<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 17:34:22 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 17:34:22 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ورجینیا اور نیو جرسی کے گورنر کے انتخابات میں ڈیموکریٹس کی فتح</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278961/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ڈیموکریٹس نے منگل کے روز نیو جرسی اور ورجینیا میں گورنر کے انتخابات جیت لیے، جبکہ نیویارک سٹی میں 34 سالہ ظہران ممدانی میئر منتخب ہوئے۔ دوسری جانب کیلیفورنیا کے ووٹروں نے انتخابی حلقوں کی نئی حدبندی کی تجویز منظور کرلی، جو آئندہ وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کو فائدہ پہنچائے گی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیو جرسی میں ڈیموکریٹک امیدوار اور امریکی کانگریس کی رکن مائیکی شیریل نے ریپبلکن امیدوار جیک شیاتاریلی کو شکست دی۔مائیکی شیریل جو فوجی پس منظر رکھتی ہیں، نے مہنگائی اور زندگی کے بڑھتے اخراجات جیسے عوامی مسائل پر توجہ مرکوز رکھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ورجینیا میں سابق ڈیموکریٹک کانگریس رکن ابیگیل اسپین برگر ریاست کی پہلی خاتون گورنر منتخب ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ وفاقی ملازمین کے حقوق کے تحفظ اور رہائش و صحت کے اخراجات میں کمی کو اپنی اولین ترجیح بنائیں گی۔ ان کی مخالف ریپبلکن امیدوار ونسوم ارل سیئرز نے انتخابی مہم میں قدامت پسند ووٹروں کو متحرک کرنے کی کوشش کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیو یارک سٹی میں ظہران ممدانی نے سابق گورنر اینڈریو کومو کو شکست دی، جو آزاد امیدوار کے طور پر میدان میں اترے تھے۔ ظہران ممدانی جو خود کو ڈیموکریٹک سوشلسٹ کہتے ہیں، نے اپنی مہم میں ترقی پسند نظریات کو اجاگر کیا، جبکہ اینڈریو کومو نے اپنے تجربے کو بنیاد بنا کر ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کی۔ ظہران ممدانی کے انتخاب کے ساتھ وہ نیویارک کے پہلے مسلم میئر بن گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیلیفورنیا میں بیلٹ کے ذریعے منظور کی گئی ریڈسٹرکٹنگ تجویز کے تحت انتخابی نقشہ اس طرح بدلا جائے گا کہ پانچ ریپبلکن نشستیں ختم ہو جائیں گی۔ گورنر گیون نیوزم اور ریاستی اسمبلی نے اس اقدام کی حمایت کی، جو صدر ٹرمپ کے ٹیکساس میں ریپبلکن امیدواروں کے حق میں حلقہ بندیوں کی ازسرِنو تقسیم کے جواب میں کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فی الحال امریکی ایوانِ نمائندگان میں ریپبلکنز کو 219 نشستوں کے ساتھ معمولی برتری حاصل ہے، جبکہ ڈیموکریٹس کے پاس 213 نشستیں ہیں۔ نئی حلقہ بندیاں مستقبل کے وسط مدتی انتخابات میں سیاسی توازن بدلنے کا سبب بن سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ڈیموکریٹس نے منگل کے روز نیو جرسی اور ورجینیا میں گورنر کے انتخابات جیت لیے، جبکہ نیویارک سٹی میں 34 سالہ ظہران ممدانی میئر منتخب ہوئے۔ دوسری جانب کیلیفورنیا کے ووٹروں نے انتخابی حلقوں کی نئی حدبندی کی تجویز منظور کرلی، جو آئندہ وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کو فائدہ پہنچائے گی۔</strong></p>
<p>نیو جرسی میں ڈیموکریٹک امیدوار اور امریکی کانگریس کی رکن مائیکی شیریل نے ریپبلکن امیدوار جیک شیاتاریلی کو شکست دی۔مائیکی شیریل جو فوجی پس منظر رکھتی ہیں، نے مہنگائی اور زندگی کے بڑھتے اخراجات جیسے عوامی مسائل پر توجہ مرکوز رکھی۔</p>
<p>ورجینیا میں سابق ڈیموکریٹک کانگریس رکن ابیگیل اسپین برگر ریاست کی پہلی خاتون گورنر منتخب ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ وفاقی ملازمین کے حقوق کے تحفظ اور رہائش و صحت کے اخراجات میں کمی کو اپنی اولین ترجیح بنائیں گی۔ ان کی مخالف ریپبلکن امیدوار ونسوم ارل سیئرز نے انتخابی مہم میں قدامت پسند ووٹروں کو متحرک کرنے کی کوشش کی۔</p>
<p>نیو یارک سٹی میں ظہران ممدانی نے سابق گورنر اینڈریو کومو کو شکست دی، جو آزاد امیدوار کے طور پر میدان میں اترے تھے۔ ظہران ممدانی جو خود کو ڈیموکریٹک سوشلسٹ کہتے ہیں، نے اپنی مہم میں ترقی پسند نظریات کو اجاگر کیا، جبکہ اینڈریو کومو نے اپنے تجربے کو بنیاد بنا کر ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کی۔ ظہران ممدانی کے انتخاب کے ساتھ وہ نیویارک کے پہلے مسلم میئر بن گئے ہیں۔</p>
<p>کیلیفورنیا میں بیلٹ کے ذریعے منظور کی گئی ریڈسٹرکٹنگ تجویز کے تحت انتخابی نقشہ اس طرح بدلا جائے گا کہ پانچ ریپبلکن نشستیں ختم ہو جائیں گی۔ گورنر گیون نیوزم اور ریاستی اسمبلی نے اس اقدام کی حمایت کی، جو صدر ٹرمپ کے ٹیکساس میں ریپبلکن امیدواروں کے حق میں حلقہ بندیوں کی ازسرِنو تقسیم کے جواب میں کیا گیا۔</p>
<p>فی الحال امریکی ایوانِ نمائندگان میں ریپبلکنز کو 219 نشستوں کے ساتھ معمولی برتری حاصل ہے، جبکہ ڈیموکریٹس کے پاس 213 نشستیں ہیں۔ نئی حلقہ بندیاں مستقبل کے وسط مدتی انتخابات میں سیاسی توازن بدلنے کا سبب بن سکتی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278961</guid>
      <pubDate>Wed, 05 Nov 2025 12:12:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/05120928f9a67e8.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/05120928f9a67e8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
