<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:43:51 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:43:51 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آئی ایم ایف بورڈ کی جانب سے پاکستان کے لیے 1.2 ارب ڈالر کی قسط کی منظوری دسمبر کے اوائل تک متوقع ہے ، محمد اورنگزیب</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278982/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ایگزیکٹو بورڈ کی جانب سے پاکستان کے لیے اگلی قسط کی منظوری دسمبر 2025 کے اوائل میں دیے جانے کا امکان ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں فریقین کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ (ایس ایل اے) اکتوبر کے وسط میں واشنگٹن ڈی سی میں طے پایا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب نے  دی فیوچر سمٹ کے نویں ایڈیشن میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف سے دسمبر کے اوائل میں 1.2 ارب ڈالر کی اگلی قسط کی منظوری متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کانفرنس کورس کریکشن : ری ڈیفائننگ دی ڈائریکشن کے عنوان سے بدھ کو منعقد ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اطلاعات کے مطابق آئی ایم ایف بورڈ پاکستان کے لیے 1.2 ارب ڈالر کی تیسری قسط کی منظوری دے گا، جس میں 37 ماہ کے جاری توسیعی فنڈ فسیلٹی (ای ایف ایف) کے تحت 1 ارب ڈالر اور 28 ماہ کے ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلیٹی فسیلٹی (آر ایس ایف) کے تحت 20 کروڑ ڈالر شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ معاہدہ ای ایف ایف کے تحت معیشت کے دوسرے جائزے کی تکمیل کے بعد طے پایا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ نے اپنی تقریر میں اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی) کے تازہ ترین بزنس سروے کے نتائج کا حوالہ بھی دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کام کرنے والی غیر ملکی کمپنیوں کے 73 فیصد سی ای اوز سمجھتے ہیں کہ ملک اس وقت سرمایہ کاری کے لیے موزوں جگہ ہے، جبکہ پچھلے سروے میں یہ شرح 61 فیصد تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ  یہ اعتماد موجودہ سرمایہ کاروں کی طرف سے آیا ہے جو بہت اہم بات ہے۔اگر موجودہ سرمایہ کار مطمئن نہ ہوں تو نئی غیر ملکی سرمایہ کاری کی بات نہیں کی جا سکتی۔ ہمیں ابھی بہت فاصلہ طے کرنا ہے لیکن ہم درست سمت میں بڑھ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان نے چین، امریکہ، جی سی سی ممالک اور خصوصاً سعودی عرب سمیت اپنے روایتی شراکت داروں کی معاونت سے میکرو اکنامک استحکام حاصل کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ان تمام ممالک نے پاکستان کو درکار مالی معاونت فراہم کی، دو طرفہ تعاون بڑھایا اور آئی ایم ایف کے ساتھ 37 ماہ کے ای ایف ایف پروگرام تک پہنچنے میں مدد دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ اب وقت آگیا  کہ ہم اس تعلق کو تجارت اور سرمایہ کاری کے ذریعے مزید مضبوط کریں۔ ہمارے پاس یہ موقع ہے کہ ان تعلقات کو نجی شعبے کی قیادت میں تجارتی و سرمایہ کاری کی ترقی میں تبدیل کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان معدنیات و کان کنی، آئی ٹی، زراعت اور فارماسیوٹیکل کے شعبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب نے بتایا کہ  پاکستان کرپشن، ٹیکس چوری اور لیکیج کو روکنے کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی مانیٹرنگ استعمال کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت چینی اور بینکنگ سیکٹر میں اے آئی سے چلنے والے مانیٹرنگ اور انوائسنگ ماڈلز کے ذریعے سیلز ٹیکس لیکیجز روک رہی ہے۔ اب ہم اس نظام کو تمباکو اور مشروبات کے شعبوں تک بھی بڑھا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ ٹیکس سال 2025 کے دوران پاکستان میں 9 لاکھ (0.9 ملین) نئے ٹیکس دہندگان کا اندراج کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ایگزیکٹو بورڈ کی جانب سے پاکستان کے لیے اگلی قسط کی منظوری دسمبر 2025 کے اوائل میں دیے جانے کا امکان ہے۔</strong></p>
