<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Sports</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 18:44:05 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 18:44:05 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بوش کی جارحانہ بیٹنگ نے جنوبی افریقہ کو پہلے ون ڈے میں 263 رنز تک پہنچادیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278930/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فیصل آباد کے اقبال اسٹیڈیم میں منگل کو کھیلے گئے پہلے ون ڈے انٹرنیشنل میں کاربن بوش کی جارحانہ بیٹنگ کی بدولت جنوبی افریقہ 263 رنز پر آل آؤٹ ہونے کے باوجود پاکستان کے خلاف قابلِ ذکر  اسکور کرنے میں کامیاب رہا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوبی افریقہ کے اوپنرز نے 98 رنز کی شراکت قائم کر کے پاکستان کے بولرز پر دباؤ بڑھایا۔ ڈی کوک نے 71 گیندوں پر 63 رنز کی دلکش اننگز کھیلی، جس میں چھ چوکے اور دو چھکے شامل تھے، جب کہ پریٹوریئس نے 60 گیندوں پر 57 رنز بنائے۔ دونوں بلے باز نوجوان اسپنر صائم ایوب کی اسپن کا شکار بنے جنہوں نے لگاتار دو وکٹیں حاصل کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  ' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2025/11/04155554fe570f7.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2025/11/04155554fe570f7.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابتدائی بلے بازوں کے آؤٹ ہونے کے بعد جنوبی افریقہ کی اننگز کی رفتار کم ہوئی۔ ٹونی ڈی زورزی 18 اور کپتان میتھیو بریٹزکے 42 رنز بنا کر کریز پر جمے رہے، تاہم ابرار احمد اور محمد نواز کی نپی تلی بولنگ نے رنز کے بہاؤ کو محدود کر دیا۔ 191 رنز پر تین کھلاڑی آؤٹ ہونے کے بعد مڈل آرڈر دباؤ میں آ گیا اور ٹیم 228 رنز پر آٹھ وکٹیں گنوا بیٹھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس موقع پر کاربن بوش نے جارحانہ انداز اپناتے ہوئے 40 گیندوں پر 41 رنز کی اننگز کھیلی جس میں چھ چوکے شامل تھے۔ ان کی  جارحانہ بیٹنگ اور نچلے نمبروں پر چند قیمتی رنز کی بدولت جنوبی افریقہ کی ٹیم 260 کے اسکور سے آگے نکلنے میں کامیاب رہی۔ انہیں شاہین شاہ آفریدی نے 49ویں اوور میں بولڈ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی جانب سے نسیم شاہ سب سے کامیاب بولر رہے، انہوں نے 40 رنز کے عوض تین وکٹیں حاصل کیں، جب کہ ابرار احمد نے 53 رنز دے کر تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ صائم ایوب نے دو وکٹیں حاصل کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اننگز کے اختتام پر صائم ایوب نے کہا کہ پچ وقت گزرنے کے ساتھ سست ہو گئی تھی۔  شروع میں بلے بازوں کے لیے آسان تھی، لیکن بعد میں اسپنرز کو مدد ملنے لگی۔ ہم انہیں شاید 10 سے 15 رنز کم پر روک سکتے تھے، لیکن مجموعی طور پر بولنگ اور فیلڈنگ شاندار رہی۔ ایک موقع پر وہ 300 سے زائد کے ہدف کی جانب جا رہے تھے، مگر ٹیم نے بہترین واپسی کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کو سیریز میں 1-0 کی برتری حاصل کرنے کے لیے 264 رنز درکار ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ٹاس&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل پاکستان نے ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ کیا۔ یہ سیریز 17 سال بعد فیصل آباد میں بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی کی علامت ہے۔ باقی دونوں ون ڈے میچز بھی 6 اور 8 نومبر کو اقبال اسٹیڈیم میں کھیلے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقبال اسٹیڈیم میں آخری بین الاقوامی میچ 11 اپریل 2008 کو کھیلا گیا تھا، جب پاکستان نے بنگلہ دیش کو سات وکٹوں سے شکست دی تھی۔ تاریخی گراؤنڈ اب تک 16 ون ڈے میچز کی میزبانی کر چکا ہے، جن میں 1987 اور 1996 کے ورلڈ کپ کے چار مقابلے شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch  slideshow-embed' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2025/11/04145529dcb6690.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2025/11/04145529dcb6690.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch  slideshow-embed' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2025/11/041456319520c59.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2025/11/041456319520c59.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے اس میدان پر 12 ون ڈے میچز کھیلے ہیں جن میں 9 جیتے اور 3 ہارے ہیں، جبکہ جنوبی افریقہ نے 5 میچز میں سے 2 جیتے اور 3 میں شکست کھائی۔ دونوں ٹیموں کے درمیان مجموعی طور پر 87 ون ڈے میچز کھیلے جا چکے ہیں، جن میں پاکستان نے 34 اور جنوبی افریقہ نے 52 میں کامیابی حاصل کی۔ پاکستان میں کھیلے گئے 16 میچز میں دونوں ٹیموں نے 8، 8 کامیابیاں حاصل کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیصل آباد میں دونوں ٹیمیں تین ون ڈے میچز میں مدمقابل آ چکی ہیں۔ پاکستان نے دو (1994 اور 2007) میں کامیابی حاصل کی، جب کہ جنوبی افریقہ ایک (2003) میں فاتح رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ون ڈے سیریز ٹیسٹ اور ٹی ٹوئنٹی سیریز کے بعد کھیلی جا رہی ہے، جن میں ٹیسٹ سیریز 1-1 سے برابر رہی، جب کہ پاکستان نے ٹی ٹوئنٹی سیریز 2-1 سے جیتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قومی ٹیم کی قیادت اس بار بائیں ہاتھ کے فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی کر رہے ہیں، جو پہلی مرتبہ ون ڈے فارمیٹ میں کپتانی کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ پاکستانی اسکواڈ میں بابراعظم نے 15 میچز میں 744 رنز بنائے ہیں، جب کہ بولنگ میں شاہین شاہ آفریدی نے 13 میچز میں 25 وکٹیں حاصل کی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فیصل آباد کے اقبال اسٹیڈیم میں منگل کو کھیلے گئے پہلے ون ڈے انٹرنیشنل میں کاربن بوش کی جارحانہ بیٹنگ کی بدولت جنوبی افریقہ 263 رنز پر آل آؤٹ ہونے کے باوجود پاکستان کے خلاف قابلِ ذکر  اسکور کرنے میں کامیاب رہا۔</strong></p>
<p>جنوبی افریقہ کے اوپنرز نے 98 رنز کی شراکت قائم کر کے پاکستان کے بولرز پر دباؤ بڑھایا۔ ڈی کوک نے 71 گیندوں پر 63 رنز کی دلکش اننگز کھیلی، جس میں چھ چوکے اور دو چھکے شامل تھے، جب کہ پریٹوریئس نے 60 گیندوں پر 57 رنز بنائے۔ دونوں بلے باز نوجوان اسپنر صائم ایوب کی اسپن کا شکار بنے جنہوں نے لگاتار دو وکٹیں حاصل کیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  ' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2025/11/04155554fe570f7.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2025/11/04155554fe570f7.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>ابتدائی بلے بازوں کے آؤٹ ہونے کے بعد جنوبی افریقہ کی اننگز کی رفتار کم ہوئی۔ ٹونی ڈی زورزی 18 اور کپتان میتھیو بریٹزکے 42 رنز بنا کر کریز پر جمے رہے، تاہم ابرار احمد اور محمد نواز کی نپی تلی بولنگ نے رنز کے بہاؤ کو محدود کر دیا۔ 191 رنز پر تین کھلاڑی آؤٹ ہونے کے بعد مڈل آرڈر دباؤ میں آ گیا اور ٹیم 228 رنز پر آٹھ وکٹیں گنوا بیٹھی۔</p>
<p>اس موقع پر کاربن بوش نے جارحانہ انداز اپناتے ہوئے 40 گیندوں پر 41 رنز کی اننگز کھیلی جس میں چھ چوکے شامل تھے۔ ان کی  جارحانہ بیٹنگ اور نچلے نمبروں پر چند قیمتی رنز کی بدولت جنوبی افریقہ کی ٹیم 260 کے اسکور سے آگے نکلنے میں کامیاب رہی۔ انہیں شاہین شاہ آفریدی نے 49ویں اوور میں بولڈ کیا۔</p>
