<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 21:30:56 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 21:30:56 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بڑی صنعتیں جمود کا شکار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278935/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بڑی صنعتوں (ایل ایس ایم ) کا شعبہ تاریخی طور پر قومی معیشت کے متحرک شعبوں میں شمار ہوتا رہا ہے۔ مثال کے طور پر رواں صدی کے پہلے عشرے میں اس شعبے نے سالانہ اوسط 7.5 فیصد کی بلند شرح نمو حاصل کی، جس کے نتیجے میں مجموعی معیشت کی شرح نمو 4.5 فیصد سے زائد رہی۔ یہ ترقی کا سلسلہ برآمدات پر مبنی پیداوار میں 7.3 فیصد سالانہ اضافے کے باعث ممکن ہوا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں اس شعبے میں نمو کا ایک ادواری سلسلہ دیکھنے میں آیا۔ مالی سال 2018-19 سے 2024-25 کے دوران، 2015-16 کی مستقل قیمتوں پر ویلیو ایڈیشن میں کوئی مجموعی اضافہ نہیں ہوا، جو تقریباً 3,275 ارب روپے پر مستحکم رہا۔ یہ امر گزشتہ چھ برسوں کے دوران بڑی صنعتوں کے جمود کا واضح ثبوت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ 2024-25 میں کوانٹم انڈیکس آف مینوفیکچرنگ (کیو آئی ایم ) کی سطح 2018-19 کے مقابلے میں ایک فیصد کم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انفرادی صنعتوں کی کارکردگی کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2018-19 کے بعد سے بعض بڑی صنعتوں کی پیداوار میں نمایاں کمی آئی ہے، جن میں کپاس کا سوت، کپڑا، سیمنٹ، سگریٹ اور اسٹیل مصنوعات شامل ہیں، جن کی سالانہ اوسط کمی 1 سے 9 فیصد کے درمیان رہی۔ یہ کارکردگی 2000-01 سے 2006-07 کے عرصے کے برعکس ہے، جب انہی صنعتوں نے دو عددی شرح نمو حاصل کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم 2018-19 سے 2024-25 کے دوران کچھ صنعتوں مثلاً کھاد، ویجیٹیبل گھی، چینی، پینٹس اور وارنشز نے معمولی نمو برقرار رکھی، مگر یہ نمو دیگر صنعتوں خصوصاً ٹیکسٹائل کے زوال کی تلافی کے لیے ناکافی رہی۔ مختصر مدت میں، یعنی 2024-25 کے دوران بھی صورتحال منفی رہی، جب کیو آئی ایم میں 0.7 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس سال خوراک، سیمنٹ، آہنی و فولادی مصنوعات، کھاد، چینی اور مختلف صارف اشیا کی پیداوار میں کمی آئی۔ خوش آئند امر یہ ہے کہ آٹو موبائل اور پیٹرولیم مصنوعات کی صنعتوں میں بالترتیب 46.1 فیصد اور 11.9 فیصد کی بحالی دیکھی گئی، تاہم یہ نمو بھی دیگر صنعتوں میں پیداوار کی کمی کا ازالہ نہیں کرسکی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایل ایس ایم کی نمو میں رکاوٹ کی ایک بڑی وجہ گزشتہ چھ برسوں میں برآمدات کی قدر میں محض 3.9 فیصد سالانہ اضافہ ہے، البتہ 2024-25 میں اس میں 8 فیصد سے زائد بہتری ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بڑی صنعتوں میں نمو نہ ہونے اور جمود کے باعث دیگر اہم شعبوں، جیسے تھوک و خردہ تجارت اور ٹرانسپورٹ میں بھی رفتار کم رہی۔ 