<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:53:33 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:53:33 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>انجینئرز کی جانب سے سرٹیفکیشن معطلی کے بعد پی آئی اے کا آپریشن مکمل طور پر بند</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278911/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کا فضائی آپریشن پیر کے روز مکمل طور پر معطل ہو گیا، جب ایئرکرافٹ انجینئرز نے سنگین حفاظتی خدشات کے باعث تکنیکی سرٹیفکیشن روک دیا، جس کے نتیجے میں مسافروں کو مشکلات اور قومی فضائی کمپنی کو ایک نئے آپریشنل بحران کا سامنا کرنا پڑا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوسائٹی آف ایئرکرافٹ انجینئرز آف پاکستان (ایس اے ای پی) نے ائیر ورتھینس سرٹیفکیٹ جاری کرنا بند کر دیا، جس کے نتیجے میں متعدد طیارے گراؤنڈ ہو گئے اور اندرون و بیرون ملک پروازوں کی بڑی تعداد منسوخ کر دی گئی۔ اس اقدام سے ہزاروں مسافروں کے سفر کے منصوبے متاثر ہوئے اور پہلے سے مالی بحران کے شکار ادارے کو شدید دھچکا لگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انجینئرز کی تنظیم نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم مسافروں کو ہونے والی تکلیف پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں، لیکن ان کی حفاظت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ جب تک تمام حفاظتی تقاضے پورے نہیں ہوں گے، کوئی طیارہ پرواز کے لیے روانہ نہیں کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوسائٹی نے واضح کیا کہ یہ اقدام ہڑتال نہیں بلکہ ایک ریگولیٹری ذمہ داری ہے، جو پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کے اے این او-145 ضوابط اور بین الاقوامی ہوابازی کے معیارات کے تحت عائد ہوتی ہے۔ ایس اے ای پی کے مطابق، جب حفاظتی پروٹوکول متاثر ہوں اور دیکھ بھال کے وسائل ناکافی ہوں، تو انجینئر قانونی طور پر کسی طیارے کو ائیر ورتھی قرار نہیں دے سکتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بحران پی آئی اے کے انتظامی ڈھانچے میں سنگین  خامیوں کو بھی بے نقاب کرتا ہے۔ ایس اے ای پی کا کہنا ہے کہ ادارے کے اعلیٰ حکام نے بارہا رابطے کے باوجود بات چیت سے انکار کیا اور انجینئرز کے تحفظاتی خدشات، تکنیکی سہولیات اور کام کے حالات پر توجہ نہیں دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، پی آئی اے کے ترجمان عبداللہ نے ایس اے ای پی کو غیر قانونی تنظیم قرار دیتے ہوئے لازمی خدمات ایکٹ کے تحت کارروائی کی دھمکی دی۔ انہوں نے کہا کہ ایئرلائن دیگر فضائی کمپنیوں سے انجینئرنگ خدمات حاصل کر کے پروازیں بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہے، اور الزام عائد کیا کہ انجینئرز نجکاری کے عمل کو  تباہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے ایس اے ای پی کے اٹھائے گئے حفاظتی خدشات پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طیاروں کی گراؤنڈنگ سے پی آئی اے کے مسائل مزید بڑھ گئے ہیں۔ ادارہ پہلے ہی ستمبر میں بوئنگ 777 کی دیکھ بھال کے باعث کینیڈا کی پروازیں معطل کر چکا ہے، جو تاحال بحال نہیں ہو سکیں۔ دوسری جانب، برطانیہ کے لیے پروازیں جو 25 اکتوبر کو پانچ سال بعد دوبارہ شروع کی گئی تھیں، اب حفاظتی خدشات کے پیش نظر ایس ای اے پی کے اقدام کے باعث دوبارہ معطل کر دی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کا فضائی آپریشن پیر کے روز مکمل طور پر معطل ہو گیا، جب ایئرکرافٹ انجینئرز نے سنگین حفاظتی خدشات کے باعث تکنیکی سرٹیفکیشن روک دیا، جس کے نتیجے میں مسافروں کو مشکلات اور قومی فضائی کمپنی کو ایک نئے آپریشنل بحران کا سامنا کرنا پڑا۔</strong></p>
<p>سوسائٹی آف ایئرکرافٹ انجینئرز آف پاکستان (ایس اے ای پی) نے ائیر ورتھینس سرٹیفکیٹ جاری کرنا بند کر دیا، جس کے نتیجے میں متعدد طیارے گراؤنڈ ہو گئے اور اندرون و بیرون ملک پروازوں کی بڑی تعداد منسوخ کر دی گئی۔ اس اقدام سے ہزاروں مسافروں کے سفر کے منصوبے متاثر ہوئے اور پہلے سے مالی بحران کے شکار ادارے کو شدید دھچکا لگا۔</p>
<p>انجینئرز کی تنظیم نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم مسافروں کو ہونے والی تکلیف پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں، لیکن ان کی حفاظت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ جب تک تمام حفاظتی تقاضے پورے نہیں ہوں گے، کوئی طیارہ پرواز کے لیے روانہ نہیں کیا جائے گا۔</p>
<p>سوسائٹی نے واضح کیا کہ یہ اقدام ہڑتال نہیں بلکہ ایک ریگولیٹری ذمہ داری ہے، جو پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کے اے این او-145 ضوابط اور بین الاقوامی ہوابازی کے معیارات کے تحت عائد ہوتی ہے۔ ایس اے ای پی کے مطابق، جب حفاظتی پروٹوکول متاثر ہوں اور دیکھ بھال کے وسائل ناکافی ہوں، تو انجینئر قانونی طور پر کسی طیارے کو ائیر ورتھی قرار نہیں دے سکتے۔</p>
<p>یہ بحران پی آئی اے کے انتظامی ڈھانچے میں سنگین  خامیوں کو بھی بے نقاب کرتا ہے۔ ایس اے ای پی کا کہنا ہے کہ ادارے کے اعلیٰ حکام نے بارہا رابطے کے باوجود بات چیت سے انکار کیا اور انجینئرز کے تحفظاتی خدشات، تکنیکی سہولیات اور کام کے حالات پر توجہ نہیں دی۔</p>
<p>دوسری جانب، پی آئی اے کے ترجمان عبداللہ نے ایس اے ای پی کو غیر قانونی تنظیم قرار دیتے ہوئے لازمی خدمات ایکٹ کے تحت کارروائی کی دھمکی دی۔ انہوں نے کہا کہ ایئرلائن دیگر فضائی کمپنیوں سے انجینئرنگ خدمات حاصل کر کے پروازیں بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہے، اور الزام عائد کیا کہ انجینئرز نجکاری کے عمل کو  تباہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے ایس اے ای پی کے اٹھائے گئے حفاظتی خدشات پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔</p>
<p>طیاروں کی گراؤنڈنگ سے پی آئی اے کے مسائل مزید بڑھ گئے ہیں۔ ادارہ پہلے ہی ستمبر میں بوئنگ 777 کی دیکھ بھال کے باعث کینیڈا کی پروازیں معطل کر چکا ہے، جو تاحال بحال نہیں ہو سکیں۔ دوسری جانب، برطانیہ کے لیے پروازیں جو 25 اکتوبر کو پانچ سال بعد دوبارہ شروع کی گئی تھیں، اب حفاظتی خدشات کے پیش نظر ایس ای اے پی کے اقدام کے باعث دوبارہ معطل کر دی گئی ہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278911</guid>
      <pubDate>Tue, 04 Nov 2025 10:30:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (محمد علی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/041029063e18cd9.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/041029063e18cd9.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
