<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 07:39:31 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 07:39:31 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گرین بلڈنگ مہم میں سب کو کردار ادا کرنا ہوگا ، ماہرین</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279066/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان گرین بلڈنگز کے منصوبے کو عملی شکل دینے اور اسے  قومی کامیابی بنانے کے لیے پاکستان گرین بلڈنگ کانفرنس 2025 میں شریک ماہرین نے کہا ہے کہ اس کے لیے طویل المدتی، مربوط کوششوں اور تمام اہم اسٹیک ہولڈرز کی پائیدار شراکت داری ناگزیر ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی و صوبائی حکومتوں سمیت ان کے ترقیاتی اداروں  آباد کی قیادت میں ڈویلپرز ، ماہرینِ تعمیرات ، انجینئرز ، مالیاتی اداروں اور یوٹیلٹی ایجنسیوں کو گرین بلڈنگ کے فروغ میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عوامی آگاہی مہمات کے ذریعے شہریوں کی شمولیت بھی ناگزیر قرار دی گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اس وقت جن بڑے چیلنجز  موسمیاتی تبدیلی اور تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی  کا سامنا ہے، ان سے نمٹنے کے لیے تمام فریقوں کو مربوط اور عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین نے زور دیا کہ عوام کو ترغیبات دے کر نچلی سطح تک عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عمارتیں توانائی کی سب سے بڑی صارف ہیں، اس لیے انہیں بین الاقوامی معیار کے مطابق توانائی بچانے والی اور ماحول دوست بنانے کی ضرورت ہے ، تاکہ بیرونی و اندرونی ماحول کی بہتری میں حصہ ڈال سکیں، جو ایک صحت مند قوم کے لیے ناگزیر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کانفرنس کے دوران  پالیسی ، ضوابط اور گرین بلڈنگ اصلاحات کے موضوع پر پینل مباحثہ ہوا۔ پینل میں ڈائریکٹر جنرل  ایس بی سی اے مزمل حسین ہالیپوتہ ، منیجنگ ڈائریکٹر میکّا ڈاکٹر سردار محاظم  ، ڈائریکٹر ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی محمد عظیم کھوسو  اور سینئر اربن اسپیشلسٹ شہناز ارشد  شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی جی ایس بی سی اے مزمل ہالیپوتہ نے کہا کہ بلڈنگ بائی لاز میں ترمیم کی ضرورت ہے ، تاکہ گرین تعمیرات کو فروغ دیا جا سکے اور ادارے کے افعال کو پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جیز) سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ ادارے میں کئی انتظامی اصلاحات کی گئی ہیں جن کے مثبت نتائج جلد سامنے آئیں گے۔ ان کے مطابق ایس بی سی اے کے پاس صوبے بھر میں 1,381 ملازمین ہیں، اگر سب کو غیر قانونی تعمیرات کی نگرانی پر لگایا بھی دیا جائے تو ایک نئی عمارت ان کے واپس پہنچنے سے پہلے کھڑی ہو سکتی ہے، جو ادارے کی استعداد کی کمی ظاہر کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہالیپوتہ  نے مزید کہا کہ ڈیجیٹل تبدیلی اور افرادی قوت کی مضبوطی ان کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔ ہم اب نظاموں کو  مینول طور پر نہیں چلا سکتے۔ ڈیجیٹلائزیشن شفافیت اور کارکردگی کو نکھارے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید بتایا کہ ایس بی سی اے چار اقسام کی عمارتوں کو ریگولیٹ کرتا ہے اور جب تمام عمل مکمل طور پر ڈیجیٹل ہو جائیں گے تو نمایاں بہتری دیکھنے کو ملے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی لحاظ سے پائیدار شہری ترقی کے لیے سوچ میں تبدیلی اور قانونی اصلاحات ناگزیر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی جی ایس بی سی اے نے  میڈیا سے گفتگو میں سنگل ونڈو فیسلٹی کی کامیابی پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ ایک مثالی منصوبہ ہے جو پہلے ہی فعال ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ کوئی بھی آن لائن درخواست دے سکتا ہے اور منظوری 15 دن کے اندر جاری ہو جاتی ہے۔ اس نظام کی کامیابی کی شرح 99 فیصد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی جی کے مطابق تعمیراتی صنعت میں کئی دہائیوں سے جمع ہونے والے مسائل اب ایک دوسرے میں الجھ چکے ہیں، جو انتطامی چیلنجز پیدا کرتے ہیں۔ تعمیراتی صنعت میں سب سے بڑا عنصر لاگت ہے۔ گرین بلڈنگز کے لیے بہتر منصوبہ بندی، ماہرین کی رائے اور زیادہ سرمایہ درکار ہوتا ہے لیکن زیادہ تر ڈویلپرز جلدی منافع کے خواہاں ہوتے ہیں ، یہ سوچ بدلنی ہوگی۔ تبدیلی وقت لے گی، مگر یہ ضرور آئے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کے ممالک توانائی اور صحت جیسے شعبوں میں 10 سے 20 سالہ پائیدار ترقی کے اہداف پر عمل کر رہے ہیں۔ اب ہمارے لیے بھی ضروری ہے کہ اپنے قوانین اور ریگولیٹری فریم ورک میں اصلاحات لائیں ،تاکہ پائیدار مستقبل یقینی بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان گرین بلڈنگز کے منصوبے کو عملی شکل دینے اور اسے  قومی کامیابی بنانے کے لیے پاکستان گرین بلڈنگ کانفرنس 2025 میں شریک ماہرین نے کہا ہے کہ اس کے لیے طویل المدتی، مربوط کوششوں اور تمام اہم اسٹیک ہولڈرز کی پائیدار شراکت داری ناگزیر ہے۔</strong></p>
