<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 15:24:28 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 15:24:28 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>انجینئرز کی غیر قانونی ہڑتال نجکاری کا عمل سبوتاژ کرنے کی کوشش ہے، پی آئی اے انتظامیہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278931/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) نے منگل کے روز الزام عائد کیا ہے کہ سوسائٹی آف ایئرکرافٹ انجینئرز آف پاکستان (سی ای اے پی) ادارے کی نجکاری کے  عمل کو سبوتاژکرنے کی کوشش کر رہی ہے، جس کے تحت انجینئرز نے حفاظتی خدشات کو بنیاد بنا کر طیاروں کی کلیئرنس روک دی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی آئی اے کے ترجمان عبداللہ حفیظ خان نے ایک بیان میں کہا کہ اس اقدام کا بنیادی مقصد پی آئی اے کی نجکاری کے عمل کو متاثر کرنا ہے جو اب حتمی مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیر کے روز پی آئی اے کی پروازیں مکمل طور پر معطل ہوگئیں جب انجینئرز نے تکنیکی کلیئرنس روک دیں، جس کے نتیجے میں مسافر پھنس گئے اور قومی ایئرلائن ایک اور عملی بحران سے دوچار ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی ای اے پی نے طیاروں کی ایئر ورتھینس سرٹیفکیشن روک دی، جس کے باعث متعدد پروازیں منسوخ ہوئیں اور ملکی و بین الاقوامی فضائی آپریشن بری طرح متاثر ہوا۔ ترجمان کے مطابق اس اچانک اقدام کا مقصد پروازوں میں خلل ڈال کر انتظامیہ پر دباؤ ڈالنا اور مسافروں کو مشکلات میں مبتلا کرنا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ سی ای اے پی کو اس طرح اجتماعی طور پر کام روکنے کا کوئی قانونی حق حاصل نہیں۔ حفاظت کے بہانے کام روکنا پی آئی اے کی نجکاری کے عمل کو سبوتاژ کرنے کی ایک منصوبہ بند کوشش ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان نے بتایا کہ پی آئی اے کا آپریشن ایسنشل سروسز ایکٹ کے تحت آتا ہے، لہٰذا ہڑتال یا واک آؤٹ ایک قابل سزا جرم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے قومی ایئرلائن کی فروخت کی ابتدائی کوشش ناکام ہونے کے بعد اب ایک نیا نجکاری عمل شروع کیا گیا ہے، جو پاکستان کے 7 ارب ڈالر کے آئی ایم ایف بیل آؤٹ پروگرام کی ایک اہم شرط ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی آئی اے کی مجوزہ فروخت ملک میں تقریباً دو دہائیوں بعد کسی بڑے سرکاری ادارے کی پہلی نجکاری ہوگی۔ نجکاری کے اس عمل میں عارف حبیب لمیٹڈ، فوجی فرٹیلائزر کمپنی (ایف ایف سی)، ایئر بلو، اور لکی گروپ نے حصہ لیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان کے مطابق غیر قانونی سرگرمی میں ملوث یا اس کی حمایت کرنے والے تمام افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ ایسے تمام عناصر کے ساتھ قانون کے مطابق سختی سے نمٹا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پی آئی اے نے متبادل انجینئرنگ سروسز دیگر ایئرلائنز سے حاصل کرلی ہیں اور تمام پروازیں جلد روانہ کی جائیں گی۔ ترجمان کے مطابق پی آئی اے کی پروازیں رفتہ رفتہ بحالی کی طرف بڑھ رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق اسلام آباد سے دمام جانے والی پرواز پی کے-245 اور اسلام آباد سے جدہ جانے والی پرواز پی کے-761 کامیابی سے روانہ ہوچکی ہیں، جبکہ کئی تاخیر کا شکار پروازیں بھی کلیئر کر دی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر قانونی ہڑتال کے باعث متعدد پروازیں تاخیر کا شکار رہیں، جن میں لاہور–مدینہ جانے والی پرواز پی کے-747 چودہ گھنٹے بعد روانہ ہوئی، جبکہ کراچی–جدہ کی پی کے-761 اور اسلام آباد–دبئی کی پی کے-233 پروازوں میں بالترتیب 12 اور 9 گھنٹے تاخیر ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد–دمام کی پی کے-245 اور سیالکوٹ–ریاض کی پی کے-755 پروازیں سات گھنٹے تاخیر کا شکار رہیں، جبکہ اسلام آباد–جدہ کی پی کے-741 اور کراچی–اسلام آباد کی پی کے-300 میں بالترتیب چھ اور چار گھنٹے تاخیر ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان کے مطابق آپریشنل دباؤ کو سنبھالنے کے لیے کل پانچ پروازیں منسوخ کی گئیں، تاہم تمام مسافروں کو متبادل سفری سہولت فراہم کر دی گئی۔ بیان میں کہا گیا کہ پروازوں کا شیڈول بتدریج معمول پر آرہا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) نے منگل کے روز الزام عائد کیا ہے کہ سوسائٹی آف ایئرکرافٹ انجینئرز آف پاکستان (سی ای اے پی) ادارے کی نجکاری کے  عمل کو سبوتاژکرنے کی کوشش کر رہی ہے، جس کے تحت انجینئرز نے حفاظتی خدشات کو بنیاد بنا کر طیاروں کی کلیئرنس روک دی ہے۔</strong></p>
