصہ پورٹ فولیو سرمایہ کاری کی کمی کی وجہ سے ہے، حالانکہ پاکستان میں ڈسکاؤنٹ ریٹ خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ مالی سال کی نمو اصل تخمینے سے زیادہ رہی، 2.6 فیصد کے بجائے 3 فیصد  اور اس کا ذریعہ بنیادی طور پر سروسز سیکٹر تھا (جو زیادہ تر ہول سیل اور ریٹیل تجارت یعنی غیر پیداواری شعبوں پر مشتمل ہے)؛ جبکہ بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ سیکٹر (ایل ایس ایم ) کی نمو انوینٹریز میں کمی اور تین ایسے ذیلی شعبوں کی وجہ سے تھی جن کا دیرپا رہنا ممکن نہیں، گاڑیوں کی فروخت اضافی ٹیکسوں (بشمول ماحولیاتی ٹیکس) کی وجہ سے بڑھی، افغانستان کو سیمنٹ کی برآمدات (جو رکاوٹ کا شکار مذاکرات کی وجہ سے اس سال کم ہونے کا امکان ہے) اور خوراک (سیلاب کی وجہ سے جلد خراب ہونے والی اشیاء کی سپلائی میں رکاوٹ کی وجہ سے)۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر میں اب تک حاصل شدہ منافع زیادہ تر قرض پر مبنی ہیں اور امید کی جا سکتی ہے کہ وزیر خزانہ آئی ایم ایف کے عملے کو قائل کر سکیں کہ پالیسی کے ڈیزائن میں موجود خامیوں کو درست کریں، جس سے یہ منافع مستقل طور پر برقرار رہ سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے مطابق ملک نے رد عمل پر مبنی پالیسی سازی  سے ہٹ کر مستقبل پر نظر رکھنے والے نقطہ نظر کی طرف ایک بنیادی تبدیلی کا آغاز کیا ہے : یہ ایک اصلاحات پر مبنی حکمت عملی ہے جس کا مقصد معیشت کو مضبوط کرنا، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنا اور پائیدار نمو  کے لیے طریق کار وضع کرنا ہے۔</strong></p>
<p>تاریخی شواہد واضح کرتے ہیں کہ ملک کے تقریباً تمام اقتصادی منتظمین چاہے وہ ماہرین اقتصادیات ہوں، بینکرز ہوں یا اکاؤنٹنٹس  وقتاً فوقتاً آنے والے معاشی اونچ نیچ کے دوران بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے پروگرامز کے تحت قرض لینے کی طرف رجوع کرتے رہے ہیں۔</p>
<p>پاکستان اس وقت اپنے چوبیسویں پروگرام پر عمل کر رہا ہے جس کے دوران عموماً متفقہ سیاسی طور پر مشکل اصلاحات پر عمل کیا جاتا رہا (جب تک کہ فنڈ نے پروگرام معطل کرنے کی دھمکی نہ دی) تاکہ توازن ادائیگی کی صورتحال بہتر ہوسکے اور پھر پروگرام چھوڑ دیا جاتا ہے جس کے بعد تمام اصلاحات کو واپس لیا جاتا ہے۔</p>
<p>ماضی کے آئی ایم ایف پروگرام قرضوں کے ڈیزائن میں زیادہ تبدیلی نہیں آئی (حالانکہ دنیا یک قطبی سے کثیر قطبی نظام کی طرف منتقل ہوئی) البتہ جیسے جیسے پاکستان کی معیشت زیادہ نازک ہوئی، ان شرائط کو پچھلے پروگراموں کے مقابلے میں سخت اور براہ راست بنایا گیا اور موجودہ وزیر خزانہ نے جاری پروگرام قرض کی شرائط سے اتفاق کیا ہے اور ان پر عملدرآمد کر رہے ہیں۔</p>
