<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 16:46:21 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 16:46:21 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکی سپریم کورٹ میں ٹرمپ کے اختیارات کا بڑا امتحان، ٹیرف کی قانونی حیثیت پر سماعت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278986/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی سپریم کورٹ بدھ کے روز ڈونلڈ ٹرمپ کے وسیع پیمانے پر عائد کردہ ٹیرف کی قانونی حیثیت سے متعلق دلائل سنے گی، جو عالمی معیشت پر اثرات رکھنے والا مقدمہ اور ریپبلکن صدر کے اختیارات کا بڑا امتحان قرار دیا جا رہا ہے۔ عدالت اس بات کا بھی جائزہ لے گی کہ جج صاحبان ٹرمپ کو اپنے اختیارات کی حدوں کو کس حد تک بڑھانے کی اجازت دینے پر آمادہ ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دلائل کا آغاز صبح 10 بجے (امریکی مشرقی وقت) ہوگا، جس سے قبل زیریں عدالتیں یہ قرار دے چکی ہیں کہ قومی ہنگامی حالات سے متعلق 1977ء کے وفاقی قانون کا استعمال کر کے محصولات عائد کرنا ٹرمپ کے اختیارات سے تجاوز تھا۔ یہ چیلنج تین مقدمات پر مشتمل ہے جو ان کاروباری اداروں اور 12 امریکی ریاستوں نے دائر کیے ہیں جنہیں ان محصولات سے نقصان پہنچا، ان میں زیادہ تر ریاستیں ڈیموکریٹس کی قیادت میں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے سپریم کورٹ، جس میں قدامت پسند ججوں کی اکثریت (6-3) ہے، پر زور دیا ہے کہ وہ ان محصولات کو برقرار رکھے جنہیں وہ اپنی معاشی اور خارجہ پالیسی کا بنیادی ہتھیار قرار دیتے ہیں۔ یہ محصولات، درآمدی اشیا پر عائد ٹیکس، آئندہ دہائی میں امریکہ کے لیے کھربوں ڈالر کی آمدن کا باعث بن سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے اتوار کو ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا ہے کہ اگر عدالتِ عظمیٰ نے انہیں ( ٹیرف کو) کالعدم قرار دیا تو ہم ملک کے دفاع کے قابل نہیں رہیں گے، جو شاید ہمارے ملک کی تباہی کا باعث بنے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس مقدمے کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ بدھ کو عدالت میں ہونے والی کارروائی میں خود شریک ہوں گے۔ ٹرمپ نے ابتدائی طور پر خود شرکت کا ارادہ ظاہر کیا تھا مگر بعد میں فیصلہ تبدیل کر لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین نے بعض امریکی ٹیرف معطل کر دیے ہیں، تاہم سویابین خریدار اب بھی بھاری محصولات کا سامنا کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیسنٹ کے مطابق اگر سپریم کورٹ نے ٹرمپ کے خلاف فیصلہ دیا تو یہ ٹیرف فی الحال برقرار رہیں گے، کیونکہ حکومت انہیں نافذ رکھنے کے لیے دیگر قانونی ذرائع اختیار کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ عدالتِ عظمیٰ عموماً دلائل سننے کے بعد فیصلے سنانے میں کئی ماہ لیتی ہے، لیکن ٹرمپ انتظامیہ نے اس مقدمے میں جلد فیصلہ دینے کی درخواست کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اختیارات کی سرحدوں کا امتحان&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جج صاحبان اس امر پر غور کریں گے کہ ٹرمپ نے بین الاقوامی ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ (آئی ای ای پی اے) کے تحت تقریباً تمام امریکی تجارتی شراکت داروں پر ٹیرف عائد کر کے اپنے اختیارات کا کس حد تک استعمال کیا۔ یہ قانون صدر کو قومی ہنگامی حالات میں تجارتی معاملات کو منظم کرنے کا اختیار دیتا ہے، تاہم اس میں ”ٹیرف“ کا لفظ واضح طور پر درج نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ اس قانون کو اس انداز میں استعمال کرنے والے پہلے صدر ہیں، یہ ان متعدد اقدامات میں سے ایک ہے جن کے ذریعے انہوں نے عہدہ سنبھالنے کے بعد صدارتی اختیارات کی حدود کو جارحانہ انداز میں بڑھانے کی کوشش کی، خواہ وہ امیگریشن پر کریک ڈاؤن ہو، وفاقی اداروں کے سربراہان کی برطرفی یا اندرونِ ملک فوجی تعیناتیاں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی آئین کے مطابق ٹیکس اور محصولات عائد کرنے کا اختیار صدر کے بجائے کانگریس کو حاصل ہے۔ تاہم ٹرمپ کی وزارتِ انصاف کا موقف ہے کہ انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ (آئی ای ای پی اے) صدر کو درآمدات کو ”منظم“ کرنے کا اختیار دے کر ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے محصولات لگانے کی اجازت دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن ایجنسی کے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، 4 فروری سے 23 ستمبر تک آئی ای ای پی اے کے تحت عائد کردہ ان محصولات سے تقریباً 89 ارب ڈالر جمع ہوئے۔ ٹرمپ نے دیگر قوانین کے تحت بھی کچھ اضافی محصولات عائد کیے ہیں، تاہم وہ اس مقدمے کا حصہ نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپریم کورٹ نے رواں سال ہنگامی بنیادوں پر جاری کیے گئے متعدد فیصلوں میں ٹرمپ کے اقدامات کی توثیق کی ہے۔ ان فیصلوں کے نتیجے میں ماتحت عدالتوں کی جانب سے قانونی حیثیت پر اعتراضات کے باوجود کئی ٹرمپ پالیسیوں کو عارضی طور پر نافذ رہنے کی اجازت ملی۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ عدالت صدر کے اختیارات پر توازن قائم کرنے کے کردار سے گریز کر رہی ہے۔
یہ پہلا موقع ہے کہ عدالتِ عظمیٰ نے رواں سال ٹرمپ کی کسی پالیسی کے قانونی پہلوؤں پر براہِ راست سماعت کی ہے۔ مئی میں عدالت نے ٹرمپ کی پیدائشی شہریت محدود کرنے کی کوشش سے متعلق ایک مقدمے کی سماعت کی تھی، مگر توجہ پالیسی کی قانونی حیثیت پر نہیں بلکہ وفاقی ججوں کے ملک گیر سطح پر کارروائی روکنے کے اختیارات پر مرکوز رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی تجارتی جنگ&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے رواں سال جنوری میں دوبارہ صدارت سنبھالتے ہی ایک عالمی تجارتی جنگ چھیڑ دی، جس سے تجارتی شراکت دار ناراض ہوئے، مالیاتی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ بڑھ گیا اور عالمی معیشت میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی۔
انہوں نے آئی ای ای پی اے کا استعمال کرتے ہوئے بعض ممالک سے درآمدی اشیا پر ٹیرف عائد کیے، یہ کہہ کر کہ امریکہ کے تجارتی خسارے قومی ہنگامی صورتحال کی حیثیت رکھتے ہیں۔ فروری میں انہوں نے چین، کینیڈا اور میکسیکو پر اقتصادی دباؤ ڈالنے کے لیے بھی اسی قانون کے تحت اقدامات کیے، تاکہ امریکہ میں منشیات اور درد کم کرنے والی دوا فینٹانل کی اسمگلنگ کو روکا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے ٹیرف کو دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا، تاکہ تجارتی معاہدوں پر نظرِ ثانی کرائی جا سکے یا ان ممالک کو سزا دی جا سکے جنہوں نے غیر تجارتی سیاسی امور پر ان کی مخالفت کی۔ ان میں برازیل میں سابق صدر بولسونارو کے خلاف عدالتی کارروائی، بھارت کی جانب سے روسی تیل کی خریداری (جس سے روس کو یوکرین جنگ میں مدد مل رہی ہے) اور کینیڈا کی اونٹاریو ریاست کی جانب سے ٹرمپ مخالف اشتہاری مہم شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;’غیر معمولی اور  انتہائی سنگین خطرہ‘&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ای ای پی اے صدر کو ایسے ”غیر معمولی اور انتہائی سنگین خطرے“ سے نمٹنے کا اختیار دیتا ہے جو قومی ہنگامی حالت میں درپیش ہو۔ ماضی میں یہ قانون زیادہ تر دشمن ممالک پر پابندیاں عائد کرنے یا ان کے اثاثے منجمد کرنے کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے، نہ کہ ٹیرف عائد کرنے کے لیے۔ اس قانون کی منظوری کے وقت کانگریس نے صدر کے اختیارات کو اس کے سابقہ قانون کے مقابلے میں محدود کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپریم کورٹ اس وقت ٹرمپ کے خلاف دو فیصلوں کا جائزہ لے رہی ہے۔ واشنگٹن میں واقع امریکی فیڈرل سرکٹ کورٹ آف اپیلز نے ان چیلنجوں کے حامیوں کا ساتھ دیا جن میں پانچ چھوٹے درآمدی کاروبار اور 12 امریکی ریاستیں شامل ہیں، جن میں ایریزونا، کولوراڈو، کنیکٹی کٹ، ڈیلاویئر، الی نوائے، مین، مینیسوٹا، نیواڈا، نیو میکسیکو، نیویارک، اوریگون اور ورمونٹ شامل ہیں۔ واشنگٹن کی ایک وفاقی عدالت نے ایک خاندانی ملکیت والے کھلونا ساز ادارے لرننگ ریسورسز کے حق میں فیصلہ دیا تھا۔
فیڈرل سرکٹ کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ “یہ امکان کم ہے کہ کانگریس نے آئی ای ای پی اے کی منظوری دیتے وقت اپنی سابقہ پالیسی سے انحراف کرتے ہوئے صدر کو ٹیرف عائد کرنے کے لامحدود اختیارات دینے کا ارادہ کیا ہو۔”&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے مزید کہا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے اس قانون کی غیر معمولی توسیع پسندانہ تشریح سپریم کورٹ کے “بڑے سوالات کے اصول” ( میجر کوئیسچن ڈاکٹرائن ) کی خلاف ورزی ہے، جو اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ معاشی یا سیاسی طور پر وسیع اثرات رکھنے والے کسی بھی صدارتی اقدام کو کانگریس کی واضح منظوری حاصل ہو۔ یہی اصول سپریم کورٹ نے سابق ڈیموکریٹ صدر جو بائیڈن کی بعض اہم پالیسیوں کو کالعدم قرار دینے کے لیے بھی استعمال کیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی سپریم کورٹ بدھ کے روز ڈونلڈ ٹرمپ کے وسیع پیمانے پر عائد کردہ ٹیرف کی قانونی حیثیت سے متعلق دلائل سنے گی، جو عالمی معیشت پر اثرات رکھنے والا مقدمہ اور ریپبلکن صدر کے اختیارات کا بڑا امتحان قرار دیا جا رہا ہے۔ عدالت اس بات کا بھی جائزہ لے گی کہ جج صاحبان ٹرمپ کو اپنے اختیارات کی حدوں کو کس حد تک بڑھانے کی اجازت دینے پر آمادہ ہیں۔</strong></p>
<p>دلائل کا آغاز صبح 10 بجے (امریکی مشرقی وقت) ہوگا، جس سے قبل زیریں عدالتیں یہ قرار دے چکی ہیں کہ قومی ہنگامی حالات سے متعلق 1977ء کے وفاقی قانون کا استعمال کر کے محصولات عائد کرنا ٹرمپ کے اختیارات سے تجاوز تھا۔ یہ چیلنج تین مقدمات پر مشتمل ہے جو ان کاروباری اداروں اور 12 امریکی ریاستوں نے دائر کیے ہیں جنہیں ان محصولات سے نقصان پہنچا، ان میں زیادہ تر ریاستیں ڈیموکریٹس کی قیادت میں ہیں۔</p>
<p>ٹرمپ نے سپریم کورٹ، جس میں قدامت پسند ججوں کی اکثریت (6-3) ہے، پر زور دیا ہے کہ وہ ان محصولات کو برقرار رکھے جنہیں وہ اپنی معاشی اور خارجہ پالیسی کا بنیادی ہتھیار قرار دیتے ہیں۔ یہ محصولات، درآمدی اشیا پر عائد ٹیکس، آئندہ دہائی میں امریکہ کے لیے کھربوں ڈالر کی آمدن کا باعث بن سکتے ہیں۔</p>
