<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:53:20 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:53:20 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آئندہ بجٹ میں فائنل ٹیکس رجیم سے نارمل ٹیکس رجیم پر منتقلی کا جائزہ لیا جائے گا، محمد اورنگزیب</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278989/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب نے اعلان کیا ہے کہ  فائنل ٹیکس رجیم (ایف ٹی آر) سے نارمل ٹیکس رجیم(این ٹی آر) میں منتقلی کے فیصلے کا آئندہ وفاقی بجٹ میں جامع جائزہ لیا جائے گا تاکہ پاکستان کے برآمدی شعبے خصوصاً ٹیکسٹائل صنعت کے مفادات کا تحفظ کیا جا سکے، جسے انہوں نے ملکی برآمدات کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) میں بدھ کے روز خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت برآمدی صنعتوں کو درپیش مشکلات سے مکمل طور پر آگاہ ہے اور عالمی منڈی میں پاکستان کی مسابقت بڑھانے کے لیے ضروری اقدامات کرے گی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے ایک بڑی ساختی اصلاح کے تحت ٹیکس پالیسی آفس کو فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) سے الگ کر کے وزارت خزانہ کے ماتحت کر دیا ہے، جس کی سربراہی ڈاکٹر نجيب احمد میمن کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق آئندہ بجٹ ایف بی آر کے بجائے ٹیکس پالیسی آفس تیار کرے گا تاکہ بجٹ سازی مالی حساب کتاب کے بجائے معاشی قدر و نمو پر مبنی ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ انتظام کاروباری برادری کے دیرینہ مطالبے کے مطابق پالیسی میں تسلسل اور ہم آہنگی یقینی بنائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس پالیسی ٹیم کاروباری طبقے، ماہرین تعلیم اور تھنک ٹینکس سے مسلسل مشاورت کے لیے دستیاب رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ نے بتایا کہ وزیر اعظم نے نجی شعبے کی قیادت میں آٹھ ورکنگ گروپس تشکیل دیے ہیں جن میں کوئی وزیر شامل نہیں۔ یہ گروپس 30 نومبر تک عملی معاشی سفارشات پیش کریں گے۔ انہوں نے کے سی سی آئی کو بھی ان مشاورتی گروپس میں شامل کرنے کا اعلان کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب نے کہا کہ معیشت کے ہر شعبے کو برآمدات میں حصہ ڈالنا ہوگا تاکہ مجموعی مسابقت بہتر ہو۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی آٹو انڈسٹری نے حال ہی میں جی سی سی اور افریقی منڈیوں میں نئی برآمدی راہیں کھولی ہیں، جو تنوع کی علامت ہے۔ حکومت کی ترجیح صنعتی خام مال پر ٹیرف کم کر کے پیداواری لاگت گھٹانا اور صنعتی سرگرمیوں کو بحال کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فاٹا اور پاٹا کے حوالے سے انہوں نے وضاحت کی کہ آمدنی پر ٹیکس استثنیٰ برقرار ہے تاہم 10 فیصد سیلز ٹیکس عائد کیا گیا ہے جو تفصیلی غور و خوض کے بعد نافذ کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ آئی ٹی برآمدات ستمبر 2025 میں 366 ملین ڈالر تک پہنچ چکی ہیں اور رواں مالی سال میں 4 ارب ڈالر سے تجاوز کا امکان ہے۔ دواسازی کی صنعت معیشت کا ابھرتا ہوا شعبہ بن چکی ہے جبکہ زراعتی برآمدات 3 سے 4 ارب ڈالر کے درمیان رہنے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریکوڈک منصوبے کے بارے میں وزیر خزانہ نے کہا کہ یہ منصوبہ 2028 تک فنانشل کلوزر کے مرحلے تک پہنچ جائے گا، اور اس سے پہلے سال میں 2.8 ارب ڈالر کی برآمدات متوقع ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی ایم جی کے چیئرمین زبیر موتی والا نے کہا کہ حکومت ہر مسئلے پر آئی ایم ایف کا حوالہ دیتی ہے جبکہ توانائی کی بلند قیمتوں نے پیداوار کو غیر مسابقتی بنا دیا ہے۔ ان کے مطابق گیس کی لاگت 1868 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو ہے مگر صارفین کو 3500 روپے میں فروخت کی جا رہی ہے جو غیر منطقی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے تجویز دی کہ گردشی قرضے کا بوجھ تمام شعبوں پر یکساں نہ ڈالا جائے بلکہ صرف ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے۔ ان کے مطابق گھریلو صارفین کے لیے گیس سلنڈر ماڈل اپنایا جائے تو گردشی قرضے میں نمایاں کمی ممکن ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زبیر موتی والا نے زور دیا کہ پاکستان کو آئی ایم ایف سے ایسے انداز میں مذاکرات کرنے چاہئیں جس سے برآمدات بڑھا کر زرمبادلہ حاصل کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اگر توانائی نرخوں اور خام مال پر ڈیوٹیز کو بنگلہ دیش کی سطح تک لایا جائے تو پاکستان دو سال میں 15 ارب ڈالر اضافی برآمدات حاصل کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے سی سی آئی کے صدر ریحان حنیف نے کہا کہ محمد اورنگزیب کے عہد سنبھالنے کے وقت معیشت غیر یقینی کا شکار تھی، مگر ایک سال سے کم عرصے میں استحکام بحال ہوا ہے، زرمبادلہ کے ذخائر بڑھے، اسٹاک مارکیٹ ریکارڈ سطح پر پہنچی اور عالمی اداروں نے پاکستان کی ریٹنگ بہتر کی۔ انہوں نے حکومت سے ٹیکس پالیسیوں اور ای-انوائسنگ نظام کو کاروباری سہولت کے مطابق بنانے کا مطالبہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب نے اعلان کیا ہے کہ  فائنل ٹیکس رجیم (ایف ٹی آر) سے نارمل ٹیکس رجیم(این ٹی آر) میں منتقلی کے فیصلے کا آئندہ وفاقی بجٹ میں جامع جائزہ لیا جائے گا تاکہ پاکستان کے برآمدی شعبے خصوصاً ٹیکسٹائل صنعت کے مفادات کا تحفظ کیا جا سکے، جسے انہوں نے ملکی برآمدات کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیا۔</strong></p>
<p>کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) میں بدھ کے روز خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت برآمدی صنعتوں کو درپیش مشکلات سے مکمل طور پر آگاہ ہے اور عالمی منڈی میں پاکستان کی مسابقت بڑھانے کے لیے ضروری اقدامات کرے گی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے ایک بڑی ساختی اصلاح کے تحت ٹیکس پالیسی آفس کو فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) سے الگ کر کے وزارت خزانہ کے ماتحت کر دیا ہے، جس کی سربراہی ڈاکٹر نجيب احمد میمن کر رہے ہیں۔</p>
<p>ان کے مطابق آئندہ بجٹ ایف بی آر کے بجائے ٹیکس پالیسی آفس تیار کرے گا تاکہ بجٹ سازی مالی حساب کتاب کے بجائے معاشی قدر و نمو پر مبنی ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ انتظام کاروباری برادری کے دیرینہ مطالبے کے مطابق پالیسی میں تسلسل اور ہم آہنگی یقینی بنائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس پالیسی ٹیم کاروباری طبقے، ماہرین تعلیم اور تھنک ٹینکس سے مسلسل مشاورت کے لیے دستیاب رہے گی۔</p>