2018-19 سے 2024-25 کے دوران ان شعبوں کی اوسط سالانہ نمو بالترتیب صرف 2.1 اور 2.4 فیصد رہی، جو بڑی صنعتوں کی کمزور کارکردگی کا نتیجہ تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (پی بی ایس ) کے مطابق مینوفیکچرنگ کے دیگر حصوں، چھوٹی صنعتوں اور ذبح خانے کے شعبے،میں بالترتیب 7.9 اور 6.2 فیصد کی بلند شرح نمو دکھائی گئی ہے۔ تاہم اس امکان کو کم سمجھا جاتا ہے کیونکہ چھوٹی اور بڑی صنعتوں کے درمیان قریبی تعلق موجود ہے، خصوصاً ٹیکسٹائل اور آٹو موبائل جیسے شعبوں میں۔ مزید یہ کہ فی کس حقیقی آمدن میں صرف 0.5 فیصد اضافہ ہوا ہے، اس لیے مویشیاتی مصنوعات کے استعمال میں سالانہ 6 فیصد سے زیادہ اضافہ غیر حقیقی معلوم ہوتا ہے۔
بنیادی نکتہ یہ ہے کہ مینوفیکچرنگ کے شعبے اور مجموعی معیشت کے درمیان ترقی کا ایک باہمی تعلق ہے۔ جب جی ڈی پی کی نمو کم ہو، جیسا کہ 2018-19 کے بعد سے دیکھا گیا، تو صارف مصنوعات کی طلب میں کمی آتی ہے، جو صنعتوں کی نمو کو محدود کرتی ہے اور نتیجتاً مجموعی معیشت کی رفتار بھی سست پڑتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بڑی صنعتوں میں سست رفتاری کا اثر مالیاتی اشاریوں میں بھی ظاہر ہوتا ہے۔ ٹیکسٹائل کی صنعت، جو  کیو آئی ایم  میں 24 فیصد وزن رکھتی ہے اور سب سے بڑی برآمد کنندہ ہے، میں منافع کے تناسب میں نمایاں گراوٹ دیکھی گئی۔ فروخت پر منافع کا مارجن 2021 میں 8.3 فیصد سے گھٹ کر 2024 میں صرف 1.3 فیصد رہ گیا، جب کہ ریٹرن آن ایکویٹی 2022 میں 24 فیصد سے کم ہو کر 2024 میں 3.6 فیصد تک آگیا۔ دیگر صنعتوں میں بھی یہی رجحان دیکھا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنیادی سوال یہ ہے کہ 2018-19 کے بعد سے ایل ایس ایم کے جمود کی وجوہات کیا ہیں۔ طلب کی جانب سے عوامل کا ذکر ہو چکا ہے، اب رسد اور لاگت سے متعلق عوامل پر بھی غور ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہلا عنصر مینوفیکچرنگ اور زرعی شعبے کے مابین خام مال کی فراہمی سے جڑا ہے۔ سب سے اہم خام مال کپاس ہے۔ پاکستان میں کپاس کی پیداوار 2011-12 میں 1 کروڑ 40 لاکھ گانٹھوں کی بلند ترین سطح سے کم ہو کر 2024-25 میں صرف 70 لاکھ گانٹھوں تک رہ گئی۔ مقامی پیداوار میں کمی کی مکمل تلافی درآمدات سے ممکن نہ ہو سکی، جس کے نتیجے میں ٹیکسٹائل کے ویلیو ایڈیشن کے ابتدائی مراحل بری طرح متاثر ہوئے۔ کپاس کے سوت کی پیداوار 2011-12 کے بعد سے 33 فیصد سے زائد کم ہو چکی ہے۔
