<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 15:11:06 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 15:11:06 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد ڈیموکریٹس کی پہلی بڑی انتخابی فتح</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278958/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکا میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد ہونے والے پہلے بڑے انتخابات میں ڈیموکریٹس نے منگل کے روز تینوں اہم ریاستوں میں کامیابی حاصل کر لی، جس سے مشکلات میں گھری اس جماعت کو آئندہ سال کے وسط مدتی انتخابات سے قبل نئی توانائی ملی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیویارک سٹی میں 34 سالہ ڈیموکریٹک سوشلسٹ ظہران ممدانی نے میئر کا انتخاب جیت کر ایک غیر معمولی اور تیز رفتار سیاسی عروج کو پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔ وہ ایک نسبتاً غیر معروف ریاستی قانون ساز سے اب ملک کے نمایاں ڈیموکریٹک رہنماؤں میں شمار ہونے لگے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ورجینیا اور نیو جرسی میں بھی ڈیموکریٹس ایبیگیل اسپینبرگر اور میکی شیریل نے بالترتیب گورنر کے انتخابات واضح برتری سے جیت لیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کے انتخابات اس بات کا پیمانہ قرار دیے جا رہے ہیں کہ امریکی عوام ٹرمپ کے نو ماہ کے متنازعہ دور صدارت پر کس طرح ردعمل دے رہے ہیں۔ ان انتخابات نے یہ بھی ظاہر کیا کہ ڈیموکریٹس مختلف انتخابی حکمت عملیوں کے ساتھ آئندہ وسط مدتی انتخابات کے لیے خود کو کیسے تیار کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ظہران ممدانی نیویارک کے پہلے مسلمان میئر بننے جا رہے ہیں۔ انہوں نے سابق ڈیموکریٹک گورنر اینڈریو کیومو کو شکست دی، جنہوں نے ابتدائی نامزدگی ہارنے کے بعد آزاد امیدوار کے طور پر الیکشن لڑا۔ اینڈریو کیومو جنہوں نے چار سال قبل ہراسانی کے الزامات کے بعد استعفیٰ دیا تھا، ظہران ممدانی کو انتہائی بائیں بازو کا خطرناک امیدوار قرار دیتے رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الیکشن بورڈ کے مطابق ظہران ممدانی کی مہم نے ووٹروں میں زبردست جوش پیدا کیا، جس کا ثبوت دو ملین سے زائد ڈالے گئے ووٹ ہیں جو 1969 کے بعد کسی بھی میئر الیکشن میں سب سے زیادہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ظہران ممدانی نے اپنے منشور میں کمپنیوں اور امیر طبقے پر ٹیکس بڑھانے کی تجویز دی ہے تاکہ کرایہ منجمد کرنے، مفت بچوں کی نگہداشت، اور  شہر میں مفت بس سروس جیسے فلاحی منصوبے نافذ کیے جا سکیں۔ تاہم وال اسٹریٹ کے حلقوں نے ایک سوشلسٹ کے نیویارک جیسے مالیاتی مرکز کی قیادت سنبھالنے پر تشویش ظاہر کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریپبلکنز نے اشارہ دیا ہے کہ وہ ظہران ممدانی کو ڈیموکریٹک پارٹی کے چہرے کے طور پر پیش کریں گے۔ ٹرمپ نے ظہران ممدانی کو غلط طور پر کمیونسٹ قرار دیتے ہوئے ان کے اقتدار میں آنے پر نیویارک کے لیے وفاقی فنڈز روکنے کی دھمکی دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ورجینیا میں اسپینبرگر نے ریپبلکن امیدوار ونسوم اَرل سیئرز کو شکست دی، جب کہ نیو جرسی میں شیریل نے ریپبلکن جیک چیتاریلی کو ہرایا۔ دونوں امیدواروں نے اپنے مخالفین کو ٹرمپ سے جوڑنے کی کوشش کی تاکہ ووٹروں کی ناراضی کو کیش کرایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنی فتح کی تقریر میں اسپینبرگر نے کہاہم نے دنیا کو پیغام دیا کہ 2025 میں ورجینیا نے انتشار پر استحکام کو ترجیح دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ کے جاری حکومتی شٹ ڈاؤن کے دوران  اقدامات نے بھی ان انتخابات پر اثر ڈالا۔ انہوں نے وفاقی ملازمین کو برخاست کرنے کی دھمکی دی، جس سے واشنگٹن کے قریب واقع ریاست ورجینیا متاثر ہوئی، جہاں بڑی تعداد میں سرکاری ملازمین ہیں۔ اسی طرح انہوں نے نیو جرسی کے اہم ریلوے منصوبے کی فنڈنگ روک دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر، کچھ ووٹروں نے تسلیم کیا کہ ٹرمپ کی سخت پالیسیوں، خاص طور پر غیر قانونی تارکین وطن کی ملک بدری اور درآمدی اشیا پر ٹیرف کے فیصلوں، نے ان کے ووٹ پر اثر ڈالا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران، کیلیفورنیا میں ووٹرز نے فیصلہ دینا تھا کہ کیا ڈیموکریٹس کو ریاست کی انتخابی حلقہ بندیوں کی ازسرِنو تشکیل کا اختیار دیا جائے  ایک ایسا معاملہ جو اگلے سال ایوانِ نمائندگان میں طاقت کے توازن کو متاثر کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے حسبِ سابق ان انتخابات پر بھی دھاندلی کے الزامات لگائے، مگر کوئی ثبوت پیش نہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریپبلکنز کے لیے یہ انتخابات ایک آزمائش تھے کہ آیا 2024 میں ٹرمپ کو کامیابی دلانے والے ووٹر اب بھی متحرک ہیں یا نہیں۔ تاہم، حالیہ ریپول کے مطابق ٹرمپ کی مقبولیت بدستور کم ہے، 57 فیصد امریکی ان کی کارکردگی سے ناخوش ہیں، جبکہ 2026 کے انتخابات کے لیے عوامی حمایت ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز کے درمیان تقریباً برابر تقسیم ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکا میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد ہونے والے پہلے بڑے انتخابات میں ڈیموکریٹس نے منگل کے روز تینوں اہم ریاستوں میں کامیابی حاصل کر لی، جس سے مشکلات میں گھری اس جماعت کو آئندہ سال کے وسط مدتی انتخابات سے قبل نئی توانائی ملی ہے۔</strong></p>
<p>نیویارک سٹی میں 34 سالہ ڈیموکریٹک سوشلسٹ ظہران ممدانی نے میئر کا انتخاب جیت کر ایک غیر معمولی اور تیز رفتار سیاسی عروج کو پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔ وہ ایک نسبتاً غیر معروف ریاستی قانون ساز سے اب ملک کے نمایاں ڈیموکریٹک رہنماؤں میں شمار ہونے لگے ہیں۔</p>
<p>ورجینیا اور نیو جرسی میں بھی ڈیموکریٹس ایبیگیل اسپینبرگر اور میکی شیریل نے بالترتیب گورنر کے انتخابات واضح برتری سے جیت لیے۔</p>
<p>منگل کے انتخابات اس بات کا پیمانہ قرار دیے جا رہے ہیں کہ امریکی عوام ٹرمپ کے نو ماہ کے متنازعہ دور صدارت پر کس طرح ردعمل دے رہے ہیں۔ ان انتخابات نے یہ بھی ظاہر کیا کہ ڈیموکریٹس مختلف انتخابی حکمت عملیوں کے ساتھ آئندہ وسط مدتی انتخابات کے لیے خود کو کیسے تیار کر رہے ہیں۔</p>