<p>یہ توقع کی جاسکتی تھی کہ وزیر خزانہ نے اندرونِ خانہ نئے اور غیر روایتی منصوبہ جاتی تبدیلیاں تجویز کی ہوتیں جن میں شامل ہو سکتے تھے: (i) ڈسکاؤنٹ ریٹ کو مہنگائی کنٹرول کرنے کے مقصد سے علیحدہ کرنا، کیونکہ کمرشل بینکوں کا سب سے بڑا قرض لینے والا حکومت ہے (نجی شعبہ نہیں) اور یہ قرضہ جات موجودہ اخراجات کی مالی اعانت کے لیے استعمال ہوتے ہیں جو سالانہ بجٹ کے 93 سے 95 فیصد سے زائد پر مشتمل ہیں، یہ ایک انتہائی مہنگائی پیدا کرنے والی پالیسی ہے۔ اس ضمن میں وزیر خزانہ سے یہ گزارش کی جائے گی کہ وہ دو سال کے لیے موجودہ اخراجات میں کم از کم دو کھرب روپے کی کٹوتی کریں، جس کے لیے اشرافیہ کی قربانی درکار ہوگی۔(ii) اس سال موجودہ اخراجات کی حد بندی اس توقع پر مبنی ہے کہ ڈسکاؤنٹ ریٹ موجودہ 11 فیصد سے کم ہوگا، حالانکہ تمام فنڈ کے پریس ریلیزز میں مناسب سخت اور ڈیٹا پر مبنی مالیاتی پالیسی برقرار رکھنےکی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔</p>
<p>اس تناظر میں یہ بات قابل ذکر ہے کہ وزیر خزانہ نے حالیہ پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس کے دوران اس بات کا امکان ظاہر کیا کہ سال کے اختتام تک ڈسکاؤنٹ ریٹ میں کمی ہو سکتی ہے، (iii) اس کے علاوہ ٹیکس نظام میں ساختی اصلاحات کے بجائے کل محصول بڑھانے پر توجہ مرکوز کی گئی ہے جبکہ اس ملک میں 75 سے 80 فیصد تمام ٹیکس بالواسطہ ہیں اور ان کا اثر غریب پر امیر کے مقابلے میں زیادہ ہے جو مہنگائی میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔</p>
<p>اسٹاک مارکیٹ میں حاصل شدہ منافع کو سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی کی علامت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے؛ تاہم، فنانس ڈویژن کی جاری کردہ اکتوبر کی ماہانہ اپڈیٹ اور آؤٹ لک میں کل غیر ملکی سرمایہ کاری میں 64.5 فیصد کمی نوٹ کی گئی ہےجس میں 55.5 فیصد کمی براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی وجہ سے ہے اور باقی حصہ پورٹ فولیو سرمایہ کاری کی کمی کی وجہ سے ہے، حالانکہ پاکستان میں ڈسکاؤنٹ ریٹ خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں زیادہ ہے۔</p>
<p>گزشتہ مالی سال کی نمو اصل تخمینے سے زیادہ رہی، 2.6 فیصد کے بجائے 3 فیصد  اور اس کا ذریعہ بنیادی طور پر سروسز سیکٹر تھا (جو زیادہ تر ہول سیل اور ریٹیل تجارت یعنی غیر پیداواری شعبوں پر مشتمل ہے)؛ جبکہ بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ سیکٹر (ایل ایس ایم ) کی نمو انوینٹریز میں کمی اور تین ایسے ذیلی شعبوں کی وجہ سے تھی جن کا دیرپا رہنا ممکن نہیں، گاڑیوں کی فروخت اضافی ٹیکسوں (بشمول ماحولیاتی ٹیکس) کی وجہ سے بڑھی، افغانستان کو سیمنٹ کی برآمدات (جو رکاوٹ کا شکار مذاکرات کی وجہ سے اس سال کم ہونے کا امکان ہے) اور خوراک (سیلاب کی وجہ سے جلد خراب ہونے والی اشیاء کی سپلائی میں رکاوٹ کی وجہ سے)۔</p>
<p>آخر میں اب تک حاصل شدہ منافع زیادہ تر قرض پر مبنی ہیں اور امید کی جا سکتی ہے کہ وزیر خزانہ آئی ایم ایف کے عملے کو قائل کر سکیں کہ پالیسی کے ڈیزائن میں موجود خامیوں کو درست کریں، جس سے یہ منافع مستقل طور پر برقرار رہ سکیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279162</guid>
      <pubDate>Mon, 10 Nov 2025 14:19:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/10135954bb8c5ac.webp" type="image/webp" medium="image" height="483" width="925">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/10135954bb8c5ac.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
