<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:38:36 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:38:36 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چھٹی حس والی قیادت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278980/</link>
      <description>&lt;p&gt;پیچیدگی۔ غیر یقینی۔ ابہام۔ پی اینڈ جی (پروکٹر اینڈ گیمبل) اور پی ایم آئی (فلپ مورس انٹرنیشنل) کا ملک چھوڑنا۔ ایسی خبریں خوف و ہراس کو بڑھاوا دیتی ہیں۔ کمپنیاں اپنی سرمایہ کاری پر دوبارہ غور کر رہی ہیں۔ وہ اپنی حکمتِ عملی پر ازسرِ نو غور کر کے اُن منڈیوں پر توجہ مرکوز کرنے کی کوشش میں ہیں جہاں مستقبل کی کچھ وضاحت نظر آتی ہو۔ یہ وضاحت دراصل ایک عالمی تغیر و انتشار کے پس منظر میں تلاش کی جا رہی ہے۔ تقریباً پچیس برس (2000 سے 2025) گزرنے کے بعد بھی دنیا کسی طور پر مستحکم یا پیش گوئی کے قابل نظر نہیں آتی۔ ماہرِ معیشت اس وقت اپنی ہی وضع کردہ معاشی اتار چڑھاؤ کی تعریف میں الجھے ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اُن کی متوقع ”یو منحنی“ ( یو کروو) ”وی منحنی“ ( وی کروو) میں بدل گئی۔ اب وہ ”سی منحنی“ (سی کروو) کی الجھن میں مبتلا ہیں اور ”کے منحنی“ ( کے کروو) کے امکان پر غور کر رہے ہیں۔ تضادات ہر طرف ہیں۔ مصنوعی ذہانت نے بظاہر تجزیہ کاروں کا کام آسان بنا دیا ہے۔ لیکن ایک لمحہ رکئے، مصنوعی ذہانت نے بہت سے کاموں کو غیر ضروری بھی بنا دیا ہے۔ مشینیں انسان پر حاوی ہونے جا رہی ہیں۔ یہ چند مثالیں ہیں اس دنیا کی جو خود کو مکمل الجھن میں پائی جا رہی ہے۔ ایسے ماحول میں، جہاں کمپنیاں اور ممالک طرح طرح کے بحرانوں سے گزر رہے ہیں، اس بے معنویت میں معنویت کیسے تلاش کی جائے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا کی کاروباری سرگرمیاں جب کسی ”زی منحنی“ (زی کروو) کی مانند اتار چڑھاؤ کا شکار ہیں، پاکستان کی کمپنیاں یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ وہ کس منحنی پر جا رہی ہیں۔ کئی تجزیہ کار طنزیہ طور پر اُس سیدھی لکیر کی بات کرتے ہیں جو دل کی دھڑکن رک جانے پر مانیٹر پر ظاہر ہوتی ہے۔ یہ طنز کچھ حد تک بجا بھی ہے، لیکن یہی وقت قیادت کو آزمانے اور نکھارنے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ اعداد و شمار ایک مایوس کن منظر پیش کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بھی حقیقت ہے کہ کئی دہائیوں پرانی ملٹی نیشنل کمپنیوں کا اپنا بوریا بستر سمیٹنا کسی بھی کارپوریٹ رہنما کی ریڑھ میں سرد لہر دوڑا دیتا ہے۔ یہ سرد لہر مزید پسپائی لائے گی یا نئے حوصلوں کو جنم دے گی، اس کا دارومدار اس بات پر ہے کہ کس کی حس ظاہر سے آگے دیکھنے کے قابل ہے۔ کسی بھی کمپنی کی بحالی کی کہانی زمینی حقائق کے تابع نہیں رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کوئی بھی نئی ایجاد محض موجودہ حالات کا تسلسل نہیں ہوتی۔ کوئی بھی پائیدار پیش رفت کسی حکومتی رعایت یا طاقتور طبقوں کی مہربانی کا نتیجہ نہیں ہوتی۔ بلکہ یہ روایت، معمول اور روایتی سوچ سے انحراف کا نتیجہ ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پھر سوال یہ اٹھتا ہے کہ کچھ کمپنیاں کیوں ابھرتی ہیں اور کچھ کیوں ڈوب جاتی ہیں؟ جواب ہے، وہ قیادت جو عروج و زوال سے آگے دیکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہی کہلاتی ہے چھٹی حس رکھنے والی قیادت۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرا ایک نابینا شخص کا تصور کیجیے۔ اُس کی دنیا اندھیرے میں ڈوبی ہوتی ہے۔ وہ اپنی تمام حسیات کو بروئے کار لا کر ایک چھٹی حس پیدا کرتا ہے، جس کے ذریعے وہ دیکھنے کے قابل ہو جاتا ہے، حالانکہ وہ آنکھوں سے نہیں دیکھ سکتا۔ یہی وصف رہنماؤں میں پیدا ہونا چاہیے۔ کیا نابینا شخص چھٹی حس کے ساتھ پیدا ہوتا ہے؟ نہیں۔ وہ اسے اندھیرے میں راستہ تلاش کرنے کے لیے خود پیدا کرتا ہے۔ اسی طرح رہنماؤں کو بھی اپنی چھٹی حس خود پیدا کرنی ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حس نمبر 1، آگے دیکھنے کی حس: نابینا وہ نہیں جو دیکھ نہیں سکتا، بلکہ وہ ہے جو دیکھتے ہوئے بھی نہیں دیکھ پاتا۔ وہ لوگ جن کے پاس آنکھیں تو ہیں مگر بصیرت نہیں، دراصل وہی اندھے ہیں۔ بصیرت وہ روشنی ہے جو صرف اُنہیں دکھائی دیتی ہے جو فوری منظر سے آگے، موجود حالات سے آگے، رجحانات سے آگے اور اندھیرے سے آگے دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تمام کامیاب رہنما وہی ہیں جو مختلف زاویے سے دیکھنے اور سوچنے کے اہل ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جنگِ عظیم کے بعد عظیم معاشی بحران (گریٹ ڈپریشن) نے امریکی معیشت کو تباہ کر دیا تھا۔ اُس وقت والٹ ڈزنی نے ایک تفریحی کمپنی قائم کی، جب تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ لوگوں کے پاس تفریح پر خرچ کرنے کے لیے پیسہ نہیں۔ مگر اُس نے بحران سے آگے دیکھا، اُس نے سمجھا کہ لوگ خوشی اور مسکراہٹ کے متلاشی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوں کارٹون سنیما کی بنیاد پڑی۔ یہ چھٹی حس کیسے پیدا کی جا سکتی ہے؟
منڈی سے جڑ کر۔ لوگوں کی زندگیوں میں گھوم پھر کر۔ اُن کے رویے کو دیکھ کر۔
والٹ ڈزنی نے لوگوں کی محرومی دیکھی اور تصور کیا کہ اُن کے چہروں پر مسکراہٹ کیسے لائی جا سکتی ہے۔ لوگوں میں رہ کر، اُن کے درمیان چل کر، اور اپنے اندر غور و فکر کر کے اُس نے ایک ایسی منڈی میں رہنمائی اور جدت کا آغاز کیا جسے سب ترک کر چکے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حس نمبر 2، فضا کو سونگھنے کی حس: فضا کو سونگھنے والی چھٹی حس دراصل اُن باتوں کو پڑھنے سے پیدا ہوتی ہے جو کہی نہیں جاتیں۔ ایک رہنما کو منڈیوں، کمپنیوں اور معاشرتی رویّوں کی حرکیات کا گہرا مطالعہ کرنا ہوتا ہے۔ وہ کسی جگہ یا لوگوں کے مزاج، اُن کے رویّے اور باہمی برتاؤ سے اُس ماحول کی کیفیت محسوس کر لیتا ہے۔ لوگوں کے ردِعمل اور تعلقات کے انداز سے وہ ناامیدی اور مایوسی کی بو سونگھ لیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ لوگوں کے چلنے اور بولنے کے انداز سے توانائی محسوس کر لیتا ہے۔
