<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 17:19:02 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 17:19:02 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>27ویں آئینی ترمیم کا بل سینیٹ میں پیش کر دیا گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279102/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی حکومت نے ہفتہ کے روز پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا (سینیٹ) میں 27ویں آئینی ترمیم سے متعلق مجوزہ بل پیش کیا، جس کے تحت مسلح افواج کے اعلیٰ عہدوں کو آئینی تحفظ دینے، وفاقی آئینی عدالت کے قیام، ہائی کورٹ کے ججوں کے ٹرانسفر، اور دیگر اہم آئینی دفعات میں ترامیم و تبدیلیوں کی تجویز دی گئی ہے۔ تاہم، بل پیش ہوتے ہی اپوزیشن نے اسے مکمل طور پر مسترد کر دیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے یہ بل چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں پیش کیا۔ وزیر قانون کے مطابق، مجوزہ آئینی ترمیمی بل 49 شقوں پر مشتمل ہے جو پانچ موضوعاتی حصوں میں تقسیم ہیں، جن میں تین بنیادی اور دو ضمنی شعبے شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بل کے مطابق آئین کے آرٹیکل 243 میں ترمیم کی تجویز دی گئی ہے، جس کے تحت صدر مملکت وزیراعظم کے مشورے پر آرمی چیف کو بیک وقت چیف آف ڈیفنس فورسز کے طور پر تعینات کریں گے، جبکہ نیول چیف اور ایئر چیف کی تقرری بھی صدر کے دستخط سے ہوگی۔ بل میں یہ بھی شامل ہے کہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ 27 نومبر 2025 سے ختم تصور ہوگا، یعنی موجودہ چیئرمین کے ریٹائرمنٹ کے بعد یہ منصب ختم کر دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید یہ کہ وزیراعظم، چیف آف ڈیفنس فورسز کی سفارش پر، نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کے کمانڈر کی تقرری کریں گے۔ بل میں تجویز ہے کہ آرمی، نیوی اور ایئر فورس کے سربراہان کو تاحیات وردی میں رہنے اور اپنے عہدوں پر برقرار رہنے کا حق حاصل ہوگا، اور انہیں صرف آرٹیکل 47 کے تحت پارلیمنٹ کے ذریعے مواخذے کے ذریعے ہی ہٹایا جا سکے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجوزہ قانون کے تحت تینوں سروسز چیفس کو صدر مملکت کی طرز پر آئینی استثنیٰ حاصل ہوگا اور ان کے اختیارات کے استعمال پر کسی عدالت میں سوال نہیں اٹھایا جا سکے گا۔ بل کے مطابق، وفاقی حکومت ان اعلیٰ عہدوں کے فرائض، مراعات اور تنخواہیں بھی طے کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعظم نذیر تارڑ نے ایوان میں بتایا کہ یہ ترمیمی مسودہ میثاقِ جمہوریت کی روشنی میں تیار کیا گیا ہے، جس پر تمام بڑی سیاسی جماعتوں نے پرویز مشرف کے دور میں اتفاق کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی آئینی عدالت صرف آئینی نوعیت کے مقدمات سنے گی تاکہ سپریم کورٹ کا بوجھ کم ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحریکِ انصاف کے سینیٹر علی ظفر نے بل کو کمیٹی کے سپرد کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اسے عجلت میں منظور کرانا چاہتی ہے۔ اپوزیشن لیڈر علامہ راجا عباس نے بل کو مشکوک اور جلدبازی پر مبنی اقدام قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے کامران مرتضیٰ نے کہا کہ آج کا دن ہمیشہ افسوس کے ساتھ یاد رکھا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایوان کو آج (اتوار) تک کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی حکومت نے ہفتہ کے روز پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا (سینیٹ) میں 27ویں آئینی ترمیم سے متعلق مجوزہ بل پیش کیا، جس کے تحت مسلح افواج کے اعلیٰ عہدوں کو آئینی تحفظ دینے، وفاقی آئینی عدالت کے قیام، ہائی کورٹ کے ججوں کے ٹرانسفر، اور دیگر اہم آئینی دفعات میں ترامیم و تبدیلیوں کی تجویز دی گئی ہے۔ تاہم، بل پیش ہوتے ہی اپوزیشن نے اسے مکمل طور پر مسترد کر دیا۔</strong></p>
<p>وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے یہ بل چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں پیش کیا۔ وزیر قانون کے مطابق، مجوزہ آئینی ترمیمی بل 49 شقوں پر مشتمل ہے جو پانچ موضوعاتی حصوں میں تقسیم ہیں، جن میں تین بنیادی اور دو ضمنی شعبے شامل ہیں۔</p>
<p>بل کے مطابق آئین کے آرٹیکل 243 میں ترمیم کی تجویز دی گئی ہے، جس کے تحت صدر مملکت وزیراعظم کے مشورے پر آرمی چیف کو بیک وقت چیف آف ڈیفنس فورسز کے طور پر تعینات کریں گے، جبکہ نیول چیف اور ایئر چیف کی تقرری بھی صدر کے دستخط سے ہوگی۔ بل میں یہ بھی شامل ہے کہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ 27 نومبر 2025 سے ختم تصور ہوگا، یعنی موجودہ چیئرمین کے ریٹائرمنٹ کے بعد یہ منصب ختم کر دیا جائے گا۔</p>
<p>مزید یہ کہ وزیراعظم، چیف آف ڈیفنس فورسز کی سفارش پر، نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کے کمانڈر کی تقرری کریں گے۔ بل میں تجویز ہے کہ آرمی، نیوی اور ایئر فورس کے سربراہان کو تاحیات وردی میں رہنے اور اپنے عہدوں پر برقرار رہنے کا حق حاصل ہوگا، اور انہیں صرف آرٹیکل 47 کے تحت پارلیمنٹ کے ذریعے مواخذے کے ذریعے ہی ہٹایا جا سکے گا۔</p>
<p>مجوزہ قانون کے تحت تینوں سروسز چیفس کو صدر مملکت کی طرز پر آئینی استثنیٰ حاصل ہوگا اور ان کے اختیارات کے استعمال پر کسی عدالت میں سوال نہیں اٹھایا جا سکے گا۔ بل کے مطابق، وفاقی حکومت ان اعلیٰ عہدوں کے فرائض، مراعات اور تنخواہیں بھی طے کرے گی۔</p>
<p>اعظم نذیر تارڑ نے ایوان میں بتایا کہ یہ ترمیمی مسودہ میثاقِ جمہوریت کی روشنی میں تیار کیا گیا ہے، جس پر تمام بڑی سیاسی جماعتوں نے پرویز مشرف کے دور میں اتفاق کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی آئینی عدالت صرف آئینی نوعیت کے مقدمات سنے گی تاکہ سپریم کورٹ کا بوجھ کم ہو۔</p>
<p>تحریکِ انصاف کے سینیٹر علی ظفر نے بل کو کمیٹی کے سپرد کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اسے عجلت میں منظور کرانا چاہتی ہے۔ اپوزیشن لیڈر علامہ راجا عباس نے بل کو مشکوک اور جلدبازی پر مبنی اقدام قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے کامران مرتضیٰ نے کہا کہ آج کا دن ہمیشہ افسوس کے ساتھ یاد رکھا جائے گا۔</p>
<p>ایوان کو آج (اتوار) تک کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279102</guid>
      <pubDate>Sun, 09 Nov 2025 09:31:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سردار سکندر شاہین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/09093038daabf29.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/09093038daabf29.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