حالیہ برسوں میں درآمدات پر پابندیوں نے صورتحال مزید بگاڑی، خصوصاً زرمبادلہ کے شدید بحران کے باعث۔ 2022-23 میں جب زرمبادلہ کے ذخائر خطرناک حد تک کم ہوئے تو آٹو موبائل صنعت کے لیے پرزہ جات کی درآمد پر سخت پابندیاں لگیں، جس سے اس شعبے کی پیداوار تقریباً 60 فیصد گر گئی۔ اسی طرح مشینری، آلات اور صارف اشیا کی درآمدات پر بھی قدغنیں لگائی گئیں، جس نے کئی صنعتوں کی پیداوار کو متاثر کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;دوسرا بڑا منفی عنصر بڑی صنعتوں پر غیر معمولی ٹیکس بوجھ ہے۔ اگرچہ اس شعبے کا معیشت (جی ڈی پی) میں حصہ صرف 8 فیصد ہے، تاہم اندازہ ہے کہ یہ مجموعی آمدنی ٹیکس میں 18.5 فیصد اور وفاقی بالواسطہ ٹیکسوں، بشمول سیلز ٹیکس، کسٹمز ڈیوٹی اور ایکسائز ڈیوٹی، میں 62.3 فیصد تک حصہ ڈالتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;بڑی صنعتوں پر موثر مجموعی ٹیکس بوجھ اس شعبے کی ویلیو ایڈیشن کے 35.6 فیصد کے برابر ہے، جب کہ پوری معیشت پر اوسط ٹیکس بوجھ 11.1 فیصد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بجلی اور گیس کے نرخوں میں اضافہ بھی پیداوار کے اخراجات میں نمایاں اضافے کا باعث بنا ہے۔ 2019 سے 2024 کے درمیان صنعتی شعبے کے لیے بنیادی بجلی ٹیرف میں مجموعی طور پر 121.8 فیصد اضافہ ہوا، کھاد ساز صنعت کے لیے گیس نرخ 432 فیصد اور دیگر صنعتوں کے لیے 110 فیصد بڑھ گئے۔ خوش آئند امر یہ ہے کہ حالیہ عرصے میں بجلی کے نرخوں میں موثر کمی کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2018-19 سے پیداوار اور ویلیو ایڈیشن میں جمود کے نتیجے میں منافع میں شدید کمی نے مینوفیکچرنگ شعبے سے نجی سرمایہ کاری کے بڑے انخلا کو جنم دیا۔ 2015-16 کی مستقل قیمتوں پر اس شعبے میں سرمایہ کاری 2018-19 میں 706 ارب روپے سے سکڑ کر 2024-25 میں صرف 377 ارب روپے رہ گئی، یعنی حقیقی معنوں میں 46 فیصد سے زائد کمی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئے سرمایہ کاری کی موجودہ سطح شعبے میں مشینری اور دیگر اثاثوں کی قدر میں کمی (ڈیپریسی ایشن) کو پورا کرنے کے لیے بھی ناکافی ہے۔ نتیجتاً بڑی صنعتوں کے مجموعی سرمایہ جاتی ذخائر میں حالیہ برسوں کے دوران کمی کا امکان ہے، جس کا مطلب ہے کہ اس شعبے کی پیداواری صلاحیت میں تیز رفتار اضافہ ممکن نہیں رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سرمایہ کاری میں کمی صرف بلند شرح سود، جو 2022-23 میں عروج پر تھی، کے باعث نہیں بلکہ کمزور نمو، جمود اور منافع میں نمایاں کمی کا نتیجہ بھی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب جب کہ معیشت کسی حد تک استحکام حاصل کر چکی ہے، وقت آ گیا ہے کہ بلند شرح نمو کے عمل کو دوبارہ متحرک کیا جائے تاکہ روزگار اور غربت کی بڑھتی سطح کو روکا جا سکے، جو کم شرح نمو کے باعث اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بڑی صنعتوں کا شعبہ معیشت میں ترقی کے محرک کردار کو دوبارہ سنبھالنے کے لیے تیار کیا جائے، اور اس کے لیے ترجیحی بنیادوں پر طلب اور رسد دونوں پہلوؤں پر اقدامات کیے جائیں۔ ان اقدامات میں کپاس اور دیگر زرعی خام مال کی پیداوار میں اضافہ، ٹیکس اور توانائی نرخوں کی معقولیت، درآمدی پابندیوں کا خاتمہ، اور روپے کی حد سے زیادہ قدر سے گریز شامل ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہدف یہ ہونا چاہیے کہ اس شعبے میں سرمایہ کاری کم از کم 2018-19 کی سطح تک بحال ہو اور اسے دوبارہ 5 فیصد سے زائد شرح نمو حاصل کرنے کے قابل بنایا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بڑی صنعتوں (ایل ایس ایم ) کا شعبہ تاریخی طور پر قومی معیشت کے متحرک شعبوں میں شمار ہوتا رہا ہے۔ مثال کے طور پر رواں صدی کے پہلے عشرے میں اس شعبے نے سالانہ اوسط 7.5 فیصد کی بلند شرح نمو حاصل کی، جس کے نتیجے میں مجموعی معیشت کی شرح نمو 4.5 فیصد سے زائد رہی۔ یہ ترقی کا سلسلہ برآمدات پر مبنی پیداوار میں 7.3 فیصد سالانہ اضافے کے باعث ممکن ہوا۔</strong></p>
<p>بعد ازاں اس شعبے میں نمو کا ایک ادواری سلسلہ دیکھنے میں آیا۔ مالی سال 2018-19 سے 2024-25 کے دوران، 2015-16 کی مستقل قیمتوں پر ویلیو ایڈیشن میں کوئی مجموعی اضافہ نہیں ہوا، جو تقریباً 3,275 ارب روپے پر مستحکم رہا۔ یہ امر گزشتہ چھ برسوں کے دوران بڑی صنعتوں کے جمود کا واضح ثبوت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ 2024-25 میں کوانٹم انڈیکس آف مینوفیکچرنگ (کیو آئی ایم ) کی سطح 2018-19 کے مقابلے میں ایک فیصد کم ہے۔</p>
<p>انفرادی صنعتوں کی کارکردگی کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2018-19 کے بعد سے بعض بڑی صنعتوں کی پیداوار میں نمایاں کمی آئی ہے، جن میں کپاس کا سوت، کپڑا، سیمنٹ، سگریٹ اور اسٹیل مصنوعات شامل ہیں، جن کی سالانہ اوسط کمی 1 سے 9 فیصد کے درمیان رہی۔ یہ کارکردگی 2000-01 سے 2006-07 کے عرصے کے برعکس ہے، جب انہی صنعتوں نے دو عددی شرح نمو حاصل کی تھی۔</p>
<p>تاہم 2018-19 سے 2024-25 کے دوران کچھ صنعتوں مثلاً کھاد، ویجیٹیبل گھی، چینی، پینٹس اور وارنشز نے معمولی نمو برقرار رکھی، مگر یہ نمو دیگر صنعتوں خصوصاً ٹیکسٹائل کے زوال کی تلافی کے لیے ناکافی رہی۔ مختصر مدت میں، یعنی 2024-25 کے دوران بھی صورتحال منفی رہی، جب کیو آئی ایم میں 0.7 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس سال خوراک، سیمنٹ، آہنی و فولادی مصنوعات، کھاد، چینی اور مختلف صارف اشیا کی پیداوار میں کمی آئی۔ خوش آئند امر یہ ہے کہ آٹو موبائل اور پیٹرولیم مصنوعات کی صنعتوں میں بالترتیب 46.1 فیصد اور 11.9 فیصد کی بحالی دیکھی گئی، تاہم یہ نمو بھی دیگر صنعتوں میں پیداوار کی کمی کا ازالہ نہیں کرسکی۔</p>
<p>ایل ایس ایم کی نمو میں رکاوٹ کی ایک بڑی وجہ گزشتہ چھ برسوں میں برآمدات کی قدر میں محض 3.9 فیصد سالانہ اضافہ ہے، البتہ 2024-25 میں اس میں 8 فیصد سے زائد بہتری ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>بڑی صنعتوں میں نمو نہ ہونے اور جمود کے باعث دیگر اہم شعبوں، جیسے تھوک و خردہ تجارت اور ٹرانسپورٹ میں بھی رفتار کم رہی۔ 2018-19 سے 2024-25 کے دوران ان شعبوں کی اوسط سالانہ نمو بالترتیب صرف 2.1 اور 2.4 فیصد رہی، جو بڑی صنعتوں کی کمزور کارکردگی کا نتیجہ تھی۔</p>
