<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:01:10 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:01:10 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پی آئی اے کو فلائٹ آپریشن کی مکمل بحالی میں مشکلات کا سامنا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278951/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) مسلسل آپریشنل افراتفری کا شکار ہے کیونکہ قومی فضائی کمپنی 36 گھنٹے گزرنے کے باوجود اپنی پروازوں کے مکمل آپریشن بحال کرنے میں ناکام ہے، جبکہ غیر مجاز تھرڈ پارٹی انجینئرنگ سروسز حاصل کرنے پر بین الاقوامی ہوابازی کے ضوابط کی خلاف ورزی کے الزامات کا سامنا کر رہی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوسائٹی آف ایئرکرافٹ انجینئرز آف پاکستان (ایس اے ای پی) نے پی آئی اے کی جانب سے اپنے منظور شدہ انجینئرز کو نظرانداز کر کے بیرونی انجینئرنگ خدمات حاصل کرنے کی کوشش کی مذمت کی ہے، اور اسے سول ایوی ایشن اتھارٹی (پی سی اے اے) اور انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن (آئی سی اے او) کے ضوابط کے منافی قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس ای ای پی کے صدر عبداللہ جدون نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو میں کہا کہ قومی ایئرلائن نے ایس ای ای پی کے تحفظات کو دور کرنے کے بجائے بیرونی انجینئرنگ خدمات حاصل کرنا شروع کر دی ہیں، جو پی سی اے اے اور آئی سی اے او کے قوانین کے خلاف ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایئرلائن کے یہ شارٹ کٹس مسافروں کی سلامتی اور ضابطہ جاتی تقاضوں کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس ای ای پی کے مطابق، صرف اس کے تصدیق شدہ انجینئرز، جو پی سی اے اے کے قواعد و ضوابط اور اے این او-145 کی ضروریات کے تحت مجاز ہیں، ہی قانونی طور پر قومی ایئرلائن کے طیاروں کی تصدیق کے اہل ہیں۔ غیر مجاز تھرڈ پارٹی خدمات کا استعمال نہ صرف قواعد کی خلاف ورزی ہے بلکہ اس سے پی آئی اے کو بین الاقوامی پابندیوں اور اس کی پہلے سے ہی خراب حفاظتی شہرت کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بحران کی شدت نے ہزاروں مسافروں کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے، جہاں پروازوں میں 14 گھنٹے تک کی تاخیر اور متعدد پروازوں کی منسوخی دیکھی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی آئی اے کے ترجمان نے سنگین آپریشنل بحران کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ایئرلائن کو پروازوں کی بحالی میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق، پرواز پی کے747 لاہور–مدینہ 14 گھنٹے تاخیر کا شکار ہوئی، پی کے761 کراچی–جدہ 12 گھنٹے، پی کے233 اسلام آباد–دبئی 9 گھنٹے، پی کے245 اسلام آباد–دمام 7 گھنٹے، پی کے755 سیالکوٹ–ریاض 7 گھنٹے، پی کے741 اسلام آباد–مدینہ 6 گھنٹے جبکہ پی کے300 کراچی–اسلام آباد کو 4 گھنٹے کی تاخیر کے بعد منسوخ کر دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان کے مطابق، صرف دو بین الاقوامی پروازیں، پی کے783 کراچی–ٹورنٹو اور پی کے701 اسلام آباد–مانچسٹر، ہی نئے سلاٹس اور عملے کی ایڈجسٹمنٹ کے بعد وقت پر روانہ ہو سکیں، جبکہ پانچ پروازیں مکمل طور پر منسوخ کر دی گئیں، جس سے مسافر بغیر واضح متبادل کے پھنس گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق، بحران کی جڑ پی آئی اے انتظامیہ کا ایس ای ای پی کے حفاظتی معیارات، دیکھ بھال کی صلاحیتوں اور کام کے حالات پر بڑھتے ہوئے خدشات کو نظرانداز کرنا ہے، حالانکہ متعدد بار مذاکرات کی کوشش کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ انجینئرز کی جانب سے تصدیقی عمل معطل کیے جانے کے بنیادی مسائل حل کرنے کے بجائے ایئرلائن نے اپنے ہی تصدیق شدہ پیشہ وران کو نظرانداز کرتے ہوئے بیرونی راستہ اختیار کیا ہے، جس سے انتظامیہ کی ترجیحات اور حفاظتی ضوابط سے وابستگی پر سنجیدہ سوالات اٹھ گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) مسلسل آپریشنل افراتفری کا شکار ہے کیونکہ قومی فضائی کمپنی 36 گھنٹے گزرنے کے باوجود اپنی پروازوں کے مکمل آپریشن بحال کرنے میں ناکام ہے، جبکہ غیر مجاز تھرڈ پارٹی انجینئرنگ سروسز حاصل کرنے پر بین الاقوامی ہوابازی کے ضوابط کی خلاف ورزی کے الزامات کا سامنا کر رہی ہے۔</strong></p>
