<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 13:32:42 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 13:32:42 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مورگن اسٹینلے نے 3 پاکستانی کمپنیز کو فرنٹیئر مارکیٹ، 11 کو اسمال کیپ انڈیکس میں شامل کرلیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279004/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مورگن اسٹینلے کیپٹل انٹرنیشنل (ایم ایس سی آئی) انک جو عالمی سطح پر سرمایہ کاروں کیلئے اہم فیصلہ سازی میں معاون ٹولز اور سروسز فراہم کرتا ہے نے اپنے نومبر 2025 کے انڈیکس جائزے میں پاکستان کی مزید کمپنیوں کو شامل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تازہ جائزے کے مطابق 3 پاکستانی کمپنیوں کو ایم ایس سی آئی فرنٹیئر مارکیٹ (ایف ایم) انڈیکس جب کہ 11 کمپنیوں کو ایف ایم اسمال کیپ انڈیکس میں شامل کرلیا گیا ہے ۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر 2 پاکستانی کمپنیوں کو ایف ایم اسمال کیپ انڈیکس سے نکال بھی دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایم ایس سی آئی کے مطابق فرنٹیئر مارکیٹس انڈیکس میں شامل کی گئی پاکستانی کمپنیوں میں عسکری بینک، بینک آف پنجاب اور میزان بینک شامل ہیں۔ یہ تبدیلیاں 24 نومبر 2025 کے کاروبار کے اختتام سے نافذالعمل ہوں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں مزید کہا گیا کہ مکمل مارکیٹ کیپٹلائزیشن کے لحاظ سے فرنٹیئر مارکیٹس انڈیکس میں شامل ہونے والی 3 بڑی کمپنیوں میں ویتنام ایئرلائنز جے ایس سی (ویتنام)، میزان بینک (پاکستان) اور بینک الاتحاد (اردن) شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف ایم اسمال کیپ انڈیکس میں شامل کی جانے والی 11 پاکستانی سیکیورٹیز میں اے جی پی، بگ برڈ فوڈز، گیٹرون انڈسٹریز، غنی کیمیکل انڈسٹریز، غنی گلوبل ہولڈنگز، انٹرنیشنل پیکجنگ فلمز، اتحاد کیمیکلز، جاویدان، ستارہ کیمیکل انڈسٹریز، ایس پی ای ایل لمیٹڈ اور دی آرگینک میٹ کمپنی لمیٹڈ شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں بینک آف پنجاب کو اسمال کیپ سے نکال کر مین انڈیکس میں شامل کیا گیا ہے، جبکہ اٹلس بیٹری کو انڈیکس سے نکال دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ ستمبر 2021 میں ایم ایس سی آئی نے پاکستان کو ابھرتی ہوئی منڈی کے درجے سے تنزلی دیتے ہوئے دوبارہ فرنٹیئر مارکیٹس میں منتقل کردیا تھا۔ اُس وقت ایم ایس سی آئی کا کہنا تھا کہ اگرچہ پاکستانی مارکیٹ رسائی کے تقاضوں پر پوری اترتی ہے، تاہم مارکیٹ کے حجم اور لیکویڈیٹی کے معیار پر پوری نہیں اترتی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مورگن اسٹینلے کیپٹل انٹرنیشنل (ایم ایس سی آئی) انک جو عالمی سطح پر سرمایہ کاروں کیلئے اہم فیصلہ سازی میں معاون ٹولز اور سروسز فراہم کرتا ہے نے اپنے نومبر 2025 کے انڈیکس جائزے میں پاکستان کی مزید کمپنیوں کو شامل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تازہ جائزے کے مطابق 3 پاکستانی کمپنیوں کو ایم ایس سی آئی فرنٹیئر مارکیٹ (ایف ایم) انڈیکس جب کہ 11 کمپنیوں کو ایف ایم اسمال کیپ انڈیکس میں شامل کرلیا گیا ہے ۔</strong></p>
<p>ادھر 2 پاکستانی کمپنیوں کو ایف ایم اسمال کیپ انڈیکس سے نکال بھی دیا گیا ہے۔</p>
<p>ایم ایس سی آئی کے مطابق فرنٹیئر مارکیٹس انڈیکس میں شامل کی گئی پاکستانی کمپنیوں میں عسکری بینک، بینک آف پنجاب اور میزان بینک شامل ہیں۔ یہ تبدیلیاں 24 نومبر 2025 کے کاروبار کے اختتام سے نافذالعمل ہوں گی۔</p>
<p>بیان میں مزید کہا گیا کہ مکمل مارکیٹ کیپٹلائزیشن کے لحاظ سے فرنٹیئر مارکیٹس انڈیکس میں شامل ہونے والی 3 بڑی کمپنیوں میں ویتنام ایئرلائنز جے ایس سی (ویتنام)، میزان بینک (پاکستان) اور بینک الاتحاد (اردن) شامل ہیں۔</p>
<p>ایف ایم اسمال کیپ انڈیکس میں شامل کی جانے والی 11 پاکستانی سیکیورٹیز میں اے جی پی، بگ برڈ فوڈز، گیٹرون انڈسٹریز، غنی کیمیکل انڈسٹریز، غنی گلوبل ہولڈنگز، انٹرنیشنل پیکجنگ فلمز، اتحاد کیمیکلز، جاویدان، ستارہ کیمیکل انڈسٹریز، ایس پی ای ایل لمیٹڈ اور دی آرگینک میٹ کمپنی لمیٹڈ شامل ہیں۔</p>
<p>مزید برآں بینک آف پنجاب کو اسمال کیپ سے نکال کر مین انڈیکس میں شامل کیا گیا ہے، جبکہ اٹلس بیٹری کو انڈیکس سے نکال دیا گیا ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ ستمبر 2021 میں ایم ایس سی آئی نے پاکستان کو ابھرتی ہوئی منڈی کے درجے سے تنزلی دیتے ہوئے دوبارہ فرنٹیئر مارکیٹس میں منتقل کردیا تھا۔ اُس وقت ایم ایس سی آئی کا کہنا تھا کہ اگرچہ پاکستانی مارکیٹ رسائی کے تقاضوں پر پوری اترتی ہے، تاہم مارکیٹ کے حجم اور لیکویڈیٹی کے معیار پر پوری نہیں اترتی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279004</guid>
      <pubDate>Thu, 06 Nov 2025 11:36:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/06112406bd216d2.webp" type="image/webp" medium="image" height="1334" width="2000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/06112406bd216d2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
