<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:53:05 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:53:05 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ترقی کی قیمت پر استحکام کا حصول</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279095/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;معاشی استحکام کا مرحلہ اب تک دردناک حد تک طویل ہو چکا ہے اور حکومت کے پاس سخت مالیاتی پالیسیاں جاری رکھنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔ یہ مرحلہ فی الحال اعلیٰ ترقی کے لیے اقدامات کرنے کے بجائے صرف معاشی توازن برقرار رکھنے پر مرکوز ہے جس کی وجہ سے مایوسی عام ہو رہی ہے۔ حکومتی حلقوں میں بھی یہ واضح طور پر دیکھی جاسکتی ہے کیونکہ یہ مسلسل چوتھا سال کم ترقی کا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ ملک کے معاشی مستقبل کے لیے ساختی اصلاحات کا نفاذ ناگزیر ہے۔ اصلاحات کے بغیر مزید عروج و زوال کے چکر سے بچنا ممکن نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم مسئلہ یہ ہے کہ استحکام کے مرحلے کو غیر معینہ مدت تک جاری نہیں رہنے دیا جا سکتا، اس کا ایک حتمی اختتام یا حل ہونا ضروری ہے۔ دوسرے الفاظ میں، یہ صورتحال حکومت یا اس کی اقتصادی ٹیم کے لیے پالیسی مخمصے پیدا کر رہی ہے۔ تاہم، اقتصادی مسائل اکثر پیچیدہ ہوتے ہیں اور ان کا کوئی آسان حل نہیں ہوتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب تک، حکومت نے استحکام کے تیسرے سال میں داخل ہونے کے باوجود کوئی بامعنی اصلاحات پیش نہیں کی ہیں۔ مسئلہ شاید فنانس ٹیم کی تخلیقی صلاحیت کی کمی میں ہے۔ اس نے کم ترقی کے توازن کو برقرار رکھا ہے، لیکن جی ڈی پی کی شرح نمو 4 فیصد سے کم ہونے کے باوجود تجارتی خسارہ بڑھتا جا رہا ہے، جو  رواں مالی سال  12.5 بلین امریکی ڈالر تک پہنچ گیا، جو گزشتہ سال کی اسی مدت سے 38 فیصد زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اکتوبر 2025 کے دوران درآمدات نے 6 بلین امریکی ڈالر کا ہندسہ عبور کیا جو اگست 2022 کے بعد پہلی بار ہوا۔ مسئلہ یہ ہے کہ برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا اور تیل کی کم قیمتوں اور  ترسیلات زر میں صرف جزوی بہتری دیکھنے کو مل رہی ہے۔ دوسری صورت میں، معمولی تجارتی ترقی بھی قابو سے باہر ہو رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت توانائی اور ٹیکس کے جڑواں مسائل کو حل کرنے میں ناکام رہی ہے، جو غیر صنعتی شعبوں میں عدم اعتماد اور مایوسی کو بڑھا رہے ہیں۔ بنیادی طور پر، یہ بیوروکریسی میں اہلیت اور حکمرانی کے مسائل کی عکاسی کرتا ہے۔ آئی ایم ایف پاکستان سے مطالبہ کر رہا ہے کہ گورننس اینڈ کرپشن ڈائیگنوسٹک اسسمنٹ رپورٹ اپنے اگلے پروگرام کے جائزے سے قبل بورڈ کے اجلاس کے لیے شائع کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکس شعبے میں ایف بی آر کو درست کرنا ضروری ہے۔  چیئرمین ایف بی آر  کے مطابق، 1.7 ٹریلین روپے کے کل ٹیکس فرق میں سے 1.2 ٹریلین روپے زیادہ آمدنی والے افراد سے متعلق ہیں۔ یہ گروہ تعداد میں بہت کم ہے، اور اگر ایف بی آر کے پاس کافی ثبوت اور مواد موجود ہیں تو وہ واجبات کیوں وصول نہیں کر پا رہا؟ نظام کے اندر ادارہ جاتی رکاوٹیں کارروائی کو روک رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معیشت کسی مخصوص شعبے کے حق میں غیر واضح ترجیح برداشت نہیں کر سکتی۔ ایف بی آر کو درست کرنا انکم اور سیلز ٹیکس کی شرح کم کرنے اور انسانی و مالیاتی سرمائے کے اخراج کو روکنے کے لیے ضروری ہے۔ اس سے ترقیاتی اخراجات کے لیے مالی گنجائش بھی پیدا ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور بڑا مسئلہ توانائی کی بڑھتی ہوئی لاگت ہے۔ اس شعبے کو مکمل طور پر جدید بنانے کی ضرورت ہے۔ بجلی کی وزارت اس شعبے پر حاوی ہے اور ناکام گرڈ کو ترجیح دے رہی ہے  لیکن یہ طریقہ کار بھی مؤثر ثابت نہیں ہو رہا۔ اس عمل میں، پیٹرولیم سیکٹر کا سرکلر ڈیٹ تیزی سے بڑھ رہا ہے، اور حکومت نے ابھی تک پاور سیکٹر کے سرکلر ڈیٹ میں اضافے کو روکنے کے اقدامات نہیں کیے۔ مکمل لاگت وصولی کی پالیسی بھی مطلوبہ نتائج فراہم نہیں کر رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کو توانائی کے ذرائع سے براہِ راست نمٹنا ہوگا۔ اسے توانائی کی مختلف اقسام کے درمیان امتیازی سلوک بند کرنا چاہیے کیونکہ گرڈ پاور، گیس اور پیٹرولیم مصنوعات سب توانائی کی اقسام ہیں۔ ان کی قیمتوں کا تعین اس طرح ہونا چاہیے کہ توانائی کا زیادہ مؤثر استعمال یقینی بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تقسیم کار کمپنیوں کی گورننس کو بہتر بنایا جانا چاہیے تاکہ نقصانات کم ہوں، اور نجکاری کے عمل کو تیز کیا جائے۔ اب تک صرف فرسٹ ویمن بینک کی محدود نجکاری کامیاب ہوئی ہے۔ اصل امتحان قومی کیریئر پی آئی اے کے ساتھ ہے، اگر یہ کامیاب ہو جاتا ہے تو سرمایہ کاروں کا اعتماد مؤثر انداز میں بحال ہو سکتا ہے، تاہم توانائی شعبے کی کمپنیوں میں سب سے سخت اصلاحات کی ضرورت ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت اپنی بات کو عملی جامہ پہنائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>معاشی استحکام کا مرحلہ اب تک دردناک حد تک طویل ہو چکا ہے اور حکومت کے پاس سخت مالیاتی پالیسیاں جاری رکھنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔ یہ مرحلہ فی الحال اعلیٰ ترقی کے لیے اقدامات کرنے کے بجائے صرف معاشی توازن برقرار رکھنے پر مرکوز ہے جس کی وجہ سے مایوسی عام ہو رہی ہے۔ حکومتی حلقوں میں بھی یہ واضح طور پر دیکھی جاسکتی ہے کیونکہ یہ مسلسل چوتھا سال کم ترقی کا ہے۔</strong></p>
<p>وزیر خزانہ نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ ملک کے معاشی مستقبل کے لیے ساختی اصلاحات کا نفاذ ناگزیر ہے۔ اصلاحات کے بغیر مزید عروج و زوال کے چکر سے بچنا ممکن نہیں۔</p>
<p>تاہم مسئلہ یہ ہے کہ استحکام کے مرحلے کو غیر معینہ مدت تک جاری نہیں رہنے دیا جا سکتا، اس کا ایک حتمی اختتام یا حل ہونا ضروری ہے۔ دوسرے الفاظ میں، یہ صورتحال حکومت یا اس کی اقتصادی ٹیم کے لیے پالیسی مخمصے پیدا کر رہی ہے۔ تاہم، اقتصادی مسائل اکثر پیچیدہ ہوتے ہیں اور ان کا کوئی آسان حل نہیں ہوتا۔</p>
<p>اب تک، حکومت نے استحکام کے تیسرے سال میں داخل ہونے کے باوجود کوئی بامعنی اصلاحات پیش نہیں کی ہیں۔ مسئلہ شاید فنانس ٹیم کی تخلیقی صلاحیت کی کمی میں ہے۔ اس نے کم ترقی کے توازن کو برقرار رکھا ہے، لیکن جی ڈی پی کی شرح نمو 4 فیصد سے کم ہونے کے باوجود تجارتی خسارہ بڑھتا جا رہا ہے، جو  رواں مالی سال  12.5 بلین امریکی ڈالر تک پہنچ گیا، جو گزشتہ سال کی اسی مدت سے 38 فیصد زیادہ ہے۔</p>
