<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 19:41:29 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Jul 2026 19:41:29 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پورٹ قاسم پر نئے گرین شپ یارڈ اور گڈانی یارڈ کی جدید کاری کیلئے اربوں کے منصوبے کا اعلان</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279021/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان نے اپنے سمندری شعبے میں ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے پورٹ قاسم پر ملک کی پہلی گرین شپ ریپئر اور ری سائیکلنگ یارڈ قائم کرنے اور گڈانی شپ ری سائیکلنگ یارڈ کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے 12 ارب روپے کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے یہ اعلان جمعرات کے روز پاکستان میری ٹائم ویک کے دوران منعقدہ پاکستان انٹرنیشنل میری ٹائم ایگزیبیشن اینڈ کانفرنس 2025 (پی آئی ایم ای سی) کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ پاکستان کا پہلا گرین شپ ریپئر اور ری سائیکلنگ یارڈ “سی ٹو اسٹیل انٹیگریٹڈ میری ٹائم انڈسٹریل کمپلیکس” کے تحت پورٹ قاسم پر قائم کیا جائے گا، جو پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی گڈانی شپ ری سائیکلنگ یارڈ کو ہانگ کانگ کنونشن کے ماحولیاتی معیار کے مطابق جدید بنانے کے لیے 12 ارب روپے کی سرمایہ کاری جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے بتایا کہ پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (پی این ایس سی) کے بحری بیڑے میں 10 سے بڑھا کر 12 جہاز شامل کر لیے گئے ہیں، جب کہ آئندہ دو ماہ میں مزید تین جہاز شامل کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مزید 12 جہازوں کے ٹینڈر پر کام جاری ہے اور 2026 تک بحری بیڑا 30 جہازوں تک بڑھانے اور اگلے تین سال میں 60 تک وسعت دینے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنید چوہدری نے بتایا کہ وزارت نے پہلی نجی کمپنی کو فیری سروسز چلانے کا لائسنس بھی جاری کر دیا ہے، جب کہ نیشنل فشریز اینڈ ایکوا کلچر پالیسی 2025 تا 2035 کو حتمی شکل دے دی گئی ہے جس کا مقصد ایک سال میں ماہی گیری کی برآمدات کو دوگنا کرنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میری ٹائم ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ قائم کر دیا گیا ہے اور پاکستان میرین اکیڈمی کو مکمل یونیورسٹی کے درجے پر اپ گریڈ کیا جائے گا تاکہ نئی نسل کے میرین پروفیشنلز کو تربیت دی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے طویل المدتی وژن کا ذکر کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی میری ٹائم صدی (2047 تا 2147) پانچ ستونوں پر مبنی ہوگی، جن میں تین نئی گہرے سمندر کی بندرگاہوں کی تعمیر، قومی بحری بیڑے کی توسیع، اے آئی سے لیس میری ٹائم انڈسٹریل کمپلیکسز کی تیاری، میڈ اِن پاکستان جہازوں کی تیاری، سو فیصد گرین ڈیجیٹل پورٹس کا قیام اور علاقائی بحری تعاون کے ذریعے امن و خوشحالی کا فروغ شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ سمندر ہمارا اگلا تجارتی، معاشی، توانائی، غذائی اور ماحولیاتی استحکام کا محاذ ہے۔ وفاقی وزیر کے مطابق 2047 تک پاکستان شمالی بحیرۂ عرب اور بحر ہند کے خطے میں پائیدار ترقی کے ساتھ عالمی بلیو اکانومی حب کے طور پر ابھرنے کا ہدف رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے پاکستان کے جغرافیائی محل وقوع کو جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور مشرقی افریقہ کے سنگم پر واقع ایک قدرتی سمندری دروازہ قرار دیا اور کہا کہ وزیرِاعظم کی رہنمائی میں وزارت بحری امور “میری ٹائم &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://twitter.com/100"&gt;@100&lt;/a&gt; ویژن” کے تحت 100 ارب ڈالر مالیت کے بلیو اکانومی منصوبے پر عملدرآمد کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر بحری امور نے آخر میں کہا کہ پاکستان کا مستقبل گوادر سے عالمی سمندروں تک پھیلا ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان نے اپنے سمندری شعبے میں ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے پورٹ قاسم پر ملک کی پہلی گرین شپ ریپئر اور ری سائیکلنگ یارڈ قائم کرنے اور گڈانی شپ ری سائیکلنگ یارڈ کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے 12 ارب روپے کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔</strong></p>
