<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:25:34 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:25:34 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ای سی سی نے ماری کے نئے ذخائر سے 3 کھاد فیکٹریوں کو گیس فراہمی کی منظوری دیدی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279105/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے مقامی کھاد فیکٹریوں کے لیے اہم فیصلہ کرتے ہوئے ماری فیلڈ کے نئے ذخائر، غازیج اور شوال، سے تین کھاد بنانے والے اداروں کو گیس فراہمی کی منظوری دے دی ہے۔ فیصلے کے مطابق اینگرو فرٹیلائزر کے بیس پلانٹ کو گدو پاور پلانٹ سے گیس مختص کرنے کی بجائے ایس این جی پی ایل کے نظام سے گیس فراہم کی جائے گی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے ای سی سی کو بتایا گیا کہ ماری انرجیز لمیٹڈ سندھ کے ضلع گھوٹکی میں واقع ماری گیس فیلڈ کی آپریٹر ہے، جو چار مختلف ذخائر سے گیس پیدا اور سپلائی کر رہی ہے، جن میں حبیب راہی لائم اسٹون، سوئی اپر/مین لائم اسٹون، غازیج/شوال اور گورو بی ڈیپ شامل ہیں۔ 2016 میں ای سی سی نے ماری انرجیز کو اجازت دی تھی کہ وہ حبیب راہی کے غیر استعمال شدہ گیس ذخائر کو ترجیحی بنیادوں پر کھاد  بنانے والے اداروں کو فراہم کرے۔ اسی فیصلے کے تحت اینگرو فرٹیلائزر کے پرانے پلانٹ کو گیس کی فراہمی جاری تھی۔ تاہم 2016 میں گڈو پاور پلانٹ کو مختص کردہ 110 ایم ایم سی ایف ڈی گیس کی فراہمی غیر مستحکم رہی، اور فروری 2020 میں دونوں اداروں کے درمیان گیس سپلائی کا معاہدہ بھی ختم ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ای سی سی کو بتایا گیا کہ گڈو پاور پلانٹ کے بیشتر یونٹس اپنی افادیت کھو چکے ہیں جبکہ کابینہ کی توانائی کمیٹی نے 2021 میں غیر مؤثر یونٹس کے تدریجی خاتمے کی سفارش کی تھی۔ اس وقت گڈو پاور پلانٹ کے 747 میگاواٹ کے یونٹس کے لیے کندھ کوٹ گیس فیلڈ سے 150 ایم ایم سی ایف ڈی گیس دستیاب ہے جو ان یونٹس کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیٹرولیم ڈویژن نے وضاحت کی کہ ملک میں یوریا کی بڑھتی ہوئی طلب کے پیش نظر 2018 میں ای سی سی نے فیصلہ کیا تھا کہ فاطمہ فرٹیلائزر اور ایگری ٹیک کو رعایتی آر ایل این جی فراہم کی جائے، جس کا فرق حکومت نے سبسڈی کے طور پر برداشت کیا۔ مالی سال 2022 میں اس مد میں 33 ارب روپے جبکہ 2023 اور 2024 میں مجموعی طور پر 41 ارب روپے کی سبسڈی دی گئی۔ بعد ازاں دونوں پلانٹس کو مارچ سے اکتوبر 2023 تک مقامی گیس فراہم کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نومبر 2023 میں ای سی سی نے فیصلہ کیا کہ دونوں پلانٹس کو مقامی گیس کے نرخوں پر آر ایل این جی فراہم کی جائے اور نرخوں میں فرق کی وصولی کراس سبسڈی کے ذریعے کی جائے۔ تاہم اوگرا کی اجازت کے باوجود اس فرق کی مکمل وصولی ممکن نہ ہو سکی جس سے ایس این جی پی ایل کو ادائیگیوں میں تاخیر کا سامنا رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فی الحال فاطمہ فرٹیلائزر، ایگری ٹیک اور فوجی فرٹیلائزر بن قاسم وہ تین پلانٹس ہیں جنہیں سوئی کمپنیوں کے نیٹ ورک سے گیس فراہم کی جاتی ہے۔ دیگر سات پلانٹس کو ماری فیلڈ سے 2029 تک گیس فراہمی کے معاہدے حاصل ہیں۔ کھاد بنانے والے اداروں کی مشاورتی کونسل (ایف ایم پی اے سی) نے تجویز دی کہ ان تین پلانٹس کو ماری کے نئے ذخائر غازیج اور شوال سے گیس فراہم کی جائے تاکہ درآمدی یوریا پر زرمبادلہ کے اخراجات میں کمی ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ای سی سی نے اس تجویز کی منظوری دیتے ہوئے غازیج/شوال کے نئے ذخائر سے خام گیس کی فراہمی کے لیے فاطمہ فرٹیلائزر کو 68 ایم ایم سی ایف ڈی، ایگری ٹیک کو 50 ایم ایم سی ایف ڈی اور فوجی فرٹیلائزر  بن قاسم کو 104 ایم ایم سی ایف ڈی گیس مختص کرنے کی ہدایت دی۔ ہر پلانٹ اپنی گیس پراسیسنگ اور کمپریشن کی سہولت خود نصب کرے گا جس پر 200 ملین ڈالر سے زائد سرمایہ کاری متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فی الحال غازیج/شوال سے 48 ایم ایم سی ایف ڈی گیس پیدا کی جا رہی ہے جو ایس این جی پی ایل کو فراہم کی جا رہی ہے۔ مکمل صلاحیت کے مطابق پیداوار آئندہ 24 ماہ میں دستیاب ہوگی۔ اس دوران موجودہ گیس پیداوار کو فاطمہ فرٹیلائزر اور ایگری ٹیک کے درمیان مساوی طور پر تقسیم کیا جائے گا۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ 30 اکتوبر 2025 کے بعد دونوں پلانٹس کو رعایتی آر ایل این جی فراہم نہیں کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے مقامی کھاد فیکٹریوں کے لیے اہم فیصلہ کرتے ہوئے ماری فیلڈ کے نئے ذخائر، غازیج اور شوال، سے تین کھاد بنانے والے اداروں کو گیس فراہمی کی منظوری دے دی ہے۔ فیصلے کے مطابق اینگرو فرٹیلائزر کے بیس پلانٹ کو گدو پاور پلانٹ سے گیس مختص کرنے کی بجائے ایس این جی پی ایل کے نظام سے گیس فراہم کی جائے گی۔</strong></p>
<p>پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے ای سی سی کو بتایا گیا کہ ماری انرجیز لمیٹڈ سندھ کے ضلع گھوٹکی میں واقع ماری گیس فیلڈ کی آپریٹر ہے، جو چار مختلف ذخائر سے گیس پیدا اور سپلائی کر رہی ہے، جن میں حبیب راہی لائم اسٹون، سوئی اپر/مین لائم اسٹون، غازیج/شوال اور گورو بی ڈیپ شامل ہیں۔ 2016 میں ای سی سی نے ماری انرجیز کو اجازت دی تھی کہ وہ حبیب راہی کے غیر استعمال شدہ گیس ذخائر کو ترجیحی بنیادوں پر کھاد  بنانے والے اداروں کو فراہم کرے۔ اسی فیصلے کے تحت اینگرو فرٹیلائزر کے پرانے پلانٹ کو گیس کی فراہمی جاری تھی۔ تاہم 2016 میں گڈو پاور پلانٹ کو مختص کردہ 110 ایم ایم سی ایف ڈی گیس کی فراہمی غیر مستحکم رہی، اور فروری 2020 میں دونوں اداروں کے درمیان گیس سپلائی کا معاہدہ بھی ختم ہو گیا۔</p>