<p>اکتوبر 2025 کے دوران درآمدات نے 6 بلین امریکی ڈالر کا ہندسہ عبور کیا جو اگست 2022 کے بعد پہلی بار ہوا۔ مسئلہ یہ ہے کہ برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا اور تیل کی کم قیمتوں اور  ترسیلات زر میں صرف جزوی بہتری دیکھنے کو مل رہی ہے۔ دوسری صورت میں، معمولی تجارتی ترقی بھی قابو سے باہر ہو رہی ہے۔</p>
<p>حکومت توانائی اور ٹیکس کے جڑواں مسائل کو حل کرنے میں ناکام رہی ہے، جو غیر صنعتی شعبوں میں عدم اعتماد اور مایوسی کو بڑھا رہے ہیں۔ بنیادی طور پر، یہ بیوروکریسی میں اہلیت اور حکمرانی کے مسائل کی عکاسی کرتا ہے۔ آئی ایم ایف پاکستان سے مطالبہ کر رہا ہے کہ گورننس اینڈ کرپشن ڈائیگنوسٹک اسسمنٹ رپورٹ اپنے اگلے پروگرام کے جائزے سے قبل بورڈ کے اجلاس کے لیے شائع کرے۔</p>
<p>ٹیکس شعبے میں ایف بی آر کو درست کرنا ضروری ہے۔  چیئرمین ایف بی آر  کے مطابق، 1.7 ٹریلین روپے کے کل ٹیکس فرق میں سے 1.2 ٹریلین روپے زیادہ آمدنی والے افراد سے متعلق ہیں۔ یہ گروہ تعداد میں بہت کم ہے، اور اگر ایف بی آر کے پاس کافی ثبوت اور مواد موجود ہیں تو وہ واجبات کیوں وصول نہیں کر پا رہا؟ نظام کے اندر ادارہ جاتی رکاوٹیں کارروائی کو روک رہی ہیں۔</p>
<p>معیشت کسی مخصوص شعبے کے حق میں غیر واضح ترجیح برداشت نہیں کر سکتی۔ ایف بی آر کو درست کرنا انکم اور سیلز ٹیکس کی شرح کم کرنے اور انسانی و مالیاتی سرمائے کے اخراج کو روکنے کے لیے ضروری ہے۔ اس سے ترقیاتی اخراجات کے لیے مالی گنجائش بھی پیدا ہوگی۔</p>
<p>ایک اور بڑا مسئلہ توانائی کی بڑھتی ہوئی لاگت ہے۔ اس شعبے کو مکمل طور پر جدید بنانے کی ضرورت ہے۔ بجلی کی وزارت اس شعبے پر حاوی ہے اور ناکام گرڈ کو ترجیح دے رہی ہے  لیکن یہ طریقہ کار بھی مؤثر ثابت نہیں ہو رہا۔ اس عمل میں، پیٹرولیم سیکٹر کا سرکلر ڈیٹ تیزی سے بڑھ رہا ہے، اور حکومت نے ابھی تک پاور سیکٹر کے سرکلر ڈیٹ میں اضافے کو روکنے کے اقدامات نہیں کیے۔ مکمل لاگت وصولی کی پالیسی بھی مطلوبہ نتائج فراہم نہیں کر رہی۔</p>
<p>حکومت کو توانائی کے ذرائع سے براہِ راست نمٹنا ہوگا۔ اسے توانائی کی مختلف اقسام کے درمیان امتیازی سلوک بند کرنا چاہیے کیونکہ گرڈ پاور، گیس اور پیٹرولیم مصنوعات سب توانائی کی اقسام ہیں۔ ان کی قیمتوں کا تعین اس طرح ہونا چاہیے کہ توانائی کا زیادہ مؤثر استعمال یقینی بنایا جا سکے۔</p>
<p>تقسیم کار کمپنیوں کی گورننس کو بہتر بنایا جانا چاہیے تاکہ نقصانات کم ہوں، اور نجکاری کے عمل کو تیز کیا جائے۔ اب تک صرف فرسٹ ویمن بینک کی محدود نجکاری کامیاب ہوئی ہے۔ اصل امتحان قومی کیریئر پی آئی اے کے ساتھ ہے، اگر یہ کامیاب ہو جاتا ہے تو سرمایہ کاروں کا اعتماد مؤثر انداز میں بحال ہو سکتا ہے، تاہم توانائی شعبے کی کمپنیوں میں سب سے سخت اصلاحات کی ضرورت ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت اپنی بات کو عملی جامہ پہنائے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279095</guid>
      <pubDate>Sat, 08 Nov 2025 15:26:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/08150259cb03105.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/08150259cb03105.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