<p>دونوں فریقین کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ (ایس ایل اے) اکتوبر کے وسط میں واشنگٹن ڈی سی میں طے پایا تھا۔</p>
<p>محمد اورنگزیب نے  دی فیوچر سمٹ کے نویں ایڈیشن میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف سے دسمبر کے اوائل میں 1.2 ارب ڈالر کی اگلی قسط کی منظوری متوقع ہے۔</p>
<p>یہ کانفرنس کورس کریکشن : ری ڈیفائننگ دی ڈائریکشن کے عنوان سے بدھ کو منعقد ہوئی۔</p>
<p>اطلاعات کے مطابق آئی ایم ایف بورڈ پاکستان کے لیے 1.2 ارب ڈالر کی تیسری قسط کی منظوری دے گا، جس میں 37 ماہ کے جاری توسیعی فنڈ فسیلٹی (ای ایف ایف) کے تحت 1 ارب ڈالر اور 28 ماہ کے ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلیٹی فسیلٹی (آر ایس ایف) کے تحت 20 کروڑ ڈالر شامل ہیں۔</p>
<p>یہ معاہدہ ای ایف ایف کے تحت معیشت کے دوسرے جائزے کی تکمیل کے بعد طے پایا تھا۔</p>
<p>وزیر خزانہ نے اپنی تقریر میں اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی) کے تازہ ترین بزنس سروے کے نتائج کا حوالہ بھی دیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کام کرنے والی غیر ملکی کمپنیوں کے 73 فیصد سی ای اوز سمجھتے ہیں کہ ملک اس وقت سرمایہ کاری کے لیے موزوں جگہ ہے، جبکہ پچھلے سروے میں یہ شرح 61 فیصد تھی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ  یہ اعتماد موجودہ سرمایہ کاروں کی طرف سے آیا ہے جو بہت اہم بات ہے۔اگر موجودہ سرمایہ کار مطمئن نہ ہوں تو نئی غیر ملکی سرمایہ کاری کی بات نہیں کی جا سکتی۔ ہمیں ابھی بہت فاصلہ طے کرنا ہے لیکن ہم درست سمت میں بڑھ رہے ہیں۔</p>
<p>وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان نے چین، امریکہ، جی سی سی ممالک اور خصوصاً سعودی عرب سمیت اپنے روایتی شراکت داروں کی معاونت سے میکرو اکنامک استحکام حاصل کیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ان تمام ممالک نے پاکستان کو درکار مالی معاونت فراہم کی، دو طرفہ تعاون بڑھایا اور آئی ایم ایف کے ساتھ 37 ماہ کے ای ایف ایف پروگرام تک پہنچنے میں مدد دی۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ اب وقت آگیا  کہ ہم اس تعلق کو تجارت اور سرمایہ کاری کے ذریعے مزید مضبوط کریں۔ ہمارے پاس یہ موقع ہے کہ ان تعلقات کو نجی شعبے کی قیادت میں تجارتی و سرمایہ کاری کی ترقی میں تبدیل کریں۔</p>
<p>انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان معدنیات و کان کنی، آئی ٹی، زراعت اور فارماسیوٹیکل کے شعبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کر رہا ہے۔</p>
<p>محمد اورنگزیب نے بتایا کہ  پاکستان کرپشن، ٹیکس چوری اور لیکیج کو روکنے کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی مانیٹرنگ استعمال کر رہا ہے۔</p>
<p>حکومت چینی اور بینکنگ سیکٹر میں اے آئی سے چلنے والے مانیٹرنگ اور انوائسنگ ماڈلز کے ذریعے سیلز ٹیکس لیکیجز روک رہی ہے۔ اب ہم اس نظام کو تمباکو اور مشروبات کے شعبوں تک بھی بڑھا رہے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ ٹیکس سال 2025 کے دوران پاکستان میں 9 لاکھ (0.9 ملین) نئے ٹیکس دہندگان کا اندراج کیا گیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278982</guid>
      <pubDate>Wed, 05 Nov 2025 18:10:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سلمان صدیقی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/051827583549670.gif" type="image/gif" medium="image">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/051827583549670.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.ytimg.com/vi/_HJvo9Lb29I/maxresdefault.jpg" type="image/jpeg" medium="video" height="480" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.ytimg.com/vi/_HJvo9Lb29I/mqdefault.jpg"/>
        <media:player url="https://www.youtube.com/watch?v=_HJvo9Lb29I"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