<p>ظہران ممدانی نیویارک کے پہلے مسلمان میئر بننے جا رہے ہیں۔ انہوں نے سابق ڈیموکریٹک گورنر اینڈریو کیومو کو شکست دی، جنہوں نے ابتدائی نامزدگی ہارنے کے بعد آزاد امیدوار کے طور پر الیکشن لڑا۔ اینڈریو کیومو جنہوں نے چار سال قبل ہراسانی کے الزامات کے بعد استعفیٰ دیا تھا، ظہران ممدانی کو انتہائی بائیں بازو کا خطرناک امیدوار قرار دیتے رہے۔</p>
<p>الیکشن بورڈ کے مطابق ظہران ممدانی کی مہم نے ووٹروں میں زبردست جوش پیدا کیا، جس کا ثبوت دو ملین سے زائد ڈالے گئے ووٹ ہیں جو 1969 کے بعد کسی بھی میئر الیکشن میں سب سے زیادہ ہیں۔</p>
<p>ظہران ممدانی نے اپنے منشور میں کمپنیوں اور امیر طبقے پر ٹیکس بڑھانے کی تجویز دی ہے تاکہ کرایہ منجمد کرنے، مفت بچوں کی نگہداشت، اور  شہر میں مفت بس سروس جیسے فلاحی منصوبے نافذ کیے جا سکیں۔ تاہم وال اسٹریٹ کے حلقوں نے ایک سوشلسٹ کے نیویارک جیسے مالیاتی مرکز کی قیادت سنبھالنے پر تشویش ظاہر کی ہے۔</p>
<p>ریپبلکنز نے اشارہ دیا ہے کہ وہ ظہران ممدانی کو ڈیموکریٹک پارٹی کے چہرے کے طور پر پیش کریں گے۔ ٹرمپ نے ظہران ممدانی کو غلط طور پر کمیونسٹ قرار دیتے ہوئے ان کے اقتدار میں آنے پر نیویارک کے لیے وفاقی فنڈز روکنے کی دھمکی دی ہے۔</p>
<p>ورجینیا میں اسپینبرگر نے ریپبلکن امیدوار ونسوم اَرل سیئرز کو شکست دی، جب کہ نیو جرسی میں شیریل نے ریپبلکن جیک چیتاریلی کو ہرایا۔ دونوں امیدواروں نے اپنے مخالفین کو ٹرمپ سے جوڑنے کی کوشش کی تاکہ ووٹروں کی ناراضی کو کیش کرایا جا سکے۔</p>
<p>اپنی فتح کی تقریر میں اسپینبرگر نے کہاہم نے دنیا کو پیغام دیا کہ 2025 میں ورجینیا نے انتشار پر استحکام کو ترجیح دی۔</p>
<p>ٹرمپ کے جاری حکومتی شٹ ڈاؤن کے دوران  اقدامات نے بھی ان انتخابات پر اثر ڈالا۔ انہوں نے وفاقی ملازمین کو برخاست کرنے کی دھمکی دی، جس سے واشنگٹن کے قریب واقع ریاست ورجینیا متاثر ہوئی، جہاں بڑی تعداد میں سرکاری ملازمین ہیں۔ اسی طرح انہوں نے نیو جرسی کے اہم ریلوے منصوبے کی فنڈنگ روک دی۔</p>
<p>ادھر، کچھ ووٹروں نے تسلیم کیا کہ ٹرمپ کی سخت پالیسیوں، خاص طور پر غیر قانونی تارکین وطن کی ملک بدری اور درآمدی اشیا پر ٹیرف کے فیصلوں، نے ان کے ووٹ پر اثر ڈالا۔</p>
<p>اسی دوران، کیلیفورنیا میں ووٹرز نے فیصلہ دینا تھا کہ کیا ڈیموکریٹس کو ریاست کی انتخابی حلقہ بندیوں کی ازسرِنو تشکیل کا اختیار دیا جائے  ایک ایسا معاملہ جو اگلے سال ایوانِ نمائندگان میں طاقت کے توازن کو متاثر کر سکتا ہے۔</p>
<p>ٹرمپ نے حسبِ سابق ان انتخابات پر بھی دھاندلی کے الزامات لگائے، مگر کوئی ثبوت پیش نہ کیا۔</p>
<p>ریپبلکنز کے لیے یہ انتخابات ایک آزمائش تھے کہ آیا 2024 میں ٹرمپ کو کامیابی دلانے والے ووٹر اب بھی متحرک ہیں یا نہیں۔ تاہم، حالیہ ریپول کے مطابق ٹرمپ کی مقبولیت بدستور کم ہے، 57 فیصد امریکی ان کی کارکردگی سے ناخوش ہیں، جبکہ 2026 کے انتخابات کے لیے عوامی حمایت ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز کے درمیان تقریباً برابر تقسیم ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278958</guid>
      <pubDate>Wed, 05 Nov 2025 11:58:55 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/051155532455844.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/051155532455844.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