<p>وزیر خزانہ نے بتایا کہ وزیر اعظم نے نجی شعبے کی قیادت میں آٹھ ورکنگ گروپس تشکیل دیے ہیں جن میں کوئی وزیر شامل نہیں۔ یہ گروپس 30 نومبر تک عملی معاشی سفارشات پیش کریں گے۔ انہوں نے کے سی سی آئی کو بھی ان مشاورتی گروپس میں شامل کرنے کا اعلان کیا۔</p>
<p>محمد اورنگزیب نے کہا کہ معیشت کے ہر شعبے کو برآمدات میں حصہ ڈالنا ہوگا تاکہ مجموعی مسابقت بہتر ہو۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی آٹو انڈسٹری نے حال ہی میں جی سی سی اور افریقی منڈیوں میں نئی برآمدی راہیں کھولی ہیں، جو تنوع کی علامت ہے۔ حکومت کی ترجیح صنعتی خام مال پر ٹیرف کم کر کے پیداواری لاگت گھٹانا اور صنعتی سرگرمیوں کو بحال کرنا ہے۔</p>
<p>فاٹا اور پاٹا کے حوالے سے انہوں نے وضاحت کی کہ آمدنی پر ٹیکس استثنیٰ برقرار ہے تاہم 10 فیصد سیلز ٹیکس عائد کیا گیا ہے جو تفصیلی غور و خوض کے بعد نافذ کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ آئی ٹی برآمدات ستمبر 2025 میں 366 ملین ڈالر تک پہنچ چکی ہیں اور رواں مالی سال میں 4 ارب ڈالر سے تجاوز کا امکان ہے۔ دواسازی کی صنعت معیشت کا ابھرتا ہوا شعبہ بن چکی ہے جبکہ زراعتی برآمدات 3 سے 4 ارب ڈالر کے درمیان رہنے کی توقع ہے۔</p>
<p>ریکوڈک منصوبے کے بارے میں وزیر خزانہ نے کہا کہ یہ منصوبہ 2028 تک فنانشل کلوزر کے مرحلے تک پہنچ جائے گا، اور اس سے پہلے سال میں 2.8 ارب ڈالر کی برآمدات متوقع ہیں۔</p>
<p>بی ایم جی کے چیئرمین زبیر موتی والا نے کہا کہ حکومت ہر مسئلے پر آئی ایم ایف کا حوالہ دیتی ہے جبکہ توانائی کی بلند قیمتوں نے پیداوار کو غیر مسابقتی بنا دیا ہے۔ ان کے مطابق گیس کی لاگت 1868 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو ہے مگر صارفین کو 3500 روپے میں فروخت کی جا رہی ہے جو غیر منطقی ہے۔</p>
<p>انہوں نے تجویز دی کہ گردشی قرضے کا بوجھ تمام شعبوں پر یکساں نہ ڈالا جائے بلکہ صرف ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے۔ ان کے مطابق گھریلو صارفین کے لیے گیس سلنڈر ماڈل اپنایا جائے تو گردشی قرضے میں نمایاں کمی ممکن ہے۔</p>
<p>زبیر موتی والا نے زور دیا کہ پاکستان کو آئی ایم ایف سے ایسے انداز میں مذاکرات کرنے چاہئیں جس سے برآمدات بڑھا کر زرمبادلہ حاصل کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اگر توانائی نرخوں اور خام مال پر ڈیوٹیز کو بنگلہ دیش کی سطح تک لایا جائے تو پاکستان دو سال میں 15 ارب ڈالر اضافی برآمدات حاصل کر سکتا ہے۔</p>
<p>کے سی سی آئی کے صدر ریحان حنیف نے کہا کہ محمد اورنگزیب کے عہد سنبھالنے کے وقت معیشت غیر یقینی کا شکار تھی، مگر ایک سال سے کم عرصے میں استحکام بحال ہوا ہے، زرمبادلہ کے ذخائر بڑھے، اسٹاک مارکیٹ ریکارڈ سطح پر پہنچی اور عالمی اداروں نے پاکستان کی ریٹنگ بہتر کی۔ انہوں نے حکومت سے ٹیکس پالیسیوں اور ای-انوائسنگ نظام کو کاروباری سہولت کے مطابق بنانے کا مطالبہ کیا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278989</guid>
      <pubDate>Thu, 06 Nov 2025 09:26:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/06092418a964272.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/06092418a964272.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