<p>وفاقی و صوبائی حکومتوں سمیت ان کے ترقیاتی اداروں  آباد کی قیادت میں ڈویلپرز ، ماہرینِ تعمیرات ، انجینئرز ، مالیاتی اداروں اور یوٹیلٹی ایجنسیوں کو گرین بلڈنگ کے فروغ میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔</p>
<p>عوامی آگاہی مہمات کے ذریعے شہریوں کی شمولیت بھی ناگزیر قرار دی گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اس وقت جن بڑے چیلنجز  موسمیاتی تبدیلی اور تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی  کا سامنا ہے، ان سے نمٹنے کے لیے تمام فریقوں کو مربوط اور عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔</p>
<p>ماہرین نے زور دیا کہ عوام کو ترغیبات دے کر نچلی سطح تک عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔</p>
<p>عمارتیں توانائی کی سب سے بڑی صارف ہیں، اس لیے انہیں بین الاقوامی معیار کے مطابق توانائی بچانے والی اور ماحول دوست بنانے کی ضرورت ہے ، تاکہ بیرونی و اندرونی ماحول کی بہتری میں حصہ ڈال سکیں، جو ایک صحت مند قوم کے لیے ناگزیر ہے۔</p>
<p>کانفرنس کے دوران  پالیسی ، ضوابط اور گرین بلڈنگ اصلاحات کے موضوع پر پینل مباحثہ ہوا۔ پینل میں ڈائریکٹر جنرل  ایس بی سی اے مزمل حسین ہالیپوتہ ، منیجنگ ڈائریکٹر میکّا ڈاکٹر سردار محاظم  ، ڈائریکٹر ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی محمد عظیم کھوسو  اور سینئر اربن اسپیشلسٹ شہناز ارشد  شامل تھے۔</p>
<p>ڈی جی ایس بی سی اے مزمل ہالیپوتہ نے کہا کہ بلڈنگ بائی لاز میں ترمیم کی ضرورت ہے ، تاکہ گرین تعمیرات کو فروغ دیا جا سکے اور ادارے کے افعال کو پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جیز) سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ ادارے میں کئی انتظامی اصلاحات کی گئی ہیں جن کے مثبت نتائج جلد سامنے آئیں گے۔ ان کے مطابق ایس بی سی اے کے پاس صوبے بھر میں 1,381 ملازمین ہیں، اگر سب کو غیر قانونی تعمیرات کی نگرانی پر لگایا بھی دیا جائے تو ایک نئی عمارت ان کے واپس پہنچنے سے پہلے کھڑی ہو سکتی ہے، جو ادارے کی استعداد کی کمی ظاہر کرتی ہے۔</p>
<p>ہالیپوتہ  نے مزید کہا کہ ڈیجیٹل تبدیلی اور افرادی قوت کی مضبوطی ان کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔ ہم اب نظاموں کو  مینول طور پر نہیں چلا سکتے۔ ڈیجیٹلائزیشن شفافیت اور کارکردگی کو نکھارے گی۔</p>
<p>انہوں نے مزید بتایا کہ ایس بی سی اے چار اقسام کی عمارتوں کو ریگولیٹ کرتا ہے اور جب تمام عمل مکمل طور پر ڈیجیٹل ہو جائیں گے تو نمایاں بہتری دیکھنے کو ملے گی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی لحاظ سے پائیدار شہری ترقی کے لیے سوچ میں تبدیلی اور قانونی اصلاحات ناگزیر ہیں۔</p>
<p>ڈی جی ایس بی سی اے نے  میڈیا سے گفتگو میں سنگل ونڈو فیسلٹی کی کامیابی پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ ایک مثالی منصوبہ ہے جو پہلے ہی فعال ہے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ کوئی بھی آن لائن درخواست دے سکتا ہے اور منظوری 15 دن کے اندر جاری ہو جاتی ہے۔ اس نظام کی کامیابی کی شرح 99 فیصد ہے۔</p>
<p>ڈی جی کے مطابق تعمیراتی صنعت میں کئی دہائیوں سے جمع ہونے والے مسائل اب ایک دوسرے میں الجھ چکے ہیں، جو انتطامی چیلنجز پیدا کرتے ہیں۔ تعمیراتی صنعت میں سب سے بڑا عنصر لاگت ہے۔ گرین بلڈنگز کے لیے بہتر منصوبہ بندی، ماہرین کی رائے اور زیادہ سرمایہ درکار ہوتا ہے لیکن زیادہ تر ڈویلپرز جلدی منافع کے خواہاں ہوتے ہیں ، یہ سوچ بدلنی ہوگی۔ تبدیلی وقت لے گی، مگر یہ ضرور آئے گی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کے ممالک توانائی اور صحت جیسے شعبوں میں 10 سے 20 سالہ پائیدار ترقی کے اہداف پر عمل کر رہے ہیں۔ اب ہمارے لیے بھی ضروری ہے کہ اپنے قوانین اور ریگولیٹری فریم ورک میں اصلاحات لائیں ،تاکہ پائیدار مستقبل یقینی بنایا جا سکے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279066</guid>
      <pubDate>Fri, 07 Nov 2025 14:08:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/07133036c7c2e7f.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/07133036c7c2e7f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