<p>پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (پی بی ایس ) کے مطابق مینوفیکچرنگ کے دیگر حصوں، چھوٹی صنعتوں اور ذبح خانے کے شعبے،میں بالترتیب 7.9 اور 6.2 فیصد کی بلند شرح نمو دکھائی گئی ہے۔ تاہم اس امکان کو کم سمجھا جاتا ہے کیونکہ چھوٹی اور بڑی صنعتوں کے درمیان قریبی تعلق موجود ہے، خصوصاً ٹیکسٹائل اور آٹو موبائل جیسے شعبوں میں۔ مزید یہ کہ فی کس حقیقی آمدن میں صرف 0.5 فیصد اضافہ ہوا ہے، اس لیے مویشیاتی مصنوعات کے استعمال میں سالانہ 6 فیصد سے زیادہ اضافہ غیر حقیقی معلوم ہوتا ہے۔
بنیادی نکتہ یہ ہے کہ مینوفیکچرنگ کے شعبے اور مجموعی معیشت کے درمیان ترقی کا ایک باہمی تعلق ہے۔ جب جی ڈی پی کی نمو کم ہو، جیسا کہ 2018-19 کے بعد سے دیکھا گیا، تو صارف مصنوعات کی طلب میں کمی آتی ہے، جو صنعتوں کی نمو کو محدود کرتی ہے اور نتیجتاً مجموعی معیشت کی رفتار بھی سست پڑتی ہے۔</p>
<p>بڑی صنعتوں میں سست رفتاری کا اثر مالیاتی اشاریوں میں بھی ظاہر ہوتا ہے۔ ٹیکسٹائل کی صنعت، جو  کیو آئی ایم  میں 24 فیصد وزن رکھتی ہے اور سب سے بڑی برآمد کنندہ ہے، میں منافع کے تناسب میں نمایاں گراوٹ دیکھی گئی۔ فروخت پر منافع کا مارجن 2021 میں 8.3 فیصد سے گھٹ کر 2024 میں صرف 1.3 فیصد رہ گیا، جب کہ ریٹرن آن ایکویٹی 2022 میں 24 فیصد سے کم ہو کر 2024 میں 3.6 فیصد تک آگیا۔ دیگر صنعتوں میں بھی یہی رجحان دیکھا گیا۔</p>
<p>بنیادی سوال یہ ہے کہ 2018-19 کے بعد سے ایل ایس ایم کے جمود کی وجوہات کیا ہیں۔ طلب کی جانب سے عوامل کا ذکر ہو چکا ہے، اب رسد اور لاگت سے متعلق عوامل پر بھی غور ضروری ہے۔</p>
<p>پہلا عنصر مینوفیکچرنگ اور زرعی شعبے کے مابین خام مال کی فراہمی سے جڑا ہے۔ سب سے اہم خام مال کپاس ہے۔ پاکستان میں کپاس کی پیداوار 2011-12 میں 1 کروڑ 40 لاکھ گانٹھوں کی بلند ترین سطح سے کم ہو کر 2024-25 میں صرف 70 لاکھ گانٹھوں تک رہ گئی۔ مقامی پیداوار میں کمی کی مکمل تلافی درآمدات سے ممکن نہ ہو سکی، جس کے نتیجے میں ٹیکسٹائل کے ویلیو ایڈیشن کے ابتدائی مراحل بری طرح متاثر ہوئے۔ کپاس کے سوت کی پیداوار 2011-12 کے بعد سے 33 فیصد سے زائد کم ہو چکی ہے۔
حالیہ برسوں میں درآمدات پر پابندیوں نے صورتحال مزید بگاڑی، خصوصاً زرمبادلہ کے شدید بحران کے باعث۔ 2022-23 میں جب زرمبادلہ کے ذخائر خطرناک حد تک کم ہوئے تو آٹو موبائل صنعت کے لیے پرزہ جات کی درآمد پر سخت پابندیاں لگیں، جس سے اس شعبے کی پیداوار تقریباً 60 فیصد گر گئی۔ اسی طرح مشینری، آلات اور صارف اشیا کی درآمدات پر بھی قدغنیں لگائی گئیں، جس نے کئی صنعتوں کی پیداوار کو متاثر کیا۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>دوسرا بڑا منفی عنصر بڑی صنعتوں پر غیر معمولی ٹیکس بوجھ ہے۔ اگرچہ اس شعبے کا معیشت (جی ڈی پی) میں حصہ صرف 8 فیصد ہے، تاہم اندازہ ہے کہ یہ مجموعی آمدنی ٹیکس میں 18.5 فیصد اور وفاقی بالواسطہ ٹیکسوں، بشمول سیلز ٹیکس، کسٹمز ڈیوٹی اور ایکسائز ڈیوٹی، میں 62.3 فیصد تک حصہ ڈالتا ہے۔</p>
