<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:01:25 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:01:25 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹاک ایکسچینج میں مندی کا رجحان، 100 انڈیکس نے 1500 سے زائد پوائنٹس کھودیے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278912/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں منگل کو ابتدائی تیزی پرافٹ ٹیکنگ کے باعث مندی میں تبدیل ہوگئی جس کے نتیجے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس نے 1500 سے زائد پوائنٹس کھودیے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ایس ایکس میں کاروبار کا آغاز مثبت زون میں ہوا۔ ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر 100 انڈیکس 163,384.95  پوائنٹس کی بلند سطح پر جاپہنچا، بعد ازاں ابتدائی تیزی کے اثرات زائل ہوگئے جس کے نتیجے انڈیکس دن کی کم ترین سطح 161,159.26 پوائنٹس پر  دیکھا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 1,521.39 پوائنٹس یا 0.93 فیصد کی کمی سے 161,281.77 پوائنٹس پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے مطابق دو متواتر سیشنز میں مضبوط منافع کے بعد مقامی اسٹاک مارکیٹ میں مندی کا رجحان دوبارہ ظاہر ہوا کیونکہ سرمایہ کاروں نے منافع نکالنے کو ترجیح دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق اینگرو، ماری، بی اے ایچ ایل، ایم سی بی اور ٹی آر جی سمیت نمایاں بلیو چِپ کمپنیوں کے حصص میں نمایاں کمی آئی، جنہوں نے مجموعی طور پر بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں 543 پوائنٹس کی کمی کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اہم پیشرفت میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو  کے چیئرمین راشد محمود لنگڑیال نے جولائی تا اکتوبر (2025-26) 275 ارب روپے کے محصولات کے خسارے کے باوجود نئے ٹیکس اقدامات نافذ کرنے کے کسی بھی متبادل منصوبے کو مسترد کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ پیر کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے ہفتے کا آغاز مضبوط انداز میں کیا، گزشتہ روز  بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 1,171.42 پوائنٹس یا 0.72 فیصد کے اضافے سے 162,803.16 پوائنٹس پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی سطح پر ٹیکنالوجی کے حصص میں اضافے کے باعث منگل کو جاپان کا نکئی اور تائیوان کا ٹائیکس انڈیکس اپنے تمام ادوار کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے، تاہم دیگر علاقائی مارکیٹس اپنی حالیہ ریکارڈ تیزی کے بعد کمزور رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹ کے رجحان پر امریکی اقتصادی اعدادوشمار میں کچھ کمزوری نے اثر ڈالا، جبکہ فیڈرل ریزرو کے حکام کے مختلف خیالات نے دسمبر میں ممکنہ سود کی شرح میں کمی کے امکانات پر غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آسٹریلیا کا اسٹاک بینچ مارک مرکزی بینک کی پالیسی کے فیصلے سے پہلے ایک ماہ کی کم ترین سطح تک پہنچ گیا، جہاں کسی شرح سود میں کمی کی توقع نہیں ہے، اور تاجر اس بات کے اشارے تلاش کر رہے ہیں کہ آیا پچھلے ماہ کے مہنگائی کے جھٹکے نے اگلے سال کی دوسری سہ ماہی تک کسی بھی آسانی کے امکانات کو ختم کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیک شیئرز نے امریکی ایس اینڈ پی 500 اور نیسڈاک کو مضبوط کیا اگرچہ فیوچرز بالترتیب 0.3 فیصد اور 0.5 فیصد کمی کی نشاندہی کر رہے تھے۔ جاپان کا نکئی ابتدائی کمی کے بعد 0.2 فیصد بڑھ کر غیر معمولی 52,636.87 پر پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تائیوان کا ٹائیکس 0.5 فیصد بڑھ کر اپنا ریکارڈ ہائی قائم کر گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، جنوبی کوریا کا کاپسی پیر کو 2.8 فیصد اضافے کے بعد، جب یہ اپنی بلند ترین سطح پر پہنچا تھا، 1.5 فیصد نیچے آگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہانگ کانگ کا ہانگ سینگ 0.1 فیصد بڑھا، جبکہ چینی آن شور بلیو چپس 0.1 فیصد کم ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آسٹریلیا کا اسٹاک بینچ مارک مرکزی بینک کی پالیسی کے فیصلے سے قبل ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا، جب کہ شرحِ سود میں کسی کمی کی توقع نہیں کی جا رہی اور تاجر اس بات کے اشاروں کے منتظر ہیں کہ آیا گزشتہ ماہ کی مہنگائی میں غیر متوقع اضافے نےآئندہ سال کی دوسری سہ ماہی تک کسی ممکنہ نرمی کو مؤخر کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ شب امریکی ٹیکنالوجی حصص میں تیزی کے باعث ایس اینڈ پی 500 اور نیس ڈیک میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، اگرچہ فیوچر مارکیٹس میں بالترتیب 0.3 اور 0.5 فیصد کی کمی کے امکانات ظاہر کیے گئے ہیں۔ جاپان کا نکئی انڈیکس ابتدائی مندی سے سنبھل کر 0.2 فیصد بڑھ کر 52,636.87 کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تائیوان کا تائی ایکس 0.5 فیصد اضافے کے ساتھ اپنی ریکارڈ سطح پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس پیر کے روز 2.8 فیصد کے ریکارڈ اضافے کے بعد منگل کو 1.5 فیصد گر گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ انڈیکس 0.1 فیصد بڑھا، جب کہ چین کی آن شور لسٹڈ بلیو چِپ کمپنیوں کے حصص میں 0.1 فیصد کی معمولی کمی ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درایں اثنا انٹر بینک مارکیٹ میں منگل کے روز  امریکی ڈالر کے مقابلے میں  پاکستانی روپے کی قدر میں معمولی بہتری ریکارڈ کی گئی۔ کاروبار کے اختتام پر  ڈالر کے  مقابلے مقامی کرنسی 3 پیسے اضافے کے ساتھ 280.87 روپے  پر بند ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آل شیئر انڈیکس میں کاروباری حجم گزشتہ روز کے 949.36 ملین سے گھٹ کر 899.41 ملین شیئرز رہ گیا جبکہ حصص کی مالیت بھی 47.58 ارب روپے سے کم ہو کر 37.31 ارب روپے تک آگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ورلڈ کال ٹیلی کام 78.87 ملین شیئرز کے ساتھ کاروباری حجم میں سرفہرست رہی، اس کے بعد ٹیلی کارڈ لمیٹڈ 76.86 ملین اور کے الیکٹرک لمیٹڈ 71.62 ملین شیئرز کے ساتھ باالترتیب  نمایاں رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کے روز مجموعی طور پر 479 کمپنیوں کے حصص کی لین دین ہوئی، جن میں سے 133 کے حصص کی قیمت میں اضافہ، 314 میں کمی جبکہ 32 کے نرخ بغیر تبدیلی کے بند ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2025/11/04163027a304d7b.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2025/11/04163027a304d7b.webp'  alt=' ۔ ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں منگل کو ابتدائی تیزی پرافٹ ٹیکنگ کے باعث مندی میں تبدیل ہوگئی جس کے نتیجے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس نے 1500 سے زائد پوائنٹس کھودیے۔</strong></p>
<p>پی ایس ایکس میں کاروبار کا آغاز مثبت زون میں ہوا۔ ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر 100 انڈیکس 163,384.95  پوائنٹس کی بلند سطح پر جاپہنچا، بعد ازاں ابتدائی تیزی کے اثرات زائل ہوگئے جس کے نتیجے انڈیکس دن کی کم ترین سطح 161,159.26 پوائنٹس پر  دیکھا گیا۔</p>
<p>کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 1,521.39 پوائنٹس یا 0.93 فیصد کی کمی سے 161,281.77 پوائنٹس پر بند ہوا۔</p>
<p>ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے مطابق دو متواتر سیشنز میں مضبوط منافع کے بعد مقامی اسٹاک مارکیٹ میں مندی کا رجحان دوبارہ ظاہر ہوا کیونکہ سرمایہ کاروں نے منافع نکالنے کو ترجیح دی۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق اینگرو، ماری، بی اے ایچ ایل، ایم سی بی اور ٹی آر جی سمیت نمایاں بلیو چِپ کمپنیوں کے حصص میں نمایاں کمی آئی، جنہوں نے مجموعی طور پر بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں 543 پوائنٹس کی کمی کی۔</p>
<p>اہم پیشرفت میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو  کے چیئرمین راشد محمود لنگڑیال نے جولائی تا اکتوبر (2025-26) 275 ارب روپے کے محصولات کے خسارے کے باوجود نئے ٹیکس اقدامات نافذ کرنے کے کسی بھی متبادل منصوبے کو مسترد کر دیا۔</p>
<p>یاد رہے کہ پیر کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے ہفتے کا آغاز مضبوط انداز میں کیا، گزشتہ روز  بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 1,171.42 پوائنٹس یا 0.72 فیصد کے اضافے سے 162,803.16 پوائنٹس پر بند ہوا۔</p>
