<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 20:36:57 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 20:36:57 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بڑھتا ہوا ٹیکس بوجھ معیشت کو تباہی کی طرف دھکیل رہا ہے، تھنک ٹینک کا انتباہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279000/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کے ایک تھنک ٹینک نے بدھ کے روز خبردار کیا ہے کہ بڑھتا ہوا ٹیکس بوجھ ملکی معیشت کو تباہی کی طرف دھکیل رہا ہے، اور حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے بجائے غیر حقیقی ٹیکس اہداف مقرر کر کے ایماندار ٹیکس دہندگان کو سزا دے رہی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقتصادی پالیسی و بزنس ڈیولپمنٹ تھنک ٹینک (ای پی بی ڈی) کے چیئرمین ڈاکٹر گوہر اعجاز نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ حکومت کی جانب سے 2028 تک ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح کو 18 فیصد تک بڑھانے کا عزم معاشی سرگرمیوں کو گھٹانے کے خطرات رکھتا ہے، کیونکہ ملک کی کمزور معیشت جارحانہ اور سزا پر مبنی ٹیکس پالیسیوں کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ بھاری ٹیکس معاشی تباہی کا نسخہ ہیں۔ حکومت دعویٰ کرتی ہے کہ نئے ٹیکس نہیں لگائے جا رہے، مگر ٹیکس دہندگان پر بوجھ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے نشاندہی کی کہ حکومت کے وعدوں کے باوجود تنخواہ دار طبقے اور کاروباری طبقے پر پچھلے چند سالوں میں غیر معمولی ٹیکس اضافہ کیا گیا ہے، جسے انہوں نے غیر منصفانہ اور معیشت کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ای پی بی ڈی کی شائع کردہ رپورٹ“پاکستان پلیسنگ کرپلنگ ٹیکس برڈن آن پیپل اینڈ بزنسز“ کے مطابق، کاروباری گروپس سے ٹیکس وصولیاں تین سال میں 131 فیصد بڑھ کر 2.2 کھرب روپے سے 5.3 کھرب روپے تک پہنچ گئیں، جبکہ تنخواہ دار ملازمین سے ٹیکس کٹوتیاں 206 فیصد بڑھ کر 188 ارب روپے سے 575 ارب روپے تک پہنچ گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب معاشی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ آئی ایم ایف کی زیر نگرانی جاری ٹیکس اصلاحات کے نتیجے میں پاکستان میں سرمایہ کاری رک سکتی ہے، خریداری کی قوت گھٹ سکتی ہے، اور اگر ساختی اصلاحات و بہتر گورننس کے بغیر یہ سلسلہ جاری رہا تو شرح نمو مزید کم ہو جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر گوہر اعجاز نے کہا  کہ تنخواہ دار طبقہ اور کاروباری برادری دونوں پس چکے ہیں۔ کمزور معیشت پر غیر حقیقی مطالبات عائد کیے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) پر الزام لگایا کہ وہ پاکستان کے ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب کو غلط انداز میں پیش کر رہا ہے، کیونکہ ایف بی آر نے اسے تقریباً 10 فیصد ظاہر کیا ہے جبکہ پیٹرولیم لیوی اور صوبائی محصولات کو اس میں شامل نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق اصل شرح پہلے ہی 12.2 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ای پی بی ڈی رپورٹ کے مطابق پیٹرولیم لیوی کی وصولیاں تین سال میں 760 فیصد بڑھ کر 135 ارب روپے سے 1.16 کھرب روپے تک جا پہنچی ہیں، جسے ڈاکٹر گوہر اعجاز نے ایندھن کے ذریعے خفیہ ٹیکسیشن قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی کے گمراہ کن دعوے اس بات کا اشارہ ہیں کہ حکومت موجودہ ٹیکس دہندگان کو مزید نچوڑنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ایف بی آر غلط اعداد و شمار کے پیچھے چھپ رہا ہے، بجائے اس کے کہ وہ غیر ٹیکس شدہ شعبوں کو نیٹ میں لائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر گوہر اعجاز نے نشاندہی کی کہ پاکستان کی جی ڈی پی شرح نمو 4 فیصد سے بھی کم رہی ہے، مگر ٹیکس وصولیاں ہر سال 20 سے 30 فیصد کے درمیان بڑھ رہی ہیں، جس سے ایک خطرناک عدم توازن پیدا ہو گیا ہے جو کاروباری اعتماد کو نقصان پہنچا رہا ہے، غیر رسمی معیشت کو بڑھا رہا ہے، اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو پاکستان سے دور کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے خبردار کیا کہ غیر حقیقی ٹیکس اہداف کاروباری سرگرمیوں کو تباہ کر رہے ہیں۔ غیر رسمی معیشت پھیل رہی ہے اور سرمایہ کار ملک چھوڑ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے زور دیا کہ حکومت کو سزا پر مبنی پالیسیوں سے ہٹ کر ترقی پر مبنی ٹیکسیشن اپنانا چاہیے، کیونکہ معیشت کی بحالی تبھی ممکن ہے جب ایماندار ٹیکس دہندگان پر سے بوجھ کم کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ٹیکس دہندگان کو سزا دینا بند کریں۔ ٹیکس کم کریں تاکہ ترقی کو فروغ ملے۔ بھاری ٹیکسوں نے تنخواہ دار طبقے اور کاروباری برادری کی کمر توڑ دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر گوہر اعجاز نے منصفانہ اور متوازن ٹیکس پالیسی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مستقبل کی اصلاحات میں ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے، بالواسطہ ٹیکسوں پر انحصار کم کرنے، اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کو ترجیح دینی چاہیے، نہ کہ اسے محدود کرنے کو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تمام طبقات کے لیے زیادہ سے زیادہ انکم ٹیکس کی شرح 20 فیصد تک محدود کرنی چاہیے۔ ہمیں ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا ہوگا اور نظام سے تمام استثنیات اور مقدس گائیں ختم کرنا ہوں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کے ایک تھنک ٹینک نے بدھ کے روز خبردار کیا ہے کہ بڑھتا ہوا ٹیکس بوجھ ملکی معیشت کو تباہی کی طرف دھکیل رہا ہے، اور حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے بجائے غیر حقیقی ٹیکس اہداف مقرر کر کے ایماندار ٹیکس دہندگان کو سزا دے رہی ہے۔</strong></p>
<p>اقتصادی پالیسی و بزنس ڈیولپمنٹ تھنک ٹینک (ای پی بی ڈی) کے چیئرمین ڈاکٹر گوہر اعجاز نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ حکومت کی جانب سے 2028 تک ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح کو 18 فیصد تک بڑھانے کا عزم معاشی سرگرمیوں کو گھٹانے کے خطرات رکھتا ہے، کیونکہ ملک کی کمزور معیشت جارحانہ اور سزا پر مبنی ٹیکس پالیسیوں کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ بھاری ٹیکس معاشی تباہی کا نسخہ ہیں۔ حکومت دعویٰ کرتی ہے کہ نئے ٹیکس نہیں لگائے جا رہے، مگر ٹیکس دہندگان پر بوجھ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔</p>
<p>انہوں نے نشاندہی کی کہ حکومت کے وعدوں کے باوجود تنخواہ دار طبقے اور کاروباری طبقے پر پچھلے چند سالوں میں غیر معمولی ٹیکس اضافہ کیا گیا ہے، جسے انہوں نے غیر منصفانہ اور معیشت کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔</p>
<p>ای پی بی ڈی کی شائع کردہ رپورٹ“پاکستان پلیسنگ کرپلنگ ٹیکس برڈن آن پیپل اینڈ بزنسز“ کے مطابق، کاروباری گروپس سے ٹیکس وصولیاں تین سال میں 131 فیصد بڑھ کر 2.2 کھرب روپے سے 5.3 کھرب روپے تک پہنچ گئیں، جبکہ تنخواہ دار ملازمین سے ٹیکس کٹوتیاں 206 فیصد بڑھ کر 188 ارب روپے سے 575 ارب روپے تک پہنچ گئیں۔</p>
