<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 17:09:54 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 17:09:54 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>27ویں آئینی ترمیم، وزیرِاعظم نے اتحادی جماعتوں سے مشاورت تیز کر دی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279042/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیراعظم شہباز شریف نے 27ویں آئینی ترمیم کی  تجاویز کو باضابطہ طور پر پیش کرنے سے قبل اس کے لیے حمایت حاصل کرنے کی آخری کوششوں میں جمعرات کو اتحادی جماعتوں کے ساتھ رابطے تیز کر دیے۔ انہوں نے اہم اتحادی جماعتوں سے ملاقاتیں کیں تاکہ آئندہ پارلیمانی معرکے کے لیے متحدہ محاذ تشکیل دیا جا سکے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم کی مشاورت میں متحدہ قومی موومنٹ (پاکستان)  ایم کیو ایم، استحکامِ پاکستان پارٹی (آئی پی پی) اور پاکستان مسلم لیگ (ق) شامل تھیں، جو ایوان میں اکثریتی ووٹ یقینی بنانے کے لیے نہایت اہم اتحادی سمجھی جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان مذاکرات میں ایم کیو ایم (پاکستان) مرکزی حیثیت میں رہی، جس کے کنوینر خالد مقبول صدیقی نے وفد کی قیادت کی۔ وفد نے آئینی ترمیم میں بلدیاتی حکومتوں کے زیادہ مؤثر کردار کا مطالبہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم ہاؤس کے ذرائع کے مطابق ملاقات میں ایم کیو ایم کے دیرینہ مطالبے  اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی  پر تفصیلی غور کیا گیا۔ خالد مقبول صدیقی کے ہمراہ سندھ کے گورنر کامران ٹیسوری، وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال، ڈاکٹر فاروق ستار اور امین الحق بھی وفد میں شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایم کیو ایم کے وفد کا استقبال وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ آصف اور وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ ان کے بلدیاتی خودمختاری کے مطالبات اکتوبر 2024 میں 26ویں ترمیم کے دوران نظر انداز کر دیے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے 26ویں ترمیم کے وقت واضح کر دیا تھا کہ ہمارا آئینی پیکیج شامل کیا جائے، مگر ایسا نہیں ہوا۔ اب وقت آگیا ہے کہ 27ویں ترمیم کے ذریعے بلدیاتی حکومتوں کو بااختیار بنایا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) جو مسلم لیگ (ن) کی ایک اور اہم اتحادی جماعت ہے  نے بھی اپنے مطالبات پیش کر کے وزیراعظم کے لیے مذاکرات کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق بی این پی (مینگل) نے ترقیاتی فنڈز اور کچھ وزارتوں کے عہدے طلب کیے ہیں، مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہ اگرچہ وہ بل کی حمایت کریں گے، لیکن ان کے ارکان کو کچھ عملی مراعات ملنی چاہییں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی ( پی پی پی) نے بھی وزیراعظم اور ان کے قریبی ساتھیوں سے ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد پیپلز پارٹی کا وفد کراچی روانہ ہوا، جہاں پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی (سی ای سی) کا ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا ہے، جس میں اس  بل پر پارٹی کے آئندہ لائحہ عمل کا فیصلہ متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پارٹی ذرائع کے مطابق اعلیٰ قیادت آئندہ چند دنوں میں اپنے حتمی مؤقف کا اعلان کرے گی، جو اس آئینی ترمیم کے مستقبل کے تعین میں فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر اپوزیشن کی جانب سے سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی قیادت، جس میں خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پیش پیش ہیں، نے مجوزہ آئینی ترمیم کے خلاف مزاحمت کی تیاری تیز کر دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی قیادت نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اس ترمیم کی مخالفت نہ صرف پارلیمنٹ کے اندر بلکہ باہر بھی بھرپور انداز میں کرے گی، کیونکہ ان کے مطابق اس کی منظوری ملک کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے پارٹی اراکین کو خبردار کیا کہ 26ویں ترمیم کے دوران ہونے والی انحرافی حرکتیں دوبارہ برداشت نہیں کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا: “26ویں ترمیم کے وقت ہماری صفوں میں انحراف ہوا تھا، اب ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ جو بھی عمران خان کے نظریے سے غداری کرے گا، اسے سخت نتائج بھگتنے ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیراعظم شہباز شریف نے 27ویں آئینی ترمیم کی  تجاویز کو باضابطہ طور پر پیش کرنے سے قبل اس کے لیے حمایت حاصل کرنے کی آخری کوششوں میں جمعرات کو اتحادی جماعتوں کے ساتھ رابطے تیز کر دیے۔ انہوں نے اہم اتحادی جماعتوں سے ملاقاتیں کیں تاکہ آئندہ پارلیمانی معرکے کے لیے متحدہ محاذ تشکیل دیا جا سکے۔</strong></p>