وہ معلومات چھپانے یا ظاہر کرنے کے انداز سے فریب کی بو سونگھ لیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ لوگوں کے نرم یا جارحانہ رویّے سے کسی ممکنہ تصادم کی آہٹ پا لیتا ہے۔ یہ حس رہنما کو آنے والے حالات کا وجدان عطا کرتی ہے۔ اکثر میٹنگز میں فضا میں تناؤ محسوس ہوتا ہے۔ اکثر لوگوں کی جسمانی زبان اُن کے الفاظ سے زیادہ بولتی ہے۔ ایک باخبر اور ہم آہنگ رہنما ایسے اشاروں کو بھانپ کر پیشگی حکمتِ عملی تیار کر لیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حس نمبر 3، کڑوا میٹھا چکھنے کی حس: جب رہنما خود وہی دوا چکھتا ہے جو دوسروں کو دینی ہو، تو لوگ کڑوا اور میٹھا دونوں قبول کر لیتے ہیں۔ رہنما کو یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ اُس کی ٹیم کے لیے کیا قابلِ برداشت ہے اور کیا درد پیدا کر رہا ہے۔ جب وہ ہمدردی کے قالب میں ڈھلتا ہے تو وہ ایک ایموشنل پریکٹیشنر (جذباتی معالج) بن جاتا ہے، صرف ایک جنرل پریکٹیشنر (عام معالج) نہیں رہتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک حالیہ مثال مصنوعی ذہانت (اے آئی ) کا خطرہ ہے۔ مائیکروسافٹ، جو ایک دیو ہیکل ادارہ ہے، تھکن کے دور سے گزر رہا تھا۔ سی ای او ستیا نڈیلا نے محسوس کیا کہ مصنوعی ذہانت کے بارے میں غیر یقینی صورتحال نے ملازمین کی ترقی کی خواہش کو ختم کر دیا ہے۔ تب اُنہوں نے مائیکروسافٹ کا وژن ازسرِنو ترتیب دیا — “مصنوعی ذہانت انسان کی شریکِ کار ہے، متبادل نہیں۔”
یہ وہ دوا تھی جس نے غیر یقینی اور خوف کے درد کو کم کیا اور مائیکروسافٹ کو نئی توانائی دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حس نمبر 4، اَن چھوئے کو چھونے کی حس: چھٹی حس رکھنے والا رہنما جانتا ہے کہ بورڈ روم کی پریزنٹیشنز کافی نہیں ہوتیں۔ وہ درجہ بہ درجہ نیچے جا کر اُن لوگوں سے ملتا ہے جن سے عام طور پر کوئی پوچھتا تک نہیں۔ کووِڈ کے دوران یونی لیور پاکستان کے سی ای او عامر پراچہ نے ادارے کا وژن بدل کر ”یونی لیور ان پاکستان“ سے ”یونی لیور فار پاکستان“ کر دیا۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ سب سے نچلے درجے کے ملازمین کو سب سے پہلے تحفظ دیا جائے گا۔ کم از کم اجرت سے کہیں زیادہ منصفانہ اجرت مقرر کی گئی تاکہ وہ بحران میں اپنے گھر چلا سکیں۔ اس اقدام نے نہ صرف حوصلہ بڑھایا بلکہ کمپنی کی آمدن کو بھی ریکارڈ سطح پر پہنچا دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حس نمبر 5، اَن سنی آوازیں سننے کی حس: ایسے رہنما اپنی سب سے بڑی تبدیلی یہ لاتے ہیں کہ وہ اپنے کان کھلے رکھتے ہیں۔ وہ خاموشی اختیار کرتے ہیں تاکہ دوسروں کی آوازوں کو سمجھ سکیں — گاہکوں کی آوازیں، رکاوٹ ڈالنے والوں کی آوازیں، سہولت دینے والوں کی آوازیں۔
یہ سب آوازیں مل کر اُن کے ذہن میں نئے خاکے اور نئے تصورات بناتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک بہترین مثال نیوزی لینڈ کی وزیرِاعظم جیسنڈا آرڈرن کی ہے۔ 2019 میں مسجد حملے کے بعد وہ غمزدہ خاندانوں کے پاس گئیں، کچھ بولنے نہیں، صرف ہمدردی اور محبت سے سننے کے لیے۔ اس رویّے نے معاشرے میں ایسا رشتہ قائم کیا جس نے تصادم اور تشدد کے امکانات کو امن و یکجہتی میں بدل دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قیادت دراصل ایک نئے راستے کا تعین ہے، ایسا راستہ جو زیادہ تر لوگ دیکھ نہیں پاتے۔