<p>وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے یہ اعلان جمعرات کے روز پاکستان میری ٹائم ویک کے دوران منعقدہ پاکستان انٹرنیشنل میری ٹائم ایگزیبیشن اینڈ کانفرنس 2025 (پی آئی ایم ای سی) کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ پاکستان کا پہلا گرین شپ ریپئر اور ری سائیکلنگ یارڈ “سی ٹو اسٹیل انٹیگریٹڈ میری ٹائم انڈسٹریل کمپلیکس” کے تحت پورٹ قاسم پر قائم کیا جائے گا، جو پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی گڈانی شپ ری سائیکلنگ یارڈ کو ہانگ کانگ کنونشن کے ماحولیاتی معیار کے مطابق جدید بنانے کے لیے 12 ارب روپے کی سرمایہ کاری جاری ہے۔</p>
<p>وفاقی وزیر نے بتایا کہ پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (پی این ایس سی) کے بحری بیڑے میں 10 سے بڑھا کر 12 جہاز شامل کر لیے گئے ہیں، جب کہ آئندہ دو ماہ میں مزید تین جہاز شامل کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مزید 12 جہازوں کے ٹینڈر پر کام جاری ہے اور 2026 تک بحری بیڑا 30 جہازوں تک بڑھانے اور اگلے تین سال میں 60 تک وسعت دینے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔</p>
<p>جنید چوہدری نے بتایا کہ وزارت نے پہلی نجی کمپنی کو فیری سروسز چلانے کا لائسنس بھی جاری کر دیا ہے، جب کہ نیشنل فشریز اینڈ ایکوا کلچر پالیسی 2025 تا 2035 کو حتمی شکل دے دی گئی ہے جس کا مقصد ایک سال میں ماہی گیری کی برآمدات کو دوگنا کرنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میری ٹائم ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ قائم کر دیا گیا ہے اور پاکستان میرین اکیڈمی کو مکمل یونیورسٹی کے درجے پر اپ گریڈ کیا جائے گا تاکہ نئی نسل کے میرین پروفیشنلز کو تربیت دی جا سکے۔</p>
<p>اپنے طویل المدتی وژن کا ذکر کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی میری ٹائم صدی (2047 تا 2147) پانچ ستونوں پر مبنی ہوگی، جن میں تین نئی گہرے سمندر کی بندرگاہوں کی تعمیر، قومی بحری بیڑے کی توسیع، اے آئی سے لیس میری ٹائم انڈسٹریل کمپلیکسز کی تیاری، میڈ اِن پاکستان جہازوں کی تیاری، سو فیصد گرین ڈیجیٹل پورٹس کا قیام اور علاقائی بحری تعاون کے ذریعے امن و خوشحالی کا فروغ شامل ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ سمندر ہمارا اگلا تجارتی، معاشی، توانائی، غذائی اور ماحولیاتی استحکام کا محاذ ہے۔ وفاقی وزیر کے مطابق 2047 تک پاکستان شمالی بحیرۂ عرب اور بحر ہند کے خطے میں پائیدار ترقی کے ساتھ عالمی بلیو اکانومی حب کے طور پر ابھرنے کا ہدف رکھتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے پاکستان کے جغرافیائی محل وقوع کو جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور مشرقی افریقہ کے سنگم پر واقع ایک قدرتی سمندری دروازہ قرار دیا اور کہا کہ وزیرِاعظم کی رہنمائی میں وزارت بحری امور “میری ٹائم <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://twitter.com/100">@100</a> ویژن” کے تحت 100 ارب ڈالر مالیت کے بلیو اکانومی منصوبے پر عملدرآمد کر رہی ہے۔</p>
<p>وزیر بحری امور نے آخر میں کہا کہ پاکستان کا مستقبل گوادر سے عالمی سمندروں تک پھیلا ہوا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279021</guid>
      <pubDate>Thu, 06 Nov 2025 14:13:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/06140305edc2159.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/06140305edc2159.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
