<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 22:48:41 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Jul 2026 22:48:41 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عالمی منڈیوں میں مندی کے اثرات، پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی کا سلسلہ برقرار، 100 انڈیکس میں 1 فیصد سے زائد کمی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278952/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بدھ کے روز شدید مندی دیکھی گئی  جبکہ سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع سمیٹنے کے رجحان کے باعث بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں ایک فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار کا آغاز مثبت انداز میں ہوا اور  کے ایس ای 100 انڈیکس انٹرا ڈے کی بلند ترین سطح 162,052.45 پوائنٹس تک جا پہنچا، تاہم سیشن کے وسط تک ابتدائی جوش و خروش ختم ہو گیا، جس کے بعد 100 انڈیکس انٹرا ڈے کی کم ترین سطح 159,216.86 پوائنٹس تک گر گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 1,703.57 پوائنٹس یا 1.06 فیصد کمی کے ساتھ 159,578.19 پوائنٹس پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے اپنی پوسٹ مارکیٹ رپورٹ میں کہا ہے کہ کاروباری مندی کی بڑی وجہ کارپوریٹ نتائج کے سیزن کے اختتام کے بعد مارکیٹ میں نئے محرکات کی عدم موجودگی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق ایف ایف سی، اینگرو، لکی، میزان بینک اور سسٹمز لمیٹڈ جیسے بڑے اسٹاکس سب سے زیادہ دباؤ کا شکار رہے، جنہوں نے مجموعی طور پر بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس سے 902 پوائنٹس کم کر دیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ منگل کو کے ایس ای 100 انڈیکس انڈیکس 1,521.39 پوائنٹس یا 0.93 فیصد کی کمی سے 161,281.77 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی سطح پر بدھ کو ایشیائی اسٹاکس میں شدید مندی دیکھی گئی اور مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ اس بلند سطح تک پہنچ گیا جو اپریل کے بعد نہیں دیکھی گئی، جس کی وجہ وال اسٹریٹ پر ایک رات کے دوران ٹیکنالوجی سیکٹر میں شدید فروخت اور بڑھتی ہوئی قیمتوں پر سرمایہ کاروں کی محتاط توجہ تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابتدائی تجارتی سیشن میں جاپانی اور جنوبی کوریا کی مارکیٹوں میں فروخت خاصی شدید رہی جس کے نتیجے میں ٹوکیو کا اسٹاک انڈیکس 4.5 فیصد گر گیا اور منگل کو ریکارڈ بلند سطح سے تقریباً 7 فیصد کم ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوبی کوریا کے شیئرز میں بھی 6.2 فیصد تک گراوٹ دیکھی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایم ایس سی آئی کا جاپان کے علاوہ ایشیا پیسفک کے شیئرز کا وسیع ترین انڈیکس 2.3 فیصد گرگیا جو اپریل کے آغاز میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لبریشن ڈے ٹیرف اعلان کے بعد سب سے زیادہ کمی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی ای منی فیوچرز بھی 0.6 فیصد کم ہوگئے جب کہ ایس اینڈ پی 500 انڈیکس میں ایک رات کے دوران 1.2 فیصد کی کمی دیکھی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاپان میں سافٹ بینک گروپ کے شیئرز میں 10 فیصد کمی دیکھی گئی کیونکہ دنیا کے سب سے بڑے ٹیک سیکٹر کے سرمایہ کاروں میں سے ایک نے ایک رات کے دوران نیسڈاک کمپوزٹ میں 2 فیصد کی کمی کو فالو کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شیئرز ریکارڈ بلند سطح سے پیچھے ہٹ رہے ہیں کیونکہ وال اسٹریٹ کی بڑی کمپنیوں مورگن اسٹینلے اور گولڈمین سیکس کے سی ای اوز نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا اتنی بلند قیمتیں طویل مدت تک برقرار رہ سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثناء انٹر بینک مارکیٹ میں بدھ کے روز امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ کاروبار کے اختتام پر امریکی کرنسی کے مقابلے میں  روپے کی قدر  ایک پیسے اضافے کے ساتھ 280.86 پر بند ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آل شیئر انڈیکس میں کاروباری حجم کم ہو کر 860.26 ملین شیئرز رہ گیا، جو گزشتہ سیشن میں 899.41 ملین تھا۔ شیئرز کی مالیت بھی گھٹ کر 34.85 ارب روپے رہ گئی، جو منگل کو 37.31 ارب روپے تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے-الیکٹرک لمیٹڈ 10 کروڑ شیئرز کے ساتھ سب سے زیادہ کاروبار والی کمپنی رہی، اس کے بعد ہسکول پیٹرول کے 6.6 کروڑ اور ورلڈ کال ٹیلی کام کے 4.5 کروڑ شیئرز کا کاروبار ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کو مجموعی طور پر 481 کمپنیوں کے شیئرز کی خرید و فروخت ہوئی، جن میں سے 158 کے نرخ بڑھے، 278 کے کم ہوئے جبکہ 45 میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2025/11/05184139c38acd2.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/11/05184139c38acd2.webp'  alt=' ۔ ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بدھ کے روز شدید مندی دیکھی گئی  جبکہ سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع سمیٹنے کے رجحان کے باعث بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں ایک فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی۔</strong></p>