یہی دیکھنے، سننے، محسوس کرنے اور چھو لینے کی گہری صلاحیت چھٹی حس رکھنے والی قیادت کو جنم دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پیچیدگی۔ غیر یقینی۔ ابہام۔ پی اینڈ جی (پروکٹر اینڈ گیمبل) اور پی ایم آئی (فلپ مورس انٹرنیشنل) کا ملک چھوڑنا۔ ایسی خبریں خوف و ہراس کو بڑھاوا دیتی ہیں۔ کمپنیاں اپنی سرمایہ کاری پر دوبارہ غور کر رہی ہیں۔ وہ اپنی حکمتِ عملی پر ازسرِ نو غور کر کے اُن منڈیوں پر توجہ مرکوز کرنے کی کوشش میں ہیں جہاں مستقبل کی کچھ وضاحت نظر آتی ہو۔ یہ وضاحت دراصل ایک عالمی تغیر و انتشار کے پس منظر میں تلاش کی جا رہی ہے۔ تقریباً پچیس برس (2000 سے 2025) گزرنے کے بعد بھی دنیا کسی طور پر مستحکم یا پیش گوئی کے قابل نظر نہیں آتی۔ ماہرِ معیشت اس وقت اپنی ہی وضع کردہ معاشی اتار چڑھاؤ کی تعریف میں الجھے ہوئے ہیں۔</p>
<p>اُن کی متوقع ”یو منحنی“ ( یو کروو) ”وی منحنی“ ( وی کروو) میں بدل گئی۔ اب وہ ”سی منحنی“ (سی کروو) کی الجھن میں مبتلا ہیں اور ”کے منحنی“ ( کے کروو) کے امکان پر غور کر رہے ہیں۔ تضادات ہر طرف ہیں۔ مصنوعی ذہانت نے بظاہر تجزیہ کاروں کا کام آسان بنا دیا ہے۔ لیکن ایک لمحہ رکئے، مصنوعی ذہانت نے بہت سے کاموں کو غیر ضروری بھی بنا دیا ہے۔ مشینیں انسان پر حاوی ہونے جا رہی ہیں۔ یہ چند مثالیں ہیں اس دنیا کی جو خود کو مکمل الجھن میں پائی جا رہی ہے۔ ایسے ماحول میں، جہاں کمپنیاں اور ممالک طرح طرح کے بحرانوں سے گزر رہے ہیں، اس بے معنویت میں معنویت کیسے تلاش کی جائے؟</p>
<p>دنیا کی کاروباری سرگرمیاں جب کسی ”زی منحنی“ (زی کروو) کی مانند اتار چڑھاؤ کا شکار ہیں، پاکستان کی کمپنیاں یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ وہ کس منحنی پر جا رہی ہیں۔ کئی تجزیہ کار طنزیہ طور پر اُس سیدھی لکیر کی بات کرتے ہیں جو دل کی دھڑکن رک جانے پر مانیٹر پر ظاہر ہوتی ہے۔ یہ طنز کچھ حد تک بجا بھی ہے، لیکن یہی وقت قیادت کو آزمانے اور نکھارنے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ اعداد و شمار ایک مایوس کن منظر پیش کرتے ہیں۔</p>
<p>یہ بھی حقیقت ہے کہ کئی دہائیوں پرانی ملٹی نیشنل کمپنیوں کا اپنا بوریا بستر سمیٹنا کسی بھی کارپوریٹ رہنما کی ریڑھ میں سرد لہر دوڑا دیتا ہے۔ یہ سرد لہر مزید پسپائی لائے گی یا نئے حوصلوں کو جنم دے گی، اس کا دارومدار اس بات پر ہے کہ کس کی حس ظاہر سے آگے دیکھنے کے قابل ہے۔ کسی بھی کمپنی کی بحالی کی کہانی زمینی حقائق کے تابع نہیں رہی۔</p>
<p>کوئی بھی نئی ایجاد محض موجودہ حالات کا تسلسل نہیں ہوتی۔ کوئی بھی پائیدار پیش رفت کسی حکومتی رعایت یا طاقتور طبقوں کی مہربانی کا نتیجہ نہیں ہوتی۔ بلکہ یہ روایت، معمول اور روایتی سوچ سے انحراف کا نتیجہ ہوتی ہے۔</p>
