<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:19:16 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:19:16 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>شام کے صدر واشنگٹن میں ٹرمپ سے ملاقات کریں گے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279150/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;شامی صدر احمد الشرا کی پیر کے روز وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات ایک شاندار سال کے اختتام کی علامت ہے، جس دوران انہوں نے طویل عرصے تک اقتدار میں رہنے والے آمر کو ہٹایا اور عالمی سطح پر اپنی موجودگی ثابت کرنے کی کوشش کی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ احمد الشرا کا خیرمقدم کریں گے، یہ کسی شامی صدر کا وائٹ ہاؤس کا پہلا دورہ ہوگا، چھ ماہ قبل جب دونوں نے پہلی بار سعودی عرب میں ملاقات کی تھی۔ واشنگٹن نے حال ہی میں اعلان کیا کہ سابق القاعدہ رکن اب خصوصی طور پر نامزد عالمی دہشت گرد نہیں رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;42 سالہ احمد الشرا نے گزشتہ سال اقتدار سنبھالا، جب ان کے اسلام پسند لڑاکا گروہ نے شمال مغربی شام میں تیزی سے کارروائی کرتے ہوئے صدر بشار الاسد کو معزول کیا۔ اس کے بعد شام کی علاقائی سیاست میں تیزی سے تبدیلی آئی، ایران اور روس سے دور اور ترکیہ، خلیج اور واشنگٹن کی جانب مائل۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات میں سیکیورٹی مسائل اہم موضوع ہوں گے، کیونکہ امریکہ شام اور اسرائیل کے درمیان ممکنہ سیکیورٹی معاہدے کے لیے مذاکرات کروا رہا ہے اور دمشق ایئر بیس پر فوجی موجودگی قائم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ شام امریکی قیادت میں اسلامی ریاست کے خلاف اتحاد میں شامل ہونے والا ہے، جس کا اعلان وائٹ ہاؤس میں متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات سے چند روز قبل ٹرمپ نے کہا کہ شام کے معاملات میں بہت پیش رفت ہوئی ہے اور احمد الشرا اچھا کام کر رہے ہیں۔ مئی میں ریاض میں ملاقات کے بعد ٹرمپ نے شام پر عائد تمام پابندیاں ختم کرنے کا اعلان کیا تھا، تاہم سب سے سخت پابندیاں، جو سیزر سنیکٹس ایکٹ کے تحت ہیں، کانگریس کی منظوری کی محتاج ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;احمد الشرا ماضی میں القاعدہ سے منسلک تھے اور امریکہ کی نظروں میں دہشت گرد قرار پائے، لیکن اب انہوں نے تعلقات ختم کر کے شمال مغربی شام میں اپنا اثر و رسوخ مستحکم کیا۔ اقوام متحدہ اور برطانیہ نے بھی ان پر عائد پابندیاں ختم کر دی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ احمد الشرا کا واشنگٹن دورہ شام کی ایرانی وابستگی سے امریکی اتحاد میں منتقلی اور ان کے دہشت گرد سے شراکت دار میں تبدیل ہونے کی علامت ہے، تاہم اقلیتوں اور شہری حقوق کے تحفظ پر خدشات برقرار ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>شامی صدر احمد الشرا کی پیر کے روز وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات ایک شاندار سال کے اختتام کی علامت ہے، جس دوران انہوں نے طویل عرصے تک اقتدار میں رہنے والے آمر کو ہٹایا اور عالمی سطح پر اپنی موجودگی ثابت کرنے کی کوشش کی۔</strong></p>
<p>ٹرمپ احمد الشرا کا خیرمقدم کریں گے، یہ کسی شامی صدر کا وائٹ ہاؤس کا پہلا دورہ ہوگا، چھ ماہ قبل جب دونوں نے پہلی بار سعودی عرب میں ملاقات کی تھی۔ واشنگٹن نے حال ہی میں اعلان کیا کہ سابق القاعدہ رکن اب خصوصی طور پر نامزد عالمی دہشت گرد نہیں رہا۔</p>
<p>42 سالہ احمد الشرا نے گزشتہ سال اقتدار سنبھالا، جب ان کے اسلام پسند لڑاکا گروہ نے شمال مغربی شام میں تیزی سے کارروائی کرتے ہوئے صدر بشار الاسد کو معزول کیا۔ اس کے بعد شام کی علاقائی سیاست میں تیزی سے تبدیلی آئی، ایران اور روس سے دور اور ترکیہ، خلیج اور واشنگٹن کی جانب مائل۔</p>
<p>ملاقات میں سیکیورٹی مسائل اہم موضوع ہوں گے، کیونکہ امریکہ شام اور اسرائیل کے درمیان ممکنہ سیکیورٹی معاہدے کے لیے مذاکرات کروا رہا ہے اور دمشق ایئر بیس پر فوجی موجودگی قائم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ شام امریکی قیادت میں اسلامی ریاست کے خلاف اتحاد میں شامل ہونے والا ہے، جس کا اعلان وائٹ ہاؤس میں متوقع ہے۔</p>
<p>ملاقات سے چند روز قبل ٹرمپ نے کہا کہ شام کے معاملات میں بہت پیش رفت ہوئی ہے اور احمد الشرا اچھا کام کر رہے ہیں۔ مئی میں ریاض میں ملاقات کے بعد ٹرمپ نے شام پر عائد تمام پابندیاں ختم کرنے کا اعلان کیا تھا، تاہم سب سے سخت پابندیاں، جو سیزر سنیکٹس ایکٹ کے تحت ہیں، کانگریس کی منظوری کی محتاج ہیں۔</p>
<p>احمد الشرا ماضی میں القاعدہ سے منسلک تھے اور امریکہ کی نظروں میں دہشت گرد قرار پائے، لیکن اب انہوں نے تعلقات ختم کر کے شمال مغربی شام میں اپنا اثر و رسوخ مستحکم کیا۔ اقوام متحدہ اور برطانیہ نے بھی ان پر عائد پابندیاں ختم کر دی ہیں۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ احمد الشرا کا واشنگٹن دورہ شام کی ایرانی وابستگی سے امریکی اتحاد میں منتقلی اور ان کے دہشت گرد سے شراکت دار میں تبدیل ہونے کی علامت ہے، تاہم اقلیتوں اور شہری حقوق کے تحفظ پر خدشات برقرار ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279150</guid>
      <pubDate>Mon, 10 Nov 2025 12:32:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/10122845d19816c.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/10122845d19816c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
