<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 02:29:50 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 02:29:50 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ای سی سی نے گردشی قرضوں کی فنانسنگ کے لیے 659.65 ارب روپے کی حکومتی ضمانت کی منظوری دے دی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279079/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے جمعہ کو پاور ڈویژن کی جانب سے پیش کی گئی سمری منظور کرتے ہوئے 1.225 کھرب روپے کے گردشی قرضوں کی فنانسنگ کے لیے 659.646 ارب روپے کی حکومتی ضمانت جاری کرنے کی منظوری دے دی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ خزانہ کے مطابق یہ ضمانت پاور ہولڈنگ لمیٹڈ ( پی ایچ ایل ) کے قرضوں اور نجی بجلی گھروں (آئی پی پیز) کے واجبات کی ادائیگی کے لیے دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ای سی سی نے وزارتِ خزانہ کو اس ضمن میں لیٹر آف کمفرٹ جاری کرنے کی بھی اجازت دے دی۔ اجلاس میں پاور ڈویژن کو ہدایت کی گئی کہ قرضوں کی ادائیگی کے بعد پی ایچ ایل کی بندش کے لیے ٹائم فریم سے متعلق رپورٹ پیش کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فیصلہ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت ہونے والے ای سی سی اجلاس میں کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں پاور ڈویژن کی ایک اور سمری پر بھی غور کیا گیا جو ایٹمی بجلی گھروں ( این پی پیز )، سرکاری پاور پلانٹس (جی پی پیز)، آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل ) اور سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل ) کے نرخوں میں بہتری اور ادائیگیوں کی تنظیمِ نو سے متعلق تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ خزانہ کے بیان کے مطابق ”یہ تجویز وزیرِاعظم کے ٹاسک فورس برائے توانائی اصلاحات کے ذریعے تیار کی گئی ہے، جس کا مقصد مالی پائیداری میں بہتری، ادائیگیوں کی مؤثر تنظیم اور مجموعی لاگت میں کمی ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے متعلقہ اداروں کے درمیان واجبات کی ادائیگی اور بعض مالی دعووں سے دستبرداری کے متفقہ فریم ورک کی توثیق کر دی تاکہ مالی توازن اور ٹیرف اصلاحات کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔ یہ اقدامات توانائی کے شعبے کی مالی صحت بہتر بنانے اور طویل المدتی لاگت میں کمی کے لیے حکومت کی وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قبل ازیں پاور ڈویژن کے ترجمان نے بتایا تھا کہ مالی سال 2025-26 کی پہلی سہ ماہی میں گردشی قرضوں میں 79 ارب روپے کا اضافہ ”موسمی اور عملیاتی عوامل“ کی وجہ سے ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گردشی قرض سے مراد توانائی کے شعبے میں غیر ادا شدہ بلوں اور مالی ذمہ داریوں کا وہ تسلسل ہے جو وقت کے ساتھ جمع ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان نے کہا ہے کہ 79 ارب روپے کے اضافے کو مکمل تناظر میں دیکھا جانا چاہیے، کیونکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں گردشی قرض میں 73 ارب روپے کا اضافہ ہوا تھا، تاہم سال کے اختتام تک مجموعی قرض 780 ارب روپے کم کر دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق موجودہ سہ ماہی میں اضافہ عارضی ہے اور توقع ہے کہ سال کے دوران یہ رجحان الٹ جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ستمبر میں وفاقی وزیرِ توانائی اویس لغاری نے کہا تھا کہ گردشی قرض آئندہ چھ سال میں صفر تک لایا جائے گا۔ ان کے مطابق قرض پہلے ہی 2.4 کھرب روپے سے کم ہو کر 899 ارب روپے تک آ چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عارف حبیب لمیٹڈ (اے ایچ ایل) کے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق جولائی 2025 میں پاکستان کے توانائی شعبے کا گردشی قرض 1.66 کھرب روپے رہا، جو جولائی 2024 کے 2.35 کھرب روپے کے مقابلے میں 29.3 فیصد کی نمایاں کمی ظاہر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے جمعہ کو پاور ڈویژن کی جانب سے پیش کی گئی سمری منظور کرتے ہوئے 1.225 کھرب روپے کے گردشی قرضوں کی فنانسنگ کے لیے 659.646 ارب روپے کی حکومتی ضمانت جاری کرنے کی منظوری دے دی۔</strong></p>