<p>پھر سوال یہ اٹھتا ہے کہ کچھ کمپنیاں کیوں ابھرتی ہیں اور کچھ کیوں ڈوب جاتی ہیں؟ جواب ہے، وہ قیادت جو عروج و زوال سے آگے دیکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہی کہلاتی ہے چھٹی حس رکھنے والی قیادت۔</p>
<p>ذرا ایک نابینا شخص کا تصور کیجیے۔ اُس کی دنیا اندھیرے میں ڈوبی ہوتی ہے۔ وہ اپنی تمام حسیات کو بروئے کار لا کر ایک چھٹی حس پیدا کرتا ہے، جس کے ذریعے وہ دیکھنے کے قابل ہو جاتا ہے، حالانکہ وہ آنکھوں سے نہیں دیکھ سکتا۔ یہی وصف رہنماؤں میں پیدا ہونا چاہیے۔ کیا نابینا شخص چھٹی حس کے ساتھ پیدا ہوتا ہے؟ نہیں۔ وہ اسے اندھیرے میں راستہ تلاش کرنے کے لیے خود پیدا کرتا ہے۔ اسی طرح رہنماؤں کو بھی اپنی چھٹی حس خود پیدا کرنی ہوتی ہے۔</p>
<p>حس نمبر 1، آگے دیکھنے کی حس: نابینا وہ نہیں جو دیکھ نہیں سکتا، بلکہ وہ ہے جو دیکھتے ہوئے بھی نہیں دیکھ پاتا۔ وہ لوگ جن کے پاس آنکھیں تو ہیں مگر بصیرت نہیں، دراصل وہی اندھے ہیں۔ بصیرت وہ روشنی ہے جو صرف اُنہیں دکھائی دیتی ہے جو فوری منظر سے آگے، موجود حالات سے آگے، رجحانات سے آگے اور اندھیرے سے آگے دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تمام کامیاب رہنما وہی ہیں جو مختلف زاویے سے دیکھنے اور سوچنے کے اہل ہوتے ہیں۔</p>
<p>دوسری جنگِ عظیم کے بعد عظیم معاشی بحران (گریٹ ڈپریشن) نے امریکی معیشت کو تباہ کر دیا تھا۔ اُس وقت والٹ ڈزنی نے ایک تفریحی کمپنی قائم کی، جب تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ لوگوں کے پاس تفریح پر خرچ کرنے کے لیے پیسہ نہیں۔ مگر اُس نے بحران سے آگے دیکھا، اُس نے سمجھا کہ لوگ خوشی اور مسکراہٹ کے متلاشی ہیں۔</p>
<p>یوں کارٹون سنیما کی بنیاد پڑی۔ یہ چھٹی حس کیسے پیدا کی جا سکتی ہے؟
منڈی سے جڑ کر۔ لوگوں کی زندگیوں میں گھوم پھر کر۔ اُن کے رویے کو دیکھ کر۔
والٹ ڈزنی نے لوگوں کی محرومی دیکھی اور تصور کیا کہ اُن کے چہروں پر مسکراہٹ کیسے لائی جا سکتی ہے۔ لوگوں میں رہ کر، اُن کے درمیان چل کر، اور اپنے اندر غور و فکر کر کے اُس نے ایک ایسی منڈی میں رہنمائی اور جدت کا آغاز کیا جسے سب ترک کر چکے تھے۔</p>
<p>حس نمبر 2، فضا کو سونگھنے کی حس: فضا کو سونگھنے والی چھٹی حس دراصل اُن باتوں کو پڑھنے سے پیدا ہوتی ہے جو کہی نہیں جاتیں۔ ایک رہنما کو منڈیوں، کمپنیوں اور معاشرتی رویّوں کی حرکیات کا گہرا مطالعہ کرنا ہوتا ہے۔ وہ کسی جگہ یا لوگوں کے مزاج، اُن کے رویّے اور باہمی برتاؤ سے اُس ماحول کی کیفیت محسوس کر لیتا ہے۔ لوگوں کے ردِعمل اور تعلقات کے انداز سے وہ ناامیدی اور مایوسی کی بو سونگھ لیتا ہے۔</p>
<p>وہ لوگوں کے چلنے اور بولنے کے انداز سے توانائی محسوس کر لیتا ہے۔
وہ معلومات چھپانے یا ظاہر کرنے کے انداز سے فریب کی بو سونگھ لیتا ہے۔</p>
<p>وہ لوگوں کے نرم یا جارحانہ رویّے سے کسی ممکنہ تصادم کی آہٹ پا لیتا ہے۔ یہ حس رہنما کو آنے والے حالات کا وجدان عطا کرتی ہے۔ اکثر میٹنگز میں فضا میں تناؤ محسوس ہوتا ہے۔ اکثر لوگوں کی جسمانی زبان اُن کے الفاظ سے زیادہ بولتی ہے۔ ایک باخبر اور ہم آہنگ رہنما ایسے اشاروں کو بھانپ کر پیشگی حکمتِ عملی تیار کر لیتا ہے۔</p>