<p>یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب معاشی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ آئی ایم ایف کی زیر نگرانی جاری ٹیکس اصلاحات کے نتیجے میں پاکستان میں سرمایہ کاری رک سکتی ہے، خریداری کی قوت گھٹ سکتی ہے، اور اگر ساختی اصلاحات و بہتر گورننس کے بغیر یہ سلسلہ جاری رہا تو شرح نمو مزید کم ہو جائے گی۔</p>
<p>ڈاکٹر گوہر اعجاز نے کہا  کہ تنخواہ دار طبقہ اور کاروباری برادری دونوں پس چکے ہیں۔ کمزور معیشت پر غیر حقیقی مطالبات عائد کیے جا رہے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) پر الزام لگایا کہ وہ پاکستان کے ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب کو غلط انداز میں پیش کر رہا ہے، کیونکہ ایف بی آر نے اسے تقریباً 10 فیصد ظاہر کیا ہے جبکہ پیٹرولیم لیوی اور صوبائی محصولات کو اس میں شامل نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق اصل شرح پہلے ہی 12.2 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔</p>
<p>ای پی بی ڈی رپورٹ کے مطابق پیٹرولیم لیوی کی وصولیاں تین سال میں 760 فیصد بڑھ کر 135 ارب روپے سے 1.16 کھرب روپے تک جا پہنچی ہیں، جسے ڈاکٹر گوہر اعجاز نے ایندھن کے ذریعے خفیہ ٹیکسیشن قرار دیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی کے گمراہ کن دعوے اس بات کا اشارہ ہیں کہ حکومت موجودہ ٹیکس دہندگان کو مزید نچوڑنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ایف بی آر غلط اعداد و شمار کے پیچھے چھپ رہا ہے، بجائے اس کے کہ وہ غیر ٹیکس شدہ شعبوں کو نیٹ میں لائے۔</p>
<p>ڈاکٹر گوہر اعجاز نے نشاندہی کی کہ پاکستان کی جی ڈی پی شرح نمو 4 فیصد سے بھی کم رہی ہے، مگر ٹیکس وصولیاں ہر سال 20 سے 30 فیصد کے درمیان بڑھ رہی ہیں، جس سے ایک خطرناک عدم توازن پیدا ہو گیا ہے جو کاروباری اعتماد کو نقصان پہنچا رہا ہے، غیر رسمی معیشت کو بڑھا رہا ہے، اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو پاکستان سے دور کر رہا ہے۔</p>
<p>انہوں نے خبردار کیا کہ غیر حقیقی ٹیکس اہداف کاروباری سرگرمیوں کو تباہ کر رہے ہیں۔ غیر رسمی معیشت پھیل رہی ہے اور سرمایہ کار ملک چھوڑ رہے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے زور دیا کہ حکومت کو سزا پر مبنی پالیسیوں سے ہٹ کر ترقی پر مبنی ٹیکسیشن اپنانا چاہیے، کیونکہ معیشت کی بحالی تبھی ممکن ہے جب ایماندار ٹیکس دہندگان پر سے بوجھ کم کیا جائے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ٹیکس دہندگان کو سزا دینا بند کریں۔ ٹیکس کم کریں تاکہ ترقی کو فروغ ملے۔ بھاری ٹیکسوں نے تنخواہ دار طبقے اور کاروباری برادری کی کمر توڑ دی ہے۔</p>
<p>ڈاکٹر گوہر اعجاز نے منصفانہ اور متوازن ٹیکس پالیسی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مستقبل کی اصلاحات میں ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے، بالواسطہ ٹیکسوں پر انحصار کم کرنے، اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کو ترجیح دینی چاہیے، نہ کہ اسے محدود کرنے کو۔</p>
<p>انہوں نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تمام طبقات کے لیے زیادہ سے زیادہ انکم ٹیکس کی شرح 20 فیصد تک محدود کرنی چاہیے۔ ہمیں ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا ہوگا اور نظام سے تمام استثنیات اور مقدس گائیں ختم کرنا ہوں گی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279000</guid>
      <pubDate>Thu, 06 Nov 2025 11:16:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/0611052711d83e2.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/0611052711d83e2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