<p>ای سی سی کو بتایا گیا کہ گڈو پاور پلانٹ کے بیشتر یونٹس اپنی افادیت کھو چکے ہیں جبکہ کابینہ کی توانائی کمیٹی نے 2021 میں غیر مؤثر یونٹس کے تدریجی خاتمے کی سفارش کی تھی۔ اس وقت گڈو پاور پلانٹ کے 747 میگاواٹ کے یونٹس کے لیے کندھ کوٹ گیس فیلڈ سے 150 ایم ایم سی ایف ڈی گیس دستیاب ہے جو ان یونٹس کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہے۔</p>
<p>پیٹرولیم ڈویژن نے وضاحت کی کہ ملک میں یوریا کی بڑھتی ہوئی طلب کے پیش نظر 2018 میں ای سی سی نے فیصلہ کیا تھا کہ فاطمہ فرٹیلائزر اور ایگری ٹیک کو رعایتی آر ایل این جی فراہم کی جائے، جس کا فرق حکومت نے سبسڈی کے طور پر برداشت کیا۔ مالی سال 2022 میں اس مد میں 33 ارب روپے جبکہ 2023 اور 2024 میں مجموعی طور پر 41 ارب روپے کی سبسڈی دی گئی۔ بعد ازاں دونوں پلانٹس کو مارچ سے اکتوبر 2023 تک مقامی گیس فراہم کی گئی۔</p>
<p>نومبر 2023 میں ای سی سی نے فیصلہ کیا کہ دونوں پلانٹس کو مقامی گیس کے نرخوں پر آر ایل این جی فراہم کی جائے اور نرخوں میں فرق کی وصولی کراس سبسڈی کے ذریعے کی جائے۔ تاہم اوگرا کی اجازت کے باوجود اس فرق کی مکمل وصولی ممکن نہ ہو سکی جس سے ایس این جی پی ایل کو ادائیگیوں میں تاخیر کا سامنا رہا۔</p>
<p>فی الحال فاطمہ فرٹیلائزر، ایگری ٹیک اور فوجی فرٹیلائزر بن قاسم وہ تین پلانٹس ہیں جنہیں سوئی کمپنیوں کے نیٹ ورک سے گیس فراہم کی جاتی ہے۔ دیگر سات پلانٹس کو ماری فیلڈ سے 2029 تک گیس فراہمی کے معاہدے حاصل ہیں۔ کھاد بنانے والے اداروں کی مشاورتی کونسل (ایف ایم پی اے سی) نے تجویز دی کہ ان تین پلانٹس کو ماری کے نئے ذخائر غازیج اور شوال سے گیس فراہم کی جائے تاکہ درآمدی یوریا پر زرمبادلہ کے اخراجات میں کمی ہو۔</p>
<p>ای سی سی نے اس تجویز کی منظوری دیتے ہوئے غازیج/شوال کے نئے ذخائر سے خام گیس کی فراہمی کے لیے فاطمہ فرٹیلائزر کو 68 ایم ایم سی ایف ڈی، ایگری ٹیک کو 50 ایم ایم سی ایف ڈی اور فوجی فرٹیلائزر  بن قاسم کو 104 ایم ایم سی ایف ڈی گیس مختص کرنے کی ہدایت دی۔ ہر پلانٹ اپنی گیس پراسیسنگ اور کمپریشن کی سہولت خود نصب کرے گا جس پر 200 ملین ڈالر سے زائد سرمایہ کاری متوقع ہے۔</p>
<p>فی الحال غازیج/شوال سے 48 ایم ایم سی ایف ڈی گیس پیدا کی جا رہی ہے جو ایس این جی پی ایل کو فراہم کی جا رہی ہے۔ مکمل صلاحیت کے مطابق پیداوار آئندہ 24 ماہ میں دستیاب ہوگی۔ اس دوران موجودہ گیس پیداوار کو فاطمہ فرٹیلائزر اور ایگری ٹیک کے درمیان مساوی طور پر تقسیم کیا جائے گا۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ 30 اکتوبر 2025 کے بعد دونوں پلانٹس کو رعایتی آر ایل این جی فراہم نہیں کی جائے گی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279105</guid>
      <pubDate>Sun, 09 Nov 2025 10:02:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/091001276b170cc.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/091001276b170cc.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