<p>وزیراعظم کی مشاورت میں متحدہ قومی موومنٹ (پاکستان)  ایم کیو ایم، استحکامِ پاکستان پارٹی (آئی پی پی) اور پاکستان مسلم لیگ (ق) شامل تھیں، جو ایوان میں اکثریتی ووٹ یقینی بنانے کے لیے نہایت اہم اتحادی سمجھی جاتی ہیں۔</p>
<p>ان مذاکرات میں ایم کیو ایم (پاکستان) مرکزی حیثیت میں رہی، جس کے کنوینر خالد مقبول صدیقی نے وفد کی قیادت کی۔ وفد نے آئینی ترمیم میں بلدیاتی حکومتوں کے زیادہ مؤثر کردار کا مطالبہ کیا۔</p>
<p>وزیراعظم ہاؤس کے ذرائع کے مطابق ملاقات میں ایم کیو ایم کے دیرینہ مطالبے  اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی  پر تفصیلی غور کیا گیا۔ خالد مقبول صدیقی کے ہمراہ سندھ کے گورنر کامران ٹیسوری، وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال، ڈاکٹر فاروق ستار اور امین الحق بھی وفد میں شامل تھے۔</p>
<p>ایم کیو ایم کے وفد کا استقبال وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ آصف اور وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کیا۔</p>
<p>وزیراعظم سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ ان کے بلدیاتی خودمختاری کے مطالبات اکتوبر 2024 میں 26ویں ترمیم کے دوران نظر انداز کر دیے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے 26ویں ترمیم کے وقت واضح کر دیا تھا کہ ہمارا آئینی پیکیج شامل کیا جائے، مگر ایسا نہیں ہوا۔ اب وقت آگیا ہے کہ 27ویں ترمیم کے ذریعے بلدیاتی حکومتوں کو بااختیار بنایا جائے۔</p>
<p>دوسری جانب، بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) جو مسلم لیگ (ن) کی ایک اور اہم اتحادی جماعت ہے  نے بھی اپنے مطالبات پیش کر کے وزیراعظم کے لیے مذاکرات کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق بی این پی (مینگل) نے ترقیاتی فنڈز اور کچھ وزارتوں کے عہدے طلب کیے ہیں، مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہ اگرچہ وہ بل کی حمایت کریں گے، لیکن ان کے ارکان کو کچھ عملی مراعات ملنی چاہییں۔</p>
<p>ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی ( پی پی پی) نے بھی وزیراعظم اور ان کے قریبی ساتھیوں سے ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد پیپلز پارٹی کا وفد کراچی روانہ ہوا، جہاں پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی (سی ای سی) کا ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا ہے، جس میں اس  بل پر پارٹی کے آئندہ لائحہ عمل کا فیصلہ متوقع ہے۔</p>
<p>پارٹی ذرائع کے مطابق اعلیٰ قیادت آئندہ چند دنوں میں اپنے حتمی مؤقف کا اعلان کرے گی، جو اس آئینی ترمیم کے مستقبل کے تعین میں فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔</p>
<p>ادھر اپوزیشن کی جانب سے سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی قیادت، جس میں خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پیش پیش ہیں، نے مجوزہ آئینی ترمیم کے خلاف مزاحمت کی تیاری تیز کر دی ہے۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی قیادت نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اس ترمیم کی مخالفت نہ صرف پارلیمنٹ کے اندر بلکہ باہر بھی بھرپور انداز میں کرے گی، کیونکہ ان کے مطابق اس کی منظوری ملک کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگی۔</p>
<p>وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے پارٹی اراکین کو خبردار کیا کہ 26ویں ترمیم کے دوران ہونے والی انحرافی حرکتیں دوبارہ برداشت نہیں کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا: “26ویں ترمیم کے وقت ہماری صفوں میں انحراف ہوا تھا، اب ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ جو بھی عمران خان کے نظریے سے غداری کرے گا، اسے سخت نتائج بھگتنے ہوں گے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279042</guid>
      <pubDate>Fri, 07 Nov 2025 09:46:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ذوالفقار احمد)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/07094433cdcbe6a.webp" type="image/webp" medium="image" height="550" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/07094433cdcbe6a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
