<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 17:34:25 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 17:34:25 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وکلاء کی شکایات کا فوری ازالہ کیا جائے ، صدرِ زرداری کی چیئرمین ایف بی آر کو ہدایت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278927/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;صدر مملکت آصف علی زرداری نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین کو ہدایت کی ہے کہ وہ ٹیکس ایڈوائزرز/وکلاء کی جانب سے کارپوریٹ ٹیکس آفس (سی ٹی او) اسلام آباد کے افسران کے خلاف شکایات کا ازالہ کریں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدراتی سیکریٹریٹ کی جانب سے  ایف بی آر چیئرمین کو بھیجے گئے خط  میں کہا گیا ہے کہ لاہور ٹیکس بار ایسوسی ایشن (ایل ٹی بی اے) کی جانب سے ایف بی آر کے افسران کے خلاف موصول ہونے والی درخواست پر ضروری کارروائی عمل میں لائی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لاہور ٹیکس بار ایسوسی ایشن (ایل ٹی بی اے) نے صدر مملکت کو بتایا کہ کابینہ اور لاہور ٹیکس بار کے اراکین نے ایک سرکاری افسر کی جانب سے استعمال کیے گئے دھمکی آمیز اور تحقیر آمیز لہجے کی سخت مذمت کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس افسر نے ایک وکیل کے خلاف بغیر کسی ثبوت کے الزام تراشی کرتے ہوئے کہا کہ  بے بنیاد الزام تراشی وکیل کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتی ہے اورکسی سرکاری افسر پر بغیر ثبوت کے صرف چند جملوں میں الزام لگانا وکیل کے خلاف قانونی کارروائی کا باعث بن سکتا ہے، جسے وہ شاید بھول گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایل ٹی بی اے کے مطابق کسی سرکاری افسر کی جانب سے اس قسم کے ریمارکس  جو کہ ایک سرکاری جواب میں دیے گئے  ادارہ جاتی دھمکی  کے مترادف ہیں اور فیڈرل ٹیکس محتسب (ایف ٹی او ) کے سامنے جاری نیم عدالتی کارروائی کے شایان شان نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ طرزِ عمل وکلاء ویلفیئر اینڈ پروٹیکشن ایکٹ 2023 کے خلاف ہے، جس کی دفعات 2 اور 9 میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ کسی وکیل کو دھمکانا، خوف زدہ کرنا، ہراساں کرنا یا اس کے پیشہ ورانہ فرائض میں مداخلت جرم ہے جس کی سزا قانون کے تحت دی جا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایل ٹی بی اے نے صدر مملکت سے درج ذیل اقدامات کرنے کی درخواست کی ہے&lt;/p&gt;
&lt;ol&gt;
&lt;li&gt;
&lt;p&gt;متعلقہ سرکاری افسر کے خلاف سول سرونٹس (کارکردگی و نظم و ضبط) رولز 2020 کے تحت محکمانہ کارروائی شروع کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;
&lt;p&gt;متعلقہ افسر کو ہدایت کی جائے کہ وہ تحریری معافی نامہ جاری کرے اور اسے باقاعدہ فیڈرل ٹیکس محتسب (ایف ٹی او  ) کے دفتر میں جمع کرائے۔&lt;/p&gt;
&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;
&lt;p&gt;معاملہ متعلقہ پولیس حکام کو بھیجا جائے ، تاکہ وکلاء ویلفیئر اینڈ پروٹیکشن ایکٹ 2023 کے تحت ایف آئی آر درج کی جا سکے، کیونکہ اس افسر کے رویّے سے سپریم کورٹ کے ایک وکیل کو خوف زدہ اور ہراساں کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;/li&gt;
&lt;/ol&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>صدر مملکت آصف علی زرداری نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین کو ہدایت کی ہے کہ وہ ٹیکس ایڈوائزرز/وکلاء کی جانب سے کارپوریٹ ٹیکس آفس (سی ٹی او) اسلام آباد کے افسران کے خلاف شکایات کا ازالہ کریں۔</strong></p>
<p>صدراتی سیکریٹریٹ کی جانب سے  ایف بی آر چیئرمین کو بھیجے گئے خط  میں کہا گیا ہے کہ لاہور ٹیکس بار ایسوسی ایشن (ایل ٹی بی اے) کی جانب سے ایف بی آر کے افسران کے خلاف موصول ہونے والی درخواست پر ضروری کارروائی عمل میں لائی جائے۔</p>
<p>لاہور ٹیکس بار ایسوسی ایشن (ایل ٹی بی اے) نے صدر مملکت کو بتایا کہ کابینہ اور لاہور ٹیکس بار کے اراکین نے ایک سرکاری افسر کی جانب سے استعمال کیے گئے دھمکی آمیز اور تحقیر آمیز لہجے کی سخت مذمت کی ہے۔</p>
<p>اس افسر نے ایک وکیل کے خلاف بغیر کسی ثبوت کے الزام تراشی کرتے ہوئے کہا کہ  بے بنیاد الزام تراشی وکیل کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتی ہے اورکسی سرکاری افسر پر بغیر ثبوت کے صرف چند جملوں میں الزام لگانا وکیل کے خلاف قانونی کارروائی کا باعث بن سکتا ہے، جسے وہ شاید بھول گیا ہے۔</p>
<p>ایل ٹی بی اے کے مطابق کسی سرکاری افسر کی جانب سے اس قسم کے ریمارکس  جو کہ ایک سرکاری جواب میں دیے گئے  ادارہ جاتی دھمکی  کے مترادف ہیں اور فیڈرل ٹیکس محتسب (ایف ٹی او ) کے سامنے جاری نیم عدالتی کارروائی کے شایان شان نہیں۔</p>
<p>یہ طرزِ عمل وکلاء ویلفیئر اینڈ پروٹیکشن ایکٹ 2023 کے خلاف ہے، جس کی دفعات 2 اور 9 میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ کسی وکیل کو دھمکانا، خوف زدہ کرنا، ہراساں کرنا یا اس کے پیشہ ورانہ فرائض میں مداخلت جرم ہے جس کی سزا قانون کے تحت دی جا سکتی ہے۔</p>
<p>ایل ٹی بی اے نے صدر مملکت سے درج ذیل اقدامات کرنے کی درخواست کی ہے</p>
<ol>
<li>
<p>متعلقہ سرکاری افسر کے خلاف سول سرونٹس (کارکردگی و نظم و ضبط) رولز 2020 کے تحت محکمانہ کارروائی شروع کی جائے۔</p>
</li>
<li>
<p>متعلقہ افسر کو ہدایت کی جائے کہ وہ تحریری معافی نامہ جاری کرے اور اسے باقاعدہ فیڈرل ٹیکس محتسب (ایف ٹی او  ) کے دفتر میں جمع کرائے۔</p>
</li>
<li>
<p>معاملہ متعلقہ پولیس حکام کو بھیجا جائے ، تاکہ وکلاء ویلفیئر اینڈ پروٹیکشن ایکٹ 2023 کے تحت ایف آئی آر درج کی جا سکے، کیونکہ اس افسر کے رویّے سے سپریم کورٹ کے ایک وکیل کو خوف زدہ اور ہراساں کیا گیا ہے۔</p>
</li>
</ol>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278927</guid>
      <pubDate>Tue, 04 Nov 2025 12:34:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/04122201c96ac76.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/04122201c96ac76.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
