<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 22:25:03 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 22:25:03 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بلیو اکانومی گیم چینجر، 100 ارب ڈالر کی صلاحیت موجود، وزیر خزانہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278914/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بلیو اکانومی کو پاکستان  کے لیے گیم چینجر‘ قرار دیا ہے، جس میں 2047 تک 100 ارب ڈالر تک پہنچنے کی صلاحیت پر زور دیا گیا ہے اور حکومتی پالیسیوں کے تسلسل کے عزم کا اعادہ کیا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بیان انہوں نے منگل کو پاکستان انٹرنیشنل میری ٹائم ایکسپو اور کانفرنس  کے افتتاحی سیشن سے ورچوئل خطاب کے دوران دیا جو ایکسپو سینٹر کراچی میں پاکستان نیوی اور وزارت سمندری امور کے زیر اہتمام منعقد ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے خطاب میں محمد اورنگزیب نے گزشتہ چند سالوں میں پاکستان کی میکرو اکنامک استحکام کی بحالی میں نمایاں پیش رفت کو اجاگر کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ تبادلہ شرح مستحکم رہی، زرمبادلہ ذخائر اتنے بڑھ گئے ہیں کہ وہ ڈیڑھ دو ماہ سے زیادہ کی درآمدات کا احاطہ کر سکیں، جو 14 ارب ڈالر سے زائد ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پالیسی ریٹ مہنگائی میں بہتری کے مطابق کم ہو گیا ہے جبکہ تینوں بڑی عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں نے تقریباً تین سال کے بعد پاکستان کے آئوٹ لک کو مستحکم کر دیا ہے جو ملک کی اقتصادی پالیسیوں کے درست سمت پر بین الاقوامی اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی کی صورتحال بہتر  رہی ہے، اگرچہ رواں سال ملک میں آنے والے سیلاب کی وجہ سے اس میں تھوڑا اضافہ دیکھنے کو ملا لیکن یہ ابھی بھی یک ہندسہ میں برقرار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ دو سال اور چھ ماہ کے وقفے کے بعد ہمارے پاس تین عالمی ریٹنگ ایجنسیاں ہیں جو نہ صرف درجہ بندی میں بہتری بلکہ آئوٹ لک کے حوالے سے بھی مکمل ہم آہنگ ہیں اور پاکستان کی معیشت کے لیے یہ آؤٹ لک مستحکم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے کہا کہ واشنگٹن میں حال ہی میں طے پانے والا اسٹاف کی سطح کا معاہدہ حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے اور میکرو اکنامک (کل معاشی) انتظام پر عالمی اعتماد کو مزید مضبوط کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم اس وقت ایک اچھے مقام پر ہیں کیونکہ کئی عوامل ایک ساتھ آرہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کو اپنے طویل مدتی تعلقات کو اہم شراکت داروں بشمول چین، امریکہ، اور خلیجی ممالک، خاص طور پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ استعمال کرنا چاہیے تاکہ سرکاری سطح کے انتظامات سے آگے بڑھ کر تجارتی اور سرمایہ کاری کے بہاؤ کو بڑھایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب نے مشاہدہ کیا کہ بحری شعبہ اس وقت قومی جی ڈی پی میں صرف تقریباً 0.4 سے 0.5 فیصد تک حصہ ڈالتا ہے  جو کہ تقریباً 1 ارب ڈالر بنتا ہے  لیکن اس میں توسیع کی وسیع صلاحیت موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے وزارت بحری امور کے اس وژن کی توثیق کی کہ 2047 تک اسے 100 ارب ڈالر کی بلیو اکانومی بنایا جائے، جو پاکستان کی 100 ویں سالگرہ اور 3 ٹریلین ڈالر کی معیشت بننے کے وسیع تر قومی عزائم کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ انہوں نے اس ہدف کو ایک واضح اور مضبوط روڈ میپ کی حمایت کے ساتھ پرجوش لیکن بہت قابل حصول قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے ویلیو ایڈڈ پروسیسنگ ، جدید کولڈ چین لاجسٹکس اور بین الاقوامی معیار کے حفظان صحت کے طریقوں کے ذریعے ماہی گیری اور آبی زراعت کو بہتر بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان کی سمندری خورااک  کی برآمدات، جو اس وقت تقریباً 500 ملین ڈالر ہیں، نیشنل فشرِیز اینڈ ایکوا کلچر پالیسی کے تحت آئندہ تین سے چار سال میں باآسانی 2 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں جو فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت میں تیار کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت پالیسی کے تسلسل اور استحکام کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب نے کراچی، پورٹ قاسم اور گوادر میں بندرگاہی آپریشنز کی جدید کاری اور ڈیجیٹلائزیشن پر بھی زور دیا تاکہ انہیں عالمی بہترین معیار کے مطابق ڈھال کر علاقائی تجارتی رابطوں کو مضبوط بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بلیو اکانومی کو پاکستان  کے لیے گیم چینجر‘ قرار دیا ہے، جس میں 2047 تک 100 ارب ڈالر تک پہنچنے کی صلاحیت پر زور دیا گیا ہے اور حکومتی پالیسیوں کے تسلسل کے عزم کا اعادہ کیا گیا ہے۔</strong></p>