<p>پی آئی اے کے ترجمان عبداللہ حفیظ خان نے ایک بیان میں کہا کہ اس اقدام کا بنیادی مقصد پی آئی اے کی نجکاری کے عمل کو متاثر کرنا ہے جو اب حتمی مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔</p>
<p>پیر کے روز پی آئی اے کی پروازیں مکمل طور پر معطل ہوگئیں جب انجینئرز نے تکنیکی کلیئرنس روک دیں، جس کے نتیجے میں مسافر پھنس گئے اور قومی ایئرلائن ایک اور عملی بحران سے دوچار ہوگئی۔</p>
<p>سی ای اے پی نے طیاروں کی ایئر ورتھینس سرٹیفکیشن روک دی، جس کے باعث متعدد پروازیں منسوخ ہوئیں اور ملکی و بین الاقوامی فضائی آپریشن بری طرح متاثر ہوا۔ ترجمان کے مطابق اس اچانک اقدام کا مقصد پروازوں میں خلل ڈال کر انتظامیہ پر دباؤ ڈالنا اور مسافروں کو مشکلات میں مبتلا کرنا تھا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ سی ای اے پی کو اس طرح اجتماعی طور پر کام روکنے کا کوئی قانونی حق حاصل نہیں۔ حفاظت کے بہانے کام روکنا پی آئی اے کی نجکاری کے عمل کو سبوتاژ کرنے کی ایک منصوبہ بند کوشش ہے۔</p>
<p>ترجمان نے بتایا کہ پی آئی اے کا آپریشن ایسنشل سروسز ایکٹ کے تحت آتا ہے، لہٰذا ہڑتال یا واک آؤٹ ایک قابل سزا جرم ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے قومی ایئرلائن کی فروخت کی ابتدائی کوشش ناکام ہونے کے بعد اب ایک نیا نجکاری عمل شروع کیا گیا ہے، جو پاکستان کے 7 ارب ڈالر کے آئی ایم ایف بیل آؤٹ پروگرام کی ایک اہم شرط ہے۔</p>
<p>پی آئی اے کی مجوزہ فروخت ملک میں تقریباً دو دہائیوں بعد کسی بڑے سرکاری ادارے کی پہلی نجکاری ہوگی۔ نجکاری کے اس عمل میں عارف حبیب لمیٹڈ، فوجی فرٹیلائزر کمپنی (ایف ایف سی)، ایئر بلو، اور لکی گروپ نے حصہ لیا ہے۔</p>
<p>ترجمان کے مطابق غیر قانونی سرگرمی میں ملوث یا اس کی حمایت کرنے والے تمام افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ ایسے تمام عناصر کے ساتھ قانون کے مطابق سختی سے نمٹا جائے گا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پی آئی اے نے متبادل انجینئرنگ سروسز دیگر ایئرلائنز سے حاصل کرلی ہیں اور تمام پروازیں جلد روانہ کی جائیں گی۔ ترجمان کے مطابق پی آئی اے کی پروازیں رفتہ رفتہ بحالی کی طرف بڑھ رہی ہیں۔</p>
<p>بیان کے مطابق اسلام آباد سے دمام جانے والی پرواز پی کے-245 اور اسلام آباد سے جدہ جانے والی پرواز پی کے-761 کامیابی سے روانہ ہوچکی ہیں، جبکہ کئی تاخیر کا شکار پروازیں بھی کلیئر کر دی گئی ہیں۔</p>
<p>غیر قانونی ہڑتال کے باعث متعدد پروازیں تاخیر کا شکار رہیں، جن میں لاہور–مدینہ جانے والی پرواز پی کے-747 چودہ گھنٹے بعد روانہ ہوئی، جبکہ کراچی–جدہ کی پی کے-761 اور اسلام آباد–دبئی کی پی کے-233 پروازوں میں بالترتیب 12 اور 9 گھنٹے تاخیر ہوئی۔</p>
<p>اسلام آباد–دمام کی پی کے-245 اور سیالکوٹ–ریاض کی پی کے-755 پروازیں سات گھنٹے تاخیر کا شکار رہیں، جبکہ اسلام آباد–جدہ کی پی کے-741 اور کراچی–اسلام آباد کی پی کے-300 میں بالترتیب چھ اور چار گھنٹے تاخیر ہوئی۔</p>
<p>ترجمان کے مطابق آپریشنل دباؤ کو سنبھالنے کے لیے کل پانچ پروازیں منسوخ کی گئیں، تاہم تمام مسافروں کو متبادل سفری سہولت فراہم کر دی گئی۔ بیان میں کہا گیا کہ پروازوں کا شیڈول بتدریج معمول پر آرہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278931</guid>
      <pubDate>Tue, 04 Nov 2025 15:50:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/0415454238558f3.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/0415454238558f3.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