<p>پاکستان کی جانب سے نسیم شاہ سب سے کامیاب بولر رہے، انہوں نے 40 رنز کے عوض تین وکٹیں حاصل کیں، جب کہ ابرار احمد نے 53 رنز دے کر تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ صائم ایوب نے دو وکٹیں حاصل کیں۔</p>
<p>اننگز کے اختتام پر صائم ایوب نے کہا کہ پچ وقت گزرنے کے ساتھ سست ہو گئی تھی۔  شروع میں بلے بازوں کے لیے آسان تھی، لیکن بعد میں اسپنرز کو مدد ملنے لگی۔ ہم انہیں شاید 10 سے 15 رنز کم پر روک سکتے تھے، لیکن مجموعی طور پر بولنگ اور فیلڈنگ شاندار رہی۔ ایک موقع پر وہ 300 سے زائد کے ہدف کی جانب جا رہے تھے، مگر ٹیم نے بہترین واپسی کی۔</p>
<p>پاکستان کو سیریز میں 1-0 کی برتری حاصل کرنے کے لیے 264 رنز درکار ہوں گے۔</p>
<p><strong>ٹاس</strong></p>
<p>اس سے قبل پاکستان نے ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ کیا۔ یہ سیریز 17 سال بعد فیصل آباد میں بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی کی علامت ہے۔ باقی دونوں ون ڈے میچز بھی 6 اور 8 نومبر کو اقبال اسٹیڈیم میں کھیلے جائیں گے۔</p>
<p>اقبال اسٹیڈیم میں آخری بین الاقوامی میچ 11 اپریل 2008 کو کھیلا گیا تھا، جب پاکستان نے بنگلہ دیش کو سات وکٹوں سے شکست دی تھی۔ تاریخی گراؤنڈ اب تک 16 ون ڈے میچز کی میزبانی کر چکا ہے، جن میں 1987 اور 1996 کے ورلڈ کپ کے چار مقابلے شامل ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch  slideshow-embed' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2025/11/04145529dcb6690.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2025/11/04145529dcb6690.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch  slideshow-embed' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2025/11/041456319520c59.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2025/11/041456319520c59.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>پاکستان نے اس میدان پر 12 ون ڈے میچز کھیلے ہیں جن میں 9 جیتے اور 3 ہارے ہیں، جبکہ جنوبی افریقہ نے 5 میچز میں سے 2 جیتے اور 3 میں شکست کھائی۔ دونوں ٹیموں کے درمیان مجموعی طور پر 87 ون ڈے میچز کھیلے جا چکے ہیں، جن میں پاکستان نے 34 اور جنوبی افریقہ نے 52 میں کامیابی حاصل کی۔ پاکستان میں کھیلے گئے 16 میچز میں دونوں ٹیموں نے 8، 8 کامیابیاں حاصل کیں۔</p>
<p>فیصل آباد میں دونوں ٹیمیں تین ون ڈے میچز میں مدمقابل آ چکی ہیں۔ پاکستان نے دو (1994 اور 2007) میں کامیابی حاصل کی، جب کہ جنوبی افریقہ ایک (2003) میں فاتح رہا۔</p>
<p>یہ ون ڈے سیریز ٹیسٹ اور ٹی ٹوئنٹی سیریز کے بعد کھیلی جا رہی ہے، جن میں ٹیسٹ سیریز 1-1 سے برابر رہی، جب کہ پاکستان نے ٹی ٹوئنٹی سیریز 2-1 سے جیتی۔</p>
<p>قومی ٹیم کی قیادت اس بار بائیں ہاتھ کے فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی کر رہے ہیں، جو پہلی مرتبہ ون ڈے فارمیٹ میں کپتانی کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔</p>
<p>موجودہ پاکستانی اسکواڈ میں بابراعظم نے 15 میچز میں 744 رنز بنائے ہیں، جب کہ بولنگ میں شاہین شاہ آفریدی نے 13 میچز میں 25 وکٹیں حاصل کی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278930</guid>
      <pubDate>Tue, 04 Nov 2025 20:07:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/04195807102a2ba.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/04195807102a2ba.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