<p>ٹرمپ نے اتوار کو ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا ہے کہ اگر عدالتِ عظمیٰ نے انہیں ( ٹیرف کو) کالعدم قرار دیا تو ہم ملک کے دفاع کے قابل نہیں رہیں گے، جو شاید ہمارے ملک کی تباہی کا باعث بنے۔</p>
<p>اس مقدمے کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ بدھ کو عدالت میں ہونے والی کارروائی میں خود شریک ہوں گے۔ ٹرمپ نے ابتدائی طور پر خود شرکت کا ارادہ ظاہر کیا تھا مگر بعد میں فیصلہ تبدیل کر لیا۔</p>
<p>چین نے بعض امریکی ٹیرف معطل کر دیے ہیں، تاہم سویابین خریدار اب بھی بھاری محصولات کا سامنا کر رہے ہیں۔</p>
<p>بیسنٹ کے مطابق اگر سپریم کورٹ نے ٹرمپ کے خلاف فیصلہ دیا تو یہ ٹیرف فی الحال برقرار رہیں گے، کیونکہ حکومت انہیں نافذ رکھنے کے لیے دیگر قانونی ذرائع اختیار کر سکتی ہے۔</p>
<p>اگرچہ عدالتِ عظمیٰ عموماً دلائل سننے کے بعد فیصلے سنانے میں کئی ماہ لیتی ہے، لیکن ٹرمپ انتظامیہ نے اس مقدمے میں جلد فیصلہ دینے کی درخواست کی ہے۔</p>
<p><strong>اختیارات کی سرحدوں کا امتحان</strong></p>
<p>جج صاحبان اس امر پر غور کریں گے کہ ٹرمپ نے بین الاقوامی ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ (آئی ای ای پی اے) کے تحت تقریباً تمام امریکی تجارتی شراکت داروں پر ٹیرف عائد کر کے اپنے اختیارات کا کس حد تک استعمال کیا۔ یہ قانون صدر کو قومی ہنگامی حالات میں تجارتی معاملات کو منظم کرنے کا اختیار دیتا ہے، تاہم اس میں ”ٹیرف“ کا لفظ واضح طور پر درج نہیں۔</p>
<p>ٹرمپ اس قانون کو اس انداز میں استعمال کرنے والے پہلے صدر ہیں، یہ ان متعدد اقدامات میں سے ایک ہے جن کے ذریعے انہوں نے عہدہ سنبھالنے کے بعد صدارتی اختیارات کی حدود کو جارحانہ انداز میں بڑھانے کی کوشش کی، خواہ وہ امیگریشن پر کریک ڈاؤن ہو، وفاقی اداروں کے سربراہان کی برطرفی یا اندرونِ ملک فوجی تعیناتیاں۔</p>
<p>امریکی آئین کے مطابق ٹیکس اور محصولات عائد کرنے کا اختیار صدر کے بجائے کانگریس کو حاصل ہے۔ تاہم ٹرمپ کی وزارتِ انصاف کا موقف ہے کہ انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ (آئی ای ای پی اے) صدر کو درآمدات کو ”منظم“ کرنے کا اختیار دے کر ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے محصولات لگانے کی اجازت دیتا ہے۔</p>
<p>امریکی کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن ایجنسی کے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، 4 فروری سے 23 ستمبر تک آئی ای ای پی اے کے تحت عائد کردہ ان محصولات سے تقریباً 89 ارب ڈالر جمع ہوئے۔ ٹرمپ نے دیگر قوانین کے تحت بھی کچھ اضافی محصولات عائد کیے ہیں، تاہم وہ اس مقدمے کا حصہ نہیں۔</p>
<p>سپریم کورٹ نے رواں سال ہنگامی بنیادوں پر جاری کیے گئے متعدد فیصلوں میں ٹرمپ کے اقدامات کی توثیق کی ہے۔ ان فیصلوں کے نتیجے میں ماتحت عدالتوں کی جانب سے قانونی حیثیت پر اعتراضات کے باوجود کئی ٹرمپ پالیسیوں کو عارضی طور پر نافذ رہنے کی اجازت ملی۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ عدالت صدر کے اختیارات پر توازن قائم کرنے کے کردار سے گریز کر رہی ہے۔
یہ پہلا موقع ہے کہ عدالتِ عظمیٰ نے رواں سال ٹرمپ کی کسی پالیسی کے قانونی پہلوؤں پر براہِ راست سماعت کی ہے۔ مئی میں عدالت نے ٹرمپ کی پیدائشی شہریت محدود کرنے کی کوشش سے متعلق ایک مقدمے کی سماعت کی تھی، مگر توجہ پالیسی کی قانونی حیثیت پر نہیں بلکہ وفاقی ججوں کے ملک گیر سطح پر کارروائی روکنے کے اختیارات پر مرکوز رہی۔</p>
<p><strong>عالمی تجارتی جنگ</strong></p>
