<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:25:35 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:25:35 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پورٹ قاسم میں بڑھتا رش، وفاقی وزیر نے پہلے آؤ پہلے پائو پالیسی کا اعلان کر دیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279109/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیر بحری امور جنید انور چوہدری نے پورٹ قاسم میں بڑھے ہوئے رش  کے دبائو کو حل کرنے کے لیے مداخلت کی اور اس سلسلے میں ایک اعلیٰ سطح ہنگامی اجلاس کی صدارت کی، جس میں آپریشنل رکاوٹوں پر توجہ مرکوز کی گئی جو ملک کی تجارتی روانی کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں اہم اسٹیک ہولڈرز شریک ہوئے جن میں وزارت تجارت، ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان، پورٹ اتھارٹیز اور سیمنٹ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے نمائندے شامل تھے۔ اجلاس میں پورٹ قاسم میں  بڑھتے رش کے مسئلے پر غور کیا گیا جس کی وجہ سے معمول کے آپریشن متاثر ہو رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں بتایا گیا کہ چینی کی شپمنٹس کی سست ان لوڈنگ کی وجہ سے جہازوں کی قطار لگ گئی ہے اور وہ انتظار کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر جنید انور چوہدری نے ہدایت دی کہ چینی کی روزانہ ان لوڈنگ کی مقدار 4,500 ٹن تک پہنچائی جائے، جو پورٹ کی اصل صلاحیت کے مطابق ہے، تاکہ سہولیات پر بڑھتے ہوئے دباؤ کو کم کیا جا سکے۔ کارگو کے بوجھ کو تقسیم کرنے کے لیے حکومت 60 فیصد چینی کی درآمدات کو گوادر پورٹ منتقل کرنے پر غور کر رہی ہے، جس کے لیے وزیراعظم کے دفتر کی ہدایات موصول ہوئی ہیں تاکہ زیادہ بوجھ والے پورٹ قاسم کو ریلیف فراہم کیا جا سکے اور اس کے ساتھ ساتھ اس اہم اسٹریٹجک پورٹ گوادر کی کارکردگی کو بھی فروغ دیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے اعلان کیا کہ جہاز کی برتھنگ کے لیے پہلے آؤ، پہلے پاؤ کی پالیسی سختی سے نافذ کی جائے گی تاکہ شفافیت اور کارکردگی کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے تمام اداروں کو بھی ہدایت دی کہ وہ کارگو کے شیڈول کے بارے میں بحری امور کی وزارت کو حقیقی وقت میں آگاہ رکھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے کہا کہ ہمارے پورٹس کی بہتر کارکردگی مؤثر رابطہ کاری اور نظم و ضبط کے ذریعے حاصل کی جا سکتی ہے، اور آپریشنل چیلنجز کو حل کرنے کے لیے سخت موقف اختیار کرنے کا عندیہ دیا جو پاکستان کے بحری تجارتی دروازے کو متاثر کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیر بحری امور جنید انور چوہدری نے پورٹ قاسم میں بڑھے ہوئے رش  کے دبائو کو حل کرنے کے لیے مداخلت کی اور اس سلسلے میں ایک اعلیٰ سطح ہنگامی اجلاس کی صدارت کی، جس میں آپریشنل رکاوٹوں پر توجہ مرکوز کی گئی جو ملک کی تجارتی روانی کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔</strong></p>
<p>اجلاس میں اہم اسٹیک ہولڈرز شریک ہوئے جن میں وزارت تجارت، ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان، پورٹ اتھارٹیز اور سیمنٹ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے نمائندے شامل تھے۔ اجلاس میں پورٹ قاسم میں  بڑھتے رش کے مسئلے پر غور کیا گیا جس کی وجہ سے معمول کے آپریشن متاثر ہو رہے ہیں۔</p>
<p>اجلاس میں بتایا گیا کہ چینی کی شپمنٹس کی سست ان لوڈنگ کی وجہ سے جہازوں کی قطار لگ گئی ہے اور وہ انتظار کر رہے ہیں۔</p>
<p>وفاقی وزیر جنید انور چوہدری نے ہدایت دی کہ چینی کی روزانہ ان لوڈنگ کی مقدار 4,500 ٹن تک پہنچائی جائے، جو پورٹ کی اصل صلاحیت کے مطابق ہے، تاکہ سہولیات پر بڑھتے ہوئے دباؤ کو کم کیا جا سکے۔ کارگو کے بوجھ کو تقسیم کرنے کے لیے حکومت 60 فیصد چینی کی درآمدات کو گوادر پورٹ منتقل کرنے پر غور کر رہی ہے، جس کے لیے وزیراعظم کے دفتر کی ہدایات موصول ہوئی ہیں تاکہ زیادہ بوجھ والے پورٹ قاسم کو ریلیف فراہم کیا جا سکے اور اس کے ساتھ ساتھ اس اہم اسٹریٹجک پورٹ گوادر کی کارکردگی کو بھی فروغ دیا جا سکے۔</p>
<p>وفاقی وزیر نے اعلان کیا کہ جہاز کی برتھنگ کے لیے پہلے آؤ، پہلے پاؤ کی پالیسی سختی سے نافذ کی جائے گی تاکہ شفافیت اور کارکردگی کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے تمام اداروں کو بھی ہدایت دی کہ وہ کارگو کے شیڈول کے بارے میں بحری امور کی وزارت کو حقیقی وقت میں آگاہ رکھیں۔</p>
<p>وفاقی وزیر نے کہا کہ ہمارے پورٹس کی بہتر کارکردگی مؤثر رابطہ کاری اور نظم و ضبط کے ذریعے حاصل کی جا سکتی ہے، اور آپریشنل چیلنجز کو حل کرنے کے لیے سخت موقف اختیار کرنے کا عندیہ دیا جو پاکستان کے بحری تجارتی دروازے کو متاثر کر رہے ہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279109</guid>
      <pubDate>Sun, 09 Nov 2025 11:02:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/09110046aff6f1e.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/09110046aff6f1e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