<p>بین الاقوامی سطح پر ٹیکنالوجی کے حصص میں اضافے کے باعث منگل کو جاپان کا نکئی اور تائیوان کا ٹائیکس انڈیکس اپنے تمام ادوار کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے، تاہم دیگر علاقائی مارکیٹس اپنی حالیہ ریکارڈ تیزی کے بعد کمزور رہی۔</p>
<p>مارکیٹ کے رجحان پر امریکی اقتصادی اعدادوشمار میں کچھ کمزوری نے اثر ڈالا، جبکہ فیڈرل ریزرو کے حکام کے مختلف خیالات نے دسمبر میں ممکنہ سود کی شرح میں کمی کے امکانات پر غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی۔</p>
<p>آسٹریلیا کا اسٹاک بینچ مارک مرکزی بینک کی پالیسی کے فیصلے سے پہلے ایک ماہ کی کم ترین سطح تک پہنچ گیا، جہاں کسی شرح سود میں کمی کی توقع نہیں ہے، اور تاجر اس بات کے اشارے تلاش کر رہے ہیں کہ آیا پچھلے ماہ کے مہنگائی کے جھٹکے نے اگلے سال کی دوسری سہ ماہی تک کسی بھی آسانی کے امکانات کو ختم کر دیا ہے۔</p>
<p>ٹیک شیئرز نے امریکی ایس اینڈ پی 500 اور نیسڈاک کو مضبوط کیا اگرچہ فیوچرز بالترتیب 0.3 فیصد اور 0.5 فیصد کمی کی نشاندہی کر رہے تھے۔ جاپان کا نکئی ابتدائی کمی کے بعد 0.2 فیصد بڑھ کر غیر معمولی 52,636.87 پر پہنچ گیا۔</p>
<p>تائیوان کا ٹائیکس 0.5 فیصد بڑھ کر اپنا ریکارڈ ہائی قائم کر گیا۔</p>
<p>تاہم، جنوبی کوریا کا کاپسی پیر کو 2.8 فیصد اضافے کے بعد، جب یہ اپنی بلند ترین سطح پر پہنچا تھا، 1.5 فیصد نیچے آگیا۔</p>
<p>ہانگ کانگ کا ہانگ سینگ 0.1 فیصد بڑھا، جبکہ چینی آن شور بلیو چپس 0.1 فیصد کم ہو گئے۔</p>
<p>آسٹریلیا کا اسٹاک بینچ مارک مرکزی بینک کی پالیسی کے فیصلے سے قبل ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا، جب کہ شرحِ سود میں کسی کمی کی توقع نہیں کی جا رہی اور تاجر اس بات کے اشاروں کے منتظر ہیں کہ آیا گزشتہ ماہ کی مہنگائی میں غیر متوقع اضافے نےآئندہ سال کی دوسری سہ ماہی تک کسی ممکنہ نرمی کو مؤخر کر دیا ہے۔</p>
<p>گزشتہ شب امریکی ٹیکنالوجی حصص میں تیزی کے باعث ایس اینڈ پی 500 اور نیس ڈیک میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، اگرچہ فیوچر مارکیٹس میں بالترتیب 0.3 اور 0.5 فیصد کی کمی کے امکانات ظاہر کیے گئے ہیں۔ جاپان کا نکئی انڈیکس ابتدائی مندی سے سنبھل کر 0.2 فیصد بڑھ کر 52,636.87 کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔</p>
<p>تائیوان کا تائی ایکس 0.5 فیصد اضافے کے ساتھ اپنی ریکارڈ سطح پر بند ہوا۔</p>
<p>تاہم جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس پیر کے روز 2.8 فیصد کے ریکارڈ اضافے کے بعد منگل کو 1.5 فیصد گر گیا۔</p>
<p>ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ انڈیکس 0.1 فیصد بڑھا، جب کہ چین کی آن شور لسٹڈ بلیو چِپ کمپنیوں کے حصص میں 0.1 فیصد کی معمولی کمی ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>درایں اثنا انٹر بینک مارکیٹ میں منگل کے روز  امریکی ڈالر کے مقابلے میں  پاکستانی روپے کی قدر میں معمولی بہتری ریکارڈ کی گئی۔ کاروبار کے اختتام پر  ڈالر کے  مقابلے مقامی کرنسی 3 پیسے اضافے کے ساتھ 280.87 روپے  پر بند ہوئی۔</p>
<p>آل شیئر انڈیکس میں کاروباری حجم گزشتہ روز کے 949.36 ملین سے گھٹ کر 899.41 ملین شیئرز رہ گیا جبکہ حصص کی مالیت بھی 47.58 ارب روپے سے کم ہو کر 37.31 ارب روپے تک آگئی۔</p>
<p>ورلڈ کال ٹیلی کام 78.87 ملین شیئرز کے ساتھ کاروباری حجم میں سرفہرست رہی، اس کے بعد ٹیلی کارڈ لمیٹڈ 76.86 ملین اور کے الیکٹرک لمیٹڈ 71.62 ملین شیئرز کے ساتھ باالترتیب  نمایاں رہے۔</p>
<p>منگل کے روز مجموعی طور پر 479 کمپنیوں کے حصص کی لین دین ہوئی، جن میں سے 133 کے حصص کی قیمت میں اضافہ، 314 میں کمی جبکہ 32 کے نرخ بغیر تبدیلی کے بند ہوئے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2025/11/04163027a304d7b.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2025/11/04163027a304d7b.webp'  alt=' ۔ ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure></p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278912</guid>
      <pubDate>Tue, 04 Nov 2025 17:27:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/0410313845336e5.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/0410313845336e5.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