<p>سوسائٹی آف ایئرکرافٹ انجینئرز آف پاکستان (ایس اے ای پی) نے پی آئی اے کی جانب سے اپنے منظور شدہ انجینئرز کو نظرانداز کر کے بیرونی انجینئرنگ خدمات حاصل کرنے کی کوشش کی مذمت کی ہے، اور اسے سول ایوی ایشن اتھارٹی (پی سی اے اے) اور انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن (آئی سی اے او) کے ضوابط کے منافی قرار دیا ہے۔</p>
<p>ایس ای ای پی کے صدر عبداللہ جدون نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو میں کہا کہ قومی ایئرلائن نے ایس ای ای پی کے تحفظات کو دور کرنے کے بجائے بیرونی انجینئرنگ خدمات حاصل کرنا شروع کر دی ہیں، جو پی سی اے اے اور آئی سی اے او کے قوانین کے خلاف ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایئرلائن کے یہ شارٹ کٹس مسافروں کی سلامتی اور ضابطہ جاتی تقاضوں کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔</p>
<p>ایس ای ای پی کے مطابق، صرف اس کے تصدیق شدہ انجینئرز، جو پی سی اے اے کے قواعد و ضوابط اور اے این او-145 کی ضروریات کے تحت مجاز ہیں، ہی قانونی طور پر قومی ایئرلائن کے طیاروں کی تصدیق کے اہل ہیں۔ غیر مجاز تھرڈ پارٹی خدمات کا استعمال نہ صرف قواعد کی خلاف ورزی ہے بلکہ اس سے پی آئی اے کو بین الاقوامی پابندیوں اور اس کی پہلے سے ہی خراب حفاظتی شہرت کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔</p>
<p>بحران کی شدت نے ہزاروں مسافروں کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے، جہاں پروازوں میں 14 گھنٹے تک کی تاخیر اور متعدد پروازوں کی منسوخی دیکھی گئی۔</p>
<p>پی آئی اے کے ترجمان نے سنگین آپریشنل بحران کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ایئرلائن کو پروازوں کی بحالی میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔</p>
<p>ان کے مطابق، پرواز پی کے747 لاہور–مدینہ 14 گھنٹے تاخیر کا شکار ہوئی، پی کے761 کراچی–جدہ 12 گھنٹے، پی کے233 اسلام آباد–دبئی 9 گھنٹے، پی کے245 اسلام آباد–دمام 7 گھنٹے، پی کے755 سیالکوٹ–ریاض 7 گھنٹے، پی کے741 اسلام آباد–مدینہ 6 گھنٹے جبکہ پی کے300 کراچی–اسلام آباد کو 4 گھنٹے کی تاخیر کے بعد منسوخ کر دیا گیا۔</p>
<p>ترجمان کے مطابق، صرف دو بین الاقوامی پروازیں، پی کے783 کراچی–ٹورنٹو اور پی کے701 اسلام آباد–مانچسٹر، ہی نئے سلاٹس اور عملے کی ایڈجسٹمنٹ کے بعد وقت پر روانہ ہو سکیں، جبکہ پانچ پروازیں مکمل طور پر منسوخ کر دی گئیں، جس سے مسافر بغیر واضح متبادل کے پھنس گئے۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق، بحران کی جڑ پی آئی اے انتظامیہ کا ایس ای ای پی کے حفاظتی معیارات، دیکھ بھال کی صلاحیتوں اور کام کے حالات پر بڑھتے ہوئے خدشات کو نظرانداز کرنا ہے، حالانکہ متعدد بار مذاکرات کی کوشش کی گئی۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ انجینئرز کی جانب سے تصدیقی عمل معطل کیے جانے کے بنیادی مسائل حل کرنے کے بجائے ایئرلائن نے اپنے ہی تصدیق شدہ پیشہ وران کو نظرانداز کرتے ہوئے بیرونی راستہ اختیار کیا ہے، جس سے انتظامیہ کی ترجیحات اور حفاظتی ضوابط سے وابستگی پر سنجیدہ سوالات اٹھ گئے ہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278951</guid>
      <pubDate>Wed, 05 Nov 2025 10:34:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (محمد علی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/05103258bc36758.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/05103258bc36758.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
