<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:01:03 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:01:03 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستانی بندرگاہوں کو رومانیہ کی کانسٹانزا بندرگاہ سے جوڑنے کی تجویز</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278936/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی وزیر  بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے پاکستانی بندرگاہوں اور رومانیہ کی کانسٹانزا بندرگاہ کے درمیان مضبوط سمندری روابط کے قیام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام یورپی منڈیوں تک پاکستان کی رسائی بڑھانے اور ملک کی بلیو اکانومی (سمندری معیشت) کو فروغ دینے کی سمت اہم قدم ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت منگل کو پاکستان انٹرنیشنل میری ٹائم ایکسپو اینڈ کانفرنس (پی آئی ایم ای سی) 2025 کے موقع پر وزیر بحری امور اور رومانیہ کے سفیر ڈاکٹر ڈین اسٹوئنیسکو کے درمیان ملاقات کے دوران ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق کراچی پورٹ ٹرسٹ کے قائم مقام چیئرمین ریئر ایڈمرل عتیق الرحمان بھی ملاقات میں موجود تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان عالمی سمندری تجارت میں زیادہ فعال کردار ادا کرنا چاہتا ہے، جس کے لیے مشرقِ وسطیٰ، وسطی ایشیا، مشرقی یورپ اور افریقہ کو جوڑنے والے رابطے استوار کرنا ضروری ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے پاکستانی بندرگاہوں کو رومانیہ کی کانسٹانزا بندرگاہ سے منسلک کرنے کی تجویز کو یورپی منڈیوں تک رسائی بڑھانے اور بلیو اکانومی کو آگے بڑھانے کے لیے اہم قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنید چوہدری نے مزید کہا کہ آئندہ برسوں میں پاکستان کی فعال بندرگاہوں کی تعداد چھ تک پہنچنے کی توقع ہے، جب کہ موجودہ بندرگاہیں 2047 سے قبل اپنی مکمل صلاحیت تک پہنچ جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ بحری ڈھانچے اور روابط کو مضبوط بنانا پاکستان کو ایک بڑے صنعتی اور تجارتی مرکز میں تبدیل کرنے کی کلید ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات کے دوران دونوں فریقوں نے استعداد کار میں اضافے اور تربیتی و تبادلہ پروگراموں پر اتفاق کیا، جن میں میری ٹائم سیفٹی، پورٹ آپریشنز، ماحولیاتی نظم و نسق اور ڈیجیٹل لاجسٹکس جیسے شعبے شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر بحری امور نے کہا کہ جدید بندرگاہی نظام کو چلانے کے لیے ہنر مند افرادی قوت تیار کرنا پاکستان کے جدید کاری کے منصوبوں کا مرکزی حصہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سفیر اسٹوئنیسکو نے پاکستانی برآمدات کے معیار کو سراہا اور رومانیہ کی جانب سے کھیلوں کے سامان، جراحی کے آلات اور زرعی مصنوعات کی درآمد میں دلچسپی کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات میں نجی شعبے کی شمولیت اور بندرگاہی بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کے مواقع پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں جانب سے نئے تجارتی راستے کھولنے اور پاکستان کے علاقائی بحری مرکز کے طور پر کردار کو مستحکم کرنے کے حوالے سے امید ظاہر کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنید چوہدری نے کہا کہ یورپی ممالک بالخصوص رومانیہ کے ساتھ مضبوط شراکت داری نہ صرف پاکستان کی برآمدی منڈیوں میں تنوع لائے گی ، بلکہ اقتصادی تعاون اور جدت کے ذریعے علاقائی استحکام میں بھی مددگار ثابت ہوگی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی وزیر  بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے پاکستانی بندرگاہوں اور رومانیہ کی کانسٹانزا بندرگاہ کے درمیان مضبوط سمندری روابط کے قیام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام یورپی منڈیوں تک پاکستان کی رسائی بڑھانے اور ملک کی بلیو اکانومی (سمندری معیشت) کو فروغ دینے کی سمت اہم قدم ہے۔</strong></p>
<p>یہ پیش رفت منگل کو پاکستان انٹرنیشنل میری ٹائم ایکسپو اینڈ کانفرنس (پی آئی ایم ای سی) 2025 کے موقع پر وزیر بحری امور اور رومانیہ کے سفیر ڈاکٹر ڈین اسٹوئنیسکو کے درمیان ملاقات کے دوران ہوئی۔</p>
<p>بیان کے مطابق کراچی پورٹ ٹرسٹ کے قائم مقام چیئرمین ریئر ایڈمرل عتیق الرحمان بھی ملاقات میں موجود تھے۔</p>
<p>وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان عالمی سمندری تجارت میں زیادہ فعال کردار ادا کرنا چاہتا ہے، جس کے لیے مشرقِ وسطیٰ، وسطی ایشیا، مشرقی یورپ اور افریقہ کو جوڑنے والے رابطے استوار کرنا ضروری ہیں۔</p>
<p>انہوں نے پاکستانی بندرگاہوں کو رومانیہ کی کانسٹانزا بندرگاہ سے منسلک کرنے کی تجویز کو یورپی منڈیوں تک رسائی بڑھانے اور بلیو اکانومی کو آگے بڑھانے کے لیے اہم قرار دیا۔</p>
<p>جنید چوہدری نے مزید کہا کہ آئندہ برسوں میں پاکستان کی فعال بندرگاہوں کی تعداد چھ تک پہنچنے کی توقع ہے، جب کہ موجودہ بندرگاہیں 2047 سے قبل اپنی مکمل صلاحیت تک پہنچ جائیں گی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ بحری ڈھانچے اور روابط کو مضبوط بنانا پاکستان کو ایک بڑے صنعتی اور تجارتی مرکز میں تبدیل کرنے کی کلید ہے۔</p>
<p>ملاقات کے دوران دونوں فریقوں نے استعداد کار میں اضافے اور تربیتی و تبادلہ پروگراموں پر اتفاق کیا، جن میں میری ٹائم سیفٹی، پورٹ آپریشنز، ماحولیاتی نظم و نسق اور ڈیجیٹل لاجسٹکس جیسے شعبے شامل ہیں۔</p>
<p>وزیر بحری امور نے کہا کہ جدید بندرگاہی نظام کو چلانے کے لیے ہنر مند افرادی قوت تیار کرنا پاکستان کے جدید کاری کے منصوبوں کا مرکزی حصہ ہے۔</p>
<p>سفیر اسٹوئنیسکو نے پاکستانی برآمدات کے معیار کو سراہا اور رومانیہ کی جانب سے کھیلوں کے سامان، جراحی کے آلات اور زرعی مصنوعات کی درآمد میں دلچسپی کا اظہار کیا۔</p>
<p>ملاقات میں نجی شعبے کی شمولیت اور بندرگاہی بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کے مواقع پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔</p>
<p>دونوں جانب سے نئے تجارتی راستے کھولنے اور پاکستان کے علاقائی بحری مرکز کے طور پر کردار کو مستحکم کرنے کے حوالے سے امید ظاہر کی گئی۔</p>
<p>جنید چوہدری نے کہا کہ یورپی ممالک بالخصوص رومانیہ کے ساتھ مضبوط شراکت داری نہ صرف پاکستان کی برآمدی منڈیوں میں تنوع لائے گی ، بلکہ اقتصادی تعاون اور جدت کے ذریعے علاقائی استحکام میں بھی مددگار ثابت ہوگی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278936</guid>
      <pubDate>Tue, 04 Nov 2025 16:45:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/04163157e446dc6.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/04163157e446dc6.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