<p>وزارتِ خزانہ کے مطابق یہ ضمانت پاور ہولڈنگ لمیٹڈ ( پی ایچ ایل ) کے قرضوں اور نجی بجلی گھروں (آئی پی پیز) کے واجبات کی ادائیگی کے لیے دی جائے گی۔</p>
<p>ای سی سی نے وزارتِ خزانہ کو اس ضمن میں لیٹر آف کمفرٹ جاری کرنے کی بھی اجازت دے دی۔ اجلاس میں پاور ڈویژن کو ہدایت کی گئی کہ قرضوں کی ادائیگی کے بعد پی ایچ ایل کی بندش کے لیے ٹائم فریم سے متعلق رپورٹ پیش کی جائے۔</p>
<p>یہ فیصلہ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت ہونے والے ای سی سی اجلاس میں کیا گیا ہے۔</p>
<p>اجلاس میں پاور ڈویژن کی ایک اور سمری پر بھی غور کیا گیا جو ایٹمی بجلی گھروں ( این پی پیز )، سرکاری پاور پلانٹس (جی پی پیز)، آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل ) اور سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل ) کے نرخوں میں بہتری اور ادائیگیوں کی تنظیمِ نو سے متعلق تھی۔</p>
<p>وزارتِ خزانہ کے بیان کے مطابق ”یہ تجویز وزیرِاعظم کے ٹاسک فورس برائے توانائی اصلاحات کے ذریعے تیار کی گئی ہے، جس کا مقصد مالی پائیداری میں بہتری، ادائیگیوں کی مؤثر تنظیم اور مجموعی لاگت میں کمی ہے۔“</p>
<p>کمیٹی نے متعلقہ اداروں کے درمیان واجبات کی ادائیگی اور بعض مالی دعووں سے دستبرداری کے متفقہ فریم ورک کی توثیق کر دی تاکہ مالی توازن اور ٹیرف اصلاحات کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔ یہ اقدامات توانائی کے شعبے کی مالی صحت بہتر بنانے اور طویل المدتی لاگت میں کمی کے لیے حکومت کی وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ ہیں۔</p>
<p>قبل ازیں پاور ڈویژن کے ترجمان نے بتایا تھا کہ مالی سال 2025-26 کی پہلی سہ ماہی میں گردشی قرضوں میں 79 ارب روپے کا اضافہ ”موسمی اور عملیاتی عوامل“ کی وجہ سے ہوا۔</p>
<p>گردشی قرض سے مراد توانائی کے شعبے میں غیر ادا شدہ بلوں اور مالی ذمہ داریوں کا وہ تسلسل ہے جو وقت کے ساتھ جمع ہو جاتا ہے۔</p>
<p>ترجمان نے کہا ہے کہ 79 ارب روپے کے اضافے کو مکمل تناظر میں دیکھا جانا چاہیے، کیونکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں گردشی قرض میں 73 ارب روپے کا اضافہ ہوا تھا، تاہم سال کے اختتام تک مجموعی قرض 780 ارب روپے کم کر دیا گیا تھا۔</p>
<p>ان کے مطابق موجودہ سہ ماہی میں اضافہ عارضی ہے اور توقع ہے کہ سال کے دوران یہ رجحان الٹ جائے گا۔</p>
<p>گزشتہ ستمبر میں وفاقی وزیرِ توانائی اویس لغاری نے کہا تھا کہ گردشی قرض آئندہ چھ سال میں صفر تک لایا جائے گا۔ ان کے مطابق قرض پہلے ہی 2.4 کھرب روپے سے کم ہو کر 899 ارب روپے تک آ چکا ہے۔</p>
<p>عارف حبیب لمیٹڈ (اے ایچ ایل) کے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق جولائی 2025 میں پاکستان کے توانائی شعبے کا گردشی قرض 1.66 کھرب روپے رہا، جو جولائی 2024 کے 2.35 کھرب روپے کے مقابلے میں 29.3 فیصد کی نمایاں کمی ظاہر کرتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279079</guid>
      <pubDate>Fri, 07 Nov 2025 22:07:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریحان ایوب)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/072156365c004d3.webp" type="image/webp" medium="image" height="572" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/072156365c004d3.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
