<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 21 Jul 2026 01:45:41 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 21 Jul 2026 01:45:41 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایف بی آر نے تنخواہ دار طبقے پر حد سے زیادہ ٹیکس بوجھ کا اعتراف کر لیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279103/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے باضابطہ طور پر اعتراف کیا ہے کہ حکومت نے زیادہ آمدنی والے افراد پر انکم ٹیکس کی شرحوں میں نمایاں اضافہ کیا ہے، جس سے اعلیٰ تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کا بوجھ 35 فیصد تک بڑھا دیا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر کی جانب سے ہفتے کے روز جاری کیے گئے مالی سال 2024-25 کی سالانہ رپورٹ میں ٹیکس حکام نے اس بات کی توثیق کی کہ تنخواہ دار طبقے، خصوصاً زیادہ آمدنی والے افراد سے اضافی محصولات حاصل کرنے کے لیے یہ سخت اقدام اٹھایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فنانس ایکٹ 2024 کے تحت انفرادی تنخواہ داروں کے لیے انکم ٹیکس کی شرحوں میں نظرِثانی کی گئی، جس میں خاص طور پر زیادہ تنخواہ پانے والے افراد پر ٹیکس کا بوجھ بڑھایا گیا ہے۔ نئے ٹیکس سلیب متعارف کرائے گئے ہیں جن میں قابلِ ٹیکس آمدنی کی حد کم کر دی گئی ہے اور زیادہ آمدنی والے افراد کے لیے شرحیں بڑھا دی گئی ہیں، جس میں سب سے بلند شرح 35 فیصد مقرر کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے باضابطہ طور پر اعتراف کیا ہے کہ حکومت نے زیادہ آمدنی والے افراد پر انکم ٹیکس کی شرحوں میں نمایاں اضافہ کیا ہے، جس سے اعلیٰ تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کا بوجھ 35 فیصد تک بڑھا دیا گیا ہے۔</strong></p>
<p>ایف بی آر کی جانب سے ہفتے کے روز جاری کیے گئے مالی سال 2024-25 کی سالانہ رپورٹ میں ٹیکس حکام نے اس بات کی توثیق کی کہ تنخواہ دار طبقے، خصوصاً زیادہ آمدنی والے افراد سے اضافی محصولات حاصل کرنے کے لیے یہ سخت اقدام اٹھایا گیا۔</p>
<p>فنانس ایکٹ 2024 کے تحت انفرادی تنخواہ داروں کے لیے انکم ٹیکس کی شرحوں میں نظرِثانی کی گئی، جس میں خاص طور پر زیادہ تنخواہ پانے والے افراد پر ٹیکس کا بوجھ بڑھایا گیا ہے۔ نئے ٹیکس سلیب متعارف کرائے گئے ہیں جن میں قابلِ ٹیکس آمدنی کی حد کم کر دی گئی ہے اور زیادہ آمدنی والے افراد کے لیے شرحیں بڑھا دی گئی ہیں، جس میں سب سے بلند شرح 35 فیصد مقرر کی گئی ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279103</guid>
      <pubDate>Sun, 09 Nov 2025 09:40:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سہیل سرفراز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/0909382910d8c57.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/0909382910d8c57.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
