<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:53:02 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:53:02 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزیر خزانہ کا پائیدار ترقی کیلئے اصلاحاتی اقدامات پر زور</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278987/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے بدھ کے روز اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کی معیشت کو مضبوط بنانے، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے اور پائیدار ترقی کے لیے طریقہ کار وضع کرنے کے لیے پالیسی سازی میں ردعمل کے بجائے پیش بینی اور اصلاحات پر مبنی طرزِ حکمرانی اپنانے کی ضرورت ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی میں نٹس شیل گروپ کے زیرِ اہتمام اور نیشنل بینک آف پاکستان کے اشتراک سے منعقدہ دی فیوچر سمٹ کے نویں ایڈیشن کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ خزانہ نے کہا کہ حکومت ملک کی اقتصادی سمت کو ازسرِ نو متعین کرنے کے لیے ساختی اصلاحات، مالی نظم و ضبط اور اسٹریٹجک شراکت داریوں کے قیام کے لیے پرعزم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اپنے حالیہ واشنگٹن اور ریاض کے دوروں کے حوالے سے عالمی اور قومی تناظر پیش کرتے ہوئے کہا کہ عالمی معیشت توقعات سے زیادہ مضبوط ثابت ہوئی ہے، جس کی ایک بڑی وجہ مختلف ممالک میں ساختی اصلاحات اور نجی شعبے کی بڑھتی ہوئی شمولیت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب نے کہا کہ دنیا بھر میں اس بات پر اتفاقِ رائے بڑھ رہا ہے کہ حکومت کے کردار کو محدود کرتے ہوئے پیداواریت پر مبنی اور نجی شعبے کے زیرِ قیادت ترقی کو فروغ دیا جائے، جب کہ مصنوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی پر مبنی جدت میں بے پناہ مواقع موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ ملک نے میکرو اکنامک استحکام حاصل کر لیا ہے جسے عالمی سطح پر تسلیم بھی کیا گیا ہے۔ بڑی ریٹنگ ایجنسیوں نے پاکستان کا آؤٹ لک بہتر کیا ہے اور آئی ایم ایف کے جاری پروگرام کے تحت دوسرا جائزہ بھی کامیابی سے مکمل ہوا ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ میکرو استحکام کوئی آخری ہدف نہیں بلکہ ایک ذریعہ ہے، جو پائیدار سرمایہ کاری اور طویل المدتی ترقی کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ سال 2025 کے ابتدائی نو ماہ کے دوران پاکستان میں کارپوریٹ منافع میں 14 فیصد اضافہ ہوا ہے اور او آئی سی سی آئی کے تازہ ترین سروے میں 73 فیصد چیف ایگزیکٹوز نے پاکستان کو سرمایہ کاری کے لیے موزوں قرار دیا ہے، جو پہلے 61 فیصد تھا۔ ان کے مطابق یہ اعداد و شمار سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد اور ملک کے بہتر معاشی رخ کی عکاسی کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان اس وقت میکرو استحکام اور جغرافیائی سیاسی حالات کے امتزاج سے فائدہ اٹھانے کے لیے موزوں پوزیشن میں ہے تاکہ دوطرفہ تعاون کو نجی شعبے کی قیادت میں تجارت اور سرمایہ کاری کے بہاؤ میں تبدیل کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت معدنیات و کان کنی، آئی ٹی، زراعت، دواسازی اور بلیو اکانومی جیسے ترجیحی شعبوں میں ایک سازگار ماحول فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ وزیر خزانہ نے ٹیکنالوجی پر مبنی معیشت کے تناظر میں گوگل کے پاکستان میں دفتر کھولنے اور ملک کو ریجنل ٹیکنیکل و ایکسپورٹ حب بنانے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو ڈیجیٹل اور تکنیکی مہارتوں سے آراستہ کرنا ضروری ہے تاکہ وہ کوڈنگ، بلاک چین اور مصنوعی ذہانت سے منسلک شعبوں میں زیادہ قدر والے مواقع حاصل کر سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ساختی اصلاحات پر بات کرتے ہوئے سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان اب ڈیزائن کے مرحلے سے گزر چکا ہے اور عمل درآمد کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ٹیکس، توانائی، سرکاری اداروں، نجکاری، پبلک فنانس مینجمنٹ، سرکاری ڈھانچے میں کمی، پنشن اصلاحات اور قرضوں کی ادائیگی جیسے شعبوں میں پیش رفت کا ذکر کیا۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ ٹیکس چوری کی روک تھام کے لیے اے آئی پر مبنی مانیٹرنگ اور انوائسنگ سسٹم متعارف کرائے گئے ہیں، 9 لاکھ نئے ٹیکس دہندگان کا اضافہ ہوا ہے، جب کہ عالمی بینک نے بھی پاکستان کی اصلاحاتی کوششوں کو سراہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے نجکاری کے حوالے سے کہا کہ ایک بڑی یو اے ای کمپنی نے حال ہی میں ایک مقامی بینک خرید لیا ہے، جب کہ پی آئی اے اور بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری پر بھی کام جاری ہے۔ ان کے مطابق وفاقی وزارتوں اور محکموں کی تنظیم نو، یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن اور پاسکو جیسے خسارہ پیدا کرنے والے اداروں کی بندش اور نئے سرکاری ملازمین کے لیے متعین شراکت پر مبنی پنشن اسکیم متعارف کرائی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سمٹ کے عنوان کورس کریکشن پر بات کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ اگرچہ پاکستان کو ساختی اصلاحات کے تسلسل کو برقرار رکھنا چاہیے، مگر دو وجودی مسائل یعنی آبادی میں تیزی سے اضافہ اور ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے فوری اصلاحی اقدامات درکار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے آبادی کے دباؤ، بچوں کی نشوونما میں کمی، تعلیمی پسماندگی کے خاتمے اور ورلڈ بینک کے کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کے تحت دستیاب 2 ارب ڈالر کی ماحولیاتی مالی معاونت کے مؤثر استعمال پر زور دیا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت طویل المدتی پائیداری اور انسانی ترقی پر مبنی اصلاحاتی ایجنڈے کو آگے بڑھائے گی تاکہ معیشت کی مزاحمتی صلاحیت میں اضافہ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا ایگزیکٹو بورڈ دسمبر 2025 کے اوائل میں پاکستان کے لیے اگلی قسط کی منظوری دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان رواں سال اکتوبر کے وسط میں واشنگٹن میں اسٹاف لیول ایگریمنٹ طے پایا، جس کے تحت جاری پروگرام کے تحت تقریباً 1.2 ارب ڈالر کی رقم کی ادائیگی کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف دسمبر کے اوائل میں 1.2 ارب ڈالر کی اگلی قسط کی باضابطہ منظوری دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے بدھ کے روز اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کی معیشت کو مضبوط بنانے، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے اور پائیدار ترقی کے لیے طریقہ کار وضع کرنے کے لیے پالیسی سازی میں ردعمل کے بجائے پیش بینی اور اصلاحات پر مبنی طرزِ حکمرانی اپنانے کی ضرورت ہے۔</strong></p>
<p>کراچی میں نٹس شیل گروپ کے زیرِ اہتمام اور نیشنل بینک آف پاکستان کے اشتراک سے منعقدہ دی فیوچر سمٹ کے نویں ایڈیشن کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ خزانہ نے کہا کہ حکومت ملک کی اقتصادی سمت کو ازسرِ نو متعین کرنے کے لیے ساختی اصلاحات، مالی نظم و ضبط اور اسٹریٹجک شراکت داریوں کے قیام کے لیے پرعزم ہے۔</p>
<p>انہوں نے اپنے حالیہ واشنگٹن اور ریاض کے دوروں کے حوالے سے عالمی اور قومی تناظر پیش کرتے ہوئے کہا کہ عالمی معیشت توقعات سے زیادہ مضبوط ثابت ہوئی ہے، جس کی ایک بڑی وجہ مختلف ممالک میں ساختی اصلاحات اور نجی شعبے کی بڑھتی ہوئی شمولیت ہے۔</p>
<p>محمد اورنگزیب نے کہا کہ دنیا بھر میں اس بات پر اتفاقِ رائے بڑھ رہا ہے کہ حکومت کے کردار کو محدود کرتے ہوئے پیداواریت پر مبنی اور نجی شعبے کے زیرِ قیادت ترقی کو فروغ دیا جائے، جب کہ مصنوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی پر مبنی جدت میں بے پناہ مواقع موجود ہیں۔</p>
<p>پاکستان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ ملک نے میکرو اکنامک استحکام حاصل کر لیا ہے جسے عالمی سطح پر تسلیم بھی کیا گیا ہے۔ بڑی ریٹنگ ایجنسیوں نے پاکستان کا آؤٹ لک بہتر کیا ہے اور آئی ایم ایف کے جاری پروگرام کے تحت دوسرا جائزہ بھی کامیابی سے مکمل ہوا ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ میکرو استحکام کوئی آخری ہدف نہیں بلکہ ایک ذریعہ ہے، جو پائیدار سرمایہ کاری اور طویل المدتی ترقی کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ سال 2025 کے ابتدائی نو ماہ کے دوران پاکستان میں کارپوریٹ منافع میں 14 فیصد اضافہ ہوا ہے اور او آئی سی سی آئی کے تازہ ترین سروے میں 73 فیصد چیف ایگزیکٹوز نے پاکستان کو سرمایہ کاری کے لیے موزوں قرار دیا ہے، جو پہلے 61 فیصد تھا۔ ان کے مطابق یہ اعداد و شمار سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد اور ملک کے بہتر معاشی رخ کی عکاسی کرتے ہیں۔</p>
