<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 22:25:07 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 22:25:07 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ستائیسویں آئینی ترمیمی بل سینیٹ سے منظور</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279157/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سینیٹ نے پیر کے روز 27 ویں آئینی ترمیمی بل دو تہائی اکثریت کے ساتھ منظور کر لیا، جس میں 64 سینیٹرز نے اس کے حق میں ووٹ دیا جبکہ اپوزیشن نے واک آؤٹ کیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے سینیٹ میں پاکستان کے آئین میں ترمیم کے لیے بل پیش کیا، جیسا کہ ایوان میں قائمہ کمیٹی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئینی ترمیم شق وار  ووٹنگ کے ذریعے منظور کی گئی، جس میں سینیٹ کے چیئرمین سید یوسف رضا گیلانی نے ہر ترمیم شدہ شق  پڑھ کر منظوری کے لیے پیش کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایوان بالا میں تمام 59 شقوں کو ایک ایک کر کے منظور کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج نیوز کی رپورٹ  کے مطابق سیشن کے دوران جمیعت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے احمد خان اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیف اللہ ابڑو نے بھی ترمیم کے حق میں ووٹ دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تفصیلات کے مطابق ترمیم کے حق میں مجموعی طور پر 64 ووٹ ڈالے گئے، جبکہ بل کے پہلی شق کے خلاف دو ووٹ پڑے۔ اپوزیشن سینیٹرز نے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کے سامنے احتجاج کیا اور بعد ازاں سینیٹ سے واک آؤٹ کر گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایوان بالا میں قانون و انصاف کی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ تجویز کردہ ترمیم میں ججز کی تقرری، عدالتی ڈھانچہ اور صوبائی نمائندگی سے متعلق اہم تبدیلیاں شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومتی بینچز پر بیٹھے سینیٹرز نے آئینی ترمیم کی حمایت کی اور کہا کہ وفاقی آئینی عدالت کے قیام سے سپریم کورٹ میں مقدمات کے بیک لاگ میں کمی آئے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ یہ آئینی ترمیم آئین کی بالادستی اور جمہوریت کے مضبوط ہونے کے لیے ایک سنگِ میل ثابت ہوگی، جبکہ اپوزیشن رہنماؤں نے بل کی شدید مخالفت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکمراں جماعت نے گزشتہ ہفتے پارلیمنٹ کے ایوان بالا میں 27 ویں آئینی ترمیم سے متعلق بل پیش کیا، جو بعض اعلیٰ عہدیداروں کو آئینی تحفظ فراہم کرنے کے علاوہ وفاقی آئینی عدالت کے قیام، ہائی کورٹ کے ججز کی منتقلی، اور دیگر اہم آئینی شقوں میں ترامیم یا متبادل کی سہولت فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، بل پیش کیے جانے کے فوراً بعد ہی اپوزیشن نے مسودہ آئینی ترمیم کو مکمل طور پر مسترد کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے ایوان کو بتایا کہ مسودہ ترمیم میں متعدد اہم ترامیم کی گئی ہیں، جن میں ہائی کورٹ جج کی مدت ملازمت کو پانچ سال مقرر کرنا شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ تجویز کردہ آئینی عدالت میں تمام صوبوں کی نمائندگی ہوگی، اور عدالتی کمیشن میں ایک ٹیکنکریٹ نمائندہ کو بھی شامل کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ایک جج کی سینیارٹی اس کی تقرری کی تاریخ سے شمار ہوگی جبکہ سپریم کورٹ ججز کی موجودہ سینیارٹی نئی تقرریوں کے دوران برقرار رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قبل  ازیں چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے متعلقہ بل پیش کیا۔ اجلاس کے دوران جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے احمد خان اور پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے سیف اللہ ابڑو نے بھی ووٹ دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;صدر کو آئینی تحفظ حاصل ہے ، وزیر اطلاعات&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ ترمیم سے وفاق اور صوبوں کے تعلقات مضبوط ، حکمرانی بہتر  اور ملکی دفاع کو فروغ ملے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ترمیم بین الاقوامی بہترین عملی مثالوں کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کی گئی ہے اور وزیراعظم کے فیصلے کے تحت صدر کے لیے مجوزہ امیونٹی کا کلاؤز کمیٹی کی سفارش پر واپس لیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں سینیٹر طلحہ محمود نے ترمیم کو عدالتی نظام کی اصلاح اور ملکی دفاع کے لیے ناگزیر قرار دیا، سینیٹر سید مسرور احسن نے ملک، جمہوریت اور آئین کے مفاد میں تعمیری بحث پر زور دیا، جبکہ ڈاکٹر افنان اللہ خان نے اپوزیشن پر ملک میں نفرت اور اختلافات پیدا کرنے کی کوششوں پر تنقید کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینیٹر اعظم سواتی اور محسن عزیز نے بل کی جلد منظوری سے گریز کرنے کا مطالبہ کیا اور سینیٹر علی ظفر و حمید خان نے ترمیم کی مخالفت کی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سینیٹ نے پیر کے روز 27 ویں آئینی ترمیمی بل دو تہائی اکثریت کے ساتھ منظور کر لیا، جس میں 64 سینیٹرز نے اس کے حق میں ووٹ دیا جبکہ اپوزیشن نے واک آؤٹ کیا۔</strong></p>