<p>حس نمبر 3، کڑوا میٹھا چکھنے کی حس: جب رہنما خود وہی دوا چکھتا ہے جو دوسروں کو دینی ہو، تو لوگ کڑوا اور میٹھا دونوں قبول کر لیتے ہیں۔ رہنما کو یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ اُس کی ٹیم کے لیے کیا قابلِ برداشت ہے اور کیا درد پیدا کر رہا ہے۔ جب وہ ہمدردی کے قالب میں ڈھلتا ہے تو وہ ایک ایموشنل پریکٹیشنر (جذباتی معالج) بن جاتا ہے، صرف ایک جنرل پریکٹیشنر (عام معالج) نہیں رہتا۔</p>
<p>ایک حالیہ مثال مصنوعی ذہانت (اے آئی ) کا خطرہ ہے۔ مائیکروسافٹ، جو ایک دیو ہیکل ادارہ ہے، تھکن کے دور سے گزر رہا تھا۔ سی ای او ستیا نڈیلا نے محسوس کیا کہ مصنوعی ذہانت کے بارے میں غیر یقینی صورتحال نے ملازمین کی ترقی کی خواہش کو ختم کر دیا ہے۔ تب اُنہوں نے مائیکروسافٹ کا وژن ازسرِنو ترتیب دیا — “مصنوعی ذہانت انسان کی شریکِ کار ہے، متبادل نہیں۔”
یہ وہ دوا تھی جس نے غیر یقینی اور خوف کے درد کو کم کیا اور مائیکروسافٹ کو نئی توانائی دی۔</p>
<p>حس نمبر 4، اَن چھوئے کو چھونے کی حس: چھٹی حس رکھنے والا رہنما جانتا ہے کہ بورڈ روم کی پریزنٹیشنز کافی نہیں ہوتیں۔ وہ درجہ بہ درجہ نیچے جا کر اُن لوگوں سے ملتا ہے جن سے عام طور پر کوئی پوچھتا تک نہیں۔ کووِڈ کے دوران یونی لیور پاکستان کے سی ای او عامر پراچہ نے ادارے کا وژن بدل کر ”یونی لیور ان پاکستان“ سے ”یونی لیور فار پاکستان“ کر دیا۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ سب سے نچلے درجے کے ملازمین کو سب سے پہلے تحفظ دیا جائے گا۔ کم از کم اجرت سے کہیں زیادہ منصفانہ اجرت مقرر کی گئی تاکہ وہ بحران میں اپنے گھر چلا سکیں۔ اس اقدام نے نہ صرف حوصلہ بڑھایا بلکہ کمپنی کی آمدن کو بھی ریکارڈ سطح پر پہنچا دیا۔</p>
<p>حس نمبر 5، اَن سنی آوازیں سننے کی حس: ایسے رہنما اپنی سب سے بڑی تبدیلی یہ لاتے ہیں کہ وہ اپنے کان کھلے رکھتے ہیں۔ وہ خاموشی اختیار کرتے ہیں تاکہ دوسروں کی آوازوں کو سمجھ سکیں — گاہکوں کی آوازیں، رکاوٹ ڈالنے والوں کی آوازیں، سہولت دینے والوں کی آوازیں۔
یہ سب آوازیں مل کر اُن کے ذہن میں نئے خاکے اور نئے تصورات بناتی ہیں۔</p>
<p>ایک بہترین مثال نیوزی لینڈ کی وزیرِاعظم جیسنڈا آرڈرن کی ہے۔ 2019 میں مسجد حملے کے بعد وہ غمزدہ خاندانوں کے پاس گئیں، کچھ بولنے نہیں، صرف ہمدردی اور محبت سے سننے کے لیے۔ اس رویّے نے معاشرے میں ایسا رشتہ قائم کیا جس نے تصادم اور تشدد کے امکانات کو امن و یکجہتی میں بدل دیا۔</p>
<p>قیادت دراصل ایک نئے راستے کا تعین ہے، ایسا راستہ جو زیادہ تر لوگ دیکھ نہیں پاتے۔
یہی دیکھنے، سننے، محسوس کرنے اور چھو لینے کی گہری صلاحیت چھٹی حس رکھنے والی قیادت کو جنم دیتی ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278980</guid>
      <pubDate>Wed, 05 Nov 2025 17:24:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عندلیب عباس)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/051701126927518.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/051701126927518.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