<p>سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان اس وقت میکرو استحکام اور جغرافیائی سیاسی حالات کے امتزاج سے فائدہ اٹھانے کے لیے موزوں پوزیشن میں ہے تاکہ دوطرفہ تعاون کو نجی شعبے کی قیادت میں تجارت اور سرمایہ کاری کے بہاؤ میں تبدیل کیا جا سکے۔</p>
<p>انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت معدنیات و کان کنی، آئی ٹی، زراعت، دواسازی اور بلیو اکانومی جیسے ترجیحی شعبوں میں ایک سازگار ماحول فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ وزیر خزانہ نے ٹیکنالوجی پر مبنی معیشت کے تناظر میں گوگل کے پاکستان میں دفتر کھولنے اور ملک کو ریجنل ٹیکنیکل و ایکسپورٹ حب بنانے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو ڈیجیٹل اور تکنیکی مہارتوں سے آراستہ کرنا ضروری ہے تاکہ وہ کوڈنگ، بلاک چین اور مصنوعی ذہانت سے منسلک شعبوں میں زیادہ قدر والے مواقع حاصل کر سکیں۔</p>
<p>ساختی اصلاحات پر بات کرتے ہوئے سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان اب ڈیزائن کے مرحلے سے گزر چکا ہے اور عمل درآمد کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔</p>
<p>انہوں نے ٹیکس، توانائی، سرکاری اداروں، نجکاری، پبلک فنانس مینجمنٹ، سرکاری ڈھانچے میں کمی، پنشن اصلاحات اور قرضوں کی ادائیگی جیسے شعبوں میں پیش رفت کا ذکر کیا۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ ٹیکس چوری کی روک تھام کے لیے اے آئی پر مبنی مانیٹرنگ اور انوائسنگ سسٹم متعارف کرائے گئے ہیں، 9 لاکھ نئے ٹیکس دہندگان کا اضافہ ہوا ہے، جب کہ عالمی بینک نے بھی پاکستان کی اصلاحاتی کوششوں کو سراہا ہے۔</p>
<p>انہوں نے نجکاری کے حوالے سے کہا کہ ایک بڑی یو اے ای کمپنی نے حال ہی میں ایک مقامی بینک خرید لیا ہے، جب کہ پی آئی اے اور بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری پر بھی کام جاری ہے۔ ان کے مطابق وفاقی وزارتوں اور محکموں کی تنظیم نو، یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن اور پاسکو جیسے خسارہ پیدا کرنے والے اداروں کی بندش اور نئے سرکاری ملازمین کے لیے متعین شراکت پر مبنی پنشن اسکیم متعارف کرائی جا رہی ہے۔</p>
<p>سمٹ کے عنوان کورس کریکشن پر بات کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ اگرچہ پاکستان کو ساختی اصلاحات کے تسلسل کو برقرار رکھنا چاہیے، مگر دو وجودی مسائل یعنی آبادی میں تیزی سے اضافہ اور ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے فوری اصلاحی اقدامات درکار ہیں۔</p>
<p>انہوں نے آبادی کے دباؤ، بچوں کی نشوونما میں کمی، تعلیمی پسماندگی کے خاتمے اور ورلڈ بینک کے کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کے تحت دستیاب 2 ارب ڈالر کی ماحولیاتی مالی معاونت کے مؤثر استعمال پر زور دیا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت طویل المدتی پائیداری اور انسانی ترقی پر مبنی اصلاحاتی ایجنڈے کو آگے بڑھائے گی تاکہ معیشت کی مزاحمتی صلاحیت میں اضافہ ہو۔</p>
<p>وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا ایگزیکٹو بورڈ دسمبر 2025 کے اوائل میں پاکستان کے لیے اگلی قسط کی منظوری دے گا۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان رواں سال اکتوبر کے وسط میں واشنگٹن میں اسٹاف لیول ایگریمنٹ طے پایا، جس کے تحت جاری پروگرام کے تحت تقریباً 1.2 ارب ڈالر کی رقم کی ادائیگی کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف دسمبر کے اوائل میں 1.2 ارب ڈالر کی اگلی قسط کی باضابطہ منظوری دے گا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278987</guid>
      <pubDate>Thu, 06 Nov 2025 09:06:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/060903482c095ee.webp" type="image/webp" medium="image" height="590" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/060903482c095ee.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
