<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:43:21 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:43:21 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزارت تجارت نے منرلز ڈویژن کے قیام کی حمایت کردی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278941/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان میں قیمتی پتھروں کے شعبے کی ترقی اور معدنی وسائل کے مؤثر استعمال کے لیے وزارت تجارت نے ایک علیحدہ ”منرلز ڈویژن“ کے قیام کی حمایت کی ہے، جو پیٹرولیم ڈویژن کی طرز پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مؤثر رابطہ اور نگرانی کا نظام فراہم کرے گا۔ وزارت کا کہنا ہے کہ یہ قدم معدنیات کے شعبے کی مخصوص نوعیت اور مختلف ادارہ جاتی تقاضوں کے پیش نظر ضروری ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان قیمتی پتھروں کے ذخائر سے مالامال ملک ہے، خصوصاً گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں زمرد، یاقوت، ایکوامیرین اور ٹوپاز جیسے قیمتی پتھر بڑی مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ تاہم غیر منظم کان کنی، اسمگلنگ، ویلیو ایڈیشن کی کمی اور بغیر پروسیسنگ کے خام پتھروں کی برآمدات کے باعث یہ شعبہ اپنی مکمل استعداد کے مطابق ترقی نہیں کر سکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت نے قیمتی پتھروں کی برآمدات کے فروغ کے لیے جیمز اتھارٹی کے قیام کی سفارش کی ہے، جو کان کنی سے لے کر برآمدات تک پوری ویلیو چین کی نگرانی کرے گی۔ وزارت تجارت نے اس تجویز کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی جواہرات کی برآمدات فی الحال سالانہ 5 سے 7 ملین ڈالر کے درمیان ہیں، جبکہ مناسب حکمت عملی کے ذریعے یہ حجم کئی گنا بڑھایا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت تجارت کے مطابق ایک خصوصی ادارہ نہ صرف جدید ٹیکنالوجی، کٹنگ، پالشنگ اور سرٹیفیکیشن کے نظام کو فروغ دے سکتا ہے بلکہ چین، تھائی لینڈ اور یورپ جیسے اہم بین الاقوامی بازاروں تک پاکستانی مصنوعات کی رسائی میں بھی مددگار ہوگا۔ اس کے ذریعے غیر قانونی تجارت کی روک تھام، معیار کی یقین دہانی، اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت تجارت کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس کے دائرہ کار میں برآمدات، تجارتی فروغ اور بین الاقوامی تعاون شامل ہے، لیکن معدنیات کی کان کنی اور مقامی پیداوار سے متعلق امور وزارت صنعت و پیداوار کے تحت زیادہ مؤثر انداز میں سنبھالے جا سکتے ہیں۔ وزارت صنعت نے اس شعبے کی ترقی کے لیے ایک جامع فریم ورک پیش کیا ہے جس میں صنعتی اسٹیٹس، ٹیکنیکل ٹریننگ اور منرل پروسیسنگ کے اقدامات شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت تجارت کے مطابق رکن قومی اسمبلی گل اصغر کی جانب سے تجویز کردہ منرلز ڈویژن کے قیام پر بھی غور کیا جانا چاہیے، کیونکہ معدنی شعبہ اپنی نوعیت کے لحاظ سے دیگر صنعتی یا تجارتی شعبوں سے مختلف ہے۔ ایک علیحدہ ڈویژن وفاقی و صوبائی سطح پر مربوط حکمت عملی، ماحول دوست کان کنی اور قیمتی پتھروں کی منظم ترقی کو یقینی بنا سکتا ہے۔ وزارت کا کہنا ہے کہ اگر یہ ادارہ قائم کر دیا جائے تو آئندہ دس برسوں میں جیمز سیکٹر کی برآمدات دس گنا تک بڑھائی جا سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان میں قیمتی پتھروں کے شعبے کی ترقی اور معدنی وسائل کے مؤثر استعمال کے لیے وزارت تجارت نے ایک علیحدہ ”منرلز ڈویژن“ کے قیام کی حمایت کی ہے، جو پیٹرولیم ڈویژن کی طرز پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مؤثر رابطہ اور نگرانی کا نظام فراہم کرے گا۔ وزارت کا کہنا ہے کہ یہ قدم معدنیات کے شعبے کی مخصوص نوعیت اور مختلف ادارہ جاتی تقاضوں کے پیش نظر ضروری ہے۔</strong></p>
<p>پاکستان قیمتی پتھروں کے ذخائر سے مالامال ملک ہے، خصوصاً گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں زمرد، یاقوت، ایکوامیرین اور ٹوپاز جیسے قیمتی پتھر بڑی مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ تاہم غیر منظم کان کنی، اسمگلنگ، ویلیو ایڈیشن کی کمی اور بغیر پروسیسنگ کے خام پتھروں کی برآمدات کے باعث یہ شعبہ اپنی مکمل استعداد کے مطابق ترقی نہیں کر سکا۔</p>
<p>قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت نے قیمتی پتھروں کی برآمدات کے فروغ کے لیے جیمز اتھارٹی کے قیام کی سفارش کی ہے، جو کان کنی سے لے کر برآمدات تک پوری ویلیو چین کی نگرانی کرے گی۔ وزارت تجارت نے اس تجویز کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی جواہرات کی برآمدات فی الحال سالانہ 5 سے 7 ملین ڈالر کے درمیان ہیں، جبکہ مناسب حکمت عملی کے ذریعے یہ حجم کئی گنا بڑھایا جا سکتا ہے۔</p>
<p>وزارت تجارت کے مطابق ایک خصوصی ادارہ نہ صرف جدید ٹیکنالوجی، کٹنگ، پالشنگ اور سرٹیفیکیشن کے نظام کو فروغ دے سکتا ہے بلکہ چین، تھائی لینڈ اور یورپ جیسے اہم بین الاقوامی بازاروں تک پاکستانی مصنوعات کی رسائی میں بھی مددگار ہوگا۔ اس کے ذریعے غیر قانونی تجارت کی روک تھام، معیار کی یقین دہانی، اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔</p>
<p>وزارت تجارت کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس کے دائرہ کار میں برآمدات، تجارتی فروغ اور بین الاقوامی تعاون شامل ہے، لیکن معدنیات کی کان کنی اور مقامی پیداوار سے متعلق امور وزارت صنعت و پیداوار کے تحت زیادہ مؤثر انداز میں سنبھالے جا سکتے ہیں۔ وزارت صنعت نے اس شعبے کی ترقی کے لیے ایک جامع فریم ورک پیش کیا ہے جس میں صنعتی اسٹیٹس، ٹیکنیکل ٹریننگ اور منرل پروسیسنگ کے اقدامات شامل ہیں۔</p>
<p>وزارت تجارت کے مطابق رکن قومی اسمبلی گل اصغر کی جانب سے تجویز کردہ منرلز ڈویژن کے قیام پر بھی غور کیا جانا چاہیے، کیونکہ معدنی شعبہ اپنی نوعیت کے لحاظ سے دیگر صنعتی یا تجارتی شعبوں سے مختلف ہے۔ ایک علیحدہ ڈویژن وفاقی و صوبائی سطح پر مربوط حکمت عملی، ماحول دوست کان کنی اور قیمتی پتھروں کی منظم ترقی کو یقینی بنا سکتا ہے۔ وزارت کا کہنا ہے کہ اگر یہ ادارہ قائم کر دیا جائے تو آئندہ دس برسوں میں جیمز سیکٹر کی برآمدات دس گنا تک بڑھائی جا سکتی ہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278941</guid>
      <pubDate>Wed, 05 Nov 2025 08:50:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/05084822e97a8cf.webp" type="image/webp" medium="image" height="478" width="856">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/05084822e97a8cf.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
