<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:18:53 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:18:53 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایف بی آر لاہور کی غفلت سے قومی خزانے کو 39 کروڑ کا نقصان پہنچا ، اے جی پی رپورٹ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279115/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) لاہور آفس کی جانب سے اشیاء پر مقررہ شرح سے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) وصول نہ کیے جانے کے باعث مالی سال 2022-23 اور 2023-24 کے دوران قومی خزانے کو 39 کروڑ روپے سے زائد کا نقصان ہوا۔ یہ انکشاف آڈیٹر جنرل آف پاکستان (اے جی پی) کی رپورٹ میں  کیا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے جی پی کے دفتر کی 2025 میں مرتب کردہ رپورٹ کے مطابق  مالی سال 2022-23 اور 2023-24 کے آڈٹ کے دوران لاہور کے لارج ٹیکس پیئر آفس (ایل ٹی او) کے تین فیلڈ افسران نے چار کیسز میں یا تو سیمنٹ سیکٹر اور ایئر ٹکٹس پر قابلِ محصول اشیاء پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد اور وصول نہیں کی یا پھر رجسٹرڈ افراد کی جانب سے سالانہ آڈٹ شدہ اکاؤنٹس میں ظاہر کی گئی ایف ای ڈی کی رقم وصول نہیں کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس غفلت کے باعث 39 کروڑ 4 لاکھ 50 ہزار روپے کی عدم یا کم وصولی ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;، رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے آڈٹ حکام نے یہ بے ضابطگیاں فروری سے نومبر 2024 کے درمیان محکمہ کو رپورٹ کیں۔ محکمے نے جواب میں بتایا کہ 15 کروڑ 28 لاکھ 80 ہزار روپے کے کیسز میں قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے، تاہم 23 کروڑ 75 لاکھ 70 ہزار روپے کے کیسز میں کوئی جواب نہیں دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محکمہ جاتی اکاؤنٹس کمیٹی (ڈی اے سی) نے جولائی، نومبر، دسمبر 2024 اور جنوری 2025 میں منعقدہ اجلاسوں میں ان غیرجوابی کیسز پر تشویش کا اظہار کیا اور چیف کمشنر ان لینڈ ریونیو، لارج ٹیکس پیئر آفس (ایل ٹی او) لاہور کو ذاتی طور پر معاملے میں مداخلت کرنے کی ہدایت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;باقی کیسز میں کمیٹی نے   قانونی کارروائی کو تیز کرنے کی ہدایت کی۔ تاہم  رپورٹ کے حتمی ہونے تک کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہو سکی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آڈٹ نے حکومت کے محصولات کی وصولی کے لیے قانونی کارروائی کو تیز کرنے اور رسک بیسڈ ڈیسک آڈٹس کو مضبوط کرنے کی بھی سفارش کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی مسئلہ اس سے قبل مالی سال 2019-20، 2021-22، 2022-23 اور 2023-24 کے آڈٹ رپورٹس میں بھی رپورٹ ہو چکا ہے، جن کا مالی اثر 58 ارب 49 کروڑ 6 لاکھ روپے تھا۔ اس بے ضابطگی کے بار بار وقوع پذیر ہونے کو اے جی پی آر نے انتہائی تشویشناک قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) لاہور آفس کی جانب سے اشیاء پر مقررہ شرح سے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) وصول نہ کیے جانے کے باعث مالی سال 2022-23 اور 2023-24 کے دوران قومی خزانے کو 39 کروڑ روپے سے زائد کا نقصان ہوا۔ یہ انکشاف آڈیٹر جنرل آف پاکستان (اے جی پی) کی رپورٹ میں  کیا گیا۔</strong></p>
<p>اے جی پی کے دفتر کی 2025 میں مرتب کردہ رپورٹ کے مطابق  مالی سال 2022-23 اور 2023-24 کے آڈٹ کے دوران لاہور کے لارج ٹیکس پیئر آفس (ایل ٹی او) کے تین فیلڈ افسران نے چار کیسز میں یا تو سیمنٹ سیکٹر اور ایئر ٹکٹس پر قابلِ محصول اشیاء پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد اور وصول نہیں کی یا پھر رجسٹرڈ افراد کی جانب سے سالانہ آڈٹ شدہ اکاؤنٹس میں ظاہر کی گئی ایف ای ڈی کی رقم وصول نہیں کی۔</p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس غفلت کے باعث 39 کروڑ 4 لاکھ 50 ہزار روپے کی عدم یا کم وصولی ہوئی۔</p>
<p>، رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے آڈٹ حکام نے یہ بے ضابطگیاں فروری سے نومبر 2024 کے درمیان محکمہ کو رپورٹ کیں۔ محکمے نے جواب میں بتایا کہ 15 کروڑ 28 لاکھ 80 ہزار روپے کے کیسز میں قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے، تاہم 23 کروڑ 75 لاکھ 70 ہزار روپے کے کیسز میں کوئی جواب نہیں دیا گیا۔</p>
<p>محکمہ جاتی اکاؤنٹس کمیٹی (ڈی اے سی) نے جولائی، نومبر، دسمبر 2024 اور جنوری 2025 میں منعقدہ اجلاسوں میں ان غیرجوابی کیسز پر تشویش کا اظہار کیا اور چیف کمشنر ان لینڈ ریونیو، لارج ٹیکس پیئر آفس (ایل ٹی او) لاہور کو ذاتی طور پر معاملے میں مداخلت کرنے کی ہدایت کی۔</p>
<p>باقی کیسز میں کمیٹی نے   قانونی کارروائی کو تیز کرنے کی ہدایت کی۔ تاہم  رپورٹ کے حتمی ہونے تک کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہو سکی۔</p>
<p>آڈٹ نے حکومت کے محصولات کی وصولی کے لیے قانونی کارروائی کو تیز کرنے اور رسک بیسڈ ڈیسک آڈٹس کو مضبوط کرنے کی بھی سفارش کی۔</p>
<p>دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی مسئلہ اس سے قبل مالی سال 2019-20، 2021-22، 2022-23 اور 2023-24 کے آڈٹ رپورٹس میں بھی رپورٹ ہو چکا ہے، جن کا مالی اثر 58 ارب 49 کروڑ 6 لاکھ روپے تھا۔ اس بے ضابطگی کے بار بار وقوع پذیر ہونے کو اے جی پی آر نے انتہائی تشویشناک قرار دیا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279115</guid>
      <pubDate>Sun, 09 Nov 2025 12:37:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سعید اختر بلوچ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/09122546d017483.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/09122546d017483.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