<p>وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے سینیٹ میں پاکستان کے آئین میں ترمیم کے لیے بل پیش کیا، جیسا کہ ایوان میں قائمہ کمیٹی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے۔</p>
<p>آئینی ترمیم شق وار  ووٹنگ کے ذریعے منظور کی گئی، جس میں سینیٹ کے چیئرمین سید یوسف رضا گیلانی نے ہر ترمیم شدہ شق  پڑھ کر منظوری کے لیے پیش کی۔</p>
<p>ایوان بالا میں تمام 59 شقوں کو ایک ایک کر کے منظور کیا گیا۔</p>
<p>آج نیوز کی رپورٹ  کے مطابق سیشن کے دوران جمیعت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے احمد خان اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیف اللہ ابڑو نے بھی ترمیم کے حق میں ووٹ دیا۔</p>
<p>تفصیلات کے مطابق ترمیم کے حق میں مجموعی طور پر 64 ووٹ ڈالے گئے، جبکہ بل کے پہلی شق کے خلاف دو ووٹ پڑے۔ اپوزیشن سینیٹرز نے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کے سامنے احتجاج کیا اور بعد ازاں سینیٹ سے واک آؤٹ کر گئے۔</p>
<p>ایوان بالا میں قانون و انصاف کی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ تجویز کردہ ترمیم میں ججز کی تقرری، عدالتی ڈھانچہ اور صوبائی نمائندگی سے متعلق اہم تبدیلیاں شامل ہیں۔</p>
<p>حکومتی بینچز پر بیٹھے سینیٹرز نے آئینی ترمیم کی حمایت کی اور کہا کہ وفاقی آئینی عدالت کے قیام سے سپریم کورٹ میں مقدمات کے بیک لاگ میں کمی آئے گی۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ یہ آئینی ترمیم آئین کی بالادستی اور جمہوریت کے مضبوط ہونے کے لیے ایک سنگِ میل ثابت ہوگی، جبکہ اپوزیشن رہنماؤں نے بل کی شدید مخالفت کی۔</p>
<p>حکمراں جماعت نے گزشتہ ہفتے پارلیمنٹ کے ایوان بالا میں 27 ویں آئینی ترمیم سے متعلق بل پیش کیا، جو بعض اعلیٰ عہدیداروں کو آئینی تحفظ فراہم کرنے کے علاوہ وفاقی آئینی عدالت کے قیام، ہائی کورٹ کے ججز کی منتقلی، اور دیگر اہم آئینی شقوں میں ترامیم یا متبادل کی سہولت فراہم کرتا ہے۔</p>
<p>تاہم، بل پیش کیے جانے کے فوراً بعد ہی اپوزیشن نے مسودہ آئینی ترمیم کو مکمل طور پر مسترد کر دیا۔</p>
<p>سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے ایوان کو بتایا کہ مسودہ ترمیم میں متعدد اہم ترامیم کی گئی ہیں، جن میں ہائی کورٹ جج کی مدت ملازمت کو پانچ سال مقرر کرنا شامل ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ تجویز کردہ آئینی عدالت میں تمام صوبوں کی نمائندگی ہوگی، اور عدالتی کمیشن میں ایک ٹیکنکریٹ نمائندہ کو بھی شامل کیا گیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ ایک جج کی سینیارٹی اس کی تقرری کی تاریخ سے شمار ہوگی جبکہ سپریم کورٹ ججز کی موجودہ سینیارٹی نئی تقرریوں کے دوران برقرار رہے گی۔</p>
<p>قبل  ازیں چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے متعلقہ بل پیش کیا۔ اجلاس کے دوران جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے احمد خان اور پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے سیف اللہ ابڑو نے بھی ووٹ دیا۔</p>
<p><strong>صدر کو آئینی تحفظ حاصل ہے ، وزیر اطلاعات</strong></p>
<p>وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ ترمیم سے وفاق اور صوبوں کے تعلقات مضبوط ، حکمرانی بہتر  اور ملکی دفاع کو فروغ ملے گا۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ ترمیم بین الاقوامی بہترین عملی مثالوں کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کی گئی ہے اور وزیراعظم کے فیصلے کے تحت صدر کے لیے مجوزہ امیونٹی کا کلاؤز کمیٹی کی سفارش پر واپس لیا گیا ہے۔</p>
<p>اجلاس میں سینیٹر طلحہ محمود نے ترمیم کو عدالتی نظام کی اصلاح اور ملکی دفاع کے لیے ناگزیر قرار دیا، سینیٹر سید مسرور احسن نے ملک، جمہوریت اور آئین کے مفاد میں تعمیری بحث پر زور دیا، جبکہ ڈاکٹر افنان اللہ خان نے اپوزیشن پر ملک میں نفرت اور اختلافات پیدا کرنے کی کوششوں پر تنقید کی۔</p>
<p>سینیٹر اعظم سواتی اور محسن عزیز نے بل کی جلد منظوری سے گریز کرنے کا مطالبہ کیا اور سینیٹر علی ظفر و حمید خان نے ترمیم کی مخالفت کی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279157</guid>
      <pubDate>Tue, 11 Nov 2025 09:30:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/11092930a2877ed.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/11092930a2877ed.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
