<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 17:34:25 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 17:34:25 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ظہران ممدانی نیویارک سٹی کے پہلے مسلمان میئر منتخب</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278943/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی ریاست نیویارک میں 34 سالہ ڈیموکریٹک سوشلسٹ ظہران ممدانی نے میئر کا انتخاب جیت کر تاریخ رقم کر دی۔ وہ نیویارک سٹی کے پہلے مسلمان میئر بننے جا رہے ہیں۔ ظہران  ممدانی نے سابق گورنر اینڈریو کومو کو شکست دی، جو ڈیموکریٹک نامزدگی حاصل نہ کرنے کے بعد بطور آزاد امیدوار میدان میں اترے تھے۔ یہ انتخابی مہم نظریاتی اور نسلی سطح پر ڈیموکریٹک پارٹی کے لیے ایک بڑا امتحان ثابت ہوئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ورجینیا میں ڈیموکریٹ امیدوار ایبیگیل اسپینبرگر نے گورنر کا الیکشن آسانی سے جیت کر ریاست کی پہلی خاتون گورنر بننے کا اعزاز حاصل کیا، جبکہ نیو جرسی میں ڈیموکریٹ میکی شیریل نے گورنر کی نشست اپنے نام کی۔ ان تینوں ریاستوں کے انتخابات کو 2026 کے وسط مدتی انتخابات سے قبل ڈیموکریٹک پارٹی کے لیے ایک اہم آزمائش سمجھا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تینوں امیدواروں نے انتخابی مہم میں اقتصادی مسائل، خصوصاً مہنگائی اور برداشت کے بحران کو مرکزی نکتہ بنایا۔ اسپینبرگر اور شیریل نے خود کو پارٹی کے معتدل دھڑے سے منسلک رکھا جبکہ ظہران ممدانی نے واضح طور پر ترقی پسند ایجنڈا پیش کرتے ہوئے کرایوں میں جمود اور شہری بسوں کو مفت کرنے جیسے اقدامات تجویز کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ورجینیا میں اسپینبرگر نے ریپبلکن امیدوار ونسم ایئرل سیئرز کو شکست دی اور اپنی وکٹری اسپیچ میں کہا کہ ورجینیا نے انتہا پسندی نہیں بلکہ حقیقت پسندی کا انتخاب کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیاں انتخابی فضا پر نمایاں اثر ڈالتی رہیں۔ سرکاری ملازمین کو برطرف کرنے کی دھمکی اور تارکین وطن کے خلاف اقدامات نے ووٹرز میں بے چینی پیدا کی۔ سروے کے مطابق ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی برقرار ہے، تاہم ڈیموکریٹس بھی اس سے خاص فائدہ نہیں اٹھا سکے۔ نیویارک میں اس بار دو ملین سے زائد ووٹ کاسٹ ہوئے، جو 1969 کے بعد سب سے زیادہ ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ انتخابات 2026 کے سیاسی منظرنامے کے ابتدائی اشارے فراہم کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی ریاست نیویارک میں 34 سالہ ڈیموکریٹک سوشلسٹ ظہران ممدانی نے میئر کا انتخاب جیت کر تاریخ رقم کر دی۔ وہ نیویارک سٹی کے پہلے مسلمان میئر بننے جا رہے ہیں۔ ظہران  ممدانی نے سابق گورنر اینڈریو کومو کو شکست دی، جو ڈیموکریٹک نامزدگی حاصل نہ کرنے کے بعد بطور آزاد امیدوار میدان میں اترے تھے۔ یہ انتخابی مہم نظریاتی اور نسلی سطح پر ڈیموکریٹک پارٹی کے لیے ایک بڑا امتحان ثابت ہوئی۔</strong></p>
<p>ورجینیا میں ڈیموکریٹ امیدوار ایبیگیل اسپینبرگر نے گورنر کا الیکشن آسانی سے جیت کر ریاست کی پہلی خاتون گورنر بننے کا اعزاز حاصل کیا، جبکہ نیو جرسی میں ڈیموکریٹ میکی شیریل نے گورنر کی نشست اپنے نام کی۔ ان تینوں ریاستوں کے انتخابات کو 2026 کے وسط مدتی انتخابات سے قبل ڈیموکریٹک پارٹی کے لیے ایک اہم آزمائش سمجھا جا رہا ہے۔</p>
<p>تینوں امیدواروں نے انتخابی مہم میں اقتصادی مسائل، خصوصاً مہنگائی اور برداشت کے بحران کو مرکزی نکتہ بنایا۔ اسپینبرگر اور شیریل نے خود کو پارٹی کے معتدل دھڑے سے منسلک رکھا جبکہ ظہران ممدانی نے واضح طور پر ترقی پسند ایجنڈا پیش کرتے ہوئے کرایوں میں جمود اور شہری بسوں کو مفت کرنے جیسے اقدامات تجویز کیے۔</p>
<p>ورجینیا میں اسپینبرگر نے ریپبلکن امیدوار ونسم ایئرل سیئرز کو شکست دی اور اپنی وکٹری اسپیچ میں کہا کہ ورجینیا نے انتہا پسندی نہیں بلکہ حقیقت پسندی کا انتخاب کیا۔</p>
<p>دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیاں انتخابی فضا پر نمایاں اثر ڈالتی رہیں۔ سرکاری ملازمین کو برطرف کرنے کی دھمکی اور تارکین وطن کے خلاف اقدامات نے ووٹرز میں بے چینی پیدا کی۔ سروے کے مطابق ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی برقرار ہے، تاہم ڈیموکریٹس بھی اس سے خاص فائدہ نہیں اٹھا سکے۔ نیویارک میں اس بار دو ملین سے زائد ووٹ کاسٹ ہوئے، جو 1969 کے بعد سب سے زیادہ ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ انتخابات 2026 کے سیاسی منظرنامے کے ابتدائی اشارے فراہم کرتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278943</guid>
      <pubDate>Wed, 05 Nov 2025 09:10:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.ytimg.com/vi/8RtFXdRrcJ8/maxresdefault.jpg" type="image/jpeg" medium="video" height="480" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.ytimg.com/vi/8RtFXdRrcJ8/mqdefault.jpg"/>
        <media:player url="https://www.youtube.com/watch?v=8RtFXdRrcJ8"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
