<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 21:30:52 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 21:30:52 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چینی اور گندم کے شعبوں میں ڈی ریگولیشن کی جانب بڑھ رہے ہیں، وزیر خزانہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278975/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت چینی اور گندم کے شعبوں میں ڈی ریگولیشن کی جانب بڑھ رہی ہے اور اس عمل میں پوری ویلیو چین سے حکومت کا انخلا لازمی ہے۔ یہ بات انہوں نے فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے اراکین سے خطاب کے دوران کہی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ خزانہ نے بتایا کہ ٹیکس پالیسی کی تیاری کو فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) سے الگ کرکے وزارتِ خزانہ کو منتقل کر دیا گیا ہے، آئندہ مالی سال کا بجٹ  ایف بی آر نہیں بلکہ ٹیکس پالیسی آفس تیار کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس اقدام سے کاروباری برادری کی پالیسی میں تضاد کے حوالے سے دیرینہ شکایات دور ہوں گی، ٹیکس اصلاحات کاروباری برادری سے مشاورت کے ساتھ عمل میں لائی جارہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت برآمدات کی قیادت والے معاشی نمو حاصل کرنے کی نیت رکھتی ہے جس کے لیے ہر شعبے کو برآمدات کرنی ہوں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے واضح کیا کہ چاہے یہ 2 فیصد ہو، 5 فیصد ہو یا 10 فیصد، شعبوں کو برآمدات کرنا ہوں گی تاکہ وہ مسابقتی قرار پائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت پائیدار ترقی کے حصول کے لیے پرعزم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ اعظم شہباز شریف کی ہدایت پر حال ہی میں پاکستان کی صنعتوں اور برآمدات کے چیلنجز کے حل کے لیے آٹھ نئے ورکنگ گروپس قائم کیے گئے ہیں، جن میں صنعتوں کے نمائندے، حکومتی افسران اور اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلی ٹیشن کونسل کے اراکین شامل ہیں۔ محمد اورنگزیب نے کہا کہ چیمبرز کی نمائندگی بھی ان مشاورتی گروپس میں شامل ہونی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید بتایا کہ برآمدات بڑھانے کے لیے صنعتی خام مال اور درمیانی اجزاء پر محصولات میں کمی کی جائے گی، جبکہ ٹیکسٹائل شعبہ برآمدات کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور آئی ٹی و فارماسیوٹیکل شعبوں نے حالیہ عرصے میں نمایاں ترقی دکھائی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ خزانہ نے کہا کہ وفاقی قابلِ تقسیم وسائل میں صوبوں کے حصص پر نظرثانی آئندہ نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) کے اجلاس میں ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریکوڈک منصوبے کے بارے میں محمد اورنگزیب نے کہا آپریشن 2028 میں شروع ہونے کی توقع ہے، جس میں ملک کی پہلی برآمدات کی مالیت تقریباً 2.8 ارب ڈالر ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ریکوڈک ملک کی معیشت کے لیے ایک سنگِ میل ثابت ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ خزانہ نے کہا کہ مجموعی معاشی استحکام اور جغرافیائی سیاسی سہولیات نے پاکستان کے لیے معاشی نمو کو تیز کرنے اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کا بہترین موقع پیدا کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت چینی اور گندم کے شعبوں میں ڈی ریگولیشن کی جانب بڑھ رہی ہے اور اس عمل میں پوری ویلیو چین سے حکومت کا انخلا لازمی ہے۔ یہ بات انہوں نے فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے اراکین سے خطاب کے دوران کہی۔</strong></p>
<p>وزیرِ خزانہ نے بتایا کہ ٹیکس پالیسی کی تیاری کو فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) سے الگ کرکے وزارتِ خزانہ کو منتقل کر دیا گیا ہے، آئندہ مالی سال کا بجٹ  ایف بی آر نہیں بلکہ ٹیکس پالیسی آفس تیار کرے گا۔</p>
<p>اس اقدام سے کاروباری برادری کی پالیسی میں تضاد کے حوالے سے دیرینہ شکایات دور ہوں گی، ٹیکس اصلاحات کاروباری برادری سے مشاورت کے ساتھ عمل میں لائی جارہی ہیں۔</p>
<p>محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت برآمدات کی قیادت والے معاشی نمو حاصل کرنے کی نیت رکھتی ہے جس کے لیے ہر شعبے کو برآمدات کرنی ہوں گی۔</p>
<p>انہوں نے واضح کیا کہ چاہے یہ 2 فیصد ہو، 5 فیصد ہو یا 10 فیصد، شعبوں کو برآمدات کرنا ہوں گی تاکہ وہ مسابقتی قرار پائیں۔</p>
<p>وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت پائیدار ترقی کے حصول کے لیے پرعزم ہے۔</p>
<p>وزیرِ اعظم شہباز شریف کی ہدایت پر حال ہی میں پاکستان کی صنعتوں اور برآمدات کے چیلنجز کے حل کے لیے آٹھ نئے ورکنگ گروپس قائم کیے گئے ہیں، جن میں صنعتوں کے نمائندے، حکومتی افسران اور اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلی ٹیشن کونسل کے اراکین شامل ہیں۔ محمد اورنگزیب نے کہا کہ چیمبرز کی نمائندگی بھی ان مشاورتی گروپس میں شامل ہونی چاہیے۔</p>
<p>انہوں نے مزید بتایا کہ برآمدات بڑھانے کے لیے صنعتی خام مال اور درمیانی اجزاء پر محصولات میں کمی کی جائے گی، جبکہ ٹیکسٹائل شعبہ برآمدات کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور آئی ٹی و فارماسیوٹیکل شعبوں نے حالیہ عرصے میں نمایاں ترقی دکھائی ہے۔</p>
<p>وزیرِ خزانہ نے کہا کہ وفاقی قابلِ تقسیم وسائل میں صوبوں کے حصص پر نظرثانی آئندہ نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) کے اجلاس میں ہوگی۔</p>
<p>ریکوڈک منصوبے کے بارے میں محمد اورنگزیب نے کہا آپریشن 2028 میں شروع ہونے کی توقع ہے، جس میں ملک کی پہلی برآمدات کی مالیت تقریباً 2.8 ارب ڈالر ہوگی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ریکوڈک ملک کی معیشت کے لیے ایک سنگِ میل ثابت ہوگا۔</p>
<p>وزیرِ خزانہ نے کہا کہ مجموعی معاشی استحکام اور جغرافیائی سیاسی سہولیات نے پاکستان کے لیے معاشی نمو کو تیز کرنے اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کا بہترین موقع پیدا کر دیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278975</guid>
      <pubDate>Wed, 05 Nov 2025 15:07:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.ytimg.com/vi/BE1mnCiutAM/maxresdefault.jpg" type="image/jpeg" medium="video" height="480" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.ytimg.com/vi/BE1mnCiutAM/mqdefault.jpg"/>
        <media:player url="https://www.youtube.com/watch?v=BE1mnCiutAM"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
