<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 21:37:25 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 21:37:25 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>افغان حکومت دہشت گرد گروہوں کے خلاف ٹھوس اقدامات سے گریزاں ہے، پاکستان</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279132/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان نے اتوار کے روز افغان طالبان کے ساتھ استنبول میں ہونے والے مذاکرات کے تیسرے غیر نتیجہ خیز دور پر تفصیلی بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ افغان حکومت نے پاکستان کو نشانہ بنانے والے دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس اور قابلِ تصدیق اقدامات سے گریز کیا۔ دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے بیان میں کہا کہ پاکستان کے بنیادی خدشات کے حل کے بجائے افغان حکومت نے موقع کا استعمال پاکستان کے خلاف بے بنیاد الزامات اور جذباتی بیانات کے لیے کیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق ترکیہ اور قطر کی ثالثی میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور 7 نومبر کو استنبول میں اختتام پذیر ہوا۔ پاکستان کو توقع تھی کہ وقت گزرنے کے ساتھ طالبان حکومت افغانستان سے ہونے والے حملوں پر قابو پائے گی اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور فتنہ الخوارج جیسے گروہوں کے خلاف اقدامات کرے گی۔ تاہم ترجمان کے مطابق پاکستان کی جانب سے تجارت، انسانی امداد، تعلیمی اور طبی ویزوں کی فراہمی جیسے مثبت اقدامات کے باوجود افغان حکومت نے صرف زبانی وعدوں اور غیر عملی رویے کا مظاہرہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان نے کہا کہ طالبان حکومت نے دہشت گردی کے اصل مسئلے کو دیگر غیر متعلقہ امور کے ساتھ خلط ملط کر کے اپنی ذمہ داریوں سے بچنے کی کوشش کی۔ پاکستان نے واضح کیا کہ ٹی ٹی پی، فتنہ الخوارج، بلوچستان لبریشن آرمی اور دیگر دہشت گرد گروہ ریاستِ پاکستان کے دشمن ہیں، اور ان کی پشت پناہی کرنے والے پاکستان کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دفتر خارجہ کے مطابق مذاکرات کے پہلے دور میں دوحہ میں تعاون کے اصولوں پر اتفاق ہوا تھا جبکہ دوسرے دور میں عمل درآمد کا طریقہ کار طے کیا جانا تھا۔ تاہم طالبان نمائندوں نے اپنے وعدوں سے انحراف کیا اور اشتعال انگیز بیانات کے ذریعے ماحول کو خراب کیا۔ پاکستان نے اپنے مؤقف پر قائم رہتے ہوئے دہشت گرد عناصر کے خلاف قابلِ تصدیق کارروائی اور مانیٹرنگ کا نظام قائم کرنے کا مطالبہ برقرار رکھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان نے کہا کہ طالبان حکومت پاکستانی دہشت گردوں کو پناہ گزین قرار دے کر معاملے کو انسانی مسئلہ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہی ہے، حالانکہ یہ دراصل دہشت گردوں کو تحفظ دینے کا حربہ ہے۔ پاکستان نے واضح کیا کہ وہ افغانستان میں مقیم تمام پاکستانیوں کو قبول کرنے کو تیار ہے، بشرطیکہ انہیں تورخم یا چمن بارڈر پر قانونی طریقے سے حوالے کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان نے کہا کہ طالبان کے اندر ایک مضبوط لابی غیر ملکی مالی مدد کے ساتھ پاکستان کے خلاف کشیدگی کو ہوا دینے میں مصروف ہے۔ پاکستان اپنے داخلی مسائل سے آگاہ ہے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گا، تاہم افغانستان سے ہونے والی دہشت گردی پر فوری اور عملی اقدامات ضروری ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان نے اتوار کے روز افغان طالبان کے ساتھ استنبول میں ہونے والے مذاکرات کے تیسرے غیر نتیجہ خیز دور پر تفصیلی بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ افغان حکومت نے پاکستان کو نشانہ بنانے والے دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس اور قابلِ تصدیق اقدامات سے گریز کیا۔ دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے بیان میں کہا کہ پاکستان کے بنیادی خدشات کے حل کے بجائے افغان حکومت نے موقع کا استعمال پاکستان کے خلاف بے بنیاد الزامات اور جذباتی بیانات کے لیے کیا۔</strong></p>
<p>بیان کے مطابق ترکیہ اور قطر کی ثالثی میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور 7 نومبر کو استنبول میں اختتام پذیر ہوا۔ پاکستان کو توقع تھی کہ وقت گزرنے کے ساتھ طالبان حکومت افغانستان سے ہونے والے حملوں پر قابو پائے گی اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور فتنہ الخوارج جیسے گروہوں کے خلاف اقدامات کرے گی۔ تاہم ترجمان کے مطابق پاکستان کی جانب سے تجارت، انسانی امداد، تعلیمی اور طبی ویزوں کی فراہمی جیسے مثبت اقدامات کے باوجود افغان حکومت نے صرف زبانی وعدوں اور غیر عملی رویے کا مظاہرہ کیا۔</p>
<p>ترجمان نے کہا کہ طالبان حکومت نے دہشت گردی کے اصل مسئلے کو دیگر غیر متعلقہ امور کے ساتھ خلط ملط کر کے اپنی ذمہ داریوں سے بچنے کی کوشش کی۔ پاکستان نے واضح کیا کہ ٹی ٹی پی، فتنہ الخوارج، بلوچستان لبریشن آرمی اور دیگر دہشت گرد گروہ ریاستِ پاکستان کے دشمن ہیں، اور ان کی پشت پناہی کرنے والے پاکستان کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے۔</p>
<p>دفتر خارجہ کے مطابق مذاکرات کے پہلے دور میں دوحہ میں تعاون کے اصولوں پر اتفاق ہوا تھا جبکہ دوسرے دور میں عمل درآمد کا طریقہ کار طے کیا جانا تھا۔ تاہم طالبان نمائندوں نے اپنے وعدوں سے انحراف کیا اور اشتعال انگیز بیانات کے ذریعے ماحول کو خراب کیا۔ پاکستان نے اپنے مؤقف پر قائم رہتے ہوئے دہشت گرد عناصر کے خلاف قابلِ تصدیق کارروائی اور مانیٹرنگ کا نظام قائم کرنے کا مطالبہ برقرار رکھا۔</p>
<p>ترجمان نے کہا کہ طالبان حکومت پاکستانی دہشت گردوں کو پناہ گزین قرار دے کر معاملے کو انسانی مسئلہ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہی ہے، حالانکہ یہ دراصل دہشت گردوں کو تحفظ دینے کا حربہ ہے۔ پاکستان نے واضح کیا کہ وہ افغانستان میں مقیم تمام پاکستانیوں کو قبول کرنے کو تیار ہے، بشرطیکہ انہیں تورخم یا چمن بارڈر پر قانونی طریقے سے حوالے کیا جائے۔</p>
<p>ترجمان نے کہا کہ طالبان کے اندر ایک مضبوط لابی غیر ملکی مالی مدد کے ساتھ پاکستان کے خلاف کشیدگی کو ہوا دینے میں مصروف ہے۔ پاکستان اپنے داخلی مسائل سے آگاہ ہے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گا، تاہم افغانستان سے ہونے والی دہشت گردی پر فوری اور عملی اقدامات ضروری ہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279132</guid>
      <pubDate>Mon, 10 Nov 2025 09:32:52 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (فدا حسین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/10092851262c9e8.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/10092851262c9e8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