<p>یہ بیان انہوں نے منگل کو پاکستان انٹرنیشنل میری ٹائم ایکسپو اور کانفرنس  کے افتتاحی سیشن سے ورچوئل خطاب کے دوران دیا جو ایکسپو سینٹر کراچی میں پاکستان نیوی اور وزارت سمندری امور کے زیر اہتمام منعقد ہوئی۔</p>
<p>اپنے خطاب میں محمد اورنگزیب نے گزشتہ چند سالوں میں پاکستان کی میکرو اکنامک استحکام کی بحالی میں نمایاں پیش رفت کو اجاگر کیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ تبادلہ شرح مستحکم رہی، زرمبادلہ ذخائر اتنے بڑھ گئے ہیں کہ وہ ڈیڑھ دو ماہ سے زیادہ کی درآمدات کا احاطہ کر سکیں، جو 14 ارب ڈالر سے زائد ہیں۔</p>
<p>انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پالیسی ریٹ مہنگائی میں بہتری کے مطابق کم ہو گیا ہے جبکہ تینوں بڑی عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں نے تقریباً تین سال کے بعد پاکستان کے آئوٹ لک کو مستحکم کر دیا ہے جو ملک کی اقتصادی پالیسیوں کے درست سمت پر بین الاقوامی اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔</p>
<p>وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی کی صورتحال بہتر  رہی ہے، اگرچہ رواں سال ملک میں آنے والے سیلاب کی وجہ سے اس میں تھوڑا اضافہ دیکھنے کو ملا لیکن یہ ابھی بھی یک ہندسہ میں برقرار ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ دو سال اور چھ ماہ کے وقفے کے بعد ہمارے پاس تین عالمی ریٹنگ ایجنسیاں ہیں جو نہ صرف درجہ بندی میں بہتری بلکہ آئوٹ لک کے حوالے سے بھی مکمل ہم آہنگ ہیں اور پاکستان کی معیشت کے لیے یہ آؤٹ لک مستحکم ہے۔</p>
<p>وفاقی وزیر نے کہا کہ واشنگٹن میں حال ہی میں طے پانے والا اسٹاف کی سطح کا معاہدہ حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے اور میکرو اکنامک (کل معاشی) انتظام پر عالمی اعتماد کو مزید مضبوط کرتا ہے۔</p>
<p>ہم اس وقت ایک اچھے مقام پر ہیں کیونکہ کئی عوامل ایک ساتھ آرہے ہیں۔</p>
<p>وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کو اپنے طویل مدتی تعلقات کو اہم شراکت داروں بشمول چین، امریکہ، اور خلیجی ممالک، خاص طور پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ استعمال کرنا چاہیے تاکہ سرکاری سطح کے انتظامات سے آگے بڑھ کر تجارتی اور سرمایہ کاری کے بہاؤ کو بڑھایا جا سکے۔</p>
<p>محمد اورنگزیب نے مشاہدہ کیا کہ بحری شعبہ اس وقت قومی جی ڈی پی میں صرف تقریباً 0.4 سے 0.5 فیصد تک حصہ ڈالتا ہے  جو کہ تقریباً 1 ارب ڈالر بنتا ہے  لیکن اس میں توسیع کی وسیع صلاحیت موجود ہے۔</p>
<p>انہوں نے وزارت بحری امور کے اس وژن کی توثیق کی کہ 2047 تک اسے 100 ارب ڈالر کی بلیو اکانومی بنایا جائے، جو پاکستان کی 100 ویں سالگرہ اور 3 ٹریلین ڈالر کی معیشت بننے کے وسیع تر قومی عزائم کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ انہوں نے اس ہدف کو ایک واضح اور مضبوط روڈ میپ کی حمایت کے ساتھ پرجوش لیکن بہت قابل حصول قرار دیا۔</p>
<p>وفاقی وزیر نے ویلیو ایڈڈ پروسیسنگ ، جدید کولڈ چین لاجسٹکس اور بین الاقوامی معیار کے حفظان صحت کے طریقوں کے ذریعے ماہی گیری اور آبی زراعت کو بہتر بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔</p>
<p>محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان کی سمندری خورااک  کی برآمدات، جو اس وقت تقریباً 500 ملین ڈالر ہیں، نیشنل فشرِیز اینڈ ایکوا کلچر پالیسی کے تحت آئندہ تین سے چار سال میں باآسانی 2 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں جو فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت میں تیار کی گئی ہے۔</p>
<p>انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت پالیسی کے تسلسل اور استحکام کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔</p>
<p>محمد اورنگزیب نے کراچی، پورٹ قاسم اور گوادر میں بندرگاہی آپریشنز کی جدید کاری اور ڈیجیٹلائزیشن پر بھی زور دیا تاکہ انہیں عالمی بہترین معیار کے مطابق ڈھال کر علاقائی تجارتی رابطوں کو مضبوط بنایا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278914</guid>
      <pubDate>Tue, 04 Nov 2025 10:59:41 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/041045474ac83ff.webp" type="image/webp" medium="image" height="1008" width="1600">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/041045474ac83ff.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