<p>ٹرمپ نے رواں سال جنوری میں دوبارہ صدارت سنبھالتے ہی ایک عالمی تجارتی جنگ چھیڑ دی، جس سے تجارتی شراکت دار ناراض ہوئے، مالیاتی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ بڑھ گیا اور عالمی معیشت میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی۔
انہوں نے آئی ای ای پی اے کا استعمال کرتے ہوئے بعض ممالک سے درآمدی اشیا پر ٹیرف عائد کیے، یہ کہہ کر کہ امریکہ کے تجارتی خسارے قومی ہنگامی صورتحال کی حیثیت رکھتے ہیں۔ فروری میں انہوں نے چین، کینیڈا اور میکسیکو پر اقتصادی دباؤ ڈالنے کے لیے بھی اسی قانون کے تحت اقدامات کیے، تاکہ امریکہ میں منشیات اور درد کم کرنے والی دوا فینٹانل کی اسمگلنگ کو روکا جا سکے۔</p>
<p>ٹرمپ نے ٹیرف کو دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا، تاکہ تجارتی معاہدوں پر نظرِ ثانی کرائی جا سکے یا ان ممالک کو سزا دی جا سکے جنہوں نے غیر تجارتی سیاسی امور پر ان کی مخالفت کی۔ ان میں برازیل میں سابق صدر بولسونارو کے خلاف عدالتی کارروائی، بھارت کی جانب سے روسی تیل کی خریداری (جس سے روس کو یوکرین جنگ میں مدد مل رہی ہے) اور کینیڈا کی اونٹاریو ریاست کی جانب سے ٹرمپ مخالف اشتہاری مہم شامل ہیں۔</p>
<p><strong>’غیر معمولی اور  انتہائی سنگین خطرہ‘</strong></p>
<p>آئی ای ای پی اے صدر کو ایسے ”غیر معمولی اور انتہائی سنگین خطرے“ سے نمٹنے کا اختیار دیتا ہے جو قومی ہنگامی حالت میں درپیش ہو۔ ماضی میں یہ قانون زیادہ تر دشمن ممالک پر پابندیاں عائد کرنے یا ان کے اثاثے منجمد کرنے کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے، نہ کہ ٹیرف عائد کرنے کے لیے۔ اس قانون کی منظوری کے وقت کانگریس نے صدر کے اختیارات کو اس کے سابقہ قانون کے مقابلے میں محدود کیا تھا۔</p>
<p>سپریم کورٹ اس وقت ٹرمپ کے خلاف دو فیصلوں کا جائزہ لے رہی ہے۔ واشنگٹن میں واقع امریکی فیڈرل سرکٹ کورٹ آف اپیلز نے ان چیلنجوں کے حامیوں کا ساتھ دیا جن میں پانچ چھوٹے درآمدی کاروبار اور 12 امریکی ریاستیں شامل ہیں، جن میں ایریزونا، کولوراڈو، کنیکٹی کٹ، ڈیلاویئر، الی نوائے، مین، مینیسوٹا، نیواڈا، نیو میکسیکو، نیویارک، اوریگون اور ورمونٹ شامل ہیں۔ واشنگٹن کی ایک وفاقی عدالت نے ایک خاندانی ملکیت والے کھلونا ساز ادارے لرننگ ریسورسز کے حق میں فیصلہ دیا تھا۔
فیڈرل سرکٹ کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ “یہ امکان کم ہے کہ کانگریس نے آئی ای ای پی اے کی منظوری دیتے وقت اپنی سابقہ پالیسی سے انحراف کرتے ہوئے صدر کو ٹیرف عائد کرنے کے لامحدود اختیارات دینے کا ارادہ کیا ہو۔”</p>
<p>عدالت نے مزید کہا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے اس قانون کی غیر معمولی توسیع پسندانہ تشریح سپریم کورٹ کے “بڑے سوالات کے اصول” ( میجر کوئیسچن ڈاکٹرائن ) کی خلاف ورزی ہے، جو اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ معاشی یا سیاسی طور پر وسیع اثرات رکھنے والے کسی بھی صدارتی اقدام کو کانگریس کی واضح منظوری حاصل ہو۔ یہی اصول سپریم کورٹ نے سابق ڈیموکریٹ صدر جو بائیڈن کی بعض اہم پالیسیوں کو کالعدم قرار دینے کے لیے بھی استعمال کیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278986</guid>
      <pubDate>Wed, 05 Nov 2025 21:02:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/052032218dcd661.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/052032218dcd661.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