<p>کاروبار کا آغاز مثبت انداز میں ہوا اور  کے ایس ای 100 انڈیکس انٹرا ڈے کی بلند ترین سطح 162,052.45 پوائنٹس تک جا پہنچا، تاہم سیشن کے وسط تک ابتدائی جوش و خروش ختم ہو گیا، جس کے بعد 100 انڈیکس انٹرا ڈے کی کم ترین سطح 159,216.86 پوائنٹس تک گر گیا۔</p>
<p>کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 1,703.57 پوائنٹس یا 1.06 فیصد کمی کے ساتھ 159,578.19 پوائنٹس پر بند ہوا۔</p>
<p>ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے اپنی پوسٹ مارکیٹ رپورٹ میں کہا ہے کہ کاروباری مندی کی بڑی وجہ کارپوریٹ نتائج کے سیزن کے اختتام کے بعد مارکیٹ میں نئے محرکات کی عدم موجودگی تھی۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق ایف ایف سی، اینگرو، لکی، میزان بینک اور سسٹمز لمیٹڈ جیسے بڑے اسٹاکس سب سے زیادہ دباؤ کا شکار رہے، جنہوں نے مجموعی طور پر بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس سے 902 پوائنٹس کم کر دیے۔</p>
<p>یاد رہے کہ منگل کو کے ایس ای 100 انڈیکس انڈیکس 1,521.39 پوائنٹس یا 0.93 فیصد کی کمی سے 161,281.77 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔</p>
<p>عالمی سطح پر بدھ کو ایشیائی اسٹاکس میں شدید مندی دیکھی گئی اور مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ اس بلند سطح تک پہنچ گیا جو اپریل کے بعد نہیں دیکھی گئی، جس کی وجہ وال اسٹریٹ پر ایک رات کے دوران ٹیکنالوجی سیکٹر میں شدید فروخت اور بڑھتی ہوئی قیمتوں پر سرمایہ کاروں کی محتاط توجہ تھی۔</p>
<p>ابتدائی تجارتی سیشن میں جاپانی اور جنوبی کوریا کی مارکیٹوں میں فروخت خاصی شدید رہی جس کے نتیجے میں ٹوکیو کا اسٹاک انڈیکس 4.5 فیصد گر گیا اور منگل کو ریکارڈ بلند سطح سے تقریباً 7 فیصد کم ہوگیا۔</p>
<p>جنوبی کوریا کے شیئرز میں بھی 6.2 فیصد تک گراوٹ دیکھی گئی۔</p>
<p>ایم ایس سی آئی کا جاپان کے علاوہ ایشیا پیسفک کے شیئرز کا وسیع ترین انڈیکس 2.3 فیصد گرگیا جو اپریل کے آغاز میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لبریشن ڈے ٹیرف اعلان کے بعد سب سے زیادہ کمی ہے۔</p>
<p>امریکی ای منی فیوچرز بھی 0.6 فیصد کم ہوگئے جب کہ ایس اینڈ پی 500 انڈیکس میں ایک رات کے دوران 1.2 فیصد کی کمی دیکھی گئی۔</p>
<p>جاپان میں سافٹ بینک گروپ کے شیئرز میں 10 فیصد کمی دیکھی گئی کیونکہ دنیا کے سب سے بڑے ٹیک سیکٹر کے سرمایہ کاروں میں سے ایک نے ایک رات کے دوران نیسڈاک کمپوزٹ میں 2 فیصد کی کمی کو فالو کیا۔</p>
<p>شیئرز ریکارڈ بلند سطح سے پیچھے ہٹ رہے ہیں کیونکہ وال اسٹریٹ کی بڑی کمپنیوں مورگن اسٹینلے اور گولڈمین سیکس کے سی ای اوز نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا اتنی بلند قیمتیں طویل مدت تک برقرار رہ سکتی ہیں۔</p>
<p>دریں اثناء انٹر بینک مارکیٹ میں بدھ کے روز امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ کاروبار کے اختتام پر امریکی کرنسی کے مقابلے میں  روپے کی قدر  ایک پیسے اضافے کے ساتھ 280.86 پر بند ہوئی۔</p>
<p>آل شیئر انڈیکس میں کاروباری حجم کم ہو کر 860.26 ملین شیئرز رہ گیا، جو گزشتہ سیشن میں 899.41 ملین تھا۔ شیئرز کی مالیت بھی گھٹ کر 34.85 ارب روپے رہ گئی، جو منگل کو 37.31 ارب روپے تھی۔</p>
<p>کے-الیکٹرک لمیٹڈ 10 کروڑ شیئرز کے ساتھ سب سے زیادہ کاروبار والی کمپنی رہی، اس کے بعد ہسکول پیٹرول کے 6.6 کروڑ اور ورلڈ کال ٹیلی کام کے 4.5 کروڑ شیئرز کا کاروبار ہوا۔</p>
<p>بدھ کو مجموعی طور پر 481 کمپنیوں کے شیئرز کی خرید و فروخت ہوئی، جن میں سے 158 کے نرخ بڑھے، 278 کے کم ہوئے جبکہ 45 میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2025/11/05184139c38acd2.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/11/05184139c38acd2.webp'  alt=' ۔ ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure></p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278952</guid>
      <pubDate>Wed, 05 Nov 2025 19:45:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/05193856f33c9f0.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/05193856f33c9f0.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