</blockquote>
<p>بڑی صنعتوں پر موثر مجموعی ٹیکس بوجھ اس شعبے کی ویلیو ایڈیشن کے 35.6 فیصد کے برابر ہے، جب کہ پوری معیشت پر اوسط ٹیکس بوجھ 11.1 فیصد ہے۔</p>
<p>بجلی اور گیس کے نرخوں میں اضافہ بھی پیداوار کے اخراجات میں نمایاں اضافے کا باعث بنا ہے۔ 2019 سے 2024 کے درمیان صنعتی شعبے کے لیے بنیادی بجلی ٹیرف میں مجموعی طور پر 121.8 فیصد اضافہ ہوا، کھاد ساز صنعت کے لیے گیس نرخ 432 فیصد اور دیگر صنعتوں کے لیے 110 فیصد بڑھ گئے۔ خوش آئند امر یہ ہے کہ حالیہ عرصے میں بجلی کے نرخوں میں موثر کمی کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔</p>
<p>2018-19 سے پیداوار اور ویلیو ایڈیشن میں جمود کے نتیجے میں منافع میں شدید کمی نے مینوفیکچرنگ شعبے سے نجی سرمایہ کاری کے بڑے انخلا کو جنم دیا۔ 2015-16 کی مستقل قیمتوں پر اس شعبے میں سرمایہ کاری 2018-19 میں 706 ارب روپے سے سکڑ کر 2024-25 میں صرف 377 ارب روپے رہ گئی، یعنی حقیقی معنوں میں 46 فیصد سے زائد کمی۔</p>
<p>نئے سرمایہ کاری کی موجودہ سطح شعبے میں مشینری اور دیگر اثاثوں کی قدر میں کمی (ڈیپریسی ایشن) کو پورا کرنے کے لیے بھی ناکافی ہے۔ نتیجتاً بڑی صنعتوں کے مجموعی سرمایہ جاتی ذخائر میں حالیہ برسوں کے دوران کمی کا امکان ہے، جس کا مطلب ہے کہ اس شعبے کی پیداواری صلاحیت میں تیز رفتار اضافہ ممکن نہیں رہا۔</p>
<p>یہ سرمایہ کاری میں کمی صرف بلند شرح سود، جو 2022-23 میں عروج پر تھی، کے باعث نہیں بلکہ کمزور نمو، جمود اور منافع میں نمایاں کمی کا نتیجہ بھی ہے۔</p>
<p>اب جب کہ معیشت کسی حد تک استحکام حاصل کر چکی ہے، وقت آ گیا ہے کہ بلند شرح نمو کے عمل کو دوبارہ متحرک کیا جائے تاکہ روزگار اور غربت کی بڑھتی سطح کو روکا جا سکے، جو کم شرح نمو کے باعث اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔</p>
<p>بڑی صنعتوں کا شعبہ معیشت میں ترقی کے محرک کردار کو دوبارہ سنبھالنے کے لیے تیار کیا جائے، اور اس کے لیے ترجیحی بنیادوں پر طلب اور رسد دونوں پہلوؤں پر اقدامات کیے جائیں۔ ان اقدامات میں کپاس اور دیگر زرعی خام مال کی پیداوار میں اضافہ، ٹیکس اور توانائی نرخوں کی معقولیت، درآمدی پابندیوں کا خاتمہ، اور روپے کی حد سے زیادہ قدر سے گریز شامل ہونا چاہیے۔</p>
<p>ہدف یہ ہونا چاہیے کہ اس شعبے میں سرمایہ کاری کم از کم 2018-19 کی سطح تک بحال ہو اور اسے دوبارہ 5 فیصد سے زائد شرح نمو حاصل کرنے کے قابل بنایا جائے۔</p>
<p>کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278935</guid>
      <pubDate>Tue, 04 Nov 2025 16:37:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈاکٹر حفیظ اے پاشا)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/04161625d80fc47.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/04161625d80fc47.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
